Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ جولای » توہین رسالت کی سنگینی اور گستاخوں کا انجام

توہین رسالت کی سنگینی اور گستاخوں کا انجام

اسلام ہر صورت غالب ہوگا

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ) (الصف : 8.9)

یہ(کافر اور مشرک) لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہیگا خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔ وہی اللہ تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ .(مسند احمد : 16957)

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک رات اور دن کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کوئی شہری اور دیہاتی گھر نہیں چھوڑے گا، مگر اس میں عزیز کی عزت و آبرو کے ساتھ یا ذلیل کی توہین و ذلت کے ساتھ دین اسلام کو پہنچا دے گا، عزت وہ ہے جو اسلام کے ساتھ ملے اور ذلت وہ ہے جو کفر کے ساتھ ملے۔

اللہ تعالی اپنے پیغمبر کا دفاع کرتا ھے

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ۔ [سورة المائدة: 67]

اے رسول! جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچادیجئے ،  اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو پیغام الٰہی پہنچانے کا حق ادا نہ کیا اور اللہ آپ کو لوگوں  ( کے شر )  سے محفوظ رکھے گا ،  بلاشبہ اللہ کافر قوم کی رہنمائی نہیں کرتا۔

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ)[سورة الزمر: 36]

کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ ( یعنی اللہ تعالی اپنے رسول کیلئے کافی ہے) اور یہ لوگ تو آپ کو ان معبودوں سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا ہیں اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ [الأنفال: 64].

اے نبی! آپ کے لئے اور ان مومنوں کے لئے جو آپ کے حکم پر چلتے ہیں اللہ ہی کافی ہے۔

﴿ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴾ [الكوثر: 3]

بیشک آپکا دشمن ہی بے نام ونشان ہے۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ (94) إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (95) الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آَخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (96) وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ (97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (98) وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ(99)

(الحجر:94تا99)

لہٰذا جو آپکو حکم دیا جاتا ہے ،  اسے کھول کر بیان کردیجئے اور شرک کرنے والوں کی پرواہ نہ کیجئے۔ ہم آپ کا مذاق اڑانے والوں سے نمٹنے کے لئے کافی ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود قرار دیتے ہیں عنقریب انہیں( سب کچھ ) معلوم ہوجائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ (آپ کے استھزاء اور توہین میں) یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ پریشان اور تنگ دل ہوتے ہیں۔لہٰذا آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور سجدہ کیجئے۔ اوراپنے رب کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔

عداوت و توہین رسالت کفار کی پرانی عادت بد ہے

انبیاء و رسل علیھم السلام کے ساتھ عداوت تمسخر اور توہین کفار کی  کوئی نئی عادت نہیں بلکہ جب سے کفار، مشرکین ومنافقین کا وجود نامسعود اس دنیا میں ہے تب سے یہ لوگ اس عادت بد میں مبتلا رہے ہیں :

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ) [سورة اﻷنعام: 112]

اسی طرح ہم نے شیطان سیرت انسانوں اور جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا جو دھوکہ دینے کی غرض سے کچھ خوش آئند باتیں ایک دوسرے کو سجھاتے رہتے ہیں اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے سو انہیں اور ان کی افتراء پر دازیوں کو چھوڑدیجئے۔

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا) [سورة الفرقان: 31]

اسی طرح ہم نے مجرموں کو ہر نبی کادشمن بنایا ہے اور آپ کا رب رہنمائی کرنے اور مدد دینے کو کافی ہے۔

﴿ قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ * وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَى مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَأِ الْمُرْسَلِينَ ﴾ [الأنعام: 34 – 33].

(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں آپ کو غمزدہ کئے دیتی ہیں لیکن یہ ظالم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اللہ کی آیات کے منکر ہیں۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا جاچکا ہے تو جن باتوں میں انہیں جھٹلایا گیا اس پر انہوں نے صبر کیا   ،  انہیں تکلیف بھی دی گئی حتیٰ کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی اور اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ کے پاس رسولوں کی خبریں تو آہی چکی ہیں۔

﴿ وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ﴾ [البقرة: 120].

اور یہودی اور نصاریٰ تو آپ سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کریں آپ  ( ان سے )  کہہ دیجئے کہ ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی ہے  ،  اور اگر آپ علم آنے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرینگے تو آپکو اللہ سے بچانے والاکوئی حامی وناصر نہ ہوگا۔

(وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ)(وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ)(كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ)[سورة الحجر 10.11.12]

اور آپ سے پہلے ہم نے سابقہ قوموں میں بھی رسول بھیجے تھے۔ پھر جب بھی ان کے پا س کوئی رسول آیا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ ہم مجرموں کے دلوں میں ایسی ہی باتیں داخل کردیتے ہیں۔

وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ اتَّخَذُوهَا هُزُواً وَلَعِباً ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْقِلُونَ [المائدة : 58]

اور جب تم نماز کے لئے اذان کہتے ہو تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے شغل بناتے ہیں  اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ بے وقوف ہیں۔

[وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنذِرُوا هُزُواً(الكهف : 56)

ہم رسولوں کو صرف اسلئے بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیں اور جہنم سے ڈرائیں اور کافر ان رسولوں سے باطل ( دلائل کے ساتھ) جھگڑا کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ حق کو نیچا دکھائیں اور میری آیات کا اور جس چیز سے ڈرایا جائے اس کا مذاق اڑائیں۔

{أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآَيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (105) ذَلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آَيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا }[الكهف : 106-105]

وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا لہٰذا ان کے اعمال برباد ہو جائیں گے اور قیامت کے دن ہم ان کاکوئی وزن قائم نہ کرینگے۔ یہ جہنم ان کے کفر اختیار کرنے کا بدلہ ہے اور وہ میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔

{وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُواً أَهَذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُم بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَافِرُونَ [الأنبياء : 36]

اور جب کافر آپکو دیکھتے ہیں توبس مذاق ہی اڑاتے ہیں  ( کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے معبودوں کی برائی بیان کرتا ہے؟ حالانکہ وہ کفار خود رحمان کے ذکر کے منکر ہیں۔

{وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُواً أَهَذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ رَسُولاً [الفرقان : 41]

اور (کفار مکہ) جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں  ( کہتے ہیں)  کیا یہی ہے وہ آدمی جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

(يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ)[ يس: 30]

افسوس ہے بندوں پر کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو وہ اسکا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

سيدنا نوح علیہ لسلام وہ برگزیدہ پیغمبر ہیں کہ جنہوں نے اپنی عمر مبارک کے ساڑھے نو سو سال اللہ تعالی کی توحید کا اعلان کرتے کرتے گذاردیئے جب اللہ تعالی نے قوم پر عذاب کا فیصلہ کیا تو سیدنا نوح علیہ السلام کو ایک کشتی تیار کرنے کا حکم دیا تو قوم  اللہ تعالی کے اس حکم پر بھی تمسخر کرنے لگی :

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُواْ مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ [هود : 38]

نوح(علیہ السلام) نے کشتی بنانی شروع کی تو جب بھی اس کی قوم کے سردار وہاں سے گزرتے تو اس کا تمسخر اڑاتے، نوح نے کہا:اگر تم ہمارا تمسخر اڑاتے ہو تو ہم بھی ایک دن تمہارا ایسا ہی تمسخر اڑائیں گے۔

معلوم ہوا کہ جو قوم انبیاء کی توہین کا راستہ اختیار کرتی ھے تو وہ دنیا کے سامنے نشانہ عبرت بن جاتی ہے ۔ جیساکہ ارشاد ہے :

 {وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُواْ مِنْهُم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ [الأنعام : 10]

آپ سے پہلے بھی رسولوں سے مذاق کیا جاچکا ہے پھر ان تمسخر کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

(إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا) [اﻷحزاب: 57]

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت فرمائی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

(وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) [التوبة: 61]

اور ان ( منافقین ) میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :وہ کانوں کا کچا ہے  ( ہر ایک کی سن لیتا ہے ) آپ کہیے کہ یہ کانوں کا کچا ہونا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے وہ اللہ پر اور مومنوں کی بات پر یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

یہود کی گستاخیاں

یہودی وہ بد ترین قوم ہے جو نہ صرف رسولوں کی توہین و تکذیب کرتے بلکہ انہیں قتل کے درپے ہوجاتے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خود رب العالمین کی شان میں گستاخیوں کے مرتکب بھی ہوتے رہے :

(وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا ۚ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ)

[المائدة: 64]

یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے  ( یعنی وہ کنجوس ہے) بلکہ انہی کے ہاتھ  ( ان کی گردن کے ساتھ ) باندھ دئیے گئے ہیں اور یہ کہنے کی وجہ سے ان پر پھٹکار پڑگئی بلکہ اللہ کے ہاتھ تو کھلے ہیں وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے اس نے ان کی اکثریت کو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیا اور ہم نے ان کے درمیان روز قیامت تک عداوت اور کینہ ڈال دیا ہے جب بھی یہ لوگ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھادیتا ہے یہ ہر وقت زمین میں فساد برپا کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اللہ  فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

(لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ [ آل عمران: 181]

یقینًا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہاتھا کہ: اللہ تو محتاج ہے اور ہم غنی ہیں جو انہوں نے کہا اسے ہم لکھ رکھیں گے اور جو انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے  ( وہ بھی لکھ رکھا ہے )  ہم  ( قیامت کے دن ) کہیں گے کہ اب جلادینے والے عذاب کا مزا چکھو ۔

(وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً ۖ قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ)۔ [البقرة: 67]

اور جب موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ:اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے ،تو انہوں نے کہا آپ ہم سے مذاق کیوں کرتے ہیں! موسیٰ نے جواب دیا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہل بن جائوں ۔

یعنی یہودیوں نے اللہ تعالی کے حکم اور سیدنا موسی علیہ السلام کی توہین کی اور مذاق اڑایا ۔

 یہود کی سیدنا جبریل علیہ السلام سے دشمنی اور توہین

(قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ) (مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ)

[ البقرة:98-97]

آپ ( ان یہود سے ) کہہ دیجئے کہ جو جبرائیل کا دشمن ہے  ( اسے معلوم ہونا چاہیے کہ )  جبرائیل ہی نے تو اس قرآن کو اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتارا ہےجو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور مومنوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ جو شخص اللہ کا ،  اس کے فرشتوں کا ،  اس کے رسولوں کا ،  جبرائیل کا اور میکائیل کادشمن ہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ خود ( ایسے ) کافروں کا دشمن ہے۔

 وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ) [ المجادلة: 8]

اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا اور دلوں میں کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا ان کو جہنم کافی ہے جس میں یہ داخل ہوں گے ، سو ان کا انجام برا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ. قَالَ : وَعَلَيْكُمْ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ… (بخاري: 6030)

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، يَقُولُ أَحَدُهُمُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ : عَلَيْكَ . (صحیح مسلم:2164)

کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السام عليكم‏.‏( تم پر موت آئے ) اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:عليكم،‏‏‏‏ ولعنكم الله،‏‏‏‏ وغضب الله عليكم‏.‏ کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں تو تم جواب میں صرف وعلیکم کہا کرو ۔

(مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا)

[ النساء: 46]

یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب کے کلمات کو ان کے موقع ومحل سے پھیر دیتے ہیں اوراپنی زبان کو مروڑ کر اور دین  میں طعنہ زنی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی  ( اور کہتے ہیں کہ )  تم سنو ،  تمہیں نہ سنایاجائے  ( یعنی تم بہرے ہوجائو )  اور ہماری رعایت کرو ،  زبان مروڑ کر ، اور دین میں عیب نکالنے کے لئے ،  حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ ہم نے سنا  اور ہم نے اطاعت کی ،  اور سنئے  اور ہمیں مہلت دیجئے توان کے لئے بہتر اور زیادہ مناسب ہوتا لیکن اللہ نے تو ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی پس یہ بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔

یہود کے ایسے طرز عمل کی بنا پر اہل ایمان کو اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے منع فرمادیا :

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ) [سورة البقرة 104]

اے ایمان والو تم  ( نبی سے بات کو دوہرانے کی درخواست کرتے وقت ) ’’راعنا‘‘نہ کہاکرو ( یعنی یہود نے ’’راعِناَ‘‘ رعایت کیجئے کی بجائے اسے بگاڑکر ’’راعِینا‘‘ احمق یا ہمارا چرواہا کہنا شروع کردیاتھا )  بلکہ تم ’’انظرنا‘‘ کہو ( یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیں )  اور  ( بات کو پہلی ہی دفعہ )  توجہ سے سنا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

شاہ فارس کسریٰ کی گستاخی اور انجام

عن ابْن عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ، فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.(بخاري: 4424)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( شاہ فارس) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں (جو کسریٰ کا عامل تھا ) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔(راوی کہتا ھے) میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔

اللہ تعالی نے کسری بدبخت کو اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس طرح اسکے اور اسکی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔

قاتلين انبياء

(وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ ۚ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا) [ النساء: 157]

اور انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام) کو قتل کرڈالا ہے ‘‘حالانکہ نہ تو ان لوگوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا ،  بلکہ ( عیسی کی شکل کا کوئی اورآدمی سولی پر چڑھاکر )  انہیں شبہ میں ڈال دیاگیا اور بلاشبہ جن لوگوں نے اس معاملہ میں اختلاف کیا وہ خود بھی شک میں مبتلا ہیں انہیں حقیقت کا کچھ علم نہیں محض وہم وگمان کے پیچھے ہیں اور یقینا وہ انہیں قتل نہیں کرسکے تھے۔

(لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَاءَهُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنْفُسُهُمْ فَرِيقًا كَذَّبُوا وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ) [المائدة: 70]

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاتھا اور ان کی طرف رسول بھی بھیجے  ( لیکن )  جب بھی کوئی رسول ان کی خواہشات کے خلاف حکم لے کر آیا تو ایک گروہ کو تو انہوں نے جھٹلادیا اورایک گروہ کو مار ہی ڈالا۔

نصاریٰ (عیسائیوں) کی گستاخیاں

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّافَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ، فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَادَ نَصْرَانِيًّا، فَكَانَ يَقُولُ: مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا كَتَبْتُ لَهُ. فَأَمَاتَهُ اللَّهُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ، فَقَالُوا : هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ. فَقَالُوا : هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ، نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَأَصْبَحَ قَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ. فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ.(بخاري:3617)

ایک شخص پہلے عیسائی تھا۔ پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے ( بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے ) چنانچہ انہوں نے اسے یونہی ( زمین پر ) ڈال دیا۔

منافقوں کی گستاخیاں

یَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ سُوۡرَۃٌ  تُنَبِّئُہُمۡ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ قُلِ اسۡتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ  مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ

( التوبۃ:64)

منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نہ نازل ہوجائے جو انہیں منافقوں کے دلوں کاحال بتلا دے آپ انہیں کہیے: اور مذاق کرلو ،  جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اسے یقینا ظاہر کرکے رہیگا.

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ  کُنۡتُمۡ  تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ۔

(التوبة:65)

 اور اگر آپ ان سے پوچھیں  ( کہ تم کیا باتیں کرتے ہو )  تو کہیں گے: ہم توصرف مذاق اور دل لگی کررہے تھے آپ کہہ دیجئے کیا اللہ ،  اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں ؟

(يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ) [المنافقون: 8]

کہتے ہیں :اگرہم مدینہ واپس گئے تو  ( وہاں کا )  عزت والا آدمی ،  ذلیل تر آدمی کو نکال باہر کرے گا ،  حالانکہ عزت تو تمام تر اللہ ،  اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے لیکن یہ لوگ جانتے نہیں۔

یعنی منافقین اپنے آپ کو عزت والا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو معاذ اللہ ذلیل کہتے تھے ۔

(إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ) [سورة النور 11]

بیشک جن لوگوں نے ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر  ) تہمت لگائی ہے وہ تم میں سے ہی ایک ٹولہ ہے تم لوگ اس بہتان تراشی کو اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے ،  ان میں سے ہرآدمی کو اپنے کئے کے مطابق گناہ ہوگا اور ان میں سے جو (ابن ابی منافق) اس تہمت کے بڑے حصہ کا ذمہ دار بنا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ یعنی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر منافقین کی طرف سے تہمت آپ اور آپ کے اہل کی توہین اور گستاخی ہے۔ واقعہ افک یعنی تہمت کی تفصیل صحیح بخاری حدیث نمبر (4750) میں موجود ہے ۔

(جاری  ہے)

About الشیخ حزب اللہ بلوچ

Check Also

رمضان اور روزے  کی فضیلت و اہمیت اور مشہور موضوع و ضعیف روایات

رمضان اور الصوم کا لغوی و شرعی معنی رمضان لفظ الرمض سے ماخوذ ہے جسکا …

جواب دیجئے