Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ دسمبر » قحطِ وسائل کا حل کیا قحطِ افراد ہے؟

قحطِ وسائل کا حل کیا قحطِ افراد ہے؟

ان دنوں میڈیا پر خاصا زور و شور ہے گو کہ یہ بات ملک پاکستان میں کوئی نئی نہیں لیکن اسے ایک تحریک یا مشن کے طور پر لے کر چلنے کا اعلان یقیناً نیا کام ہے ، بڑی شد و مد کے ساتھ آبادی کنٹرول تحریک کا اعلان اور اس پر کمربستگی کا اعلان مذہبی طبقوں سمیت ان تمام افراد کے لیے اک پریشان کن فیصلہ ہے ، جو یورپ سے اٹھی ہر لہر کے تاریخی نتائج سے واقف ہیں ، جی ہاں ، اس حوالے سے اوریا مقبول جان کی ایک تحقیقی ویڈیو بھی گردش کررہی ہے ، جس میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ مدعا بیان کیا گیا ہے کہ یورپ نے بھی وسائل کا رونا رو کر آبادی کنٹرول کا نعرۂ مستانہ لگایا اور لگے نسلِ نو کا گلہ گھونٹنے ، اس کے منفی اثرات جب انھیں سمجھ آنے لگے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی اور چڑیا کھیت چگ چکی تھی ، خاندانی نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا تھااور نئی نئی عجیب و غریب قسم کے امراض و وبائیں پھیل چکی تھیں اب وسائل تو بہت تھے لیکن انہیں کھانے اور استعمال کرنے والوں کا قحط آچکا تھا ، اور وہ بھی جن وباؤں میں گھرے ہوئے تھے اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہاتھا، ایسے میں یورپ کو ہوش آیا اور اپنی ماضی کی غلطی کو سدھارنے کے لیے اپنی پلاننگ کو بدلنا شروع کیا اور ان کے لگایا گیا ماضی کے نعرہ مستانہ اب مسلم ممالک میں بھی لگایا جانے لگا ، کاش کے اس کے منتج اثرات بھی ہم نے دیکھے ہوتے اور وہ جس طرح اپنا قبلہ درست کرچکے ہیں ، ہمیں بھی نسلِ نو کے وسائل کی فکر کے نام پر انہی کا گلہ گھونٹنے کے ارادۂ بد سے توبہ تائب ہوجانا چاہیے تھا ، اور اسے نظر سے بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ اس کے نقصانات دیکھ کر اب اسی کو وہ پراکسی وار کے طور پر مسلم ممالک میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ، کاش کہ یہ چال ہماری سمجھ میں آجائے ۔ خیر یہ تو انتہائی محتاط انداز اور اختصارکے ساتھ اس نعرۂ مستانہ کی تاریخی اور اس کے اسرار و خدو خال پر طائرانہ نظر ڈالی ہے۔ یہاں ایک اور نکتہ بھی زیر بحث ہے ، جسے حل کیا جانا چاہیے۔

وہ یہ ہے کہ کیا سائل کی کمی کا حل یہ ہے کہ افراد کا گلہ گھونٹ دیا جائے ، سینکڑوں ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ غربت سے تنگ شخص نے خود کشی کرلی یا اپنے افراد ِ خانہ کی جان لے کر خود کشی کرلی۔

ایک عاجز و لاچار شخص یا عورت جب کچھ نہ کرسکے تو دنیا چھوڑنے کو ہی آخری حل سمجھے اور جدید علوم و فنون سے وابستہ ، ترقی یافتہ ، ایٹمی قوت سے مالا مال ریاست بھی اس عاجز و لاچار کی طرح بے موت مرنے کوہی آخری حل سمجھے اور اس میں قوم کی زندگی جانے تو یہ کام تو لوگ خودکشیوں کی صورت میں ویسے ہی کررہے ہیں ، اس کے لیے زحمت کی کیا ضرورت ؟؟

اور اک زندہ قوم،ریاست والا کام کرنا اورپوری سنجیدگی کے ساتھ قحطِ وسائل کا حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی ایسا حل ڈھونڈنا چاہیے جو لوگوں میں زندگی اور زندگی کےو سائل بانٹے ، نہ کہ وسائل دینے کے لیے زندگیاں چھینے ، ذرا سوچئے کہ آج یہ تحریک کامیابی کی راہ اختیار کرے اور کامیابی کا مطلب یہ ہوکہ آبادی کنٹرول کرلی جائے اور وسائل کی فراوانی آجائے ، ہم ان وسائل کا کیا کریں گے جسے کھانے اور استعمال کرنے والے ہمیں یورپ کی طرح دوسرے ملکوں سے امپورٹ کرنا پڑیں۔

آئیے اب میں قرآنی واقعے کی روشنی میں اس کا حل تجویز کرنے لگا ہوں ۔یہ واقعہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا ہے ، سیدنا یوسف علیہ السلام قید میں ہیں اور وقت کے بادشاہ نے خواب دیکھا ، جسے قرآن کریم نے یوں بیان کیا: [وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّىْٓ اَرٰي سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ  ۭ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ  43]

یعنی :  (ایک دن) بادشاہ نے (اپنے درباریوں سے) کہا: میں نے خواب دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور اناج کی سات  بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی ہیں (اے اہل دربار)! اگر تم خواب کی تعبیر بتلاسکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ۔

[قَالُوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ  ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْنَ  44

یعنی : وہ کہنے لگے: یہ تو پریشان سے خیالات ہیں اور ہم ایسی خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔

[وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِيْـلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ  45

یعنی : ان دونوں قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد (یوسف اور ان کا پیغام) یاد آیا اور کہنے لگا: میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتلاؤں گا مجھے (ذرا قید خانہ میں یوسف کے پاس) بھیجو۔

[يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ اَفْتِنَا فِيْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّسَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّيْٓ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ   46

یعنی : (پھر وہاں جاکر اس نے یوسف سے کہا) یوسف اے راست باز ساتھی! ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کہ ’’سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھائے جارہی ہیں اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات سوکھی ہیں‘‘ تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور انھیں بھی علم ہوجائے۔

[ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا  ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ  47

(اب یوسف علیہ السلام نے اس مشکل کا حل اور مستقبل کا پلان دیتے ہوئے کہا) تم سات سال لگا تار کھیتی باڑی کرو گے۔ جو کھیتی تم کاٹو اس میں سے کھانے کے لئے تھوڑا بہت اناج چھوڑ کر باقی کو بالیوں میں ہی رہنے دینا۔

[ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ   48

یعنی :  پھر اس کے بعد سات سال بہت سخت آئیں گے۔ اور جو اناج تم نے ان سالوں کے لئے پہلے سے جمع کیا ہوگا وہ سب کھا لیا جائے گا بجز تھوڑے سے اناج کے جو تم (بیج کے لئے) بچالو گے۔

[ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ   49

یعنی :  پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور اس سال وہ رس نچوڑیں گے۔(یعنی جانور خوب دودھ دیں گے ، انگوروں ودیگر رس آور پھلوں کی بہتات ہوگی۔ )

قرآن کریم میں موجود سیدنا یوسف علیہ السلام مشکل دنوں کے لیے ایک پلاننگ دینے کے لیے کافی ہے ، یہاں یہ جملہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے انہیں جو پالیسی دی وہ افراد کم کرنے کی پالیسی نہیں تھی ، ہجرت کرجانے کی پالیسی نہیں تھی، بلکہ ایک عمدہ اور دور رس اقتصادی پلاننگ تھی ، جوکہ یہ ہے :

ژ پیداوار کو جمع کیا جائے۔

ژ انہیں ضائع ہونے سے بچایا جائے ۔

 ژکفایت شعاری کو اختیار کیا جائے ۔

ژ اپنی ضروریات اور استعمال میں کمی لائی جائے ۔

آج بھی اصل کرنے کا کام یہی ہے کہ افراد میں جہالت ہے اور علم کی کمی ہے ، بجائے اس کے کہ اسے عذر بناکر افراد میں کمی کی جائےجہالت کو ختم کرنے کے لیے پلان کیا جائے ۔

غربت ، مالی وسائل کی کمی کو عذر بناکر افراد کو کم کرنے کی بجائے غربت کو ختم کرنے کے لیے اقتصادی پلان بنایا جائے۔

آج ملک کی حالت یہ ہے کہ

ژ اس کے الیکشن پر اکیس (21) ارب روپے سے زائد خرچ ہوجاتے ہیں، خبروں کے مطابق ایک ایک امید وار اٹھانوے لاکھ  بلکہ کروڑ سے بھی متجاوز رقوم پانی کی طرح بہا تے ہوں،

 شرح خواندگی کی بات کی جائے تو 42 فیصد لوگ علم سے بالکل دور ہیں۔

 اسٹیٹ بینک شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کر چکا ہے۔

 گذشتہ سال وزیراعظم ہاؤس کے لیے 25 لاکھ یومیہ اورایوان صدر کے لیے 5.12 لاکھ یومیہ مختص کیے گئے۔

 گلوبل نیوٹریشن رپورٹ 2017 کے مطابق 6 فیصد پاکستانی بچے جن میں سے اکثریت شہری علاقوں کی ہے،وہ جنک فوڈ کے استعمال کے باعث موٹاپے اور دیگر بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب پاکستانی آبادی کے 70 فیصد افراد ایک متوازن غذا استعمال کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔پنجاب کے 60 فیصد اور بلوچستان کے 88 فیصد افراد متوازن غذا استعمال کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔دوسری جانب جو افراد استطاعت رکھتے ہیںوہ جنک فوڈ کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ہم غذائیت پر ایک ڈالر خرچ کریں گے تو ہمیں 16 ڈالر کا فائدہ ہوگا کیونکہ پاکستان کو صحت کے اضافی اخراجات میں سالانہ 7 ارب 6 کروڑ ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔

پاکستان میں 40 فیصد غذا کو ضائع کیا جاتا ہے لیکن کسی نے بھی اس سے متعلق آگاہی دینے اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ (دیکھئے : ڈان اخبار 30 اگست 2018ء )

وزیر اعظم کی تنخواہ ایک لاکھ چالیس ہزار ، سینیٹرز 4 لاکھ ، ایم این اے کی 3 لاکھ 50 ہزار ، وفاقی وزیر کی 2 لاکھ 35 ہزار ، وزیر مملکت کی 2 لاکھ 15 ہزار ، ججز کا ماہانہ پیکیج 9 لاکھ ہے

سب سے پہلے ہمیں اس قسم کی شاہ خرچیوں پر کنٹرول کرنا ہوگا ، ضروری اور غیر ضروری کا تعین کرنا ہوگا، فوڈ اسٹریٹز کا اس تیزی سے قیام اور اور قوم کے اربوں روپے اس پر خرچ ہورہے ہیں ، اور کروڑوں کا یومیہ کھانا ضائع ہورہا ہے اور دوسری طرف نصف سے زائد آبادی وہی بھوک و پیاس میں گھری ہوئی ، ایسے میں افراد کو کم کرنا کوئی حل نہیں بلکہ ان تمام خرابیوں اور مسائل کے ساتھ ایک اور بڑے مسئلے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔

سب سے پہلے ہم نے اس کے معاشرتی اثرات کو بیان کیا تاکہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مولویوں کی معاشیات  و اقتصادیات پر گہری نظر نہ ہونے کی وجہ سے مولوی اس کی مخالفت کرتے ہیں ، اس لیے ہم نے اپنی گفتگو میںپہلے اس کا معاشرتی و اقتصادی جائزہ پیش کیا ہے ، اب ہمیں اس نظر سے بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ نعرہ مستانہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے ، اسلامی تعلیمات کی رو سے ہمارا عقیدہ اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اور کیوں نہیں دیتا اس حوالے سے ہماری گزارشات خدمتِ قارئین میں پیش ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے :

اللہ تعالیٰ ، رزاق ہے ، وھاب ہے ، جس کا وسعت مفہوم جہاں مادی وسائل کا اعطاء شامل ہے وہیں اولاد بھی شامل ہے اور یہ بھی اک رزق ہے ، جب مال و دولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اولاد بھی اللہ کی طرف سے ہے ، شومیٔ قسمت کہیے کہ کچھ عرصہ قبل یورپ سے لگے نعرہ کو سینے سے لگانے والے بھول گئے کہ وہ تو کسی خالق و مالک کے وجود کے منکر ٹھہرے اور ظاہری اسباب و مادی وسائل ہی ان کے خدا ٹھہرے ان سے تو یہ کچھ بعید نہیں تھا لیکن اے کلمہ گو مسلمان! تیرا تو خالق و مالک ہے اور الہ وجود رکھتا ہے ، تو دن رات اس کی عبادت سے اپنے قلب و روح کو تسکین پہنچاتا ہے اور ابدی جنت کی امید لگاتا ہے ، آخرت میں انجامِ بد سے بچنے کی التجائیں کرتا ہے، تجھے قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ تو آنکھیں بند کرکے قحطِ وسائل کا رونا روکر قحطِ افراد جیسے فعل بد کا مرتکب ہوجائے ۔ کیونکہ مسلمان کا عقیدہ ہےاسے یہ اسبابِ زندگی اور اولادیں اللہ تعالیٰ ہی نوازتا ہے۔ آئیے چند ایک قرآنی آیات ملاحظہ فرمائیں ، جو کھول کھول کر اس مدعا کوبیان کررہی ہیں کہ یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی ہے ، اس میں کسی غیر کا کوئی دخل نہیں۔

[وَلَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِي الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ ۭقَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ   10۝ۧ] (الاعراف:10)

یعنی : ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیا  اور تمہارے لیے سامان زیست بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

[وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَمَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِيْنَ     20[(الحجر: 20۔21)

یعنی : اور اسی زمین میں ہم نے تمہارے لئے بھی سامان معیشت بنا دیا اور ان کے لئے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو

[اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً  ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ  حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ  ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا   ۭ ءَاِلٰهٌ  مَّعَ اللّٰهِ   ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ 60 (النمل : 10)

یعنی :  بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے ہم نے پربہار باغات اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی ہے؟ (جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو؟) بلکہ یہ لوگ ہیں ہی ناانصافی کرنے والے۔

[خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۭ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ   10  (لقمان 10)

یعنی : اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا (جیسا کہ) تم انھیں دیکھتے ہو اور زمین میں سلسلہ ہائے کوہ رکھ دیئے تاکہ وہ تمہیں لے کر ہچکولے نہ کھائے اور اس میں ہر طرح کے جاندار پھیلا دیئے ۔ نیز ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ہم نے زمین میں ہر قسم کی عمدہ اجناس اگا دیں ۔

[ وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا  ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ       (ھود : 6)

یعنی : زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو ۔ وہ اس کی قرار گاہ کو بھی جانتا ہے اور دفن ہونے کی جگہ کو بھی۔ یہ سب کچھ واضح کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا موجود ہے۔

[وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَاۗبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا     اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ ڮ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ   (العنکبوت:60)

یعنی : اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

صرف اللہ تعالیٰ ہی نوازنے والا ہے :

[اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا  ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْهُ وَاشْكُرُوْا لَهٗ  ۭ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ      (العنکبوت : 17)

یعنی : اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو وہ تو محض  بتوں کے تھان ہیں اور تم جھوٹ گھڑتے ہو اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہذا اللہ سے رزق مانگو، اس کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو تم اسی کی طرف ہی لوٹائے جاؤ گے۔

[وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ  ]’اللہ کے سوا وہ جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ آسمانوں اور زمین سے انھیں رزق مہیاکرنے کا کچھ اختیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی وہ یہ کام کرسکتی ہیں‘(النحل:73)

[يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۭ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ڮ فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَ  (فاطر:۳)

’’لوگو! اپنے آپ پر اللہ کے احسان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے (یاد رکھو) اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر تم کہاں  سے دھوکہ کھا جاتے ہو‘‘

[اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ   ]

کیا تیرے رب کے خزانے ان کے پاس ہیں؟ یا اُن پر ان کا کنٹرول ہے؟(الطور:37)

معلوم ہوا کہ جس طرح اولاد دینے والا اللہ تعالیٰ ہے تو ان کے رزق کا بند و بست بھی اللہ تعالیٰ کر رکھا ہے ، یہ الگ بات ہے کسی کا کم کسی کا زیادہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : [اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ لَهٗ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ] (العنکبوت:62)

قرآن کریم میں بیش بہا واقعات اصحاب کہف کے لیے غار میں اپنے رزق کا انتظام کردینا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر کہہ کر اللہ تعالیٰ سے رزق مانگنا اور اللہ تعالیٰ کا رزق عطا فرمانا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانیاں ہیں ، جسے کوئی انسان چیلنج نہیں کرسکتا۔

اولاد بھی رزق ہے :

نیک اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، یہ بھی رزق ہے،  سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی:[رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ] (الصٰفٰت : 100)

یعنی : اے میرے رب ! مجھے نیک اولادعطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [ فَبَشَّرْنٰہُ بِغُلَامٍ حَلِیْم ](سورہ والصّفٰت آیت نمبر 101)

یعنی : تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی۔

سیدنا زکریا علیہ السلام کابھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں التجائیں کرنا قرآن کریم میں موجود ہے ، اور اللہ رب العالمین کا انکی دعاؤں کو شرف قبولیت فرمانابھی قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : [ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا   اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَاۗءً خَفِيًّا ۝قَالَ رَبِّ اِنِّىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا وَّلَمْ اَكُنْۢ بِدُعَاۗىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا  Ć۝وَاِنِّىْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَاۗءِيْ وَكَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا Ĉ۝ۙيَّرِثُنِيْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ڰ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا Č۝] (سورہ مریم : آیت نمبر 2 تا 6)

’’ جب زکریا نے اپنے پروردگار کو چپکے  چپکے پکارا اور کہا: ’’میرے پروردگار! میری ہڈیاں بوسیدہ ہوچکیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر کے بال  سفید ہوگئے، تاہم اے میرے پروردگار! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا۔میں اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں (کی برائیوں سے) ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی جناب سے مجھے ایک وارث عطا فرما جو میرے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے پروردگار! اسے پسندیدہ  انسان بنانا ۔ ‘‘

سورہ آل عمران میں ہے : [ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ  ۚ قَالَ رَبِّ ھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً  ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ  ]

’’ جب زکریا نے مریم کا یہ جواب سنا تو اپنے پروردگار سے دعا کی: میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے نیک اور پاکیزہ سیرت اولاد عطا فرما تو ہی دعا سننے والا ہے ‘‘(آل عمران : 38)

عمران کی بیوی کا اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لیے اللہ تعالیٰ سے نذر مانی لیکن اللہ کی مشیئت بیٹی تھی ، اللہ تعالیٰ نے بیٹی عطا کی جس کانام مریم تھا اور پھر ان کے بطن سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

تو یہ اولاد بھی اللہ تعالیٰ کی عطاہے اللہ تعالیٰ جسے چاہے جو چاہے عطا فرمادے، ارشاد رب العالمین ہے : [لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ 49 ا اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاۗءُ عَــقِـيْمًا ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ  50؀] (الشوری: 49، 50)

یعنی: آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جسے چاہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے لڑکے،یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ بنا دیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا قدرت والا ہے۔

اس آیت کی عملی مثالیں ذرا امام بغوی رحمہ اللہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

{يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا} يَعْنِي: لُوطًا لَمْ يُولَدْ لَهُ ذَكَرٌ إِنَّمَا وُلِدَ لَهُ ابْنَتَانِ، {وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ} يَعْنِي: إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يُولَدْ لَهُ أُنْثَى، {أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا} يَعْنِي: مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ، {وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا} يَحْيَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ لَمْ يُولَدْ لَهُمَا، وَهَذَا عَلَى وَجْهِ التَّمْثِيلِ، وَالْآيَةُ عَامَّةٌ فِي حَقِّ كَافَّةِ النَّاسِ. {إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ} .

یعنی : {اللہ تعالیٰ جسے  چاہے بیٹیاں دے}جیسے: لوط علیہ السلام کے بیٹے نہیں تھے ، دو بیٹیاں تھیں، {اور جسے  چاہے بیٹے دے}جیسے:  ابراہیم  علیہ السلام  کی بیٹیاں نہیں تھیں ، صرف بیٹے تھے۔ {اور جسے  چاہے بیٹے  اور بیٹیاں دونوں عطا فرمادے}جیسے: محمد ﷺ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا فرمائیں (اگرچہ بیٹوں والی امانت بچپن ہی میں واپس لے لی)۔ {اور جسے  چاہے بانچھ بنادیتا ہے}جیسے:  یحی اور عیسی علیھما السلام ان کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ یہ (انبیاء کی مثالیں ) بطور تمثیل کے ہیں ، ورنہ آیت  کا مفہوم تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ من حیث القوم جوہمارا کام ہے ، ہمیں وہ کرنا چاہیے ، بندے ہونے کی حیثیت سے بندگی ہی کرنی چاہیے اور جو رب العالمین کا کام ہے ، اسے اسی کے سپرد کرنا چاہیے اور اس سے رحمت ، عفو ، رزق اور نعمتوں کا ہمہ وقت طالب رہنا چاہیے۔

About شیخ یونس اثری

Check Also

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

تخلیق انسانی کئی مراحل طے کرکے منظر عام پر آتی ہےاور پھر تخلیق (پیدائش)کے بعد …

جواب دیجئے