Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ دسمبر » موسم سرما فضیلت ، احکام ومسائل

موسم سرما فضیلت ، احکام ومسائل

موسموں کا تغیر و تبدل بھی اللہ کی قدرت وعظمت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنی اس نعمت و احسان  کا باقاعدہ ذکر فرمایا ہے :

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ(1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ(2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ(3) الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ (4)(قريش)

قریش کے مانوس کرنے کے لئے . ( یعنی )  انہیں سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے  ۔ (تو اس کے شکریہ میں ) انہیں چاہیے کہ اس گھر (کعبہ) کے مالک کی (ہی) عبادت کریں. جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا  اور ڈر (اور خوف) میں امن و امان دیا.

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ (الحج)

یہ اس لئے کہ اللہ (موسموں کو بدل کر کبھی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور(کبھی) دن کو رات میں داخل کردیتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

⭐ موسموں کے بعض ظاہری اسباب ہوتے ہیں جنہیں ہر ذی شعور بندہ جان سکتا ہے لیکن شریعت نے سخت گرمی اور سردی کا ایک سبب اور بھی ذکر فرمایا ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

جہنم نے اپنے رب سے یہ شکایت کرتے ہوئے کہا : اے میرے رب ؛ میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا لیتا ہے ،لہذا اللہ تعالی نے اسے دوسانس لینے کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسرا سانس گرمی کے موسم میں ، تو تمہیں جو سخت گرمی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے اور جو سخت سردی محسوس ہوتی ہے وہ بھی جہنم کے (سخت سرد حصے) زمہریر (کے سانس لینے) کی وجہ سے ہے۔ (صحیح بخاری : 3260)

اہل جنت کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا. [سورة اﻹنسان 13]

وہ جنت میں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں سورج کی گرمی دیکھیں گے نہ سردی کی سختی۔

معلوم ہوا کہ دن رات گرمی سردی تند وتیز طوفان بارشیں اور ہوائیں وغیرہ محض کرشمہ قدرت ہی ہیں جن پر اللہ کے علاوہ کسی کو کوئی طاقت و اختیار نہیں ہے تو پھر ان چیزوں کو مورد الزام ٹھراکر برا بھلا کہنا  گالیاں دینا شرعی اصولوں سے انحراف ہے ۔ حدیث قدسی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے :

انسان مجھے دکھ دیتا ہے ، وہ اسطرح کہ زمانے کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ میں خود(صاحب) زمانہ ہوں ، سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے رات ودن کو میں ہی پھیرتا اور تبدیل کرتا ہوں ۔(صحیح بخاری : 4826)

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ہوا پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ (تو اللہ کے حکم کی )تابعدار ہے، اور جو آدمی کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جس کی وہ حقدار نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔ (ابوداؤد : 4908)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہَوا اللہ کی رحمت میں سے ہے تو کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو بلکہ اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ (ابوداؤد : 5097)

بلکہ مومن کے لیئے تو موسموں کی حدتوں وشدتوں بلکہ تمام امور میں خیر ہی خیر ہے :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے کہ اس کا تو ہر معاملہ ہی اس کے لیے بھلائی اور خیر کا ہے ۔ اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ۔ اسے اگر مسرت اور خوشحالی ملے تو وہ شکر کرتا ہے ۔ اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان (تکلیف اور دکھ) پہنچے تو (وہ اللہ کی رضا کے لیے اس پر ) صبر کرتا ہے ، تو یہ ( بھی) اس کے لیئے بھلائی ہوتی ہے ۔(صحیح مسلم : 2999)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بخار کو برا نہ کہو ، کیونکہ یہ آدمی کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو صاف کردیتی ہے ۔ (صحیح مسلم : 2575)

سردی کے موسم میں عموما  نزلہ،بخار، زکام، سر درد عام ہوتا ھے اس لئے یہ حدیث ذہن نشین رہے ۔

⭐ *موسم سرما کی فضیلت*

عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ .

قال الترمذي هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ ؛ عَامِرُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یعنی سردی کے موسم میں روزے رکھنا ٹھنڈی (بہت آسان) غنیمت ہے ۔ (ترمذي : 797)

نوٹ : اکثر علماء فرماتے ہیں یہ مرفوع روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس میں قتادہ کا عنعنہ بھی ہے . جبکہ امام البانی رحمہ اللہ نے شواہد کی بنا پر حسن قراد دیا ہے :(السلسلة الصحيحة : 1922)

⭐ لیکن یہی الفاظ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفا صحیح سند سے ثابت ہیں:

كان أبو هريرة رضي الله عنه يقول : ألا أدلكم على الغنيمة الباردة ، قالوا : بلى، فيقول : الصيام في الشتاء. (السنن الکبری للبیھقی: ج 5 ص 845 )

⭐ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : الشتاء غنيمة العابدين. (حلية الاولياء:ج 1 ص: 51 .ج :9 ص: 20.الزهد للامام احمد رحمه الله : 615.)

یعنی سردی کا موسم عبادت گزاروں کیلئے موقعہ غنیمت ہے۔

عن عبيد بن عمير – رحمه الله – أنه كان إذا جاء الشتاء، قال: يا أهل القرآن، طال ليلكم لقراءتكم فاقرؤوا، وقصر النهار لصيامكم فصوموا. (لطائف المعارف ص 558 بلا سند)

مشہور تابعی عبید بن عمیر رحمہ اللہ جب سردی کا موسم آتا تو فرماتے : اے اہل قرآن! تمہاری نمازوں کے لیئے راتیں لمبی ہوگئی ہیں اور تمہارے روزے رکھنے کیلئے دن چھوٹے ہوگئے ہیں تو تم اسے غنیمت جانو ۔

⭐ اسی طرح کے بعض اقوال سیدنا عبداللہ بن مسعود سیدنا معاذ رضی اللہ عنھما اور حسن بصری اور بعض دیگر تابعین وغیرہ سے نقل کیئے گئے ہیں جن کی اسناد میں کلام ہے یا پھر بلاسند ہی مل سکے ہیں۔ ذیل میں انہیں درج کرنے کا مقصد صرف علماء کیلئے استفادہ اور تحقیق مزید ہے :

ذكر ابن رجب في «لطائف المعارف» (ص:330) قال: وروى ابن المبارك، عن صفوان بن عمرو، عن سُليم بن عامر، قال: «كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه إذا حضر الشتاء تعاهدهم، وكتب لهم بالوصية: إن الشتاء قد حضر، وهو عدو فتأهبوا له أهبته من الصوف والخفاف والجوارب، واتخذوا الصوف شعاراً ودثاراً، فإن البرد عدو سريع دخوله بعيد خروجه

يروى عن ابن مسعود – رضي الله عنه – قال: مرحبًا بالشتاء؛ تنزل فيه البركة، ويطول فيه الليل للقيام، ويقصر فيه النهار للصيام.

(الأثر ضعيف وإن كان معناه صحيحاً، فيه السري ابن إسماعيل ضعفه ابن عدي في الكامل وقال: إنه لا يتابع، وأحاديثه التي يرويها لا يتابعه أحد عليها وخاصة عن الشعبي فإن أحاديثه عنه منكرات لا يرويها عن الشعبي غيره وهو إلى الضعف أقرب (الكامل في صعفاء الرجال” (7/15)، تهذيب الكمال (10/230).

وعن الحسن البصري – رحمه الله – قال: نعم زمان المؤمن الشتاء؛ ليله طويل يقومه، ونهاره قصير يصومه.

وعن عبيد بن عمير – رحمه الله – أنه كان إذا جاء الشتاء، قال: يا أهل القرآن، طال ليلكم لقراءتكم فاقرؤوا، وقصر النهار لصيامكم فصوموا، قيام ليل الشتاء يعدل صيام نهار الصيف.

 ولهذا بكى معاذ – رضي الله عنه – عند موته وقال: إنما أبكي على ظمأ الهواجر، وقيام ليل الشتاء، ومزاحمة العلماء بالركب عند حِلَق الذكر.

حضرت الوفاة عامر بن عبد الله وهو من العباد الزهاد ومن خيرة التابعين بكى فقيل : ما يبكيك؟

قال: ما أبكي جزعاً من الموت، ولا حرصاً على الدنيا، ولكن أبكي على ظمأ الهواجر وقيام ليل الشتاء.  رواه ابن أبي شيبة والبيهقي وغيرهم

 روى ابن المبارك في الزهد عن معضد أنه قال: لولا ظمأ الهواجر وطول ليل الشتاء ولذاذة التهجد بكتاب الله عز و جل ما باليت أن أكون يعسوبا .

لما حضرت عامر بن قيس الوفاة جعل يبكي ، فقيل له ما يبكيك؟ قال :ما أبكي جزعا من الموت ، ولا حرصا على الدنيا ، ولكن أبكي على ظمأ الهواجر ، وعلى قيام الليل

(ظمأ الهواجر : الصيام في الأيام الطويلة الشديدة الحرارة في الصيف) (.تاريخ دمشق ج 26 )

وكان أمير المؤمنين عمر بن الخطاب يوصي ابنه عبد الله عند الموت فقال: :يا بني عليك بخصال الإيمان قال وما هن يا أبت قال الصوم في شدة الصيف وقتل الأعداء بالسيف والصبر على المصيبة وإسباغ الوضوء في اليوم الشاتي وتعجيل الصلاة في يوم الغيم وترك ردغة الخبال قال فقال وما ردغة الخبال قال شرب الخمر .

موسم سرما کی بعض برکات و  احکام

تہجد اور ذکر اللہ

مندرجہ بالہ اقوال سے بھی یہ بات معلوم ہوئی کہ سردیوں کی راتیں بڑی طویل ہوتی ہیں اس لیئے بندہ بآسانی قیام اللیل بھی کرسکتا ہے اور پھرپور نیند بھی ۔

⭐ تہجد نیکو کاروں متقی اور پرہیز لوگوں کا شعار ھے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (15) آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ (16) كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ

بلاشبہ پرہیز گار لوگ (اس دن) باغوں اور چشموں میں ہوں گے[15] جو کچھ ان کا پروردگار انہیں دے گا وہ لے رہے ہوں گے۔ وہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی نیکو کار تھے[16] رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔ [الذاريات: 15- 17]

⭐ اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو تہجد کا حکم دیا تا کہ آپ بلند مقام ومرتبہ پاسکیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا.

اور رات کو آپ تہجد (کی نماز ضرور) ادا کیجئے یہ آپ کےلئے زائد (نماز) ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود پر فائز کردے۔ [الإسراء: 79]

وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا.(سورة اﻹنسان 26)

اور رات کو بھی اس کے لیئے سجدہ کیجئے اور رات کے طویل اوقات میں بھی اسی کی تسبیح بیان کیجئے ۔

یہ بات معلوم ہے کہ رات کے زیادہ طویل اوقات سردیوں میں ہوتے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ رات کو اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں اور پنڈلیوں پر ورم آجاتا ۔ آپ فرماتے کہ : أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا. (صحیح بخاری : 1130)

⭐ اہل ایمان کی صفات ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا۔

(سورة الفرقان 64)

اور وہ جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فرض نماز کے بعد سب سے افضل ترین نماز "قیام اللیل”رات کی نماز (تہجد) ہے۔ (صحیح مسلم: 1163)

یعنی اللہ تعالی کو یہ نماز انتہائی محبوب ہے.

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ  نے فرمایا تھا : ”کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے  ( راستے )  نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات کے وقت  آدمی کا نماز  ( تہجد )  پڑھنا“ ( بھی بھلائی کا دروازہ ہے)، پھر آپ نے آیت:

تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)[سورة السجدة 17] تلاوت فرمائی۔(جامع ترمذی : 2616)

ترجمہ : رات میں ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ( یعنی راتوں کو اُٹھ کر وہ نوافل پڑھتے ہیں  )  ،  وہ اپنے رب کو خوف اور امیدسے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں. پس کوئی نہیں جانتا کہ ان کے نیک اعمال کے بدلے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کون کون سی نعمتیں چھپاکر رکھی گئی ہیں. (یعنی نیک بندوں تہجد گزاروں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں  کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے ،  اور نہ ہی کسی کان نے سنا ہے ،  اور نہ ہی کسی انسان کے دل نے اس کاتصور کیا ہے۔ ( صحیح بخاری : 3244)

⭐ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ قیام اللیل یعنی تہجد کا اہتمام کرو اسلئے کہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے اور یہ تمھارے رب کی قربت کے حصول کا ذریعہ ہے ، قیام اللیل گناہوں کی معافی اور گناہوں سے بچنے کا سبب ہے(ترمذي : 3549 حديث ابي امامه رضي الله عنه)

⭐ آدمی اپنے رب کے زیادہ  قریب رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے تو تم اگر طاقت رکھو کہ اس وقت اللہ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہوسکو تو ضرور ایسا کرو ۔ اور اس وقت دعا بھی زیادہ مقبول ہوتی ہے ۔

(ترمذی : 3499. 3579)

⭐ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۔

  اور پھر یہ پڑھے :  اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي یعنی اے اللہ! میری مغفرت فرما“۔ یا کوئی بھی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔

(صحیح بخاری : 1154)

⭐ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا عبداللہ بہت اچھا آدمی ہے اگر وہ رات کو نماز تہجد پڑھے تو ۔ یہ حدیث سننے کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر (رات کو نماز ہی پڑھتے رہتے)  اور بہت کم ہی سوتے تھے ۔ (صحیح بخاری : 1122)

⭐ رسول اللہ ﷺ  رات کے وقت سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم رات کی نماز تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟

(صحیح بخاری :1127)

نیزفرمایا جو مسلمان شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس کیلیئے  جنت واجب ہوگئی ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے…

(صحیح مسلم : 234 ابوداؤد : 169)

قارئین کرام تو سردیوں کے موسم کو غنیمت جانتے ہوئے ہمیں اپنے اندر یہ خصلت مستقلا پیدا کرنی چاہیے تاکہ ہم مندرجہ ذیل حدیث کا مصداق بن جائیں :

آپ ﷺ نے فرمایا : لوگو! سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب سب لوگ سو رہے ہوں اس وقت نماز پڑھو، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤگے.(ترمذی : 2485)

روزے

سردی کے موسم میں روزے رکھنا بہت آسان ہے کیونکہ دن کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے بندہ بغیر کسی تکلیف کے کثرت سے نفلی روزے رکھ سکتا ہے۔ ہفتہ وار دو روزے پیر وجمعرات اور ماہانہ ایام بیض یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے جن کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے بڑی آسانی سے رکھے جاسکتے ہیں ۔

⭐ پیر اور جمعرات کے روزے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان دنوں میں بندے کے اعمال اللہ تعالی کے پاس پیش کیے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل اللہ تعالی کے سامنے پیش ہو تو میں روزے سے ہوں ۔(ابوداؤد : 2436)

⭐ ایام بیض(ہر اسلامی مہینے کی 13. 14 . 15 تاریخ) کے روزے پوری زندگی کے روزوں کے برابر ہیں. (صحيح بخاري : 1979)

⭐ صوم داؤدی یعنی سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرح ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن روزے رکھنا اللہ تعالی کو بہت زیادہ پسند ہیں ۔(صحیح بخاری : 3420)

⭐ اللہ کی راہ میں ایک روزہ بندے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دور کردیتا ہے .(صحیح بخاری : 2840) ایک روایت میں سو سال کی مسافت کا ذکر بھی ھے ۔ (سنن النسائی : 2254)

روزے کو اللہ تعالی نے جہنم سے ڈھال، مضبوط قلعہ اور جنت کا راستہ قرار دیا ہے ، روزے دار کی دعاؤں کی قبولیت کا اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے ، روزہ دار کی منہ کی بو مشک سے بھی زیادہ پسند کرتا ہے اور روزہ داروں کے لئے جنت کا ایک خاص دروازہ ریان تیار کر رکھا ہے وغیرہ (متفق علیہ وغیرہما )

صدقات و خیرات

چونکہ موسم سرما میں سردی سے بچاؤ کیلئے اضافی گرم کپڑے جرسیاں سویٹر موزے جرابیں بوٹ وغیرہ استعمال کرنے پڑتے ہیں اور  سردی میں کوئلہ لکڑیاں وغیرہ جو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہیں غرباء کیلئے ان کا حصول مشکل ہوجاتا ہے اور غرباء ومساکین پر یہ سالانہ بوجھ کافی بھاری ہوتا ہے اسی طرح وہ لوگ جن کے پاس اپنے گھر نہیں ہوتے تو کتنا مشکل ہوتا ہوگا ان کیلئے اس موسم میں گزارہ کرنا۔ اہل ثروت ومخیر حضرات کیلئے ایسے نادار لوگوں کی مدد کرنا بڑا موقعہ غنیمت ہے اور اس کے فضائل بھی کثرت سے وارد ہیں ۔

⭐ نبی ﷺ نے فرمایا: بیواؤں اور مساکین کی مدد کرنے والا ان پر خرچہ کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا وہ مسلسل قیام کرنے والے اور روزے رکھنے والے شخص کی طرح ہے۔ (صحیح بخاری : 6007)

⭐ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست محتاج کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔ (صحیح مسلم : 2699)

⭐ کسی مسلمان کو کوئی خوشی پہنچانا کوئی تکلیف دور کرنا اسکا قرض ادا کرنا یا کھانا کھلانا افضل اعمال میں سے ہے ۔

( شعب الایمان السلسلة الصحيحة : ٢٢٩١)

⭐ نیکی کا ہر کام صدقہ ھے (بخاري: 6021)

⭐ آدمی قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے ۔ (مسند احمد : 17333)

دو نمازیں جمع کرنا اور ترک جماعت

⭐ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر اذان دی پھر فرمایا «ألا صلوا في الرحال‏» کہ لوگو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو اور ہمیں آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن سے اذان کے لیے فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ مؤذن اذان کے بعد کہہ دے کہ لوگو! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو۔ یہ حکم سفر کی حالت میں یا (سخت ترین ) سردی یا برسات کی راتوں میں تھا۔

(صحيح البخاري : 632)

⭐ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے بغیر خوف اور بارش کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا مقصدتھا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی ومشقت میں نہ ڈالیں۔

(صحیح مسلم : 705)

علماء کرام فرماتے ہیں کہ بہت زیادہ ضرورت کے تحت ایسا کرنا جائز ہے مگر یہ مستقل عادت نہیں بنانی چاہیئے ۔ واللہ اعلم ۔

⭐ اچھی طرح سے مکمل وضو کرنا

رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں جن سے اللہ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ضرور بتائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا اور مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی سرحد کی حقیقی پاسبانی ہے۔ (صحيح مسلم : 251)

ایک ناپسندیدگی اور مشقت یہ بھی ہے کہ سردی کے موسم میں جب گرم پانی میسر نہ ہو تو پھر بھی اچھی طرح مکمل وضو کیا جائے داڑھی اور انگلیوں میں خلال کیا جائے ۔

⭐ ثقیف قبیلہ کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے اپنے علاقے کی سخت سردی کا ذکر کیا اور طہارت (وضوء ، غسل وغیرہ) کے معاملے میں کچھ رخصت حاصل کرنا چاہی تو آپ نے انہیں یہ رخصت دینے سے انکار کردیا ۔ (مسند احمد :17530)

⭐ وضو جب برقرار ہو تو ایک وضو سے زیادہ نمازیں پڑھنا بھی جائز ہے ۔

⭐ کسی بیماری ، سخت مجبوری یا پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وضوء کے بجائے تیمم کرنا جائز ہے ۔ تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ پاک مٹی پر ماریں اور چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیرلیں ۔

بیجا تکلف اور تشدد

گرم پانی موجود ہونے کے باوجود زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے ٹھنڈے پانی سے وضوء کرنا غلط ہے ۔ بلا ضرورت پیدل ننگے سر ننگے پاؤں حج یا عمرہ کی نیت کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ نے سخت الفاظ سے تنبیہہ فرمائی کہ اللہ تعالی ان کے  اس عمل سے بری ہے :

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ .(البقرة : 195)

اور خود ہی اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو  اور سلوک احسان اور نیکیاں کرو اللہ تعالٰی نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے ۔

⭐ اللہ تعالی پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح وہ ناپسند کرتا ہے کہ اسکی نافرمانی کی جائے ۔(مسند احمد : 5866)

موزوں جرابوں اور پگڑی پر مسح

رسول اللہ ﷺ نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا۔ (بخاري : 202,205)

رسول اللہ ﷺ نے عماموں ( پگڑیوں ) اور تساخین (پاؤں کو گرم رکھنے والی چیزوں یعنی موزوں اور جرابوں) پر مسح کرنے کا حکم دیا۔(ابوداؤد : 146)

جرابوں پر مسح کرنا صحابہ کرام سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک ،ابوامامہ، ابن عباس اور سہل بن سعد وغیرہم رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ۔(ابوداؤد قبل حدیث :160) مزید تفصیل اور حوالوں کیلئے دیکھئے : هدية المسلمين للشيخ زبير علي زئي رحمه الله ص 17 تا 21 )

جب موزوں (جرابوں) کو وضو کرکے پہناگیا ہو (بخاری : 206) تو مسح کی مدت مقیم کیلئے ایک دن ایک رات اور مسافر کیلئے تین دن اور تین راتیں ہے (ابوداؤد : 157) اور مسح اوپر والے حصے  پر ہوگا۔(ابوداؤد : 162)

رسول اللہ ﷺ صحابہ کو حکم فرماتے تھے کہ وہ(سفر میں) موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الایہ کہ جنابت لاحق ہو جائے (تو اتاریں اور غسل کریں) (ترمذی :96)

منہ (چہرہ) چھپاکر نماز پڑھنا

رسول اللہ ﷺ نے نماز میں آدمی کو منہ(چہرہ) ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد : 643)

آگ بجھاکر سونا

مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت جل گیا۔ نبی کریم  ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگ تمہاری دشمن ہے اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔ (صحیح بخاری : 6294)

رسول الله ﷺ نے فرمایا ”پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں ( مٹکوں کے منہ ) کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کر لیا کرو، کیونکہ شام ہوتے ہی جنات ( روئے زمین پر ) پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیونکہ موذی جانور ( چوہا ) بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے. (صحيح بخاري : 3316)

سردی کے موسم میں عام طور پر ہیٹر وغیرہ استعمال ہوتے ہیں اسلئے ضروری ہےکہ سوتے وقت ان کو بند کردیا جائے اسی طرح بلب وغیرہ بھی آف کردیئے جائیں ۔

⭐ اسی طرح ہیٹر وغیرہ سامنے رکھ کر نماز نہ پڑھیں کیونکہ اس میں آگ ہوتی ہے اور مجوسی اس کی عبادت کرتے ہیں لہذا ان کی مشابہت سے بچنے کیلیئے اس عمل سے احتراز کرنا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی کسی قوم کی مشابہت اختیار کریگا وہ انہی میں سے ہوگا ۔ (ابوداؤد : 4031)

⭐ اسی طرح ایسے کپڑے جیکٹ جرابیں وغیرہ جن پر جانداروں کی تصاویر ہوں نہ استعمال کی جائیں کیونکہ شریعت میں تصاویر کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے ۔ اللہ تعالی (کی رحمت) کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں ۔(صحیح بخاری : 3226)

About الشیخ حزب اللہ بلوچ

Check Also

نیکیوں کے خزانے

سبحان اللہ والحمدللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کے عظیم الشان فضائل شیخ الاسلام …

جواب دیجئے