Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2019 » شمارہ اگست و ستمبر » قیام اللیل کا اجر وثواب دینے والے اعمال

قیام اللیل کا اجر وثواب دینے والے اعمال

قارئین کرام ! بعض نیک اعمال ایسے ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے قیام اللیل کا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے

یہ اعمال کون سے ہیں ؟

آئیں ملاحظہ فرمائیں ! اور عمل کرکے قیام اللیل یعنی تہجد کا اجر پائیں ۔

1. اچھے اخلاق رکھنا

سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّيْلِ صَائِمِ النَّهَارِ .

بلاشبہ مؤمن اپنے اچھے اخلاق کی بنا پر دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کا مقام پا لیتا ہے ۔

(مسند احمد : 24355)

2. با جماعت نماز عشاء اور فجر ادا کرنا

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ .

جس نے جماعت سے عشاء کی نماز پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ۔(سنن أبي داود : 556)

3. نماز ظہر سے پہلے چار رکعت ادا کرنا

ابو صالح سے مرفوعا مرسلا روایت ہے کہ :

أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ يَعْدِلْنَ بِصَلاَةِ السَّحَرِ .

ظہر سے پہلے كی چار رکعات سحری ( قیام اللیل ) کی نماز كے  کے بر ابر ہیں۔(سلسلة الاحادیث الصحيحة : 1431)

ايک اور روایت میں ان چار رکعتوں کا اجر بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَهُ اللہ عَلَى النَّارِ .

جس شخص نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔

(سنن ابن ماجہ : 1160)

4. جمعے کے آداب کا خیال رکھنے والا

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا .

جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور جلدی پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا ۔(سنن ترمذی : 496)

5. تہجد کی نیت کرکے سونا

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ .(سنن ابن ماجة : 1344)

جو شخص سونے کے لیے بستر پر آتا ہے اور اس کی نیت ہوتی ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا ، پھر اس پر صبح تک نیند غالب آ جاتی ہے ، تو اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر وثواب لکھا جاتا ہے ( یعنی اس کے لیے قیام اللیل کا اجر و ثوب لکھا جاتا ہے ) اور اس کی نیند اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہے ۔

6. مکمل نماز تراویح ادا کرنا

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ،‏‏‏‏ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَانَتْ سَادِسَةٌ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا،‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ،‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ لَوْ نَفَلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏  إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ .

ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے  ( اور پڑھاتے رہے )  یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے  ( اور پڑھاتے رہے )  یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا:  آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے( سنن نسائي : 1369 )

7. رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھنا

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ قَرَأَ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ .

جو شخص رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جائیں گی ۔(صحيح بخاري : 4008)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

کافی ہو جانے سے مراد ہے اسے قیام اللیل میں قرآن پڑھنے سے کافی ہو جائیں گی ۔(فتح الباری : 56/9)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

قِيل : مَعْنَاهُ كَفَتَاهُ مِنْ قِيَام اللَّيْل، وَقِيلَ: مِنْ الشَّيْطَان ، وَقِيلَ: مِنْ الآفَات ، وَيَحْتَمِل مِنْ الْجَمِيع.

کہا گیا ہے کہ اسے قیام اللیل سے کافی ہو جائیں گی ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے شیطان کے مقابلے میں کافی ہو جائیں گی ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے تمام آفات سے کافی ہو جائیں گی ، البتہ ان سب کا احتمال موجود ہے ۔(شرح النووي : 91/6)

8. رات کو ایک سو آیات کی تلاوت کرنا

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ قَرَأَ بِمِئَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ .

جو شخص رات کو ایک سو آیات پڑھے گا اس کے لیے رات کی عبادت کا اجر وثواب لکھا جائے گا ۔(سنن دارمي : 3493 )

 9. بیواؤں اور مسکینوں کی مدد کرنا

– عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: السَّاعِي عَلَى الأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ ؛ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ .

بیواؤں اور مسکینوں کے لیے کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کرتا ہے۔

(رواه البخاري : 6006

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

رسول اللہ ﷺکی جسمانی خصوصیات و برکات

قارئین کرام ! اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے