طمانیت قلب

ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ مسّرت و شادمانی کا تعلق بیرونی نہیں بلکہ اندرونی دنیا سے ہے، جسے عام فہم زبان میں ’دل کی دنیا‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، علمی الفاظ میں اُسے ’طمانیت قلب‘ قرآنِ عظیم کی اصطلاح میں ’نفسِ مُطمئنہ‘  کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے لیکن افسوس کہ دور جدید جسے سائنسی ترقی اور مادیاتی آسائشوں کا دور کہا جاتا ہے، اُس میں یہ ’دل کی دنیا‘ سدا سُونی سُونی اور ویران وپریشان ہی نظر آتی ہے، جسے اگر واقعی آباد کرنا ہے تو سب سے پہلے ’ذات واجبُ الوُجود‘ پر کُلیۃً ایمان واعتماد کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گذارنی ہوگی، اور حقوق اللہ و حقوق العباد کا فکر ہمیشہ دامنگیر رکھنا ہوگااور یومُ الحساب سے قبل(حاسِبوُا قَبلَ اَن تُحاسَبُوا) خود اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ روزانہ شب کی تنہایوں میں سوتے وقت انسان کو اپنے دن بھر کی مصروفیات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے روزانہ کے بنیاد پر خود اپنا محاسبہ کرنا ضروری ہے کہ، آج کے دن اُن کا اپنے پرائے لوگوں، دوستوں،عزیزوں، رشتہ داروں، ماں،بہن،بیٹی،بیٹے ،محلے والوں اور دیگر متعلقین سے کیا کیا گُفتگو ہوئی اور یہ کہ آج کے دن کیا کمایا کیا گنوایا؟ آج خالقِ حقیقی سے کتنا تعلق خاطر پیدا ہوا، کتنے فرائض، نوافل، سنن اور مستحباب ادا کیئے  حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلہ میں کیا کمایا کیا گنوایا؟ اس طرح دیگر مخلوق اور خالق کائنات کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ خود انسان کے اپنے حقوق بھی اس پر واجب ہیں، مثلاً اپنی صحت، صفائی، تندرستی، حلال کمائی، جسمانی ورزش، منفی جذبات سے محفوظ ہوکر مثبت خیالات اپنانا وغیرہ جس کے ساتھ حفظان صحت کے ’قواعد و ضوابط‘ پر بھی پابندی کرنا مثلاً باقاعدگی سے ورزش، متوازن خوراک، پُر سکون اور وقت پر نیند، روزمرہ معمولات کے دوراں مسکرانے کی عادت اختیار کرنا، بے جا اضطراب، ذہنی دبائو اور مایوسی سے بچنے کی کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسانوں میں بھی محسنین کا شکریہ اداکرنا، بے سہارہ لوگوں کی مدد و معاونت کرکے د عائیں لینا، منفی فکرات سے نجات اور خوداحتسابی کرنے سے ان شا ء اللہ آپ اپنی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں محسوس کریں گے۔ ہمیشہ اپنے جسم، ذہن و فکر کو پاکیزہ بنائیے، جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہماری پوری توجّہ اپنی بیرونی آرائش و آسائش تک ہی محدود رہتی ہے ، جب کہ روحانی جہان سے بالکل بے فکر نظر آتے ہیں، ایثار، صبر،شکر، اطمینان خاطر،ذکر و اذکار، تسبیح وتھلیل کو یکسر ہم اپنی زندگی سے خارج کر چکے ہوتے ہیں، اللہ کرے ان باتوں کے ساتھ ہمارے ہاں تصور آخرت ، عالمِ عُقبی ٰو عالم برزخ کا تصّور جڑ پکڑ لے تو یقیناً ’خوف خدا‘ کا سرمایہ عظیم حاصل ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہم روزانہ ایک دوسرے سے بہترین مثالی تعلقات قائم کرتے ہوئے پُر سکون زندگی کے مالک بھی بن سکتے ہیں،پھر ایک دوسرے کے ھمّ دم، مُونس و مددگار سچے دوست خیر خواہ اور غمگسار بن جائیں گے، نہ صرف اتنا بلکہ ’زادِ تقویٰ‘ کے طفیل ہم ماں باپ، بہن، بھائی، میاں بیوی، عزیز و رشتہ داراور ہمسایہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں گے، پھر یک لخت شکوک و شبہات بدگمانیوں اور اجنبیت کی دیواریں زمین بوس ہوجائیں گی، ہم میں مثالی محبت و مئودت پیدا ہو جائے گی، مزید یہ کہ ہمیں غم دوراں سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہوئے زندگی کے کچھ لمحات کے لیے تن تنہائی اختیار کرنی ہوگی، جس میں کسی مفید اور معیاری کتاب کا مطالعہ کر کے   ؎  فراغتے و کتابے و گُوشہ چَمنیئے کی نعمت سے لطف اندوز ہوکر ’دل کی دنیا‘ آباد کرتے ہوئے اپنی ماضی اور حال کا پورا تجزیہ کرنا چاہیے، پھر یہ کہ ماضی کی ناخوشگوار تلخیاں تصوّر میں لاکر نہ صرف ایّامِ ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، بلکہ مستقبل میں غلطیوں سے بچتے ہوئے معیاری زندگی گذارنے کا عزم بالجزم کرنا چاہیے، ہمارے ہاتھوں جن جن لوگوں کی حق تلفیاں ہوئیں ہم نے ان کو دُکھ دیئے ظلم و زیادتیاں کیں ہمیں بڑی فراخ دلی سے ان سے ’معذرت ‘کرتے ہوئے معافی تلافی اسی جہاں میں کرنی چاہیے، تاہم جن لوگوں نے ہم کو تکالیف پہنچائیں بہتر یہ ہے کہ ہم ’بڑے پن‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکو بھی معاف کردیں ، اس سے جہاں رئوف رحیم خوش ہوگا وہاں آپ کے دل کا بار گراں بھی ہلکا ہو جائے گا، چونکہ  ’گُذرشتہ آں کہ گُذرشت‘ جو گذرنا تھا کہ وہ گذر گیا ، اب  ’ماضی را سلام آئندہ را  احتیاط‘ کو ملحوظِ خاطر رکھیے، اب ماضی کے غم سے کیا فائدہ؟ مزید یہ کہ اپنی غلطیوں اور حماقتوں سے بھی سبق حاصل کیجئے، پھر آپ کا ’حال‘ آپ کے درست رویّے،مثبت سوچ اور روشن مستقبل کا غمار ہو کر پُر سکون بن جائے گا۔

خودی ہو زندہ تو فقر بھی شہنشاہی

نہیں ہے سنجر و طغرل سے کم شکوہ

(اقبال)

مستقلاً منفی جذبات سے جان چھڑا کر ہمیشہ مثبت رویّہ اپنائیے تو یقینا آپ کے جسم و جان سے بڑا بوجھ اتر جائے گا، مزید یہ کہ دل و جان صھیم قلب کے ساتھ ندامت کے آنسو رُخساروں پے سجائے ہوئے غفورُ رحیم سے توبہ و استغفار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، یہ چیز آپ کے حوصلہ و عزم میں بھی یقینا اضافہ کرے گی، باقاعدہ اپنے وقت پر سو جائیے اور پھر آذانِ فجر کے ساتھ بیدار ہوکر باجماعت نماز ادا کیجیے گا، بلکہ فجر کے بعد پارہ، نصف یا کم از کم رُبع پارہ کی پاکیزہ تلاوت سے صبح کا آغاز کیجئے پھر ان شاء اللہ دن و رات تمہارے لیے باعث برکت وثواب ہونگے، جب بھی و قت ملے تو ذکر و اذکار صُبح و شام کا ورد و و ظیفہ اپنی زندگی کا جُز ٔ لاینفک بنائیے، چونکہ زندگی تو ختم ہونی ہے۔

صبح آتی ہے شام ہوتی ہے

عمر  یوں ہی تمام ہوتی ہے

آپ اگر قرآن و سنت کے ساتھ رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کی سیرتوں اور امت کے نمایاں افراد کی پاکیزہ سرگذشت حیات کا باقاعدہ مطالعہ کروگے تو علمی لطافت کے بے بہا موتی حاصل ہونگے، چونکہ سلف صا لحین کی منارہ نور حیاتیوں کے سامنے اغیار کے بجھے ہوئے چراغ کو بے نور پائو گے، اسلامی کتابوں کی ہدایات جاوداں، معرفت نفس، خدا شناسی، خودشناسی، خود اعتمادی، تقویٰ و طہارت، علم و عرفان، صبر  و شکر سنجیدگی و وقار کے ساتھ خُوشگوار زندگی حاصل کر سکو گے اور انفرادی و اجتماعی زندگی بڑے اطمینان و سکون سے گذرے گی، ہاں چند اور خطرناک مہلکات سے بھی بچنے کی کوشش کیجیے  مثلاً دُروغ گوئی،گالم گلوچ، کسی بھائی کی تذلیل و توہین، کینہ وکدورت، بُغض و عناد، تعصّب و تنگ نظری غیبت گوئی و چُغلی جیسے افعال قبیحہ سے خود کو بچائیے، علی الصبح خالص ہوا میں نکل کر تیز قدمی سے واک کرتے ہوئے مظاہرہ قدرت سے خوب لطف اندوز ہوکر خالق و مالک کا شکر ادا کرنے کی عادت اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو فطرت صحیحہ اور جادہ حق پر چلنے کی توفیق بخشے آمین۔

فقیرانہ آئے صدا کر چلے،

میاں خوش رہو ہم دعا کر چَلے۔

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

تکبروغرورایک مہلک مرض!

اسلام صرف چندرواج ورسومات کانام نہیں،نہ ہی چندعبادات ومعاملات تک محدود ہے، بلکہ یہ مکمل …

جواب دیجئے