Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ جولای » حجِ تمتع حج وعمرہ کیونکر قبول نہیں ہوتا؟

حجِ تمتع حج وعمرہ کیونکر قبول نہیں ہوتا؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

إن الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سیئات أعمالنا،من یھدہ اللہ فلا مضل لہ، ومن یضلل فلا ھادی لہ ،وأشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ،

اما بعد:

مناسکِ حج و عمرہ کے بارہ میں یہ ایک مختصر سا رسالہ ہے، جس کی ہر اس شخص کو ضرورت رہے گی جو صحیح اورمکمل طریقہ سے، نیز بالکل رسولِ کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ادائیگی کی خواہش رکھتا ہے ۔

ہم نے (طوالت سے بچنے کیلئے )اقسامِ حج میں سے صرف حجِ تمتع کے بیان پر اکتفاء کیا ہے؛کیونکہ رسول اﷲﷺ نے حجِ تمتع کی تمنا کی تھی اورصحابۂ کرام کوحجِ تمتع کا حکم دیاتھا، چنانچہ آپeنے فرمایاتھا:

(لو انی استقبلت من أمری ما استدبرت لم أسق الھدي وجعلتھا عمرۃ، فمن کان منکم لیس معہ ھدي فلیحل ولیجعلھا عمرۃ) (رواہ مسلم)

یعنی:حج کے معاملے میں،میں نے جو   اب محسوس کیا ہے، اگر پہلے کرلیتاتوقربانی ساتھ نہ لاتا،اورصرف عمرہ کااحرام باندھتا (پھر حج کیلئے دوسرااحرام باندھتا،یعنی حجِ تمتع کرتا) تم میں سے جوشخص قربانی ساتھ نہیں لایا،وہ حلال ہوجائے اوراسے عمرہ کا احرام بنالے۔

حج وعمرہ کی فرضیت

حج کی فرضیت کتاب وسنت سے ثابت ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

[وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا۝۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِىٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۝۹۷ ]

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پربیت اللہ کاحج فرض کیا ہے جو اس کی طرف سفر کرنے کی طاقت رکھتے ہوںاور جس نے کفر کیا تو بیشک اللہ تعالیٰ ساری دنیا سے بے پرواہ ہے۔(آل عمران :۹۷)

رسول اللہﷺ نے اپنی حدیثِ مبارک میں حج کو اسلام کا  رکنِ رکین قراردیاہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ "

یعنی:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پرقائم ہے:ایک لاالٰہ الا اللہ اور محمدرسول اللہ کی گواہی دینا،دوسرانمازقائم کرنا، تیسرا زکوٰۃ دینا، چوتھا حج کرنا اورپانچواں رمضان کے روزے رکھنا۔(صحیح بخاری)

حج کی فرضیت پر نیز اس کے اسلام کا رکن ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔

امیرالمؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے:

کبھی کبھی سوچتاہوںمختلف شہروں میں اپنے نمائندے بھیجوں، جوان لوگوں پر جزیہ قائم کردیں جو استطاعت کے باجود حج نہیں کرتے،یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے،یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے۔ (ایک قول میں یہ بھی وارد ہے)ایسے لوگ یہودی ہوکر مریں یانصرانی ہوکر۔(تلخیص الحبیر۲؍۲۲۳)

استطاعت پر حج فوری طورپہ فرض ہوجاتاہے،رسول اللہ ﷺ پر ۹ہجری کے آخر میں حج فرض ہوااور آپﷺ نے کسی تاخیر کے بغیر فرضیت کے اگلے سال ہی حج کرلیا۔

آپﷺ کا فرمان بھی ہے:(تعجلوا إلی الحج فإن أحدکم لایدری ما یعرض لہ)

یعنی:فریضۂ حج فوری اور جلدی اداکرلو،کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ آگے چل کرکیاصورتِ حال بن جائے۔(مسنداحمد،شیخ البانیa نے ارواء الغلیل میں اس حدیث کو حسن قراردیاہے)

واضح ہو کہ معروف حدیث،حدیث جبریل میں (تحج) یعنی حج کرو،کے ساتھ ساتھ یہ الفاظ بھی وارد ہیں: (وتعتمر) یعنی: عمرہ کرو۔(دارقطنی ۲؍۲۸۳)

اس حدیث سے علماء نے عمرہ کے وجوب کا استدلال کیا ہے۔

قبولِ عمل کی شرائط

اﷲتعالیٰ آپ کو اپنی اطاعت کی توفیق دے،یہ بات جان لیجئے کہ کسی بھی عمل کی قبولیت کیلئے دوشرطیں ہیں:

1  اﷲتعالیٰ کیلئے نیت کاخالص ہونا،اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے: [وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ ](البینۃ:۵)

یعنی:تمہیں تو صرف یہی حکم دیاگیا ہے کہ تم اخلاص کے ساتھ اور یک طرف ہوکر اس کی عبادت کرو۔

2  رسولِ اکرمﷺ کی سنت کے مطابق ،اس عمل کو انجام دینا؛رسول اﷲﷺنے حج کے موقع پر فرمایا تھا:

(لتأخذوا عنی مناسککم ) (رواہ مسلم)

یعنی :اپنا طریقۂ حج مجھ سے لے لو۔(اور اس کے مطابق حج کرو)

اﷲتعالیٰ ہی توفیق عنایت فرمانے والا ہے۔

اعمالِ عمرہ

اجمالی طور پر عمرہ کے چار کام ہیں:1 احرام 2 طواف 3 سعی 4 بال منڈوانا یاکتروانا۔

ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

1  احرام کیلئے غسل کرنا مستحب ہے۔(عورت کو اگر حیض یانفاس کا عذردرپیش ہو ،اسے بھی غسل کرلینا چاہئے )

مرد احرام میں ایک چادر اورایک تہبند پہن لے اور ایسے جوتے استعمال کرے جوٹخنوں کونہ ڈھانپتے ہوں، احرام میں قمیض، پگڑی، ٹوپی،شلوار یاانڈرویئرپہننا ممنوع ہے ۔اسی طرح خوشبولگا کپڑا پہننا بھی جائزنہیں،نہ ہی جرابیں پہننا درست ہے (البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو جرابیں پہننا جائز ہے ،بشرطیکہ انہیں ٹخنے کے نیچے سے کاٹ لیا جائے۔)

میقات سے پہلے احرام کی چادریں اوڑھ لینا جائز ہے، البتہ عمرہ کی نیت میقات پر پہنچ کر کی جائے۔

عورت کیلئے بطورِ احرام کوئی مخصوص لباس ثابت نہیں ہے،لیکن وہ نقاب نہیں کرسکتی ،نہ برقعہ پہن سکتی ہے ،نہ ہی ناک وغیرہ پر کوئی کپڑا لپیٹ سکتی ہے،نہ ہی دستانوں کا استعمال کرسکتی ہے، البتہ اگر اجنبی مردوں کے سامنے کا خدشہ ہوتوضروری ہے کہ کسی چادرسے اپنے چہرے کو ڈھانپ لے ،جس کی صورت یہ ہے کہ اس چادر کو سرپہ ڈال کر چہرے پر لٹکالے،اس چادرکا چہرے کو چھونا کوئی نقصان دہ نہیں ہے ۔

2  مرد احرام سے قبل اپنے جسم پر خوشبویاتیل لگاسکتا ہے، احرام کے کپڑوں پر خوشبولگانا ممنوع ہے (عورت کیلئے خوشبو کا استعمال حرام ہے )

3  جب میقات آجائے تو قبلہ رُخ ہوکر اﷲتعالیٰ کی حمد (یعنی الحمدﷲ کہنا)تسبیح(یعنی سبحان اﷲ کہنا)تکبیر(یعنی اﷲ اکبر کہنا) کرتا رہے ،پھر درجِ ذیل الفاظ کہہ کر عمرہ کی نیت کرلے:ـ

(لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ بِعُمْرَۃٍ)

اس موقع پر یہ الفاظ کہنا بھی ثابت ہے:

(اَللّٰھُمَّ ھَذِہِ عُمْرَۃٌ لَارِیَائَ فِیْھَا وَلَاسُمْعَۃَ )

یعنی :اے اﷲ! ایسے عمرہ کا ارادہ ہے جوریاکاری اور شہرت پسندی سے پاک ہو۔

اس موقع پر اپنے احرام کیلئے درجِ ذیل الفاظ کہہ کر شرط بھی لگاسکتاہے:

(اَللّٰھُمَّ مَحِلِّیْ حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ)

یعنی: تونے جہاں (کسی عذرکی بناء پر )روکا،میں وہاں حلال ہوجاؤںگا۔

اس شرط کا فائدہ یہ ہے کہ اگر احرام باندھنے کے بعد کوئی رکاوٹ پیداہوجاتی ہے یا کسی مرض کا حملہ ہوجاتا ہے تو کسی دم (قربانی)کے بغیرہی احرام کھول کر حلال ہوجانا جائز ہوجائے گا۔

احرام کے بعد کسی نماز کی مشروعیت ثابت نہیں ہے ۔

لیکن جس شخص کی میقات ذو الحلیفہ ہے،اس کیلئے وہاں نماز پڑھنا مستحب ہے۔اوریہ خصوصیت اس بابرکت جگہ کیلئے ہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اﷲeنے ذوالحلیفہ پہنچ کر فرمایاتھا :

(أَتَانِی الْلَیْلَۃَ آتٍ مِنْ رَّبِیْ فَقَالَ :صَلِّ فِیْ ھٰذَا الْوَادِی الْمُبَارِکِ) (رواہ البخاری)

یعنی:رات میرے پاس،میرے رب کی طرف سے فرشتہ یہ پیغام لایا ہے کہ اس مبارک وادی میں نمازپڑھو۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ذوالحلیفہ میں نماز کا مسئلہ بہت کم علماء نے بیان فرمایا ہے ،حالانکہ حدیث سے ثابت ہے۔

ہم نے اوپر جو قبلہ رُخ ہوکرتسبیحات وغیرہ کا ذکرکیا ہے تو اس پر صحیح بخاری میں مستقل باب موجودہے۔

حائضہ عورت اگرعمرہ کرناچاہتی ہے تو وہ بھی احرام باندھے گی اور تلبیہ پڑھتی رہے گی۔

عمرہ کے احرام کیلئے وضوء کی شرط ثابت نہیں ہے،البتہ وضوء کرلینا مستحب ضرور ہے،تحیۃ الوضوء کا اہتمام بھی باعثِ اجروثواب ہوگا، واللہ ھو الموفق.

4  تلبیہ کے الفاظ درجِ ذیل ہیں:

( لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ)

ترجمہ: میں حاضر ہوں ،اے اﷲ!میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں تیراکوئی شریک نہیں،میں حاضر ہوں ۔بے شک ہرقسم کی تعریف اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں اور تمام بادشاہت بھی تیرے لئے ہے ،تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔

یہاں اس حاجی کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا شریک مقرر کرتاہے،اس کا یہ عمل تلبیہ کے سراسرخلاف ہے،شرک کی موجودگی میں تلبیہ کاکوئی فائدہ نہ ہوگااور نہ ہی حج یا عمرہ قابل قبول ہوگا،حدیثِ جابرمیں تو تلبیہ کو تلبیۂ توحید کا نام دیاگیاہے(فأھل رسول اللہﷺ  بالتوحید)جس سے حج کا توحید سے گہراتعلق ثابت ہوتا ہے اورواضح ہوتا ہے کہ سوفیصد توحید ہی قبولِ حج کے لئے ضروری ہے۔

تلبیہ بلندآواز سے اور باربار پڑھناچاہئے،گاہے بگاہے تھلیل (لاالٰہ الا اﷲ)بھی کی جاسکتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز سے تلبیہ پڑھنا،افضل حج قرار دیا ہے،البتہ خواتین کی آواز چونکہ پردہ ہے لہذا وہ دھیمی آواز سے تلبیہ پڑھنے پر اکتفاء کریں،فتنہ کا خدشہ نہ ہوتو آواز اونچی بھی کی جاسکتی ہے، سیدہ عائشہ صدیقہrسے اونچی آواز سے تلبیہ پڑھنا ثابت ہے۔

باجماعت تلبیہ پڑھنا جائز نہیں؛کیونکہ یہ نبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سنت سے ثابت نہیں،لہذا بدعت ہی قرار پائےگا۔

5  جب مکہ کے گھرنظر آنا شروع ہوجائیں تو تلبیہ پڑھنا بند کردے،اگرممکن ہوتو مکہ میں داخل ہونے سے قبل غسل کرلے۔

6  اگرممکن ہوتومسجدِ حرام میں بابِ بنی شیبہ سے داخل ہو،ورنہ کسی بھی دروازے سے داخل ہواجاسکتاہے،داخل ہوتے ہوئے دایاں پاؤں آگے بڑھائے اور یہ دعاپڑھے: (اللھم صل علی محمد وسلم ،اللھم افتح لی ابواب رحمتک)

اے اﷲ!محمدeپردرود وسلام نازل فرما ،اے اﷲ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

7  کعبۃ اﷲ پر پہلی نظر پڑنے کے وقت کوئی مخصوص دعا نبیeسے ثابت نہیں ۔

8  نسبتاً تیزرفتار(لیکن پروقارانداز)سے حجرِ اسود کی طرف جائے اوراس کی طرف رُخ کرلے،پھر تکبیر (اﷲاکبر) کہتے ہوئے اسے بوسہ دے۔

اگر یہ ممکن نہ ہو توہاتھ سے حجرِ اسود کوچھوکر چوم لے،اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوچھڑی سے چھولےاور اسے چوم لے،اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوہاتھ سے اشارہ کردینا ہی کافی ہوگا۔

حجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے دھکم پیل اور طاقت کا مظاہرہ کوئی نیکی نہیں، بالخصوص خواتین کا دھکم پیل کرنا شریعت اور حج کے مقاصد کے خلاف ہے،تقویٰ کے بھی منافی ہے اور غیرت وحمیت کے تقاضے بھی بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔

ہرطواف میں ایسا ہی کرے گا،گویا دورانِ طواف یہ بات مدِ نظررہنی چاہئے کہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے جولوگوں کی ایذاء کا سبب بن جائے ۔

9  دورانِ طواف ،بیت اﷲ کو اپنی بائیں طرف رکھے گا، طواف کرتے ہوئے حِجْر(یعنی حطیم کعبہ)کی دیوار کے باہر سے گذرے گا۔

اس طواف کے ساتوں چکروں میں اضطباع کاعمل برقرار رکھے گا،اضطباع سے مراد یہ ہے کہ احرام کی چادرکو دائیں بغل کے نیچے سے لپیٹے گا(یعنی دایاں کندھا ننگا رکھے)

جولوگ حالتِ احرام میں ہمیشہ دایاں کندھاننگارکھتے ہیں (حتی کہ دورانِ نماز بھی )وہ شدید غلطی کا شکارہیں،اضطباع کا عمل صرف طواف قدوم کے ساتھ مقید ہے۔

ابتدائی تین چکروں میں رمل اورباقی چارچکروں میں معمول کے مطابق چلناہوگا،رمل سے مراد قدرے تیزرفتار سے دوڑنا۔

10  اگر ممکن ہوتورکنِ یمانی کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے ہاتھ سے چھوئے،رکنِ یمانی کو بوسہ دینا یاچھوکرہاتھ کوچومنا درست نہیں،اگر چھونا ممکن نہ ہوتواس کی طرف اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔

!  رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان درج ذیل دعا پڑھتا رہے:

[رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۲۰۱ ]

اے ہمارے رب!ہمیں دنیااورآخرت کی اچھائیاں اور بھلائیاں عطافرمادے اورہمیں جہنم کے عذاب سے بچالے۔

واضح ہو کہ طواف کے چکروں کی کوئی بھی مخصوص دعا ثابت نہیں ہے،لہذا جوچاہے اﷲ کا ذکر کرتارہے،دورانِ طواف گفتگوکرنا بھی جائز ہے،بشرطیکہ وہ گفتگو خیرکی ہو ۔

طواف کے ساتوں چکر پورے کرتے ہی اپنے کندھے کو ڈھانپ لے اوریہ آیتِ قرآنی پڑھے:

[وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّى۝۰ۭ ]

یعنی:تم مقامِ ابراھیم کو جائے نماز بناؤ۔(البقرۃ:۱۲۵)

پھر مقامِ ا براھیم کے پیچھے دورکعات نماز اداکرے، اگر (بوجہ ازدحام)مقامِ ابراھیم کے پیچھے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو مسجد کے اندر کسی بھی جگہ پڑھ سکتاہے۔

ان دورکعات میں سورئہ (قُلْ يٰٓاَيُّہَا الْكٰفِرُوْنَ۝۱ۙ)اور سورئہ (قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۝۱ۚ )پڑھنا مسنون ہے۔

 نماز سے فارغ ہوکر زمزم کے پانی کارُخ کر ے اور یہ بابرکت پانی پیئے بھی اوراپنے سرپربھی بہائے۔

اس کے بعد اگر ممکن ہو توپھر حجرِ اسود کے پاس آکر اس کا استلام کرلے۔

 پھر صفاپہاڑی کی طرف جائے اور اس کے قریب پہنچ کر یہ آیت ِقرآنی تلاوت کرے:

[اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ۝۰ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا۝۰ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۝۰ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ۝۱۵۸ ]

اور یہ الفاظ بھی کہے:(نبدأ بما بدأ اللہ بہ)

یعنی:ہم (سعی)شروع کرتے ہیں،جس سے اﷲتعالیٰ نے شروع فرمایا(یعنی صفاسے)۔

کوہِ صفا پر چڑھ کر کعبۃ اﷲ کی طرف رخ کرلے اور یہ الفاظ کہے:

(اَللہُ اَکْبَرُ ،اَللہُ اَکْبَرُ،اَللہُ اَکْبَرُ، لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،یُحْیِيْ وَیُمِیْتُ ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ، لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ ، أَنْجَزَ  وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ عَبْدَہٗ، وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ)

یعنی:اﷲتعالیٰ سب سے بڑاہے،اﷲتعالیٰ سب سے بڑاہے، اﷲتعالیٰ سب سے بڑاہے،کوئی معبودِ حق نہیں ہے سوائے اﷲتعالیٰ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے،اسی کیلئے کل بادشاہت ہے،اور اسی کیلئے ہر طرح کی حمد ہے،وہی زندہ کرتااورمارتا ہے،اور وہ ہرچیزپرقادرہے، کوئی معبودِ حق نہیں ہے،سوائے اﷲتعالیٰ کے،وہ اکیلا ہے ،اس نے اپنا وعدہ پورافرمادیا اور اپنے بندے کی مدد فرمادی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام جتھوں کو شکست دے دی۔

یہ الفاظ تین بار پڑھے اور درمیان میں دعائیں مانگتا رہے۔

  پھر صفاسے مروہ کی طرف سعی شروع کردے،یہ سعی معمول کی رفتار سے ہو،البتہ دوسبزنشانات کے درمیان تیز دوڑے؛رسول اﷲ eفرمایا کرتے تھے :(لایقطع الأبطح إلا شدا) یعنی:ابطح وادی کو نہ طے کیاجائے مگر دوڑتے ہوئے۔

پھرمروہ پہاڑی پر چڑھ جائے اور وہ تمام عمل دہرائے جو صفا پر انجام دیئے تھے۔(البتہ یہاں مذکورہ آیت :[اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ …]نہیں پڑھی جائے گی۔)

اس طرح ایک چکرمکمل ہوگیا ،پھر مروہ سے صفاکی طرف لوٹے، یوں دوسرا چکر پوراجائے گا ۔

 جب سات چکر مکمل کرچکے (جوکہ مروہ پرپورے ہوں گے) تو اپنے سرکے بالوں کا حلق یاقصرکروالے۔

حلق سے مراد :بالوں کومنڈوانااور قصر سے مراد:کٹوانا۔

لیکن حلق زیادہ افضل ہے؛کیونکہ رسول اﷲeنے حلق کروانے والوں کو تین بار رحمت کی دعادی اور چوتھی دفعہ ایک بار قصر کروانے والوں کو دعادی۔(بخاری ومسلم)

عورت اپنے سرکے تمام بالوں کو اچھی طرح جمع کرکے نیچے سے ایک پورے کے بقدر کاٹ لے۔

مردوں اورعورتوںکیلئے مروہ پر کھڑے کھڑے بالوں کاکٹوانا ضروری نہیں ہے،بلکہ جہاں مقیم ہوں وہاں جاکر کٹوالیں۔

اس طرح خاص طور پر عورت اجنبی مردوں کے سامنے بال کھولنے کے گناہ سے محفوظ رہے گی۔

اس طرح عمرہ کے تمام اعمال پورے ہوجائیں گے اور احرام باندھنے کے بعد جوچیزیں حرام ہوئی تھیں،مثلاً: سِلا ہوا لباس، خوشبو اوربیوی کاقرب وغیرہ ،سب حلال ہوجائیں گی۔

حجاجِ کرام آٹھ ذوالحج تک احرام کی پابندیوں سے آزاد رہیں گے۔ والحمد للہ رب العالمین.

مناسکِ حج(حجِ تمتع)

ایک مسلمان شخص جب حج کے مہینوں میں حجِ تمتع کی نیت سے آئے اور میقات سے گذرتے ہوئے عمرہ کا احرام باندھ لے تو اسے چاہئے کہ مکہ پہنچ کر سب سے پہلے بیت اﷲ کا طواف (سات چکر) کرے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ بیت اﷲ کو ا پنی بائیں سمت رکھے، حجرِاسود یا اس کے محاذات سے تکبیر کہہ کر طواف شروع کرے،اس طواف کے تمام چکروں میںاضطباع(دائیں کندھے کو ننگا رکھنا) کرےاورپہلےتین چکروںمیںرمل(تیزچلنا) کرے، یہاں سے فارغ ہوکردورکعت اداکرے ،پہلی رکعت میں سورہ (قُلْ يٰٓاَيُّہَا الْكٰفِرُوْنَ۝۱ۙ) اور دوسری رکعت میں سورہ(قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ۝۱ۚ) کی قرأت کرے۔پھر جاکر صفااورمروہ کے درمیان سعی (سات چکر) کرے ،اس طرح کہ سعی کی انتہاء مروہ پر ہو،پھر بالوں کو کٹوالے اور اس کے بعد احرام سے باہر آجائے۔ اور آٹھ ذی الحج تک اسی طرح احرام کی پابندیوں سے آزاد رہے ۔

اجمالاًاعمالِ حج یہ ہیں:

1احرام2آٹھ ذوالحج کی رات منیٰ میںگذارنا3وقوفِ عرفہ 4مزدلفہ میں رات گذارنا5جمرہ عقبۃ کی رمی6 ذبح 7بال منڈوانا8 طواف 9 سعی10ایام تشریق میں رمی جمرات کی غرض سے منیٰ میں راتیں گذارنااور! آخر میں طواف وداع۔

واضح ہو کہ ان اعمال میں سے چارعمل ایسےہیںجو حج کا رکن قرارپاتے ہیں،جن کے بغیر حج ہوہی نہیں سکتا:

1احرام2وقوفِ عرفہ 3طوافِ افاضہ4سعی بین الصفا والمروۃ۔

ذیل میں ان اعمال کو تفصیلا ً بیان کیاجاتا ہے:

آٹھ ذی الحج

  یوم الترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے دن حاجی جہاں ٹھہرا ہواہے وہیں سے احرام باندھے اور احرام میںوہی طریقہ اختیار کرے جوعمرہ کے بیان میں گذرچکاہے۔یعنی غسل کرے،صرف بدن پر خوشبو لگائے ،دوچادریں پہن لے اورپھردرج ذیل الفاظ کہہ کرحج کی نیت کرے :

(لبیک اللھم حجۃ ،اللھم ھذہ حجۃ لاریاء فیھا ولاسمعۃ)

اور پھر مسلسل تلبیہ( لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ)پکارتا رہے ،جیسا کہ عمرہ میں کیاتھا۔

(اورحائضہ عورت بھی احرام باندھے اوراحرام میں وہی طریقہ اختیار کرے جو عمرہ کے احرام کے موقعہ پر میقات پر اختیار کیا تھا، اورتمام مناسک اداکرے ،سوائے طوافِ بیت اﷲ اورنماز کے۔)

 پھر وہ (حاجی)منیٰ کی طرف جائے پھروہاں پر ظہر اور دیگرنمازیں قصرکے ساتھ اپنے اپنے وقت میں ادا کرے (نبی e سے سفرمیںسوائے فجرکی سنتوں اوروتر کے سنت مؤکدہ پڑھنا ثابت نہیں ہے۔)

نو ذی الحج

 عرفہ کے دن(۹ ذی الحج) کا سورج طلوع ہوتے ہی وہ تلبیہ کہتے ہوئے میدانِ عرفات کی طرف چلاجائے اوراگرممکن ہو تو ’’مقامِ نمرہ‘‘(عرفہ کے قریب ایک جگہ ہے)پرزوال تک پڑاؤ کرے، پھراگر ممکن ہوتو’’مقامِ عرنہ‘‘(عرفہ سے متصل ایک جگہ ہے) کی طرف جائے ۔ (عام طورپربسیں ڈرائیکٹ میدانِ عرفہ میں پہنچادیتی ہیںتو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے)

 امام مسجد نمرہ میں خطبہ د ے گا پھر لوگوں کو ظہراورعصر کی نماز قصر وجمع کے ساتھ ظہر کے وقت میں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ پڑھائے گا۔(یہ خطاب ایک خطبہ پر مشتمل ہوگااور نمازوں میںقرأت سری ہوگی۔)

تمام حجاج خواہ مسافرہوں یا مقیم،نمازیں بصورتِ قصر ہی ادا کریں گے،مکہ کے مقیم صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں قصر ہی فرمائی تھی۔

  پھر وہ میدانِ عرفہ کی طرف چلاجائے اورپورا میدانِ عرفہ وقوف کی جگہ ہے اوریہاں پرغروبِ شمس تک وقوف کرے اس طرح کہ قبلہ کی طرف رُخ کرلے اور دونوں ہاتھ اٹھاکر دعائیں کرتارہے ،نیز تلبیہ بھی پڑھتا رہے۔

نبیeکافرمان ہے:سب سے افضل دعا جو میں نے اور تمام نبیوں نے عرفہ کے مقام پر کی ہے وہ یہ ہے:( لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ)

نیز وقفہ سے وقفہ سے یہ دعا بھی کرتا رہے:

( إِنَّمَا الْخَیْرُ خَیْرُ الْآخِرَۃِ )

 یومِ عرفہ سے بڑھ کر کوئی دن ایسانہیں جس دن اﷲتعالیٰ بندوں کوجہنم سے آزاد کرتا ہو،اس دن اﷲتعالیٰ ان بندوں کے قریب ہوتا ہے اوران کے ذریعے فرشتوں پر فخرکرتا ہے اور فرماتا ہے :یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟(رواہ مسلم)

اوراہلِ عرفات کے ذریعے اہل السماء پرفخرکرتے ہوئے فرماتا ہے :میرے بندوں کودیکھوجوپراگندہ حال اورغبارآلود ہوکر میرے پاس آئے ہیں ۔(احمد)

  غروبِ شمس کے بعد مزدلفہ کی طرف جائے وہاں جاکرنمازِ مغرب تین رکعتیں اورعشاء دورکعات ایک اذان اوردوتکبیروں کے ساتھ اداکرے۔

  مغرب وعشاء کے بیچ میں اورنہ ہی عشاء کے بعد کوئی نفل یاسنت پڑھے اوربقیہ رات فجرتک سوتارہے۔

  عورتوں اورکمزور افراد کیلئے جائز ہے کہ وہ چاند کے غروب کے بعد (یانصف اللیل کے بعد) منیٰ کی طرف روانہ ہوجائیں۔

تنبیہ: مغرب اورعشاء کی نماز وقت ختم ہونے سے پہلے، جوکہ نصف اللیل ہے،پڑھ لے،نصف اللیل کے بعد تک نماز کو موخرنہ کرے۔

دس ذی الحج

 فجرطلوع ہوتے ہی اذان دی جائے اوراقامت کہہ کرنماز اداکرلی جائے ۔

  اگرآسانی سے ممکن ہوتو مشعرالحرام(مزدلفہ میں ایک پہاڑ کانام ہے)پر آئے ،اوراس پرچڑھ کر(وگرنہ مزدلفہ میں جہاں پر بھی ہو) قبلہ رخ ہوکراﷲ کی تکبیر،تحمید،تھلیل اورتوحید کے کلمات اداکرے اور دعائیں کرتا رہے یہاں تک کہ خوب روشنی پھیل جائے۔

  پھر منیٰ میں آجائے اور سورج طلوع ہونے کے بعد جمرہ عقبۃ کوسات کنکریاں مارے ۔(اگرممکن ہوتو کنکریاں مارتے ہو ئے بیت اﷲ کوبائیں طرف اورمنیٰ کو دائیں طرف کرلے۔

اوراگر کسی بھی سمت سے کنکریاں مارے توجائزہے،ہر کنکری کے ساتھ تکبیر بھی کہے اورآخری کنکری مارتے ہی تلبیہ کہنا ختم کردے۔(کنکری ایسی ہو جودوانگلیوں کے درمیان رکھ کر پھینکی جاسکے،اندازاً چنے کے دانے کے برابر یا اس سے تھوڑی سے بڑی ہو)

  رمی کاوقت طلوع شمس کے بعد ہے۔(عورتوں اوربچوں کیلئے بھی)اوراگرکوئی مشکل لاحق ہوتوزوال کے بعد رات تک بھی کنکریاں ماری جاسکتی ہیں ۔لہذا آپ جلدی کنکریاں مارنے کی کوشش میں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالیں بلکہ ازدحامِ شدید سے دور رہیں اوربعدمیں آسانی سے رمی کرلیں۔

  جمرہ عقبۃ کی رمی سے فارغ ہوتے ہی حاجی کیلئے وہ سب امور حلال ہوجاتے ہیں جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام تھے سوائے بیوی کے۔اوریہی بات درست ہے اگرچہ یہ بھی کہاگیاہے کہ حلق ،رمی اورطواف میں سے کسی بھی دوکاموں کے کرلینے سے بیوی کے علاوہ تمام چیزیں حلال ہوجاتی ہیں۔

  پھربذاتِ خود اپنی قربانی ذبح کرے یا نحر کرے یاپھر کسی کو اپنا نائب مقرر کردے،(قربانی،چاروں ایامِ عید میں کسی بھی وقت کی جاسکتی ہے)اور قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے اورلازمی ہے کہ اس میں سے فقراء کو کھلائے۔اورجائز ہے کہ گائے اوراونٹ میں سات افراد شریک ہوں۔

اگر وہ قربانی کا جانور نہ پائے توتین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے اپنے وطن واپس آکر رکھے۔

  پھرآکر بالوں کومنڈوائے یاکٹوائے البتہ منڈوانا افضل ہے۔

عورتوں پر بالوں کامنڈوانا نہیںبلکہ کٹواناہے۔(جس کی صورت یہ ہے کہ بالوں کو مٹھی میں اچھی طرح جمع کرکے نیچے سے ایک پورے کے  بقدر کاٹ لیاجائے۔)

سرمنڈاونے میں سنت طریقہ یہ ہے کہ دائیں حصے سے شروع کیا جائے۔

 پھرطوافِ افاضہ کرے،(اضطباع اوررمل کے بغیر) طواف سے فارغ ہوکے مقامِ ابراھیم کے پیچھے دورکعت پڑھنا مسنون عمل ہے۔(اگر حاجی طوافِ افاضہ سے پہلے احرام کھول کرحلال ہوچکاہے تو اس کیلئے اپنے معمول کے لباس میں طواف کرناجائزہے۔

 حدیث مبارک میں ہے اس دن رمی کے بعد تمہارے لئے رخصت ہے کہ تم ممنوعاتِ احرام سے حلال ہوجاؤ سوائے بیوی سے قربت کے،لیکن اگر رات ہونے سے پہلے طوافِ افاضہ نہ کیا تودوبارہ محرم ہوجاؤگے جیسا کہ رمی جمرہ سے پہلے تھے،یہاں تک کہ طوافِ افاضہ کرلو۔

(ابوداؤد،احمد،حاکم،ابن قیم نے اس حدیث کو محفوظ قرار دیا ہے، احکام القرآن للطحاوی2/197)

  طوافِ افاضہ سے فراغت کے بعد صفااورمروہ کے بیچ سعی کرے جیسا کہ عمرہ میں کی تھی۔(البتہ قارن اور مفرد کیلئے پہلی سعی کافی ہے )حاجی کیلئے اب ہروہ چیز حلال ہے جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام تھی،حتی کہ بیوی کی قربت بھی۔

 پھر اگر اس کادل چاہے تو ماءِ زمزم کے پاس آئے اور وہاں سے پانی پئے تاکہ نبیeکی پوری متابعت حاصل ہو۔

  سنت طریقہ یہ ہے کہ ان تمام مناسک کو ترتیب وار اداکیا جائے یعنی پہلے رمی پھر ذبح یانحرپھرحلق پھر طواف پھر سعی ،لیکن اگران امورمیں تقدیم وتاخیر ہوجائے تو بھی کوئی حرج نہیںہے۔

  یہاں سے فارغ ہوکر منیٰ واپس آجائے اوروہاں پر ایام تشریق کی راتیں گذارے۔

11,12,13ذی الحج

تینوں جمرات کو ہردن زوال کے بعد سات سات کنکریاں مارے،ابتدا جمرہ صغریٰ(پہلا جمرہ) سے کرے، پھرتھوڑا ساآگے بڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو اورہاتھ اٹھا کر لمبی دعائیں کرے ۔پھر جمرہ وسطیٰ(درمیانی جمرہ) کی رمی کرے ،پھر بائیں سمت تھوڑا سا ہٹ کے قبلہ کی طرف متوجہ ہو اورہاتھ اٹھاکرلمبی دعائیں کرے۔

  پھر جمرہ کبریٰ (آخری جمرہ) کی رمی کرے اور رمی کے بعد اس کے پاس نہ ٹھہرے۔

  رمی جمرات میں جلدی کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالیں لہذا اگرازدحام ہو تو آپ رمی کو مؤخر کردیں اگرچہ رات ہی کیوں نہ ہوجائے۔

اﷲتعالیٰ کافرمان ہے:[وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۝۲۹](النساء:۲۹)

یعنی:’’اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالویقینا اﷲتعالیٰ تم پر مہربان ہے‘‘

اورنبیﷺکافرمان ہے:(أیھاالناس السکینۃ السکینۃ ) یعنی:اے لوگو!سکون واطمینان سے چلو،سکون واطمینان سے چلو۔(رواہ مسلم)

نیز فرمایا:(یاأیھاالناس لایقتل بعضکم بعضا ولایصب بعضکم بعضاوإذا رمیتم الجمرۃ فارموھا  بمثل حصی الخذف۔) ( رواہ أحمد وحسنہ الألبانی)

یعنی:اے لوگو!ایک دوسرے کوقتل نہ کرو اور ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤاورجمرات کو وہ کنکریاں مارو جنہیں دوانگلیوں کے درمیان رکھ کرپھینکا جاسکے۔

  اگر آپ کیلئے ممکن ہوتو منیٰ کی مسجد خیف میں باجماعت نمازیں اداکریں۔رسول اﷲ eکافرمان ہے:

 (صلی فی مسجدالخیف سبعون نبیا)

یعنی: مسجد خیف میں سترنبیوں نے نمازپڑھی ہے ۔

(رواہ الطبرانی وحسنہ الألبانی)

  حاجی جب وطن واپسی کا عزم کرلے تورخصت ہونے سے قبل اس پر طوافِ وداع کرنا واجب ہے ،طواف کے بعد طواف کی دورکعت بھی اداکرے۔

البتہ حائضہ عورت اگر طوافِ افاضہ کرچکی ہے تو اس کیلئے طوافِ وداع کے بغیروطن واپسی کی رخصت ہے۔

  حاجی کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنے ساتھ ماءِ زمزم لیکر جائے۔ اس لئے کہ رسول اﷲ ﷺ برتنوں اورمشکیزوں میں ماءِ زمزم بھر کر لے جاتے تھے،اورمریضوں پر اس سے چھینٹے مارتے اورانہیں پلاتے۔

(رواہ البخاری فی التاریخ والترمذی،الصحیحۃ:883)

ضروری تنبیہ

حج ایک مہنگی مالی عبادت ہے، حجاجِ کرام زرِکثیر (لاکھوں روپے) خرچ کرکے بلدِحرام میں پہنچ پاتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ انتہائی پرمشقت بدنی عبادت بھی ہے،علاوہ ازیں کافی دنوں کے لئے اہل وعیال اور وطن سے دوری کا دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے، اکثر حجاج بیمار پڑ جاتے ہیںبلکہ بیماری کی حالت ہی میں گھروں کو لوٹتے ہیں،متعدد حجاج کرام وفات تک پاجاتے ہیں۔

انہی مشقتوں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے حج کو خواتین کا جہاد قرار دیا ہے،نیز انہی مشقتوں کی وجہ سے حج اور اس کے مختلف اعمال وافعال کا بے پناہ اجر بیان ہواہے۔

حج کی صعوبتوں کو برداشت کرنے والا اس اجروثواب کو ضایع کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا،محنتِ شاقہ کے باوجود اجروثواب سے محرومی،بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کاکون متحمل ہوسکتا ہے؟کیاہم اس خاتون کی طرح بن سکتے ہیں جس کا ذکر قرآن پاک نے اس طرح کیا کہ دن بھر سوت کاتنے کے بعد رات کو اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دیتی ہے۔

افسوس!ہمارا مشاہدہ ہے کہ بہت سے حجاج پرمشقت اعمال کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں جو ان کی پوری محنت پر پانی پھیردیتی ہیں،اور وہ حجاج خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے متحمل ہوکرواپس کا سفر اختیار کرتے ہیں۔إناللہ وإناإلیہ راجعون.

ہم ذیل میں چنداحادیث مبارکہ کاترجمہ پیش کرتے ہیں،جن میں حج یا اس کے متعلقہ اعمال کا اجروثواب مذکور ہے،تاکہ حج کی اہمیت اجاگرہوجائے اور ہم ایک ایک عمل کے اجروثواب سے اپنی جھولیاں بھرلیں،نیز یہ ضرور سوچیں کہ اتنےزیادہ اجروثواب سے محرومی،بہت بڑی شقاوت اور بدنصیبی ہےکہ حاجی جیسا اپنے گھر سے گیاویسا ہی بلکہ اس سے بھی بدترہوکر،اللہ تعالیٰ کی لعنتیں سمیٹتے ہوئے واپس لوٹ آیا۔والعیاذباللہ

حج اور اعمالِ حج کاثواب

حدیث نمبر(۱)

ترجمہ:ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ گذشتہ عمرہ کے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں  کا کفار ہ ہے اورحجِ مبرورکابدلہ تو جنت ہے ۔(متفق علیہ)

حدیث نمبر(۲)

ترجمہ:پے درپے حج اورعمرہ کرو پس یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹادیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، سونے اورچاندی کے زنگ کو دورکردیتی ہے اورحج مبرور کا ثواب تو جنت ہے۔(رواہ الترمذی)

حدیث نمبر(۳)

ترجمہ:جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:حج اور عمرہ کرنے والے اﷲ کے مہمان ہیں اﷲ نے ان کو بلایا تو انہوں نے لبیک کہا اورانہوں نے اﷲ سے مانگا تواﷲ نے ان کو عطاکیا۔(رواہ البزار)

یہی حدیث عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی روایت سے سنن ابن ماجہ اور ابن حبان میں بسند صحیح مذکور ہے ،دیکھئے:(سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ:1820)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حجاجِ کرام اللہ تعالیٰ کے بلانے سے اس کے مہمان بنتے ہیں،مہمان بہت ہی قیمتی ہوتا ہے،تو جو اللہ تعالیٰ کامہمان ہوگا وہ کس قدر اہمیت اور قدروقیمت کامستحق ہوگا، حجاجِ کرام اللہ تعالیٰ کی دعوت پر اس کے گھر پہنچ گئے،اب وہ مہمان بن کر اللہ تعالیٰ سے جوکچھ طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر مہمان نواز کون ہوسکتا ہے۔(سبحان اللہ)

حدیث نمبر(۴)

ترجمہ:اﷲ کے مہمان تین ہیں:حاجی،عمرہ کرنے والا اور غازی۔

(رواہ ابن حبان)

حدیث نمبر(۵)

ترجمہ:ابوھریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو اس گھر میں آئے اور کسی فسق وفجور کا ارتکاب نہ کرے،وہ اپنے گھر کو یوں لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو۔(صحیح مسلم)

حدیث نمبر(۶)

ترجمہ:شفاءrسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں ایک ایسے جہاد سے آگاہ کروںجس میں اسلحہ استعمال نہیں ہوتا؟وہ حج بیت اللہ ہے۔(الترغیب والترھیب،الرقم:1098)

حدیث نمبر(۷) ترجمہ:ام معقل رضی اللہ عنہاسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک حج اورعمرہ سبیل اللہ میں سے ہیں۔

(مستدرک حاکم)

حدیث نمبر(۸)

ترجمہ:عائشہرضی اللہ عنہاسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج بہترین جہاد ہے۔(صحیح بخاری)

حج کیلئے محوِ سفرہونے کاثواب

حدیث نمبر(۹)

ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:… تمہارے بیت اللہ کے ارادہ سے گھر سے نکلنے کااجر یہ ہے کہ تمہاری سواری کے ہر قدم کے بدلے اللہ تعالیٰ ایک نیکی لکھے گا اور ایک گناہ مٹاڈالے گا۔

(طبرانی بحوالہ الترغیب والترھیب،الرقم:1112)

حج میں حاصل ہونے والی تھکاوٹ کاثواب

حدیث نمبر(۱۰)

ترجمہ:عائشہرضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں (حج میں ) تمہاری تھکاوٹ اور تمہارے نفقہ کے مطابق اجر ملےگا۔

(مستدرک حاکم بحوالہ الترغیب والترھیب،الرقم:1116)

بیت اللہ کے طواف کاثواب

حدیث نمبر(۱۱)

ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص باقاعدہ گن کرایک ہفتہ اس گھرکاطواف کرلے،تو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا، دورانِ طواف جو قدم رکھے اوراٹھائے گا اس کے بدلے ایک گناہ مٹ جائے گا اور ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔

(جامع ترمذی،نسائی، مستدرک حاکم،مشکاۃ،الرقم:2580)

بیت اللہ کے طواف کا ایک اورثواب

حدیث نمبر(۱۲)

ترجمہ: عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوتے ہی تو گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے تجھے تیری والدہ نے آج ہی جنم دیا ہے۔

(الترغیب والترھیب،الرقم:1112)

بیت اللہ کے طواف کا ایک اورثواب

حدیث نمبر(۱۳)

ترجمہ: عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کےطواف کو نمازکے برابر قرار دیاگیاہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے دورانِ طواف گفتگو جائز قرار دی ہے،لہذا جوشخص جوبات کرے خیر کی کرے۔(مستدرک حاکم ،طبرانی بحوالہ إرواء الغلیل،حدیث:121)

دورانِ طواف حجرِاسود کو بوسہ دینےیا استلام کرنے کاثواب

حدیث نمبر(۱۴)

ترجمہ:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حجر اسود قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی ،جن کے ساتھ دیکھے گا،اور زبان ہوگی جس کے ساتھ بولے گا،چنانچہ جنہوں نے سچے عقیدے کے ساتھ اس کا استلام کیاہوگا ،ان کے حق میں گواہی دےگا۔(ابن حبان، مستدرک حاکم، بیھقی بحوالہ الترغیب والترھیب، الرقم: 1144)

حجرِاسود اوررکن یمانی کوچھونے کاثواب

حدیث نمبر(۱۵)

ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:بے شک (دورانِ طواف)حجراسود اور رکن یمانی کوچھونا گناہوں کو خوب خوب جھاڑ ڈالتاہے۔

(مسنداحمد بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح للألبانی ،الرقم:2580)

دورانِ حج تلبیہ اور تکبیرات پڑھنے کاثواب

حدیث نمبر(۱۶)

ترجمہ:ابوھریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دورانِ حج جس شخص نے جب بھی بلند آواز سے تلبیہ پڑھا،یا تکبیر کہی، اسے جنت کی بشارت دے دی جائےگی۔(طبرانی اوسط)

تلبیہ کا مزید ثواب دوسری حدیث سے

حدیث نمبر(۱۷)

ترجمہ:سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: حاجی جب بھی تلبیہ پڑھے گا،اس کے دائیں اور بائیں موجود ہر پتھر، ہردرخت اور ہر گھر بھی تلبیہ پڑھتے رہیں گے،حتی کہ دونوں طرف کی زمین ختم ہوجائے گی۔(ابن ماجہ)

وقوفِ عرفہ کاثواب

حدیث نمبر(۱۸)

ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہارے عرفات میں وقوف والے دن،اللہ رب العزت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے،اور اہل عرفہ پرفرشتوں کے سامنے فخرکرتاہے،اور فرماتاہے:یہ سب میرے بندے ہیں جو گردوغبار سے اٹے ہوئے سراور پاؤں کے ساتھ ،ہر دوردراز کی وادی سے میرے پاس آئے ہیں ،میری رحمت کی امید لگائے ہوئے ہیں، اور میرے عذاب کے خوف میں مبتلاہیں،حالانکہ انہوںنے مجھے دیکھا نہیں،اگر دیکھ لیتے تو کیاکرتے؟(رسول اللہ ﷺ نےفرمایا)اگر تیرے ذمے یمامہ سے نجدتک، ریت کے پہاڑوں کے ذرات کے برابر،یا دنیا کے تمام دنوں کے برابر،یا آسمان سے برسنے والی بارش کے قطروں کے برابرگناہ ہوں، (آج) اللہ تعالیٰ ان سب کو دھوڈالے گا۔

(طبرانی، الترغیب والترھیب،الرقم:1112)

وقوفِ عرفہ کاثواب دوسری حدیث سے

حدیث نمبر(۱۹)

ترجمہ:عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور بندیوں کی گردنیںجہنم سے،جس دن سب سے زیادہ آزاد فرماتا ہے وہ عرفہ کادن ہے،اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت قریب آجاتا ہے اور اپنے فرشتوںکے سامنے ان پر فخرکرتا ہے، اور فرماتاہے: میرے یہ بندے کیا چاہتے ہیں؟

(صحیح مسلم،سنن نسائی، بیھقی بحوالہ الترغیب والترھیب، الرقم:1154)

حج میں سرمنڈوانے کاثواب

حدیث نمبر(۲۰)

ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (حج میں )تمہارے سرمنڈوانے کاثواب یہ ہے کہ ہر گرے ہوئے بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔

(طبرانی، الترغیب والترھیب،الرقم:1112)

رمیٔ جمار کاثواب

حدیث نمبر(۲۱)

ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (حج میں)تمہارے جمرات کو کنکریاں مارنے کے عمل کو (یوں لکھاجائے گا )کہ تم نے شیطان کو ذلیل کرکے (اس سے کھلم کھلی عداوت ثابت کردی ہے۔)(طبرانی، الترغیب والترھیب،الرقم:1112)

رمیٔ جمار کاثواب دوسری حدیث سے

حدیث نمبر(۲۲)

ترجمہ:عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (حج میں)تمہارا جمرات کو کنکریاں مارناقیامت کے دن نور ہی نور ہوگا۔(مسند بزاربحوالہ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،الرقم:2515)

آبِ زمزم پینے کا ثواب

حدیث نمبر(۲۳)

ترجمہ:ابوذرغفاریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بے شک زمزم کاپانی بہت ہی بابرکت اورخوب سیر کردینے والاہے۔ (صحیح مسلم،مسنداحمد،مسند أبی داؤد الطیالسی  بحوالہ الترغیب والترھیب،الرقم: 1162)

آبِ زمزم پینے کا ثواب دوسری حدیث سے

حدیث نمبر(۲۴)

ترجمہ:عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: روئے زمین پر سب سے بہترین پانی،زمزم کاپانی ہے،یہ خوب سیراب کرنے والی خوراک ہے،اور بیماریوں سے شفاء ہے۔(الطبرانی بحوالہ  سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،الرقم:1056)

آبِ زمزم پینے کا ثواب تیسری حدیث سے

حدیث نمبر(۲۵)

ترجمہ:جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: زمزم کاپانی جس مقصدکیلئے پیاجائے،پوراہوجاتاہے۔

(مسند احمد، ابن ماجۃ، بیھقی، شعب الایمان بحوالہ الصحیحۃ:883)

عبداللہ مبارک رحمہ اللہ آبِ زمزم ایک ہی مقصد کیلئےپیتے، فرمایا کرتے: (اللھم إنی أشربہ لعطش یوم القیامۃ) یعنی: اے اللہ! میں زمزم کاپانی قیامت کے دن کی پیاس سے بچنے کیلئے پیتاہوں۔

حج مکمل کرنے پر بشارت

حدیث نمبر(۲۶)

ترجمہ:عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:خوش ہوجاؤ، تمہارے رب نے آسمان کا ایک دروازہ کھول دیا ہے، فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کررہا ہے، فرما رہا ہے: میرے بندوں کی طرف دیکھوایک فریضہ (حج) مکمل کرلیااور دوسرے کا انتظار شروع کردیا۔(مسند احمد، ابن ماجۃ بحوالہ الصحیحۃ:661)

مسجد حرام میں نماز پڑھنے کاثواب

حدیث نمبر(۲۷)

ترجمہ:ابودرداءرضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مسجد حرام میں نمازپڑھنے کی فضیلت، ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، جبکہ میری مسجد میں نماز کاثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔

(بیھقی بحوالہ إرواء الغلیل:1130)

حج یا کسی بھی نیکی کی بربادی کے اسباب

(۱)شرک :اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام سے خطاب فرمایا: [وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ۝۰ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۶۵ ]   (الزمر:۶۵)

ترجمہ:یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تونقصان پانے والوں میں سے ہوجائے گا ۔

ایک مقام پر اٹھارہ انبیاء کا نام لیکر ذکرفرمایا،پھر فرمایا:

[وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۸۸ ]

ترجمہ:اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے ۔(الانعام:۸۸)

لہذا اگرآپ اپنے ملک میں رہتے ہوئے کسی قسم کے شرک کے مرتکب ہیںتو اس سے سچی توبہ کرلیجئے،اس کے بعد بلادِ حرمین کا سفر اختیارکیجئے۔

شرک کی غلاظت اور نحوست کے ساتھ حج یا عمرہ کا سفر عمل کی بربادی کا باعث ہے،ضروری ہے کہ شرک سے پاک صاف ہوکر اور سچی توبہ کرکے اس عظیم اور مقدس سفر کاآغاز کیاجائے۔

ان آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ انبیاءِ کرام سے مخاطِب تھا، اب حکمِ عام بھی سن لیجئے:

[وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ۝۰ۡوَہُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۵ۧ ](المائدۃ:۵)

’’منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وه ہارنے والوں میں سے ہیں ۔‘‘

آیتِ مبارکہ میں ایمان کے انکار خواہ وہ کسی بھی نوعیت کاہو،کی شدید ترین وعید واردہے،یعنی :تمام اعمال کی بربادی اور آخرت کا خسارہ۔

ایمان شرعی طورپر چھ امور کانام ہے،یایوں کہہ لیجئے کہ ایمان کے چھ ارکان ہیں،جن کا حدیثِ جبریل میں ذکرموجودہے:

أن تؤمن باللہ، وملائکتہ، وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ.

یعنی:(ایمان یہ ہے کہ)تم اﷲتعالیٰ پر،اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر،اس کے رسولوں پراور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ، نیز تقدیرپر بھی ایمان لاؤ،خواہ وہ اچھی ہو یابری۔

(رواہ مسلم،کتاب الإیمان، باب الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان باثبات قدر ﷲ سبحانہ وتعالیٰ، حدیث (۸)،(۱))

واضح ہو کہ ان چھ ارکان میں سے کسی رکن کاانکار ،ایمان کا انکار ہے،اور اگر کوئی شخص ان ارکان کو تسلیم توکرتاہے مگر ایسے فہم کے ساتھ جو شریعت کی مراد کے خلاف ہو تو وہ بھی ایمان کے انکار پر محمول ہوگا۔

ان چھ ارکان میں سرفہرست ایمان باللہ ہے،اور ایمان باللہ میں سب سے مقدم ایمان بالتوحید ہے،لہذا توحیدباری تعالیٰ میں ذرا سا خلل یا شرک کا تھوڑا سا ارتکاب،ایمان کاانکار ہی قرار پائے گا ،اور اس شخص کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور اسے قیامت کے لامتناہی خسارے کا سامناکرنا پڑےگا۔

امام عطاء بن ابی رباحaجو عبداللہ بن عباسwکے شاگردِ رشید تھے، فرماتے ہیں:یہاں ایمان سے مراد توحید ہے،اور اسی قسم کی تفسیر امام مجاہدa سے بھی مروی ہے۔(  تفسیر طبری۵؍۷۰)

امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں مزید فرماتےہیں:

’’اگرکوئی شخص پوچھے کہ اس آیت کے ظاہر اور حقیقی الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا تفسیر کریں گے؟تو اس کاجواب یہ ہو گا کہ جوشخص ایمان باللہ کاانکاری ہواور اس کی توحید میں رخنے ڈالنے والاہواوراس کے امرونہی کی اطاعت سے گریز کرنے والاہوتو اس کے تمام اعمال رائیگاںجائیں گے۔‘‘

مزید فرماتے ہیں:

ایمان تو (العروۃ الوثقیٰ)یعنی سب سے مضبوط کڑا ہے،تو کوئی عمل اس کےبغیر قابلِ قبول نہیں ہے،جبکہ اس کے تارک پر (خواہ وہ ترک کلی ہویاجزوی)جنت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام کردی گئی ہے۔( تفسیر طبری۵؍۷۰،۷۱)

شرک کے ارتکاب کےتعلق سے وارد شدہ وعیدوں اور اخروی خساروں کا تقاضا یہی ہے کہ ہم حقیقتِ توحید کو پہچانیں،توحید کی اہمیت وضرورت کی معرفت حاصل کریں،شرک کی حقیقت کا ادراک کریں اور اس سے مکمل بچاؤ کی تدبیر اختیار کریں، جس کیلئے توحید اور اس کی ضدشرک کی پہچان ایک انتہائی ضروری امرہے۔

(۲) بدعت:اس سے مراد ہر وہ نیاطریقہ یا عمل ہے جو کتاب وسنت سے ثابت نہ ہو،بلکہ خودساختہ ہو اور اسے دین کی طرف منسوب کردیاجائے،رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے:

(کل بدعۃ ضلالۃ)ہر بدعت گمراہی ہے۔(صحیح مسلم)

نیز فرمایا:(من أحدث فی أمرنا ہذا ما لیس منہ فھورد)یعنی:جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز اختراع کرلی، جو کتاب وسنت میں نہ ہو تو وہ (بدعت ہونے کی وجہ سے) مردود ہے۔(متفق علیہ)

نیزفرمایا:(من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھورد) یعنی:جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جسے ہماری تصدیق حاصل نہ ہو تو وہ مردود ہے۔(متفق علیہ)

ضروری ہے کہ سفرِ حج کے لئے روانگی سے قبل ہر بدعت سے توبہ کرلی جائے،تاکہ یہ بابرکت سفر عنداللہ قابل قبول ہوجائے، ورنہ بدعت کی موجودگی میں کوئی نیکی قبول نہ ہوگی،اور حج جیسا بابرکت عمل بھی برباد ہوجائےگا۔

المیہ یہ ہے کہ حجاجِ کرام کی اکثریت دورانِ حج بھی بہت سی بدعات کا ارتکاب کرتی ہے،جن کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کسی قسم کے اجروثواب کے بغیر ہی،بالکل خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، بلکہ بدعت کے ارتکاب کا بوجھ بھی اپنے سروں پر لادے روانہ ہوجاتے ہیں؛کیونکہ بدعتی شخص اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرکے اللہ تعالیٰ کے فرمان:[اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ] سے مکمل بیزاری اور بغاوت اختیارکررہاہے،نیز شریعت ساز بن کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تشبہ اختیارکرنے کی کوشش کررہاہے،اس لحاظ سے بدعتی شخص بہت بڑا مجرم ہے اور بہت ہی خطرناک وبال اور سزا کا مستحق ہے۔(واللہ المستعان)

حجاجِ کرام روانگی سے قبل خوب جانچ پرکھ لیں کہ وہ کسی قسم کے جادویاکہانت میں تو ملوث نہیں ہیں،علم نجوم سے متاثر تونہیں ہیں، گلےمیں کوئی تعویز یا منکا تونہیںپہناہوا،ہاتھ میں کسی قسم کا کوئی کڑاتونہیں پہناہوا،صفاتِ باری تعالیٰ کا منکر تونہیں ہےیا ان میں تاویل کا مرتکب تونہیں ہے،صحابہ کرام یا امہات المؤمنین کی شان میں طعنہ زنی تونہیں کرتا،نبی یا ولی یا کعبہ وغیرہ کی قسمیں تونہیں کھاتا؛کیونکہ غیراللہ کی قسم کھانا بھی شرک ہے۔

اپنی حاجات کے لئے غیراللہ کوتونہیں پکارتا،فوت شدہ لوگوں سے استغاثہ تونہیں کرتا،اپنی تکالیف کے ازالہ کے لئے ان سے مدد تونہیں طلب کرتا،یہ عقیدہ تو نہیں ہے کہ اولیاء کرام اورصالحین  کی عبادت کرنے سےیہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب لے جانے والے ہیں،قبروں کی مجاورت تو نہیں کرتا،مزارات پر چڑھاوے تونہیں چڑھاتا؟؟؟

یہ تمام امور جو شرک یابدعت پرقائم ہیں،ان کا ارتکاب حج وعمرہ کی قبولیت میں بہت بڑی رکاوٹ ہے،لہذا سفر سے قبل ان سے ایسی توبہ کرلی جائے جو بالکل خالص ہو اور عمربھرکے لئے ہو۔

کچھ دیگرامور

حج وعمرہ کے لئے روانگی سے قبل مظالم کا تصفیہ بھی کرلیاجائے، یعنی اگر کسی شخص پر مالی زیادتی کررکھی ہو تو اس کی ادائیگی کرلی جائے،یا کسی کو ناحق ماراپیٹاہو تو اس سے اپنا دامن بری کرالیا جائے،یا کسی کی غیبت یاچغلی کی ہو یا اسے گالی دی ہو تو اس سے معافی تلافی کرلی جائے۔

ایک انتہائی ضروری امر یہ بھی ہے کہ مالِ حلال کے ساتھ یہ فریضہ اداکیاجائے،تاکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہو اور دورانِ حج مانگی گئی دعائیں بھی مقبول قرارپائیں،رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک حدیث مبارک میں اس شخص کا ذکر کیاجو طویل سفراختیار کرتا ہے،جس کاسراورپاؤں خاک آلود ہیں ،دونوں ہاتھ آسمان کی طرف دراز کرکے یارب یارب کہہ کر دعائیں کرتا ہے ،مگر ہر دعا پر جواب ملتا ہے:کہ تیرا کھاناپینا حرام کا ہے،حرام کے ساتھ تجھے غذا فراہم کی گئی، تیری دعائیں کہاں قبول ہونگی۔(صحیح مسلم:۱۰۱۵)

حج کی صحت اور قبولیت کے لئے اخلاصِ نیت بھی شرط ہے،یعنی حج کرنے والااللہ تعالیٰ کے لئے مخلص ہو اور اس فریضہ کی ادائیگی کے تعلق سے ہر قسم کی ریاکاری سے محفوظ ومصون ہو۔

چنانچہ نہ تو حج سے قبل ریاکاری کا خیال ہو ،نہ حج کے دوران اور نہ حج کے بعد کسی موقع پر بھی ریاکاری کی نیت سے اپنے حج کو ظاہر کر ے،ایک حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل فرمایا ہے:میں تمام شرکاء میں سب سے زیادہ مستغنی ہوںجس شخص نے کوئی عمل انجام دیا اور اس میں کسی کو میرا شریک بنالیا تو اسے بھی چھوڑ دوں گا اور اس کے حصہ کوبھی۔(مسلم:۲۹۸۵)

حاجی کے لئے ضروری ہے کہ وہ حج وعمرہ نیز سفر کے تمام احکام ومسائل سیکھ کر اور سمجھ کر آئے،یہ معاملہ اتنااہم ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے حج میں فرمایاتھا:اپنے مناسکِ حج مجھ سے سیکھ لو، میں نہیں جانتا اس حج کے بعد شاید دوبارہ حج کرسکوں۔

اگر سفرسے قبل اپنانام کسی ایسے گروپ میں جس میں کوئی عالمِ دین ہو،اندراج کرالے تویہ بہت زیادہ موجبِ سعادت ہوگا،نیز مکہ مکرمہ پہنچ کر کسی عالمِ ربانی کی صحبت میسرآجائے تویہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی توفیق اورنعمت شمارہوگی۔

دورانِ حج مسلمانوں کو تکلیف پہنچانایا معصیتوں کا ارتکاب کرنا بھی اجروثواب کی کمی کا باعث ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام حجاج کو توحیدِخالص کی نعمت سے مالامال فرمائے نیز اپنے پیارے رسول محمد ﷺ کی سچی محبت اور اطاعت کی توفیق میسرفرمائے،دورانِ حج منہج تقویٰ پر قائم رکھے اور سنت کے مطابق مناسک حج ادا کرنے کے بعد اپنے وطن اور اہل وعیال میں بخیریت وحفاظت واپس لائے،اور تمام مناسک اپنی رضاکے لئے قبول فرمائے،تمام حاجیوں کے حج کو ان کے میزانِ حسنات کا انتہائی قوی سرمایہ اور اثاثہ بنادے۔واللہ تعالیٰ ولی التوفیق وأصلی وأسلم علی نبیہ وخلیلہ وصفیہ محمد بن عبداللہ ﷺ وعلی آلہ وصحبہ وأھل طاعتہ أجمعین.

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

روزہ کے چند ضروری احکام

(۱)  روزہ کی فرضیت کی ابتداء  ماہِ رمضان کے روزے ، رمضان کا مہینہ شروع …

جواب دیجئے