اربعینِ نووی

حدیث نمبر : 29 ،قسط نمبر65

عن مُعَاذ بن جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ: قُلتُ يَا رَسُولَ الله أَخبِرنِي بِعَمَلٍ يُدخِلُني الجَنَّةَ وَيُبَاعدني منٍ النار قَالَ: (لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيْمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيْرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللهَ لاَتُشْرِكُ بِهِ شَيْئَا، وَتُقِيْمُ الصَّلاة، وَتُؤتِي الزَّكَاة، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ البَيْتَ. ثُمَّ قَالَ: أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الخَيْرِ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ المَاءُ النَّارَ، وَصَلاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ثُمَّ تَلا: (تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ) حَتَّى بَلَغَ: (يَعْلَمُونْ) (السجدة: 16-17) ثُمَّ قَالَ: أَلا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَارَسُولَ اللهِ، قَالَ: رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلامُ وَعَمُودُهُ الصَّلاةُ وَذروَةُ سَنَامِهِ الجِهَادُ ثُمَّ قَالَ: أَلا أُخبِرُكَ بِملاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ قُلْتُ: بَلَى يَارَسُولَ اللهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا. قُلْتُ يَانَبِيَّ اللهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَامُعَاذُ. وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَو قَالَ: عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلسِنَتِهِمْ) (رواه الترمذي )

ترجمہ:سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ!مجھے اس عمل کی خبر دیجئے جومجھے جنت میں داخل کردےاور جہنم سے دورکردے،فرمایا:تم نے بڑی عظیم الشان شیٔ کا سوال کیاہےاور بلاشبہ جسے اللہ تعالیٰ آسانی فراہم کردے اس کےلئے نہایت ہی آسان ہے،اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو،اور اس میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ،اورنماز قائم کرو،اور زکاۃ دو،اور رمضان کے روزے رکھو،اور بیت اللہ کاحج کرو۔

پھرآپﷺ نے فرمایا:میں تمہاری خیرکے دروازوں کی طرف راہنمائی نہ کروں؟روزہ ڈھال ہے،اورصدقہ گناہوں کوبجھادیتاہے، جیسا کہ پانی آگ کو بجھادیتاہے،اور آدمی کا رات کی تنہائی میں نماز پڑھنا (یعنی تہجد)پھرآپﷺ نے یہ آیاتِ کریمہ تلاوت فرمائیں: [تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا۝۰ۡوَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۝۱۶ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْيُنٍ۝۰ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۷]

(السجدۃ:۱۶،۱۷)

ترجمہ:ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں ،کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے ۔

پھرآپﷺ نے فرمایا:کیامیں تمہیںاس معاملے (یعنی دین) کے سر اوراس کے ستون اوراس کی سب سے اونچی چوٹی کی خبرنہ دوں؟

میں نے عرض کیا:کیوںنہیں،یارسول اللہ ﷺ! توآپﷺ نے فرمایا:اس دین کاسراسلام ہے،اور اس کا مرکزی ستون نماز ہے، اور اس کی سب سے اونچی چوٹی جہاد ہے۔

پھرآپﷺ نے فرمایا:میں تمہیں ان تمام چیزوں (جن کا اوپر ذکر ہوا)کے مالک کی خبرنہ دوں؟(جس کے پاس ہر چیز کا کنڑول ہے)میں نے عرض کیا:کیوں نہیں،یارسول اللہ ﷺ!توآپﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑا اور فرمایا:اسے بندرکھو،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ!ہم جو باتیں کرتے ہیںکیا ان پر ہماری پکڑ ہوسکتی ہے؟توآپﷺ نے فرمایا:تیری ماں تجھے گم پائے،لوگوں کو زیادہ جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز زبان ہی تو ہے۔

(اسے ترمذی نے روایت کیا ہےاور کہا ہے :یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)

یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم بہت ہی عالی ہمت افراد تھے،چنانچہ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں پوچھاکہ ایسے عمل کی نشاندہی کردیںجس سے دس بیس نیکیاں کمالوں،بلکہ براہ راست جنت کے داخلے اور جہنم سے بچاؤکا پروگرام معلوم کیا،محض علم میں اضافے کے لئے نہیں بلکہ اس پروگرام کو اپنی زندگی پر پوری طرح نافذ کرنے کے لئےاور اسے مکمل عملی جامہ پہنانے کے لئے،تاکہ جنت کاراستہ ہموار ہوجائے اور جہنم کےعذاب سے بچاؤحاصل ہوجائے،یہی حقیقی کامیابی ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۝۰ۭ وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝۱۸۵ ](آل عمران:۱۸۵)

ترجمہ: پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وه کامیاب ہوگیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے ۔

اس حدیث سے ثابت ہورہا ہے کہ جنت اور جہنم کا وجود برحق ہے، اور یہ بھی ثابت ہورہا ہےکہ جنت کے حصول اور جہنم سے سلامتی اختیار کرنے کی شدید خواہش ہونی چاہئےبلکہ عمل کی رغبت اسی لئے ہوکہ جنت حاصل ہوجائے اور جہنم سے پناہ مل جائے۔

اولیاءالرحمٰن اسی عظیم مقصد کے لئے عمل کیاکرتے تھے،لیکن بعض صوفیاء کی بڑی عجیب منطق ہے جوکہتےہیںکہ ہم جنت کے طمع اور جہنم کے خوف سے عبادت نہیں کرتے،بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے عبادت سرانجام دیتےہیں،یہ نظریہ بالکل باطل ہے۔

چنانچہ سیدنامعاذ  رضی اللہ عنہ نےرسول اللہ ﷺ سے عمل کی بابت،صرف اس لئے سوال کیا کہ مجھے جنت کاداخلہ مل جائےاور جہنم سے بچاؤحاصل ہوجائے۔

اگر جنت کا طمع بقول صوفیاءناپسندیدہ ہوتا توآپﷺ انہیں  ضرور ٹوکتے اور ان کی اصلاح کرتے،بلکہ اس کے برعکس آپﷺ نے ان کے سوال کا جواب عنایت فرمایا،جس سے صوفیاء کی اس نرالی منطق کی تردید ہوتی ہے۔

سیدناابراھیم خلیل اللہuکی دعاخودقرآن نے ذکر کی ہے، [وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِيْمِ۝۸۵ۙ ] (الشعراء:۸۵) اور مجھے جنت النعیم کے وارثوں میں سے بنادے۔

رسول کریم ﷺ کی تعلیم کردہ کتنی دعاؤں میں جنت کے حصول کی استدعاء مذکور ہے،نبیuکےایک فرمان کے مطابق اگرکوئی شخص تین دفعہ اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے تو جنت خود اللہ تعالیٰ سے استدعاءکرتی ہے کہ اس بندے کو جنت کاداخلہ عطافرمادے۔

لہذا صوفیاء کی یہ نرالی منطق چونکہ شریعت کے رموزومقاصد اور کتاب وسنت کے صریح فرامین کے خلاف ہے،لہذا اسے محض عبث اور خرافات ہی قراردیاجائےگا۔

اس حدیث کی ایک واضح دلالت یہ بھی ہے کہ اعمالِ صالحہ جنت کے داخلے کا ایک بہت بڑا سبب ہے،جیسا کہ بہت سی آیاتِ کریمہ میں صراحت موجود ہے،مثلاً:[وَتِلْكَ الْجَنَّۃُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۷۲ ](الزخرف:۷۲)یعنی:یہی وہ جنت ہےجس کی تمہیں وراثت سونپی گئی ہے، تمہارے اعمال کی وجہ سے۔

نیز فرمایا:[اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۱۳ۚاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝۰ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۱۴ ]

ترجمہ:بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے ،یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے ۔(الاحقاف:۱۳،۱۴)

واضح ہوکہ یہ آیاتِ کریمہ اور حدیثِ معاذ ،بظاہر درج ذیل حدیث کے متعارض معلوم ہوتی ہیں،وہ حدیث اس طرح ہے:

لیس یدخل أحدکم بعملہ الجنۃ،قالوا ولاأنت یارسول اللہ! قال :ولاأناإلاأن یتغمدنی اللہ برحمۃ منہ.

یعنی:تم میں سے کوئی شخص ہرگزاپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہ جاسکے گا،صحابہ نے عرض کی یارسول اللہﷺ!کیاآپ بھی نہیں جاسکیں گے؟فرمایا:میں بھی نہیں جاسکوںگا،الایہ کہ اللہ تعالیٰ مجھےاپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔(بخاری:6463 مسلم:2816)

لیکن درحقیقت ان نصوص میں کوئی تعارض نہیں،اس حدیث میں لفظ(بعملہ) کی باء برائے معاوضہ ہے،جس کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص کا بڑے سے بڑا عمل بھی جنت کا عوض نہیں ہوسکتا،جبکہ آیاتِ کریمہ میں (بما)کی باء سبب ہے،جس کامعنی یہ ہے کہ اعمال صالحہ ،بندے کے لئے حصول جنت کے اسباب میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں جانےکا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنی رحمت سے بندے کو اعمالِ صالحہ انجام دینے کی توفیق عطا فرماتاہے اور جب بندہ بتوفیقہ تعالیٰ وہ اعمال صالحہ انجام دے لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت ہی سے انہیں قبول فرماکر بندے کو جنت کاداخلہ عنایت فرمادیتاہے،باقی چونکہ جنت اللہ رب العزت کی عظیم الشان، لازوال اور بے مثل نعمت ہے تو بندے کے انجام دیے ہوئے عمل اس نعمت کا مول یاقیمت یاعوض نہیں بن سکتے،نبیuکا ارشاد گرامی ہے:لموضع سوط فی الجنۃ خیرمن الدنیا ومافیھا.

یعنی:جنت کی ایک بالشت جگہ پوری دنیا ومافیھا سے قیمتی ہے۔

ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

أعددت فیھا لعبادی ما لاعین رأت ولااذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر.

یعنی:اس جنت میں،میں نے اپنے بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کیا ہے،جسے نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نےسنا اور نہ ہی کسی بھی انسان کے دل میں ان کا تصور تک پیداہوا۔

تواتنی عظیم الشان نعمت کاعوض کوئی چیز نہیں ہوسکتی،اس کاحصول تو اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہی موقوف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کایہ سوال سن کر فرمایا:

لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيْمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيْرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ.

تم نے بڑی عظیم الشان شیٔ کا سوال کیاہےاور بلاشبہ جسے اللہ تعالیٰ آسانی فراہم کردے اس کےلئے نہایت ہی آسان ہے۔

اس فرمان میں رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سوال کو بڑااہم اور عظیم الشان قراردیا،جس سے سائل کی حوصلہ افزائی مقصود تھی، ساتھ ساتھ اس عظیم الشان سوال کے عظیم الشان جواب کواپنانے اور شدید ترین محنت کرنے کی تلقین بھی ظاہر ہوتی ہے۔

(تفیصلی جواب اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی

حدیث نمبر : 29، قسط نمبر : 67 دوسرا نفلی عمل وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الخَطِيْئَةَ كَمَا …

جواب دیجئے