Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » والدہ ماجدہ کا سانحہ ارتحال

والدہ ماجدہ کا سانحہ ارتحال

دنیا میں کچھ غم ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا مداوانہیں ہوتا ، ایک ایسا ہی غم ۲۲ اگست ۲۰۱۸ع عیدالاضحیٰ کی شام پر ملا۔جب میںنے اپنے چھوٹے بھائی محترم حبیب الرحمٰن غازی کو فون کر کے والدہ ماجدہ کی طبیعت معلوم کرناچاہی دوسری جانب سے برادرم کے رونے کی آواز آئی! میں نے پوچھا بھائی خیر تو ہے؟ کہنے لگے ابھی ابھی امی ہمیں داغِ مفارقت دے کراس سفر پر روانہ ہو گئیں جسے سفرِ آخرت کہتے ہیںاور جو ہر ذی روح نفس کا مقدر ہے، جو بھی اس دنیا میں آیا،اسے ہر صورت یہاں سے رخصت ہونا ہے، اور موت سے پہلے نہ کوئی فرار کی راہ ڈھونڈ پایا اور نہ آئندہ ہی کوئی اس سے بچ پائے گا۔ وَیبقیٰ وَجہ رَبِّکِ ذوالجلال والاکرام

والدہ ماجدہ کو بھی اس دنیا فانی سے رخصت ہوناہی تھا سو انہوں نے بھی فرشتہ اجل کی پکار پر لبّیک کہا اور خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہوگئیں۔ لیکن ان کی اس عارضی دنیا سے رخصتی ہمارے پاکستان و انڈیا میں منقسم  پورے خاندان کواشک بار کر گئی پاکستان میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں،پوتے اور پوتیوں، نواسے اور نواسیوں، بھتیجے اور بھتیجیوں اور خاندان کے دیگر افراد نے انکی وفات ناگہانی کے صدمے کو اپنی دل کی گہرایوں میں اترتے ہوئے محسوس کیا، اور یہ احساس غم مدتوں تک تازہ رہے گااور رنج و الم کی کسک تادیر رگ و پے میں سرایت رہے گی، کچھ ایسی ہی صورتحال انڈیا میں بھی محسوس کی گئی جب کہ والدہ ماجدہ کے اکلوتے بھائی کو عید کے دن اپنی پیاری ہمشیرہ کی وفات کی اطلاع موصول ہوئی تو پورے خاندان میں عید کی خوشیاں غم و الم میں تبدیل ہوگئیں ، ماموں کے گھر سب بہنیں ، چچا زاد بھائی اور چچا زاد بہنیں جمع ہوگئیں۔ انڈیا میں پورے ’سموں‘ خاندان کے بڑے  بڑے ۱۵ گائوں ہیں سب میں والدہ ماجدہ کی مفارقت کا غم اعزا و اقربا نےمحسوس کیا خُصوصا والدہ ماجدہ کے عمر رسیدہ دو چچا غم و الم کی وجہ سے اپنے اعصاب پر قابو نہ پارہے تھے ۔ غم و الم کی اس گھڑی میں اپنے آپ کو قرآن مجید کے سامنے پیش کیا تو جواب میں قرآن مجید کی اس آیت نے ڈھارس بندھا ئی:

یٰاَیُّھَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ   اِنَّ   اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (البقرہ:۱۵۳)

اللہ پاک سے صبر جمیل کی توفیق طلب کی پھر ہم نے برادر ِاکبر الشیخ محمد حسن سموں صاحب اور دیگر بھائیوں سے مشاورت کر کے صبح دس بجے( یعنی ۲۳ اگست بروز جمعرات) نمازِ جنازہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا، اور نمازِ جنازہ گوٹھ حاجی ابراھیم سموں ضلع تھرپارکر سندھ میں راقم الحروف نے بڑی رقت سے پڑھائی جس میں بفضل تعالیٰ سندھ کے طول و عرض سے کثیر تعداد میں احبابِ جماعت شریک ہوئے، بعد ازاں ان کی میّت کو گوٹھ حاجی ابراھیم سموں کے قبرستان میں پُر نم آنکھوں اور سسکیوں کے ساتھ سُپردِ خاک کر دیا گیا۔ بلاشبہ والدہ ماجدہ ایک عظیم خاتوں اور تقویٰ کی حامل شخصیت تھیں انہوں نے اپنی زندگی میں ایک حج اور ایک عمرہ کرنے کی سعادت بھی حاصل کی تھی۔

والدِ محترم اور والدہ ماجدہؒ کے حج کا واقعہ

ہمارے والدین انڈیا سے ۱۹۷۴ع کو ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے انڈیا میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے غربت کا دور تھا یہاں آکر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں قید سے آزادی کے بعد والدِ ماجد مزدوری اور کھیتی باڑی کرتے،والدہ مرحومہ بھی کھیتی باڑی میں ان کی معاون بنتیں ،اس وقت ہمارے بڑے بھائی مولانا علی محمد سموں صاحب کو تعلیم کے لیے وقف کیا انہوں نے کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی تقریبا رابعہ تک کتابیں پڑھیں پھر مدرسہ چھوڑ کر والد محترم کے ساتھ مزدوری کرنے لگے۔ یوں ۱۹۸۸ع کو حضرت علامہ سیّد بدیعُ الدین شاہ راشدی ؒ کی سُفارش سے الحفاظ پائپ فیکٹری نوری آباد (جو کہ روپڑی خاندان کے چشم چراغ حافظ عبدالماجد کی ہے )میں مزدوری کے لیے بھرتی ہوئے دونوں باپ بیٹے وہاں مزدوری کرتے اور ہمیں (مجھے اور الشیخ محمد حسن سموں صاحب )کو والد صاحب نے الجامعہ بحرالعلوم السلفیہ سیٹلائٹ ٹائون میرپورخاص میں داخل کرایا۔ ہم نے اپنی درسی کتابوں کی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس دوراں ایک دن فیکٹری مالک حافظ عبدالماجد صاحب فیکٹری کے دفتر میں تشریف لائے اور والد صاحب کے بارے میں پوچھا وہ کہاں ہیں؟ چونکہ والد صاحب چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھےتو بڑے بھائی علی محمد کو بھیجا کہ جائو اپنے والد اور والدہ کو لیکر آئو میں انکو حج پر بھیجنا چاہتا ہوں ، بھائی کی خوشی کی حد نہ رہی وہاں سے اپنے گھر تشریف لائے،رات کو دیر سے نواں کوٹ سے گاڑی نہ ملنے کی صورت میں انہوں نےبیس کلومیٹر پیدل سفر کر کے رات کے آخری حصے میں گھر پہنچے اور آتے ہی فوراً والد محترم جو کہ تہجد کی نماز کے لیے بیدار ہوئے ہی تھے انکو مبارکباد پیش کی کہ سیٹھ صاحب آپ کو اور امی کوحج کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں اور مجھے آپ کو لے آنے کے لیے بھیجا ہے۔ اسی وقت والدہ ماجدہ اٹھیں اور وضو کر کے دو رکعت شکرانے کے ادا کیں، اور اسی دن سے تہجد نماز کا باقاعدہ آغاز کیاجو سلسلہ زندگی کی آخری ساعتوں تک جاری رہا۔

یاد گار سفرعمرہ

۲۴ اپریل ۲۰۱۴ع کو ہمارا بفضل تعالیٰ۱۸ افراد پر مشتمل پورا قافلہ عمرے کی سعادت کے لیے حرمین شریفین روانہ ہوا جس میں راقم الحروف، والدہ ماجدہ، والد محترم، اور پیاری بڑی ہمشیرہ مرحومہ، بھتیجا رضائُ اللہ اور انکی والدہ محترمہ، بابو مولابخش نہڑی، اور انکی اہلیہ، محترم حاجی عطا محمدنھڑی اور انکی اہلیہ، محترم حاجی محمد عثمان سمون صاحب، محترم محمد یونس نہڑی ، ماسٹر فیض محمد نھڑی اور انکی والدہ محترمہ اور محترم چچا زاد بھائی عبد القادر سموں صاحب سفر کے ساتھی رہے۔ ہمارےمکۃ المکرمہ پہنچتے ہی والدہ ماجدہ کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی، میرا عمرے پر یہ پہلی مرتبہ جانا تھا دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب ہم عمرہ ادا کرنے کے لیے ہوٹل سے نیچے آئے اور حرم پاک کی طرف چلنے لگے تو والدہ ماجدہ نے کہابیٹا مجھ سے چلا نہیں جاتا، میں نے کہا اماں جی کوئی بات نہیں اور میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک ویلچیئر والا ساتھ کھڑا تھا میں نے اسے کہا کہ ویلچیئر مجھے دو تاکہ میں اپنی والدہ کو عمرہ ادا کرائوں۔ اس ویلچیئر پر وقف الحرم لکھا تھا پھر بھی میں نے پوچھا کہ کتنے پیسے لوگے تو کہنے لگے نہیں آپ ہمیں مخلصانہ دعائوں میں یاد رکھنا میں نے بھی دعائیں دیں اور کہا جزاکَ اللہ خیرا واحسنُ الجزآئَ فی الدنیا و الآخِرۃ، وہ بہت خوش ہوا اب میرے لیے ماشاء اللہ کوئی دقت نہ تھی لیکن کچھ فاصلے پر جاکر والدہ نے پانی طلب کیامیں بھی نووارد تھا، میں نے کوئی بوتل وغیرہ بھی اپنے ساتھ نہیں رکھی تھی لِھٰذا جیسے کبوتر چوک پر پہنچے تو ایک شخص آیا اور ایک بوتل پانی مجھے دے کر چلا گیاانکے جانے کے بعد ہم نے انکو دعائیں دیں۔ جب ہم باب عبدالعزیز سے داخل ہورہے تھے کہ حرمین شریفین کے صحن میں ایک خاتوں آئی اور اس نے ایک چھتری والدہ ماجدہ کو عنایت کی تاکہ گرمی کی شدت سے محفوظ رہا جاسکے، ہم نے جیسے ہی اس ویلچیئر سے نیچے صحن کعبہ میں اترنے کی کوشش کی تو ویلچیئر مجھ سے اچانک چھین لی گئی جس وجہ سے میں شدید پریشاں ہوگیاپھر اچانک ایک دوسری ویلچیئرپر نظر پڑی جو قریب موجود تھی میں نے اس ویلچیئر والے سے کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی میں ہی کہا کہ ویلچیئر دوگے ؟ اس نے کہا خمسینَ ریال میں نے کہا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں میں نے پچاس ریال میں ویلچیئر لیکر والدہ ماجدہ کو طواف کرانے لے گیااور والد محترم میرے ساتھ ساتھ طواف کرنے لگے، اتفاق سے باقی دیگر ساتھی ہم سے طوافِ کعبہ کے دوراں الگ ہوگئے ، ہم طواف کر کے سعی کی طرف گئے تو باقی ساتھی بھی وہاں ہمارا انتظار کر رہے تھے، سعی سے پہلے ہم نے آبِ زم زم جی بھر کہ پیا اور پھر سعی مکمل کر کے میں نے ایک نئی ویلچیئر خریدی جس کی رقم ۱۵۰ ریال تھی،ہم پہلے پانچ دن مکۃ المکرمہ میں قیام پذیر رہے ،والدہ ماجدہ اور ہمشیرہ کو خود ویلچیئر پر لے جاکر نمازیں ادا کراتے اور طواف کراتے اس طرح سے اللہ پاک نے مجھ ناچیز کو حرم پاک کی مبارک فضائوں میں اپنی والدہ کی خدمت کرنے کی کچھ توفیق بخشی۔  پھر مدینہ منورہ میں بھی ویلچیئر میرے ساتھ رہی،والدہ ماجدہ کی طبیعت مدینہ منورہ میں بھی ناساز رہی لیکن بفضل اللہ مستشفیٰ الانصار سے دوائیں لیتے رہے اور الحمداللہ مقررہ دن حرمِ مدنی میں بھی اچھے گذرے جب دوسرے عمرے کے لیے مکۃ المکرمہ آئے تو عمرہ کے بعدوالدہ ماجدہ کی طبیعت کچھ زیادہ بگڑ گئی، مجبورا مجھے مستشفیٰ النور میں داخل کرانا پڑا، جہاں پر ہم تقریبا دس دن داخل رہے ہمارا پورا قافلہ تو واپس وطن نکل آیا لیکن والدہ ماجدہ کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث مجھے انکے ساتھ رکنے اور خدمت کرنے کا موقعہ ملا۔ حرم مکی میں والدہ کی خدمت کی توفیق بھی ملی اور حرم کی خوشگوار فضائوں میں نمازیںاور طواف کا موقعہ بھی میسّرآیا، اللہ پاک نے والدہ ماجدہ کو صحت بخشی تو ہم بخیر و عافیت ۲۲  مئی کو پاکستان پہنچ گئے ، محترم شریف بھائی اور انکی اہلیہ محترمہ نے جو میری اور میری والدہ کی خدمت کی وہ میں زندگی بھر بھول نہیں سکتاخصوصا  انکے اکلوتے فرزند ارجمندمحترم سلمان بھائی کا بھی جو لمحہ بہ لمحہ میرے ساتھ  ہوتے میرے پاس ان کے لیے ماسِواء دعا خیر کے اور کچھ بھی نہیں۔ والدہ ماجدہ کی زندگی میں ہم بھائیوں کا معمول تھا کہ ہمارے دن کا آغاز ماں کی بابرکت دعائوں سے ہوتا تھا آج ہم جو کچھ بھی ہیں وہ انکی دعائوں کے طفیل ہیں ان کی زندگی میں ہمیں جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو والدہ ماجدہ ہمارے لیے سر بسجود ہوکر دعائیں کرتیں ہماری مشکلات و پریشانیاں دور ہو جاتی تھیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماں محض ایک لفظ ہی نہیں بلکہ محبتوں و عظمتوں کا مجموعہ ہے، جسے سنتے ہی ٹھنڈی چھائوں اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور ذہن میںفورا ان کی شفقت و عظمت اور سب کچھ قربان کر دینے والی ہستی کا تصور ابھر آتا ہے۔ ماں سے بڑھ کر اور کون محبت کرتا ہے؟ اس لیے تو ماں کے قدموں میں جنّت کی نوید سنائی گئی ہے۔ اور دین اسلام بھی ہمیں سیّدہ مریم، سیّدہ خدیجۃ الکُبری اور سیّدہ عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ gجیسی عظیم مائوں کی تمثیل دیتا ہے۔ ماں جیسی عظیم ہستی کی دعائوں کی ضرورت صرف ہم جیسے گناہگاروں کو ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو بھی رہی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جو بی بی ہاجرہ نے اپنے فرزند ارجمند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی تلاش میں چکر لگائے تھے۔ مجھے وہ وقت بھی اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی والدہ کو ویلچیئر پر لیکر صفا و مروہ کی سعی کررہا تھاتو ماں جی نے بہت ساری دعائوں سے نوازا، اور اپنی اولاد کے لیے مثالی محبت کی یاد تازہ کر دی۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت بڑا مرہم ہوتا ہے جو بڑے بڑے زخم بھی بھر دیتا ہے لیکن والدہ کے داغِ مفارقت کا صدمہ ہمیشہ دل میں تر و تازہ رہتا ہے ان کی وفات  کے بعد شاید ہی کوئی لمحہ ایسا گذرا ہو جس میں انکی یاد نہ آتی ہو ، وہ وقت بھی میں کبھی فراموش نہیں کر سکتاجب میری والدہ ماجدہ ہسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھیں اور میں انکے بیڈ  کے قریب بیٹھا ان کا چہرہ تکتا رہا کہ یہ تو وہ عظیم  ہستی ہے جس نے ہماری آبیاری اپنے خون سے کی تھی  جیسے ہم اپنے آنگن کے پودوں کو قدآور اور مضبوط درخت بنانے کے لیے سیراب کرتے ہیں، لیکن آج وہ خود اتنی کمزور اور نحیف ہوگئیں ہیں کہ خود اپنی زندگی کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہیںرہیں، میں نے جب والدہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تو یاد آیا کہ کبھی انہی ہاتھوں کے لمس نے مجھے انگلی پکڑا کر چلنا بھی سکھایا تھا اور انہی ہاتھوں سے وہ مجھے بنا سنوار کر تیار کرکے،کھانا بنا کر کھلایا کرتی تھیں۔ آج یہ باہمت ہاتھ بے جان اور ٹھنڈے لگ رہے تھے، اورمیں ان سوچوں میں گم تھا اور پھر بڑے بھائی علی محمد صاحب اور چھوٹے بھائی حبیب الرحمٰن غازی صاحب، بہنوئی عبدالرحمٰن اور چھوٹی ہمشیرہ اور الشیخ محمد حسن صاحب کی زوجہ محترمہ کو چھوڑ کر میں اور الشیخ محمد حسن صاحب عید کے لیے گھر آئے صبح عید نماز پڑھ کر بھائی کو فون کیا تو کہا کہ اماں جی آرام میں ہیں وقتا فوقتا رابطہ رہا مغرب کے بعد عشاء سے پہلے اچانک والدہ کی سانسیں اکھڑنے لگیں پھر انہوں نے آخری باراپنی آنکھیں کھولیں اور بیڈ کی اطراف بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے اور بیٹیوں پر الوداعی نظر ڈالنے کے بعد ہونٹ ہلا کر {جسے کوئی چیز پڑھ رہی ہوں} ابدی آرامی ہوگئیں ۔ والدہ ماجدہ اُم العُلمائَ تھیں آپ نے اپنے بیٹوں میں پانچ بیٹے عالم بنائے، بیٹیوں میں دو بیٹیوں کی اسلامی تعلیم مکمل کروائی، اور ان سب کی بہترین تربیت کا فریضہ کما حقہُ سرانجام دیا ، پوتوں میں چار پوتے عالم ہیں دو عالم ہونے کے ساتھ حافظ بھی ہیں۔ پوتیوں اور نواسیوں کی تعلیم کے لیے پوری کوشش کرتیں ، مختصرا پورے گھر کی تعلیم و تربیت شفقت و محبت میں کوئی کمی نہ آنے دی، الہُدیٰ انٹرنیشنل کے حیدرآباد مرکز سے بچیوں کو کورس بھی کروایا۔ یہ تمام جدو جہد والدہ ماجدہ کی مرہون منت ہیں۔ تقَبَّلَ اللہ سَعَیّھا، والدہ ماجدہ پہلے کچھ قرآن مجید پڑھی ہوئی تھیں لیکن جب ہم نے اپنے گائوں میں مدرسہ ابی ہریرہ الاسلامیہ حاجی ابراھیم سموں قائم کیا تو والدہ ماجدہ نے بڑی عمر میں اپنے بیٹے محمد حسن صاحب حفظہ اللہ سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا اور روزانہ تلاوتِ کلامِ مجید معمول رہا۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمیں۔

 آخر میں نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے تمام احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں خصوصا ادیبُ السندپروفیسر مولابخش محمدی صاحب، محترم مولانا محمد خان ملکانی صاحب، مولانا عبدالرزاق عابد صاحب اور اپنے علاقے کے تمام خطباء وائمہ مساجد و مدرسین  اور دیگر سیاسی شخصیات محترم ارباب عبدالجبار صاحب، محترم ارباب انور جبار صاحب، محترم ارباب محمد بچل صاحب، محترم ارباب امیرامان ُاللہ صاحب اورمحترم ارباب فضل اللہ صاحب اور تعزیت کرنے والوں میں ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب {ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اھل حدیث پاکستان}محترم ڈاکٹر عبدالمالک مجاھد صاحب سعودی عرب، محترم محمد ایوب صاحب، مولانا محمد یوسف قصوری صاحب، مولانا محمد ابراہیم طارق صاحب،ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں صاحب{ناظم اعلیٰ جمعیت اھل حدیث سندھ}، محترم پروفیسر محمد جمن کنبھر صاھب، مولانا عبدالرزاق ابراہیمی صاحب، ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق صاحب کویت، مولانا محمد ارشد علی صاحب، مولانا محمد احسن سلفی صاحب، مولانا قاری خلیل الرحمٰن جاوید صاحب، قاری خلیل الرحمٰن لکھوی،محترم بشیر احمد انصاری صاحب لاہور، مولانا محمد شریف حصاروی ، الشیخ مولانا محمد ابراہیم صاحب یو کے، قاری عبدالستار عاصم صاحب، الشیخ محمد اویس مدنی صاحب ، محترم ابو طلحہ صاحب، محترم حافظ عبدالسلام زاہد صاحب گجرانوالہ، محترم  چودھری پروفیسریاسین ظفر صاحب اور محترم الشیخ مولانا محمد ابراہیم بھٹی صاحب ۔

تمام احباب کا شکریہ جنہوں نے ہمارے غم و دکھ میں شریک ہو کر حوصلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ تمام احباب کوجزاء خیر عطا فرمائے۔

About عبدالرحیم ثاقب الصدیقی

جواب دیجئے