Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ مئی » احترام رمضان اور ہمارا معاشرہ

احترام رمضان اور ہمارا معاشرہ

الحمدللہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین و بعد                                                                                                                                                                                                                                                                           قارئین کرام !  السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ماہ صیام ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے؛ جس میں رحمت الہیہ کا  سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے ،ایمان و عمل صالح کے پھول جا بجا کھلتے ہیں اور ہمارا معاشرہ ایک ماہ کے لیے ہی سہی اسلامی رنگ میں رنگ جاتا ہے،مساجد میں نمازیوں کی بہتات ہوتی ہے،روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن مجید ،ذکر و اذکار،نوافل اور صدقات وخیرات بھی کثرت سے کیے جاتے ہیں اور شعائر اسلام کی عظمت وقدر کے مظاہر سے ایک مومن ومسلم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔

معزز قارئین!ہونا تو یہ چاہیئےتھاکہ وطن عزیز جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا یہاں پر ہمہ وقت اسلام اور شعائر اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا نمازاور زکاۃ کا نظام نافذالعمل ہوتا ،امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ ارباب حل وعقد کی وساطت سے ادا کیا جاتا ؛لیکن افسوس کے ایسا نہ ہوسکا، ابتدا سے ہی ایک ایسا طبقہ مسلط کردیا گیا جو دین سے بیزار ، سیکولر ازم کا دلدادہ اور مبادیات دین سے بھی نابلد تھا۔ جب وطن عزیز  میں اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کی بات بھی کی گئی تواس طبقےنےاس کی مخالفت ہی کی؛بلکہ دینی شعائر کے ساتھ تمسخر و استھزاء کے جرم شنیع کے مرتکب ہوئے۔جس کی ایک مثال گزشتہ رمضان میں جب احترام رمضان آرڈینس منظور ہوا تو’’ سندھ پر راج کرنے والی پارٹی کی بیٹی‘‘ نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے  اس کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس پراپنی ناپسندیدگی اور برہمی کا اظہار کیااور اس آرڈیننس کو شخصی آزادی کے خلاف قراردیا۔ فیاللعجب! !

دوسری جانب بے حیائی،فحاشی و عریانی اور مغربی و ہندو کلچر کو فروغ دینے والا میڈیا ہے، رمضان المبارک آتے ہی ناچنے گانے  والے بھانڈومیراثی  اور شعبدہ باز اینکر پرسن اسلامی اسکالر بن کر وہ تماشہ بپاکرتے ہیںکہ رمضان و روزہ  تو درکنار عام دنوں میں بھی  جس کا کوئی شرعی اور اخلاقی جواز نہیںہے۔ جہاں ایسے پروگراموں کی نشر واشاعت کے پیچھے چینل مالکان کی ریٹنگ اورشہرت کی طمع و حرص کار  فرما ہےتو وہیں  وہ  نام نہاد علما ءبھی ایسے پروگراموں  کے فروغ کا سبب ہیں جو ا ن میں شریک ہوکر عوام الناس کی نگاہ میں ان منکرات کو مزین کر دیتے ہیں۔مخلوط ماحول ،بے پردگی،شرکیہ نعت وقوالیاں ،ڈھمالیں اور انعام کا لالچ دے کر شرکاء (مرد وخواتین) سے وہ  اوٹ پٹانگ حرکتیں کرائی جاتی ہیں کہ شرافت و انسانیت سر پیٹتے رہ جائیں۔و العیاذ باللہ۔

یہ اداریہ تحریر کرتے ہوئے راقم کے سامنے روزنامہ امت 9مئی 2018ع بروز بدھ کی اشاعت ہے ؛ جس میں احترام رمضان کے متعلق ایک مقدمہ جو 2013ع  میں ایڈوکیٹ محمد وقاص ملک نے  بنام حکومت پاکستا ن اسلا م آباد  ہائی کورٹ میں  داخل کیا تھا ،جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھاکہ رمضان المبارک میں خصوصی ٹرانسمیشن کے نام پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وقار اور اسلامی تشخص کو مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ مذہب کی ترجمانی ایسے لوگ کرتے ہیں جن کو اسلام کی بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتیں۔

مسلسل پانچ سال تک زیر سماعت رہنے والے کیس میں اس وقت اہم موڑ آیا جب  جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے یہ ریمارکس سامنے آئے(ستم تو یہ ہے کہ ؛اول: اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک شہری کی طرف سے احترام رمضان کا یہ مقدمہ دائر کیا جاتا ہے !کیا حکومت وقت کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ از خود ایسے اقدامات کرے…؟؟؟دوم:احترام رمضان کا مقدمہ گزشتہ پانچ سال سے حل طلب ہے!!!)جن کا ہم ذیل میں تذکرہ کرتے ہیں:

ــرمضان ٹرانسمیشن کے نام پرچینلز کو سرکس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہر چینل کے لیئے پانچ وقت کی اذان نشر کرنا لازم ہوگا ۔ معزز جج صاحب نے مزید کہا  کہ مسلمانوں کے لیئے اذان سے بڑہ کر کوئی بریکنگ  نیوز نہیں  ہے ۔پاکستان میں کل 117چینلز میں سے کتنے  اذان نشر کرتے ہیں  ،بلکہ  ان چینلز پر اذان کے وقت میں ناچ  گانا اور بے حیائی پر مبنی اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔

معزز جج صاحب کے بقول اگر ایسا ہی چلنا ہے تو پاکستان کے نام سے اسلامی جمہوریہ ہٹادیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کا تمسخر اڑانے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔اسلامی تشخص اور عقائد کا تحفظ ریاست کی  ذمہ داری  ہے  ۔

ہم جسٹس شوکت عزیر صدیقی صاحب کے شکرگزار ہیں  جس نے اسلامی ریاست کے جج ہونے  کا ثبوت دیا ،ان کے لیےدعاگو ہیں  کہ اللہ تعالی ان کو مزید ترقی دے  اور ان کی حفاظت کرے  اور دیگر اصحاب حل وعقد ،معزز جج صاحبان اور نمائندگان  الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے التماس کرتے ہیں  کہ شعائر اسلام اور احترام رمضان کے تعلق سے  غیرت مند مسلمان ہونے کا ثبوت دیں ،اسلامی معاشرے میں خیر و بھلائی اور اسلامی اقدار  وآداب کو فروغ دیں  اور ہر طرح کے بگاڑ ،فساد اور خلفشار سے احتراز کریں ۔

ہم اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو یہی نصیحت کریں گے کہ؛رمضان المبارک کی قدر وقیمت کا احساس کرتے ہوئے اپنے اوقات کو نبیﷺکے اسوئےحسنہ کے روشنی میں گذاریں، مساجد وعلماءحقہ کے ساتھ جڑجائیں،روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ نمازباجماعت کااہتمام کریں،نوافل بطور خاص تراویح کی پابندی کریں،ذکرواذکاور تلاوت قرآن مجیدکو معمول بنالیں،مساجد میں ہونے والےدروس سے خوب استفادہ کریں،نیکیوں کے اس موسم بہار میں کثرت سے اعمال صالحہ کی شجرکاری کریں،عمل میں اخلاص واحتساب اور سنت نبوی کو حرز جان بنالیں۔

اللہ تعالی ہم سب کو  اس ماہ مبارک کا احترام کرنے  اور اس  کے فیوض و برکات  سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

المعہد السلفی میں تقریبِ بخاری وتقسیم انعامات

مؤرخہ ۲۹اپریل۲۰۱۸ ءبروز اتوار بعدنمازعصر تابعدنمازعشاء جمعیت اہل حدیث سندھ کی مرکزی درسگاہ المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ، گلستان جوہر، کراچی میں پروقار تقریب بخاری کا انعقاد کیاگیا ،بعد نماز عصر تلاوت کلام اور المعہد السلفی کےہونہار طلباء کی تقاریر ہوئیں، ڈاکٹرعبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ کا معرکۃ الآراء خطاب ہوا، سندفراغت حاصل کرنے والاطلباء میں سے طہ پاشانے علم کی اہمیت کے موضوع پر خطاب کیااورحافظ بدیع الدین بن شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کی طرف سے نمائندہ خطاب کیا۔

درس بخاری کے لئے عظیم محقق، محدث اور بقیۃالسلف شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کو دعوت دی گئی جنہوں نے صحیح بخاری کی آخری حدیث پر محققانہ اور عالمانہ تفصیلی گفتگو کی، آخر میں صدر مجلس فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے کلمہ تشکر اداکیا، اپنے تلامذہ اور عام لوگوں کو قیمتی نصائح سے نوازا۔

اس سال الحمدللہ المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ سے 15طلباء نے دستار فضیلت باندھ کر علماء کرام کی صف میں شمولیت اختیار کی۔

دعاگوہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان روحانی بیٹوں کواخلاص اور عمل کی دولت سےمالامال کرے اورزیادہ سے زیادہ اپنے دین حنیف کاکام لے۔آمین۔

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

برج و ستارے حقیقت کیا  ہے

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی  آلہ و صحبہ  اجمعین اما بعد! قارئین کرام …

One comment

  1. السلام علیکم۔
    آپ کا کوئی واٹس ایپ گروپ ہو تو ایڈ ہونا چاہتا ہوں، در اصل کچھ مہینوں پہلے منہج سلف پر اللہ نے قبول کیا۔ اس سے پہلے دیوبند سے تعلق تھا، پر اب بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ پرانے دوستوں اور محلے کے امام وغیرہ کے بحث و مباحثے اور اعتراضات بہت بڑھ گئے ہیں، خیر کوئی کانٹیکٹ نمبر، ای میل یا واٹس ایپ دے دی جئیے جہاں رابطہ کر سکوں۔ شکریہ

جواب دیجئے