Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ اکتوبر » گناہوں کی معافی کانبوی نسخہ

گناہوں کی معافی کانبوی نسخہ

محترم قارئین !

ہر بندہ گناہ گار ہے، خطاکار ہے اور ہر کسی کی یہی خواہش ہے کہ اس کی ماضی کہ خطائیں ختم کردی جائیں۔

لہذا یہاں چند وہ نسخے بیان کیے جارہے جن سے ہماری خطائیں معاف ہو سکتی ہیں ۔

ملاحظہ فرمائیں :

1وضو کرنا اور دو رکعت پڑھنا

عطاء بن یزید نے حمران مولیٰ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے خبر دی،انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ

دَعَا بِوَضُوءٍ ‏‏‏‏‏‏فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ ثَلَاثًا ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ‏‏‏‏‏‏غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی (لے کر) ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ وضو کے پانی میں ڈالا پھر کلی کی پھر ناک میں پانی دیا، پھر ناک صاف کی۔ پھر تین دفعہ اپنا منہ دھویا اور کہنیوں تک تین دفعہ ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ہر ایک پاؤں تین دفعہ دھویا پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے اس وضو جیسا وضو فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور (حضور قلب سے) دو رکعت پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ (صحیح بخاری:164)

2 امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنا

 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ آمِينَ.

جب امام آمين کہے تو تم بھی آمين کہو۔ کیونکہ جس کی آمين ملائکہ کے آمین کے ساتھ ہو گئی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمين کہتے تھے۔( صحیح بخاری:780)

3 اللهم ربنا ولك الحمد کہنا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‏‏‏‏فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ(صحیح بخاری:796)

جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا ولك الحمد کہو۔ کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔

4 حج کرنا

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو حَازِمٍ كُوفِيٌّ وَهُوَ الْأَشْجَعِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بے ہودہ بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا تو اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (جامع ترمذي:811)

5 رمضان کے روزے رکھنا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (صحیح بخاری:38)

6  تراویح پڑھنا

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے بارے میں فرماتے سنا:  مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .(سنن نسائی:2196)

جس نے اس میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، یعنی صلاۃ تراویح پڑھی اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔

7 شب قدر کی رات عبادت کرنا

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، ‏‏‏‏‏‏غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، ‏‏‏‏‏‏غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ (صحیح بخاری:1901)

جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے (عبادت میں) کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے  گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

8 کھانا کھانے کے بعد کی دعا پڑھنا

معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ أَكَلَ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .

 جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبهحمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا  تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا ۔ (ابن ماجہ:3285)

9 نیا لباس پہنتے وقت کی دعا پڑھنا

 معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ ‏‏‏‏‏‏وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ  .

جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا  تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے نیز فرمایا:  اور جس نے (نیا کپڑا)  پہنا پھر یہ دعا پڑھی: الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا  تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ (ابو داود:4023)

About منظور بن عبدالوہاب

جواب دیجئے