Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ جولای » ناطقہ سربہ گریباںکہ اسے کیاکہئے!

ناطقہ سربہ گریباںکہ اسے کیاکہئے!

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول  ﷲ (ﷺ) وبعد!

قارئین کرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مشہور کہاوت ہےکہ’’عمدہ لباس آپ کی ظاہری شخصیت کو مزین کرتا ہے اور حسن اخلاق آپ کی باطنی شخصیت کی عمدگی کا عکاس ہے۔‘‘

ہمارا دین حنیف بھی اچھے اخلاق کی تلقین کرتا ہے اور بداخلاقی کے برے انجام سے ڈراتاہے۔

امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ما من شیٔ اثقل فی المیزان من خلق حسن.

روز قیامت ترازومیں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھااخلاق ہوگا۔

ام المؤمنین عائشہrسے نبی کریم ﷺ کے اخلاق کے متعلق پوچھاگیا توفرمایا:کان خلقہ القرآن .

آپﷺ کا اخلاق توقرآن کریم تھا۔

آپﷺ نے فرمایا:اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا

کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)

ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف وتحسین کی ہے۔۔۔

ان من خیارکم احسنکم اخلاقا۔

تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں ۔(بخاری ٣٥٥٩)

ام المؤمنین  عائشہr سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم۔

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض شخص وہ ہے جو ضدی قسم کا اور جھگڑالو ہو ۔(ترمذی٢٩٧٦)

ایک اور روایت میں ہے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان اللہ لیبغض الفاحش البذیٔ

اللہ تعالٰی بےحیا اور فحش گو شخص سے نفرت کرتا ہے۔ (ترمذی ٢٠٠٢ صحیحہ اللالبانی)

نصوص بالااور دیگرکئی دلائل اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہیں کہ حسن اخلاق کا اسلا م میں کیا مقام ومرتبہ ہے۔

کسی بھی معاشرے کی مہذب اور سلجھے ہوئے ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس سوسائٹی کے افراد حسن خلق کی دولت سے مالامال ہوں ،اپنا نکتۂ نظر اخلاق سے بیان کرتے ہوں اوراختلاف کرتے وقت بھی فریق مخالف کے لئے حسنِ اخلاق کے دامن کو نہ چھوڑیں، عوام تو خواص سے سیکھتے ہیں جیسی گفتگو بڑوں کی ہوگی چھوٹے بھی وہی زبان استعمال کریں گے تو بات تربیت کی ہےلہذا خواص کےطبقہ(علماء،حکمران، اکابرین، صحافی، سیاستدان اور اساتذہ کرام) کوچاہئے کہ اس پہلو سے عوام الناس کی تربیت کریں اور ان کے لئے ایک نمونہ اور اسوہ بنیں۔

اس وقت الیکشن کا دور دورہ ہے ہر طرف انتخابات کاشوروغل سنائی دے رہا ہے، جمہوریت کیسا نظام ہے؟ اسلام اس باب میں کیا کہتا ہے؟ یہ ایک الگ موضوع ہےاورتفصیل سے ماہ گذشتہ کےمجلہ میں اس بارے میں استاذی المکرم شیخ داؤد شاکر حفظہ اللہ کامفصل اور مدلل مضمون آپ تک پہنچ چکا ہے، اس وقت یہ بتانا مقصود ہے کہ ’’ہمارے لیڈران کس قدر دین سے نابلداورجاہل ہیں اورکس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں ؟وہ اپنی بدخلقی سے اس قوم کی کیسی تربیت کررہے ہیں؟ ذاتیات کو اچھالنا، تہمتیں لگانا ،ایک دوسرے کو برے القابات سے نوازنا،فریق مخالف کی تصویر اور جھنڈے کوپاؤں تلے روندنااور ان کا پتلا بناکے جلانااور کہیں اپنے لیڈران کے لئے اتناغلوکہ جو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔

چندتازہ بیانات ملاحظہ ہوں:

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے نون لیگ کے رہنما راناثناءاللہ نے توحد ہی کردی، اپنے قائد کے استقبال کو حج بیت اللہ سے بڑا کام قرار دے دیا،اناللہ وناالیہ راجعون.

اسی طرح بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ نے ’’نوا ز شریف کے استقبال کے لئے ائیرپورٹ جانے والوں کو گدھا اور بیوقوف کہہ دیا۔

سندھ اسمبلی کے سابق اسپیکر اورپیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی نے الیکشن مہم کے دوران’’ گوہرافشانی‘‘ کرتے ہوئے کہا:

سندھیو!اگرتم میں غیرت ہے اور تم اپنے باپ کی اولاد ہوتوووٹ پیپلز پارٹی کو دوگے وگرنہ تم پر لعنتیں برسیں گیں،پیپلز  پارٹی نے تمہیں رزق دیا ہے۔

کیا ہی نرالاانداز ہے ووٹ مانگے کا!

یہ وہی موصوف ہیں جنہوں نے اس وقت کہ جب سمندری طوفان کاخطرہ اہلیان کراچی کے سروں پر منڈلارہاتھا کہا تھا کہ:ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں عبداللہ شاہ غازی کا مزار جوموجود ہے وہ ہمیں بچالےگا۔اناللہ واناالیہ راجعون.

اپنے آپ کو اسلامی اسکالر کہلانے والے جعلی ڈاکٹر عامر لیاقت انتخابی مہم کے دوران ایک معروف باطنی فرقے کے لوگوں( کہ جن کے کفر پر اہل اسلام کا اجماع ہے)میں بیٹھ کر ان کے’’روحانی پیشوا ‘‘کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ ان کے چہرے پر سیدناعلی رضی اللہ عنہ کا نور ہے!!! کیا یہ سیدنا علیرضی اللہ عنہ کے شان اقدس میں بدترین گستاخی نہیں ہے؟

چھوٹی پارٹیوں اور لوگوں کو توچھوڑ ہی دیں یہ ہیں وہ پارٹیاں جو اگلے پانچ سالوںکے لئے اقتدار کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لیں گی اور اس ملک کے سیاہ وسفید کی مالک بنیں گی ۔عربی کے ایک شاعر نے کیاہی خوب کہا:

اذا کان الغراب دلیل قوم

سیھدیھم الی دار الخراب

جب کوّا قوم کا رہنماہوگاتو وہ ان لوگوں کوویرانوں اور ہلاکت کی جگہوں پر پہنچادے گا۔

قارئین کرام!حاصل کلام یہ ہے کہ وہ لوگ جن کی نہ اخلاقی تربیت ہے اور نہ دینی تربیت ہے ایسے لوگوں کو اپناحاکم منتخب کرنا یقینا خطرے سے خالی نہیں ہے لہذا ایسے لوگوں کو اپناراہنمابنانے سےپہلے اچھی طرح سوچ لیجئے کہ اس کے عواقب ونتائج کیا ہوں گے؟

محروم تماشاکو پھر دیدۂ بینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک وصالح حکمران عطافرمائے اور وطن عزیز کی حفاظت فرمائے۔آمین

امیرمحترم حفظہ اللہ کی گیرٹ ولڈرزکے گستاخانہ خاکوں کی مذمت اور اہم نصیحتیں

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ،وبعد

ہمارے دشمن مختلف اسالیب سے مسلمانوں کو دکھ پہنچانے کی اور کمزور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ،جس کی ایک کڑی رسول کریم ﷺ کے خاکے بناکر،ان کی اہانت کرکے ہمیں دکھ پہنچانامقصود ہے،اس کی پرزور مذمت کی جانی چاہئے اور ہمارا اس میں یہ کردار ہوناچاہئے :

(۱)ہم اپنے پیارے رسول ﷺ کی سیرت طیبہ کو عام کریں انہی وسائل کو بروئے کار لاکرآپﷺ کے اسوہ کو اور آپﷺ کی سیرت کو عام کریں تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ جس نبی کی اہانت کی جارہی ہے اس کامقام کیا ہے؟

(۲)تعلق باللہ ،اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کرنا،اورا ن پر بددعاکرنا یہ لوگ یقینا ہماری بددعاکے قابل ہیںکیونکہ یہ لوگ استہزاء کرتے ہیں ،[اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَہْزِءِيْنَ۝۹۵ۙ](الحجر:۹۵)اللہ ان کے لئے کافی ہے۔آپ خود اپنی اصلاح کے لئے نبی ﷺکی سنت کو اپنالیں اور اپنی اصلاح کریںگےتو یہ آپ کی قوت ہوگی اور ان کی کمزوری ہوگی،اور اگرآپ نبی ﷺ کی سنت پرعمل نہیں کریںگے تو یہ ان کی قوت ہوگی اور آپ کی کمزوری ہوگی، وہ جب اپنے آپ کو طاقتور محسوس کریں گے تو ہر طرح سے آپ کو پریشان کرنے کی کوشش کریں گے،اللہ تعالیٰ نے یہ اصول اورقانون ہمیں دیا ہےاور اسی میں ہماری بہتری ہے ،[وَلَوْ اَنَّھُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِيْتًا۝۶۶ۙ] (النساء:۶۶)اگر یہ صرف میری رسول کی نصیحت اپنالیں تو ہر قسم کی خیر بھی دوں گا اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدمی بھی دوں گا،طاقت اور قوت سے بھردوںگا۔اور تمہاری قوت دشمن کی کمزوری ہوگی اور جب یہ کمزور ہوں گے تو کوئی سازش نہیں کرسکیں گے،اور جب تم کمزور پڑ جاؤگے،آپ کی سنت اور اسوہ پر عمل پیرا نہ ہونگےتو یہ آپ کی کمزوری اور ان کی طاقت ہوگی اور جب وہ طاقتورہونگے تو آپ کو پریشان کرنے کےلئے اوراسلام کو بدنام کرنے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈےاپنائیں گے،تعلق باللہ اگرگہراہوتو اللہ تعالیٰ ان سب سے ہمیں کفایت کردے گا۔لہذاضرورت اس بات کی ہےکہ ہم اپنی اصلاح کریں۔

(۳) ایک طریقہ کاریہ بھی اپنایاجاسکتا ہےکہ جو لوگ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں ان کی ہر قسم کی مصنوعات سے بائیکاٹ کیاجائے وہ اقتصادی کمزوری کو اپنی ہلاکت تصور کرتے ہیںاگر ان کا معاشی میدان میں ہم بائیکاٹ کریں،ان کی مصنوعات کو چھوڑ دیں تو اس سے بھی ان کو ایک ضعف وکمزوری لاحق ہوگی وہ اس قسم کی سازشوں سے باز آجائیں گے۔

باقی کچھ لوگ اپنے ملک میں جلوس نکالنا،احتجاج کرنا،مختلف عمارتوں کو نقصان پہنچانا،گاڑیوں کو جلانا، شیشوں کوتوڑنا وغیرہ انجام دیتے ہیںتویہ سارے اعمال دین اسلام کے مقاصد کے خلاف ہیں،ہمیں صرف وہی کام کرنے چاہئیں جن کی اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہےاور وہ یہی ہےکہ تمہاری قوت نبی ﷺکی غلامی میں ہے اور آپ کی اتباع میں ہے جس سے دشمن کمزور ہوکرآپ سے بھاگے گا،اور سازشیں نہیں کرے گا، تواللہ تعالیٰ ہمیں ان اعمال اور افعال کی توفیق دے جو دین اور اس کے تقاضوں کے تحت آتے ہیں۔وصلی اللہ علی نبینا محمد وبارک وسلم.

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

مقدس فریضہ حج کو داغدار کرنے کی ناپاک سازش!

کچھ ایام قبل سوشل ميڈيا اور بعض خبر رساں اداروں پر اسلام کے ایک اہم …

جواب دیجئے