Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ دسمبر » مقدمہ بدیع التفاسیر

مقدمہ بدیع التفاسیر

قسط نمبر :209

الظلم:لغۃ وضع الشیٔ فی غیر موضعہ، یعنی کسی چیز کو اس کی مناسب ومستحق جگہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر رکھنا جیسے :ظلم السقاءاورظلم الجزور. یعنی بلاسبب اونٹ ذبح کرنا مثال مشہورہے کہ :من اشبہ اباہ فما ظلم .یعنی جس نے اپنے باپ سے مشابہت کی اس نےظلم نہیں کیا اس نے اپنی مشابہت کوبرمحل وموقعہ کے رکھا ہے اور المظلومۃ اس زمین کو کہتے ہیں جو گڑھا (کنواں) کھودنے جیسی نہ ہوپھر بھی اس میں کھدائی کی جائے، اسی طرح جو ناحق کام کرتا ہے یاحق کو مٹاتا ہے اور اس طرح کے اور کام کرتا ہے تو اسےظالم کہاجاتا ہے،اسی طرح ظلم مزید معانی کےلئے بھی مستعمل ہوتا ہے،مثلاً:ناانصافی کاحد سے تجاوز ،درمیانی راہ سے روگردانی وغیرہ، قرآن مجید میں ہے:[اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ](الانعام:) یعنی امن تو ان کے لئے ہے جنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہ ملایا، ابن عباسwاور مفسرین کی ایک جماعت یہاں ظلم سے شرک مراد لیتی ہے، اسی طرح حذیفہ بن الیمان، ابن مسعود، اور سلمان فارسیyسے مروی ہے،بلکہ خود رسول اللہ ﷺ سے ایسی مرفوع حدیث بھی مروی ہے اور شرک کو ظلم عظیم اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ رزق دینے والا،ہر طرح کے انعامات سے نوازنے والاصرف اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے پھربھی اس کے ساتھ شرک گویا کہ اس نعمت کو کسی غیر سے تصور کرنا ہے۔

(لسان العرب:۱۲؍۳۷۳)

الفسق:لغتاًبمعنی کسی چیز سے نکلنا،خارج ہونا جیسا کہ قرآن میں ہے:[كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ۝۰ۭ ] (الکھف:۵۰) یعنی ابلیس جنوں میں سے تھاپھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری سے نکل گیا ،استاذ فراءنے ایک مثال ذکر کی ہے:فسقت الرطبۃ. یعنی کھجور اپنے گوشے سے باہر نکلا ہے ،راقم الحروف کہتا ہے کہ فسق فلاں یعنی فلاں شخص شرعی حدود ممانعت سے تجاوز کرگیا یا نکل گیا۔اللہ تعالیٰ نے فاسق، ظالم اور کافر تینوں الفاظ استعمال کئے ہیں، فاسق کافر سے عام ہے یعنی ہر کافر فاسق ہوتا ہے اور فاسق کبھی کافر ہوتا ہے اور کبھی درجہ کفر کو نہیں پہنچتااور اسی طرح ظالم فاسق سےعام ہے یعنی ہر فاسق ظالم ہے اور ظالم فاسق بھی ہوسکتا ہے اور غیر فاسق بھی۔

(المفردات للراغب،ص:۴۸۷)

النفاق:لغۃ نافقاء الیربوع سے ماخوذ ہے کہ چوہے کا ایسا سوراخ جس کے دوسِرے یا راستے ہوں، ایک سے پکڑنے کی کوشش کی جائے تو دوسرے سے نکل جائے، اسی طرح منافق بھی ایک دروازے سے اسلام میں داخل ہوتا ہے یعنی زبان سے اقرار کرتا ہے تودوسرے راستے سے نکل جاتا ہے یعنی اعتقادی طور پر مسلمان نہیں ہوتا، النفاق اسلامی لفظ ہے یعنی اسلام سے پہلے اس معنی کے لئے عرب اسے نہیں جانتے تھے، (یعنی ظاہرا اسلام قبول کرنا اور اندرونی طرح کافرہونا۔)یہ ایک خاص شرعی معنی ہے باقی لغوی معنی عرب میں پہلے معروف تھا۔

البھتان:اس کی اصل بھت الرجل سے ہے، یعنی اس کی طرف جھوٹی نسبت کی۔ اصلاً بھت کا معنی دہشت زدہ وحیران ہونا ہے اور بھتان ایسے جھوٹ کو کہتے ہیں کہ سننے والادہشت زدہ اور حیران رہ جائے۔(المفردات للراغب،ص:۶۳)

العدوان:چڑھائی ،زیادتی اور ظلم خواہ ابتداءًہو مثلا: [وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۝۰۠](المائدۃ:۲)یاباعتبارجزاء وبدلہ ہو:[فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّٰلِـمِيْنَ۝۱۹۳ ](البقرہ:۱۹۳)پہلی قسم حرام محظور،کے باب سے ہے۔(المفردات ،ص:۲۲۹)اس کی اصل عدوت، وتعدیت علی الرجل سے ہے اور العداء بمعنی الظلم۔

الخسران:بمعنی نقصان اسی طرح الخسر بھی کہا جاتا ہے ،یعنی ہلاکت ،بربادی جیسے:اولئک ھم الخاسرون یعنی الھالکون ،فماتزیدوننی غیر تخسیر(ھود:63) یعنی صالح uنےاپنی قوم سے کہا کہ اگر میں تمہارے کہنے پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو پھر مجھے اللہ سے کون بچائے گا اور تم تو میرے لئے ہلاکت کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کرسکتے۔

الافک:بمعنی جھوٹ کیونکہ جھوٹ ایسا کلام ہے جو حق سے دور ہے اس کی اصل طرح سے ہے کہ:افک الرجل اذا صرفتہ عن رأی کان علیہ. یعنی میں نے اسے اپنی رائے سے ہٹایا ،لوطuکی قوم کے شہروں کو المؤتفکات کہاگیا ہے یعنی انہیں الٹایاگیا یا پھیراگیا،[فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۝۹۵](الانعام:۹۵) یعنی پھر تم کہاں سے پھیرے جاتے ہو،اعتقادات میں حق سے باطل کی طرف، گفتگو میں سچ سے جھوٹ کی طرف،اور کام میں اچھے سے برے کی طرف پھرنا۔

(المفردات،ص:۱۸)

الفجور:حق سے باطل کی طرف جھکاؤیا انحراف کرنا اسی طرح جھوٹ کو بھی کہا جاتا ہےکہ اس میں سچ سے انحراف کرتے ہوئے جھوٹ کی طرف مائل ہوا جاتا ہے۔

الاختراء:بمعنی الاختلاق یعنی گھڑی ہوئی بات، من گھڑت بات، قرآن مجید میں ہے :[وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللہِ الْكَذِبَ](المائدہ:۱۰۳) یعنی کفار اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے ہیں، اگرکوئی شخص کسی دوسرے پر ایسی بات گھڑتا ہے جو اس میں موجود نہ ہو یا اس کے والدین پر بھتان طرازی کرتا ہے تو اس وقت کہتے ہیں: افتری فلان علی فلان .

اقامۃ الصلاۃ، یعنی نمازوں کو ان کے اوقات پر دوام وہمیشگی کے ساتھ پڑھنا، عرب میں ایسا استعمال موجود ہے بازار کو قائم رکھنے سے یہ مراد ہوتی ہے اسے ہمیشہ آباد رکھاجائے کبھی بیکار(غیرآباد) نہ کرنا کہتے ہیں: قامت السوق واقمتھا،اس کی بربادی اور ویرانی کےو قت کہتے ہیں: نامت السوق یعنی بازار سوگئی، (ماند پڑگئی)

التزکیۃ:زکاۃ بڑھنے اور اس میں برکت پڑنے کو کہتے ہیں جیسے زکی الزرع وزکت النفقۃ. یعنی کھیتی باڑی اور نفقہ خرچہ میں برکت ہوئی، صدقہ کے مال کو زکاۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت ہوتی ہے، کبھی اس کی نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے کہ اصلا اس کی کمائی اور نتیجہ ہوتا ہے جیسے [قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا۝۹۠ۙ](الشمس:۹)اور کبھی اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے کیونکہ درحقیقت پاک کرنے والابڑھانے والااور برکت ڈالنے والااللہ تعالیٰ ہی ہے، [بَلِ اللہُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاءُ ](النساء:۴۹) کبھی تزکیہ کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام خبریں، پیغامات واحکامات آپ ہی کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں جیسے:[يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ] (البقرہ:۱۵۱) [خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ] (التوبۃ:۱۰۳)اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے جوکہ اس برکت واضافہ کاذریعہ ہے:[وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوۃً](مریم:۱۳) [يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ]

(الجمعۃ:۲)

اس قسم کی آیات کامفہوم ایک ہی ہے۔(المفردات،ص:۲۱۳)

الحکمۃ:علم وعمل میں کوئی شخص اس وقت تک حکیم نہیں بن سکتا جب تک ان دوصفات کاحامل نہ ہو،علم وعقل کےذریعے حق تک پہنچنے کو حکمت کہتے ہیں ،اللہ کی حکمت سےمراد اس کا تمام چیزوں کو جاننا اور انہیں بہترین طریقے سے وجود میں لانا ہے، اور انسان کی حکمت سے مراد موجود اشیاء کا علم اور نیک اعمال کرنا ہے۔

شعائر اللہ:جمع شعیرۃ پھرہر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ کی عبادات کی نشانیوں میں سے کوئی بنایاجائے،اسی لئے قربانی کےاونٹ کو ،کوہان کےپاس چیرلگانے کو اشعارالبدن کہتے ہیں، امیر المؤمنین عمرtجب زخمی ہوگئے تو کہاگیا:اشعرامیر المؤمنین یعنی امیر المؤمنین نشان زدہ کردیئے گئے،محققین کے بقول اس کی اصل شعار سے ہے بمعنی وہ کپڑا جو جسم سے لگاہواہوتا ہے۔(یعنی بنیان کی طرح)

حج البیت:اس کی اصل اس طرح ہے کہ:حججت فلانا اذا عدت الیہ مرۃ بعدمرۃ یعنی میں فلاں کی طرف باربارلوٹا،شاعر کاقول ہے:

واشھد من عوف حلولاکثیرۃ

یحجون سب الزبرقان المزعفرا

یعنی خاکی پگڑی والےکی طرف اس کی سرداری کی وجہ سے(لوگ) بار بار آرہےہیں، (مفردات راغب ،ص:۱۰۶میں لکھتے ہیں کہ :اصل الحج القصد لزریاۃ……خص فی تعارف الشرع بقصد بیت اللہ تعالیٰ اقامۃ للنسک فی الحج والحج مصدر والیحج اسم .

حج بمعنی زیارۃ کے لئے کسی طرف کا قصد کرنا، شرعی اصطلاح میں خاص اس ارادے کو کہا جاتا ہے جو احکام حج کی ادائیگی کے لئے کعبۃ اللہ کی طرف کیاجائے اور حج کی حا کی زبر مصدری معنی کےلئے ہے یعنی حج کرنا اور حا کی زیر سے فریضہ حج کانام ہے۔

السلطان:بمعنی الملک والقھر یعنی حکومت وغلبہ نیز بمعنی حجت وبرھان کے بھی مستعمل ہوتا ہے مگر شرط ہے کہ جہاں حکومت وغلبہ کا معنی نہ ہوسکتاہو جیسے:[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝۹۶ۙ ](ھود:۹۶) [اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ۝۱۵۶ۙ ]

(الصافات:۱۵۶)

القرآن:چونکہ اس میں مختلف سورتیں جمع شدہ ہیں، اس لئے اسے قرآن کہا جاتا ہے،اصل اس سے ہے کہ:ما قرئت الناقۃ سلی قط ای ماضمت فی رحمھا ولدا وکذالک ما قرئت جنینا .یعنی اونٹنی نے اپنے رحم میں بچے کو جمع نہیں کیا، قرآن مجید میں ہے :[اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ۝۱۷ۚۖ ](القیامۃ:۱۷) نیز قرآن قرأت کی طرح مصدر بھی مستعمل ہوتا ہے :[اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْہُوْدًا۝۷۸ ](بنی اسرائیل:۷۸) قرآن الفجر سے مراد فجر(نماز) بھی مراد لی گئی ہے، ایک شاعر عثمانtکے بارے میں کہتا ہے:

ضحوا بالمشط عدوان السجود بہ

یقطع اللیل تسبیحا وقرآنا

یعنی انہوں نے ایسے عابد کوذبح(قتل) کیا جو تسبیح وقرأت میں رات گزارتے تھے۔

المثانی:بقرہ سے توبہ تک سورتوں کو کہاجاتاہے،یا وہ سورتیں جن کی آیات کی تعداد دوسوسے کم ہو گویا کہ یہ سورتیں مبادی ہیں اور کم تعداد والی مثانی ،نیزقرآن مجید کی تمام سورتیں چھوٹی ہوں یابڑی بلکہ پورے قرآن کو المثانی کہاجاتاہے جیسے:[كِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِيَ۝۰ۤۖ] (الحجر:۲۳)یہ اس وجہ سے کہ اس (قرآن) کو باربارتکرار کےساتھ پڑھاجاتاہے، نیز سورہ فاتحہ کو بھی مثانی کہتے ہیں :[وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ](الزمر:۸۷) اس لئے کہ اس سورت کو نماز کی ہر رکعت میں تکرار کےساتھ پڑھاجاتاہے،راقم الحروف کہتا ہے کہ اس کی اصل اس طرح ہے کہ :ثنی الشیٔ تثنیۃ.یعنی کسی چیز کو دُگنا کرنا، اس کے بعض کو بعض پر لوٹانا۔(لسان العرب:۱۴؍۱۱۵)

التوارۃ:بمعنی ضیاء وروشنی ،استاد فراء اس کی اصل الزند سے کہتے ہیں یعنی درخت سےآگ نکلی، راغب صفحہ ۷۵میں لکھتے ہیںکہ کوفیوں کےنزدیک توراۃ اصل وورات ہے، ت کو واؤ کی جگہ لایاگیاہے، اور بصریوں کےنزدیک بروزن فوعل کے ہے۔

الانجیل:بمعنی ظاہر کیاہوا،فعیل کے وزن پر ہے اس کی اصل اس طرح ہے :نجلت الشیٔ اذا خرجتہ .یعنی میں نے فلاں چیز کو باہر نکالا۔

الزبور:بمعنی المکتوب یعنی لکھاہوااس کی اصل زبرالکتاب یزبرہ اذا کتبہ.سے ہے،یعنی کتاب کو لکھا اور زبور فعول کےوزن پر ہے بمعنی مفعول بھی آتا ہے، جیسے جلوب ورکوب بمعنی مجلوب ومرکوب اور کتب الکتاب بمعنی جمع حروفہ کے بھی آتی ہے یعنی کتاب کے حروف کو جمع کیا اس لئے زبور کا معنی احکامات کا مجموعہ ہوسکتا ہے جیسے کتب الخرز یعنی الکتاب:کاتب کے فعل کو کہاجاتاہے جیسے کتب کتابا یعنی اس نے کتاب لکھی، لکھنا، جیسے کہا جائے کہ:حجب حجابا، قام قیاما، اور صام صیاما، کبھی کسی چیز کو یہ نام دیاجاتاہے جیسے ہذا درھم ضرب الامیر. اسی سے مضروب ہے، ھؤلاءخلق اللہ یعنی یہ اللہ کی مخلوق ہے، مطلقا کتاب سے مراد تورات ہے اور آیت :[نَبَذَ فَرِيْـقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۝۰ۤۙ كِتٰبَ اللہِ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ] (البقرہ:۱۰۱) سے استاذ زجاج نے تورات مراد لیا ہے، کتاب اللہ سے مراد قرآن خواہ تورات دونوں ہوسکتا ہے،اور بمعنی جس میں لکھاجائے، صحیفہ، دوات وکپڑا کے بھی آتاہے، اسی طرح بمعنی فرض بھی مستعمل ہوتا ہے، جیسے:[كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ] (البقرہ:۱۸۳) [کتاب اللہ علیکم](النساء:) نیز حدیث میں بھی یہ معنی مذکور ہےکہ:لاقضین بینکم بکتاب اللہ.

یعنی میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب یعنی اس کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کروںگا، غلام سے مکاتبت کرنا(یعنی مالک وغلام کے درمیان ایک دستاویز کہ غلام جب آہستہ آہستہ اتنی رقم مالک کو ادا کردے گا تو وہ آزاد ہوگا)کو بھی کتاب کہاگیا ہے جیسے:[وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْہِمْ خَيْرًا](النور:۲۳)

اساطیرالاولین:یعنی پچھلے لوگوں کی خبریں، سطر بمعنی کتب اور ومایسطرون بمعنی یکتبون بمعنی یکتبون یعنی جو وہ لکھتے ہیں ،اس کی واحد سطر جمع اسطار اور جمع الجمع اساطیر ہے جیسے قول کی جمع اقوال ہوتی ہے، ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ اس کی واحد اسطورۃ اور اسطارۃ ہے، بمعنی جھوٹی اور من گھڑت باتیں جو نہ صحیح ہو اور نہ ہی ان کی کوئی صحیح ترتیب ہو، استاد مبرد کا بھی یہی کہنا ہے ،اس کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے ارجومۃ کی جمع اراجیح ،اثفیۃ کی جمع اثافی، احدوثۃ کی جمع احادیث۔

(المفردات ،ص:۲۳۱)

(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر

قسط نمبر 208 الملائکۃ: ملک کی جمع ہے کثرت استعمال کی وجہ سےہمزہ حذف کردیاگیا …

جواب دیجئے