Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » ‎شمارہ جولای » حج و عمرہ میں ادا کیے جانے والے غیر مسنون اعمال

حج و عمرہ میں ادا کیے جانے والے غیر مسنون اعمال

قارئین کرام ! ادائگی حج و عمرہ میں اکثر زائرین کی طرف سے بعض ایسے اعمال سرانجام دیے جاتے ہیں جو سنت سے ثابت نہیں ۔

ذیل میں ہم ایسے اعمال کی نشاندہی آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیںتاکہ ہر حاجی و زائر ان سے محفوظ رہ سکے ۔

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر نیک عمل سنت کی مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

آمین ۔

1احرام وغیرہ کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں

☆حج و عمرہ کے لیے نکلنے سے پہلے والدین یا برزگوں کی قبروں کی زیارت کرنا ۔

☆ حج کے لیے گھر سے نکلتے وقت دو رکعت ادا کرنا ۔

☆ خواتین کا احرام کے لیے کوئی خاص کپڑا پہننا ،(انکا احرام وہی لباس ہے جو وہ روز مرہ میں استعمال کرتی ہیں) ۔

☆ خواتین کا سر کے بالوں کو باندھنے کے لیے کوئی خاص کپڑا سینا ۔

☆ احرام پہننے کے لیے دو رکعت ادا کرنا ۔

☆ اہل قافلہ کا اجتماعی طور پر بلند آواز سے تلبیہ کہنا ۔

☆ تلبیہ کے بجائے قصیدہ بردہ اور دیگر نعتیں پڑھنا ۔

☆ بار بار احرام باندھ کر تنعیم یا جعرانہ سے عمرہ کرنا ۔

☆ کسی خاتون کا غیر محرم مرد کو محرم بنا کر حج کرنا ۔

☆ کسی خاتون کا محرم کے بغیر خواتین کے گروپ میں شریک ہوکر حج کا سفر کرنا ۔

☆ خواتین کا طواف قدوم میں رمل کرنا ۔

☆ مسجدالحرام سے نکلتے وقت الٹے پاؤں واپس آنا ۔

☆ زندہ ، صاحب استطاعت ، اور صحت مند آدمی کی طرف سے حج بدل ادا کرنا ۔

☆ خاموشی سے بغیر بولے حج کرنا ۔

☆ زيادہ اجر و ثواب حاصل کرنے کی غرض سے خود کو تکلیف میں ڈالنا ۔

2طواف کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں

☆ طواف کے لیے "نویت طوافی ھذا”  جیسے الفاظ ادا کرنا ۔

☆ طواف کے دوران دونوں ہاتھ سینے پر باندھنا ۔

☆ حجر اسود کا استلام کرتے وقت نماز کی طرح دونوں ہاتھ بلند کرنا۔

☆ دوران طواف ہر چکر میں الگ الگ مخصوص دعاؤں کا اہتمام کرنا  ۔

☆ رکن یمانی کو ہاتھ سے چھونا ممکن نہ ہو تو اسے دور سے اشارہ کرنا ۔

☆ رکن یمانی کو چھوتے ہوئے حجر اسود کی طرح بسم اللہ ، اللہ اکبر کہنا ۔

☆ دوران طواف رکن شامی ، رکن عراقی یا مقام ابراہیم کا استلام کرنا  ۔

☆ حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے امام سے پہلے سلام پھیر لینا ۔

☆حجر اسود یا بیت اللہ شریف یا غلاف کعبہ کو چھوکر اپنے جسم پر ملنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ اس سے شفا یا برکت حاصل ہوگی  ۔

☆ حجر اسود کے سامنے دیر تک کھڑے رہنا اور بار بار رفع یدین کرنا اور بار بار بسم اللہ ، اللہ اکبر کہنا  ۔

☆ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت یہ کہنا : اللھم إيمانا بك و تصديقا بكتابك .

☆ محرم کا طواف قدوم سے پہلے تحیۃ المسجد شروع کر دینا ۔

☆ دوران طواف تلاوت قرآن کا التزام کرنا ۔

☆ دوران طواف ، مطوف (طواف کرانے والے) کا باآواز بلند دعائیں مانگنا اور حجاج کے گروپ کا پیچھے پیچھے بلند آواز سے اس کا اعادہ کرنا  ۔

☆ ہجوم کے وقت مقام ابراہیم کے نزدیک نماز طواف ادا کرنے کے لیے مزاحمت کرنا ۔

☆ ذوالحجہ کو منی جانے سے پہلے طواف زیارت کرنا ۔

3سعی کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں

☆ صفا اور مروہ پہاڑی پر کھڑے ہوکر دعا کرنے کے لیے دیوار تک پہنچنا۔

☆ صفا سے مروہ تک اور مروہ سے صفا تک صرف ایک چکر شمار کرنا ۔

☆ سعی کے ہر چکر میں الگ الگ مروجہ دعائیں مانگنا ۔

☆ سعی کے بعد دو رکعت نفل ادا کرنا ۔

☆ صفا اور مروہ پر قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعا مانگنے سے قبل رفع الیدین کی طرح تین بار ہاتھ بلند کرنا ۔

☆ صفا اور مروہ کے تمام راستے پر عام چلنے کی بجائے بھاگنا ۔

☆ لوگوں کا جماعت کھڑی ہونی کے باوجود سعی میں مصروف ہونا حتی کہ باجماعت نماز فوت ہو جائے ۔

4عرفات ، منی ، مزدلفہ کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں

☆ صرف جبل عرفات کو ہی موقف تصور کرنا ۔

☆ وقوف عرفہ کے لیے جبل رحمت کے اوپر چڑھنا یا اس کی طرف منہ کرنا ۔

☆ میدان عرفات میں وقوف کے لیے غسل کرنا ۔

☆ حاجی کا عرفات کے دن روزہ رکھنا ۔

☆عرفات میں ظہر و عصر کے درمیان نفل ادا کرنا ۔

☆ عرفات میں ظہر و عصر کو جمع نہ کرنا ۔

☆ عرفات میں ظہر و عصر کو قصر نہ کرنا ، مکمل نماز پڑھنا ۔

☆ مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے درمیان نفل ادا کرنا ۔

☆ مزدلفہ کی رات آرام کرنے کے بجائے نوافل ادا کرنا ۔

☆ منی سے رات کو ہی عرفات کی طرف سفر شروع کر دینا ۔

☆ دس ذی الحج کو منی میں عید ادا کرنا ۔

5رمی کے متعلق غیر مسنون افعال

☆ ایام تشریق کی رمی کے لیے مزدلفہ سے کنکریاں چننا ۔

☆ رمی سے قبل کنکریوں کو دھونا۔

☆ سات کنکریاں بیک وقت مارنا۔

☆ قدرت کے باوجود خود رمی نہ کرنا ۔

☆ رمی کرتے وقت یہ عقیدہ رکھنا کہ شیطان کو مار رہے ہیں ۔

☆ رمی کے لیے پتھر یا جوتے استعمال کرنا ۔

☆ رمی کرتے وقت شیطان کو گالیاں دینا ۔

☆ رمی کے لیے جاتے ہوئے ادعیہ ، اذکار کی بجائے ہنگامہ اور شور و غل کرتے ہوئے جانا ۔

☆ جمرہ اولی اور جمرہ وسطی کی رمی کے بعد دعا ترک کرنا ۔

v☆ 12ذی الحجہ کو منی سے واپس ہونا ہو تو اسی روز 13 ذی الحجہ کی رمی کرنا ۔

☆ طواف وداع کے بعد رمی کرنا ۔

☆ طواف وداع کے بعد مسجد حرام سے الٹے پاؤں باہر نکلنا ۔

6مدینہ منورہ اور مسجد نبوی کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں ۔

☆مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے وضو یا غسل کرنا ۔

☆ مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں داخل ہونا ۔

☆ مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کا اہتمام کرنا ۔

☆ مسجد نبوی کی زیارت کے بعد الٹے پاؤں واپس آنا ۔

☆ مسجد نبوی میں ہر نماز کے بعد بلند آواز سے السلام علیک یا رسول اللہ کہنا ۔

7رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے متعلق وہ امور جو سنت سے ثابت نہیں

☆ قبرمبارک کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفرکرنا۔

☆ مسجد نبوی میں داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد ادا کئے بغیر سیدھے قبر مبارک پر چلے جانا۔

☆ قبرمبارک کی طرف منہ کر کے دعا کرنا۔

☆ حصول برکت کے لئے قبر مبارک کی جالیوں ، دیواروں دروازوں کو چھونا ، بوسے دینا اپنےجسم سے لگانا ۔

☆ قبر مبارک پر کھڑے ہوکر غیر مسنون درود تاج ، درود لکھی ، درود ماہی ، درود اکبر ، درود مقدس اور درود تنجینا وغیرہ پڑھنا ۔

☆ اپنی حاجتیں اور مرادیں کاغذ پر لکھ کر جالیوں کے اندر پھینکنا۔

☆ قبر مبارک پر قرآن خوانی یا نعت خوانی کے لئے بیٹھنا۔

☆ قبر پر بیٹھ کر مراقبہ کرنا۔

☆ ہجوم کے باوجود درود و سلام پڑھنے کے لئے قبر پر آنا۔

☆ دعا کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ بنانا۔

☆ یہ عقیدہ رکھنا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں ہماری گزارشات سنتے تھے اب بھی اسی طرح ہماری گزارشات سن رہے ہیں۔

☆ يہ عقیدہ رکھنا کہ درود و سلام کے لئے حاضر ہونے والوں کے احوال اعمال اور نیتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں ۔

☆ یہ عقیدہ رکھنا کہ قبر مبارک سے قریب کھڑے ہوکر مانگی گئی دعا ضرور قبول ہوگی۔

☆ قبر مبارک کی زیارت کے بعد الٹے پاؤں واپس پلٹنا۔

☆ مدینہ منورہ جانے والوں کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام بھجوانا۔

☆ رجب شعبان رمضان میں قبر مبارک کی زیارت کا خصوصی اہتمام کرنا۔

☆ قبرمبارک پر اعتکاف کرنا یا قبر کا طواف کرنا۔

☆ قبرمبارک کے سامنے نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر بے حس وحرکت کھڑے ہونا۔

☆ بارش کے بعد قبر مبارک کے سبز گنبد سے گرنے والے قطروں کو تبرک کے طور پر جمع کرنا۔

☆ قبرمبارک کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا۔

☆ قبرمبارک کی طرف رخ کرکے دعا کرنا اور رونا ۔

8متفرق مسائل جو سنت سے ثابت نہیں

☆ جس عمرہ کرنے والے کا اپنا احرام نہ کھلا ہو اس کا دوسروں کے بال کاٹنا ۔

☆ سر کے بال کٹاتے وقت قبلہ رخ ہونا ۔

☆ مسجد قباء کے علاوہ ثواب کی نیت سے مدینہ منورہ کی باقی مساجد کی زیارت کرنا ۔

☆ ثواب کی نیت سے مکہ و مدینہ کے پہاڑوں وغیرہ کی زیارت کرنا۔

☆ مکہ و مدینہ کے درختوں اور پتھروں سے تبرک حاصل کرنا ۔

☆ آب زم زم سے کفن کا کپڑا دھوکر آنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ایسا کفن پہننا باعث نجات ہے ۔

نوٹ:واضح رہے کہ مضمون کا زیادہ تر حصہ فضیلۃ الشيخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "حج اور عمرہ کے مسائل” سے اخذ کیا گیا ہے ۔

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

گستاخان صحابہ کا عبرت ناک انجام

سيدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ …

جواب دیجئے