Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ دسمبر » المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

(۳۹) گھمن:مشہور غیرمقلد علامہ وحیدالزمان کی رائے… لکھتے ہیںامام الحرمین اور نووی اور سبکی اور حافظ ابن حجر اور امام غزالی اور بہت سے علماء دین کا قدیما وحدیثا مذہب یہ ہے کہ اولیاء ،صلحاء رحمہ اللہ اور انبیاء علییم السلام کی قبور کی زیارت کے لئے سفر کرنادرست ہے۔(ص:۴۱)

جواب: وحیدالزمان صاحب کی اس رائے سے اہل حدیث متفق نہیں،انہوں نے تو چھٹی ساتویں صدی اور بعد کے کچھ لوگوں کا فہم پیش کیا ہم اس کے مقابلہ میں صحیح حدیث اور صحابہ کرامyفہم پیش کرآئے اب گھمن صاحب اور دیوبندیوں کی مرضی ہے کہ وہ حدیث اور فہم صحابہ کو ترجیح دیتے ہیں یا بعد کے بزرگوں کےفہم کو؟

(۴۰) گھمن:حدیث لاتشدالرحال کے متعلق (وحیدالزمان) لکھتے ہیں:اس حدیث کا مطلب…امام غزالی  رحمہ اللہ نے احیاء میں کہا کہ بعض علماء نے اس حدیث کی رو سے (یعنی لاتشدالرحال) منع کیا ہے علماء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کےلئے سفر کرنے اور ہم کہتے ہیں کہ یہ سفر جائز ہے اس حدیث کےاطلاق سےکہ:کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزروھا.(ص:۴۱)

زیارت قبور کی حدیث سےاستدلال کاجواب:

وحیدالزمان صاحب کی اس عبارت میں جو گھمن صاحب نے نقل کی ہے کوئی نئی بات نہیں اس لئے ہم نے مکمل نقل نہیں کی پھر زیارت قبور کی اجازت والی عام حدیث سے جو غزالی کا استدلال ذکر کیا تو اس کا بھی جواب گزشتہ صفحات میں ضمنا آچکا ہےکہ دیوبندیہ کے محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری صاحب فرماتے ہیں:

ولایجوز قیاس زیارتھا علی زیارۃ القبور الملحقۃ بالبلدۃ فانہ لاسفر فیھا.

ان زیارتوں کو اپنے شہر کے ساتھ ملے ہوئے قبرستان کی زیارت پر قیاس کرنا جائزنہیں چونکہ اس میں کوئی سفر نہیںہوتا۔(العرف الشذی، دیکھئےص:799)

بادنی تامل یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث زیارت قبور اور حدیث شد رحال میں کوئی تعارض نہیں، اجازت زیارت کی ہے جس میں سفر لازم نہیں آتا اور اس میں کسی کا کوئی اختلاف بھی نہیں اور ممانعت شد رحال کی ہے جس میں سفر لازم آتا ہے۔

(۴۱) گھمن:یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ سلف صالحین اور خود غیر مقلدین کے اکابر کےنزدیک روضہ اقدس کےلئے سفر کرنا جائز ہے اور جو منع کرتےہیں وہ غلطی پر ہیں۔(ص:۴۲)

جواب: سلف صالحین میں سب سے پہلے صحابہ کرام yکا نام آتا ہے پھر تابعین کرام واتباع التابعین  رحمہ اللہ کی ان میں سے کسی ایک کا بھی حوالہ اب تک سامنے نہیں آیا کہ روضہ اقدس کی زیارت کے لئے شد رحال سفرکرناجائز ہے مدینہ طیبہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی کئی ایک صحابہyبستے تھے کسی ایک سے بھی روضہ اقدس کی زیارت کے لئے سفر کرکے تشریف لاناثابت نہیں بعض ضعیف بے سند یاموضوع روایات جو قائلین کی جانب سے پیش کی جاتی ہیں جیسے سیدنا بلال tکی طرف منسوب موضوع قصہ تو ان موضوع روایات کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس کی وضاحت آگے آئے گی ،ان شاءاللہ

رہےاکابر اہل حدیث توالحمدللہ ان کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ زیارت کے لئے شدرحال ممنوع ہے، ان کے مقابلہ میں وحیدالزمان صاحب کی انفرادی رائے پیش کرکے اسےاکابرین اہل حدیث کا عقیدہ بتلانا گھمن کے اپنے اصول کے مطابق دجال کاکام ہے۔

(۴۲) گھمن:دوسرے دعوے کا جواب:شاہ صاحب نے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے دوسرا دعویٰ یہ کیا ہے کہ اس بارے میں جواز کی تمام روایتیں موضوع ہیں۔(بحوالہ فتاویٰ ابن تیمیہ)

اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ علم کمالات میں بے نظیر تھے اور کتاب وسنت کے بڑے عالم تھے، ان کا علم وفضل اور کتاب وسنت پر وسعت نظری اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن جس طرح ہر عالم کی بات کوجوں کا توں نقل نہیں کیاجاتا بلکہ کتاب وسنت اور متقدمین اکابر کے عقائد واعمال کےمیزان پر پرکھاجاتاہے اسی طرح علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بات کو بھی….اکابرین امت نے علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے اس قول کی تردید کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت کرنا جائز نہیں۔

جواب:اس میں تو کوئی شک وشبہ نہیں کہ ہر ایک کی بات کتاب وسنت کے میزان پر ہی قبول یا رد کی جائے گی اور ہر ایک کی بات لی بھی جائے گی اور چھوڑی بھی جائے گی سوائے رسول اللہ ﷺ کے ،ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی جلالت شان اپنی جگہ مسلم لیکن’’المجتہد قد یخطیٔ ویصیب‘‘ کے عام قاعدہ سے وہ بھی ماوراء نہیں۔ گھمن صاحب کے مذکورہ بالاجملوں سے واضح ہے کہ بین الفریقین یہ بات تواصول کے درجہ میں مسلم ومعتبر ہے۔ البتہ گھمن صاحب کی یہ بات سراسرغلط ہے کہ اکابرین امت نے علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے اس قول کی تردید کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت کرنا جائز نہیں، چونکہ یہ تو امام ابن تیمیہ کاقول ہی نہیںنہ ہی انہوں نے کبھی کسی کتاب میں یہ لکھا کہ روضہ اقدس کی زیارت ناجائز ہے، تو اکابرین امت نعوذباللہ عقل سے پیدل تھوڑا تھے کہ ایک ایسی بات پر امام ابن تیمیہ کی تردید کر بیٹھتے جو سرے سے انہوں نے کی ہی نہیں، تردید یاتائید کے لئے ایسے قول کاوجود از بس لازم ہے، جب قول نہیں اور یقینا نہیں تو تردید والی بات یقینا باطل وبے بنیاد ہے۔

جی ہاں امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ زیارت کے قائل تھے البتہ وہ زیارت کے لئے شد رحال ؍سفر سے منع کرتے تھے ان کے فتاویٰ دیگر کتب حتی کہ خود گھمن صاحب کی یہ کتاب بھی اس پر گواہ ہے ،ملاحظہ کیجئے کہ یہاں تو اپنی بات وعقیدہ کو تقویت پہچانے کے لئے ایسالکھ دیا اور محض چند صفحات بعد اپنے ہی اس بیان کی تردید کردی اور لکھا:

’’خود ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی انبیاء  علییم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان قبروں پر صلوٰۃ وسلام کے لئے جانا مستحب ہے، علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وھم احیاء فی قبورھم ویستحب اتیان قبورھم لسلام علیھم.

حضرات انبیاء علییم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کی قبر پر سلام کے لئے آنا مستحب ہے۔(سائل ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ ،قاعدۃ فی المعجزات والکرامات ،ص:۹۷،المہند اور اعتراضات،ص:۷۳)

اتناہی نہیں آگے چل کر اپنے ہی،ص:۴۳کے بیان کی گویا تردید کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ایک دوسری کتاب’’اقتضاء الصراط المستقیم ،ص:۴۰۶کی ایک عبارت نقل کرنے کے گھمن صاحب نے لکھا:

علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کی اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ آپﷺ کی قبر شریف کے سامنے کھڑا ہونے والاشخص اللہ کے حضور دعا کرسکتا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ جولوگ آپﷺ پر سلام عرض کرنے کے بعدکھڑے ہوکر دعا کرتے ہیں وہ اہل ایمان اور اہل توحید ہیں۔(المہند اور اعتراضات…ص:۹۰)

اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ گھمن صاحب نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ:۴۳ پر جو ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر جو الزام لگایا کہ:’’اکابرین امت نے علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے اس قول کی تردید کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت جائز نہیں۔‘‘وہ الزام بھی باطل ہے اور جناب نے اپنی اسی کتاب کے صفحہ :۱۶۲پر لکھ رکھا ہے: دروغ گورا حافظہ نباشد

یعنی جھوٹے کاحافظہ نہیں ہوتا، توجناب کی اس کتاب کو دیکھ کر اس بات پر یقین میں مزید پختگی آجاتی ہے کہ جناب نے ص:۴۳پر الزام لگایا اور تیس صفحات بعد،ص:۷۳پر اس کی خود ہی تردید کردی اور پھر ،ص:۹۰ پر اپنی ہی تکذیب کے مزید نقش ثبت فرماگئے

یہ ہے گنبد کی صدا جیسی کہے ویسی سے

(۴۳) گھمن:علامہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور علامہ قسطلانی  رحمہ اللہ نے اس قول کو’’اقبح الاقوال‘‘لکھا ہے،فتح الباری ۳؍۵۳ ارشاد الساری ۲؍۳۴۴(ص:۴۳)

جواب: امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نبی کریم ﷺ کی قبر کی زیارت کو ناجائز قطعا نہیں کہا البتہ اس زیارت کے لئے سفر کو شدرحال سے ممانعت کی عام حدیث کی وجہ سے ممنوع قرار دیا ہے، البتہ ان کے مخالفین واعداء نے عداوت وتعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر یہ بہتان لگایا کہ وہ مطلقا زیارت قبر نبوی کو ناجائز قرار دیتے ہیں، ان مخالفین کےپراپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اگر کسی عالم نے اس مسئلہ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تردید کی تو کوئی بعید نہیں، البتہ علامہ ابن حجر نے ’’فتح الباری ۳؍۵۳پر بلکہ اس کے کسی اور صفحہ پر بھی اس پر ’’من اقبح الاقوال‘‘ کا فتویٰ نہیں لگایا۔

(۴۴) گھمن:علامہ صفی الدین بخاری رحمہ اللہ نے…اس قول کے متعلق لکھا ہے کہ وہمخطیٔ فی ذلک اشد الخطا یعنی اس مسئلہ میں وہ زیادہ شدید خطا کرگئے۔(ص:۴۳)

جواب: کس قول کے متعلق؟ آیا وہ جو ان کی طرف باطل طور پر منسوب ہے یا شدرحال والے قول کی ،اس کی وضاحت گھمن صاحب پر لازم ہے۔

(۴۵) گھمن:علامہ سبکی  رحمہ اللہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

وقولہ: ….یعنی علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ زیارت قبر النبی ﷺ کے سلسلہ کی جس قدر احادیث ہیں وہ سب کی سب اہل علم کے نزدیک ضعیف بلکہ موضوع ہیں اور کسی معتبر صاحب سنن نے ان کو روایت نہیں کیا اور اس کتاب کے شروع میں ،میں نے اس بات کا بطلان ظاہر کردیا۔(ص:۴۴)

جواب:علامہ سبکی(المتوفی :۷۵۶ھ)کی اس رائے کی تردید میں ان کی کتاب ’’شفاء السقام‘‘ کا جواب امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد علامہ ابن عبدالھادی (المتوفی:۷۴۴ھ)نے’’الصارم المنکی فی الرد علی السبکی‘‘ کےنام سے لکھی اور تحقیق کا حق ادا فرمادیا لیکن افسوس کہ آپ اس کی تکمیل نہیں کرسکے بس صرف ابتدائی پانچ ابواب پر نقد کے بعد فوت ہوگئے۔تاہم مسئلہ زیارت تیسرے باب میں ہے تو اس کے جواب سے وہ فارغ ہوچکے تھے بعد میں عصرحاضر کےعلماء میں سے شیخ محمد بن حسین بن سلیمان بن ابراھیم الفقیہ (المتوفی ۱۳۵۵ھ)نے’’الصارم المنکی‘‘ کا تکملہ ’’الکشف المبدی لتمویہ أبی الحسن السبکی‘‘ کے نام سے لکھا جو عرب دنیا نیز پاکستان میں بھی’’دارالکتب پشاور سے طبع ہوچکی ہے، فللہ الحمد

شائقین علم ان تفصیلی کتب سے استفادہ کرسکتے ہیں البتہ اردو دان طبقہ عوام کے لئے استاذ محترم محقق العصر الشیخ زبیر علی زئی  رحمہ اللہ کا ایک مضمون پیش خدمت ہے:

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی آخر النبیین ورضی اللہ عن أصحابہ أجمعین ورحمہ اللہ علی من تبعھم باحسان الی یوم الدین ،أما بعد:

اس مضمون میں تقی الدین علی بن الکافی السبکی الشافعی (متوفی ۶۵۶ھ )کی کتاب ’’شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام ﷺ‘‘ کی پندرہ روایتوں کی مختصر وجامع تحقیق پیش خدمت ہے ،یہ وہ روایات ہیں جن کی بنیاد پر روضۂ رسول ﷺ کی طرف سفر کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔

۱)موسیٰ بن ہلال العبدی نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرwسے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:من زار قبری وجبت لہ شفاعتی.جس نے میر ی قبر کی زیارت کی، اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

(سنن دار قطنی ۲؍۲۷۸،شفاء السقام ،ص:۸۷۔۱۰۳،تحقیق المبتدع حسین محمد علی شکری)

(۱)اس روایت کےبارے میں امام بیہقی  رحمہ اللہ نے فرمایا: وسواء قال عبیداللہ أو عبداللہ فھو منکر عن نافع عن ابن عمر، لم یأت بہ غیرہ۔ برابر ہےاس (موسیٰ بن ہلال) نے عبیداللہ (بن عمر) کہا یا عبداللہ (بن عمر) پس یہ (روایت) نافع عن ابن عمر سےمنکر ہے، اسے اس (موسیٰ بن ہلال) کے سوا دوسرے کسی نے بھی بیان نہیں کیا۔(شعب الایمان ۳؍۴۹۰ح۴۱۵۹،۴۱۶۰،دوسرا نسخہ ۶؍۵۱ح۳۸۶۲،۳۸۶۳)

(۲)امام عقیلی نے موسیٰ بن ہلال کو کتاب الضعفاء میں ذکر کر کے فرمایا: ولایصح حدیثہ۔ اور اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔

(الضعفاء الکبیر ۴؍۱۷۰دوسرا نسخہ ۴؍۱۳۲۱)

عقیلی نے مزید فرمایا: والروایۃ فی ہذا الباب فیھا لین ۔اور اس باب کی روایات میں کمزوری ہے۔

(الضعفاء الکبیر ۴؍۱۷۰،دوسرا نسخہ۴؍۱۳۲۱)

یعنی امام عقیلی کےنزدیک زیارت والی اس قسم کی تمام روایات ضعیف ہیں۔

(۳)امام ابن خزیمہ  رحمہ اللہ نے اس روایت کو’’منکر‘‘ قرار دیا اور فرمایا:

انا أبرأ من عھدتہ۔میں اس روایت کی مسئولیت سےبری ہوں۔(صحیح ابن خزیمہ بحوالہ لسان المیزان ۶؍۱۳۵،دوسرا نسخہ ۷؍۱۴۰،۱۴)

(۴)حافظ ذہبی  رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:

وأنکر ما عندہ حدیثہ…اور اس کی اس حدیث کو میں منکر سمجھتاہوں یا اس کی روایتوں میں سب سے منکر یہ حدیث ہے۔الخ

(لسان المیزان ۶؍۱۳۵،دوسرا نسخہ ۷؍۱۴۰،میزان الاعتدال۴؍۲۲۶، دوسرا نسخہ ۶؍۵۶۷)

(۵)ابن القطان الفاسی المغربی (متوفی ۶۲۸ھ)نے اسے ان احادیث میں ذکر کیا جو ’’لیست بصحیحۃ‘‘صحیح نہیں ہیں۔

(بیان الوہم والایہام ۴؍۹ح۱۴۳۳)

(۶،۷)حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن عبدالہادی نے اس روایت پر جرح کی۔

ان کے مقابلے میں عبدالحق اشبیلی اور تقی الدین السبکی نے اسے صحیح قرار دیا۔!

اب اس حدیث کے راوی موسیٰ بن ہلال کےبارے میں محدثین کرام کی تحقیق اور گواہیاں پیش خدمت ہیں:

۱:             عقیلی نے اسے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا۔

۲:            ابن خزیمہ نے اس کی بیان کردہ حدیث کو منکر کہا۔

۳:            بیہقی نے اس کی بیان کردہ روایت کو منکر کہا۔

۴:            ابن الجوزی نے اسے کتاب الضعفاء والمتروکین میں ذکر کیا۔(۳؍۱۵۱ت۳۴۷۸)

۵:            ابن القطان الفاسی نے اس کی روایت کوغیر صحیح کہا۔

۶:            حافظ ذہبی نے اسے دیوان الضعفاء

(۲؍۳۹۰ت۴۳۱۴میں ذکر کیا اور توثیق نہیں کی۔)

vابوحاتم الرازی نے اسے مجہول کہا۔

(کتاب الجرح والتعدیل ۸؍۱۶۶)

vدارالقطنی نے اسے مجہول کہا۔

(اسئلۃ البرقانی بحوالہ لسان المیزان ۶؍۱۳۶)

ان کے مقابلے میں درج ذیل علماء سے موسیٰ بن ہلال مذکور کی توثیق مروی ہے:

۱:             حافظ ذہبی نے اسے’’صالح الحدیث‘‘ کہا۔

(میزان الاعتدال ۴؍۲۲۶،دوسرا نسخہ۶؍۵۶۷)

۲:            ابن عدی نے حدیث زیارت کو(احادیث مثقدہ میں یعنی جن پر تنقید کی گئی ہے) ذکر کیا اور فرمایا:’’وأرجو أنہ لابأس بہ‘‘ اور میں سمجھتاہوں کہ وہ لاباس بہ ہے۔

(الکامل لابن عدی ۶؍۲۳۵۰،دوسرا نسخہ ۸؍۶۹)

۳:         عبدالحق اشبیلی نے اس کی حدیث کی تصحیح کی۔

۴:         سبکی نے اس کی روایت کو حسن قرار دیا۔

( دیکھئے شفاء السقام ،ص:۱۰۰)

لیکن مجھے یہ روایت صحیح سند کےساتھ کہیں نہیں ملی لہذا یہ قول بے سند ہونے کی وجہ سے ناقابل حجت ہے۔

چونکہ ان کے مقابلے میںجمہور محدثین نے موسیٰ بن ہلال یا اس کی بیان کردہ حدیث پر جرح کی ہے لہذا وہ ضعیف عندالجمہور ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

فائدہ: حافظ ابن عدی نے ایک راوی ابوالعوام جعفر بن میمون البصری کےبارے میں فرمایا:وأرجو أنہ لابأس بہ ویکتب حدیثہ فی الضعفاء‘‘اورمیں سمجھتاہوں کہ وہ لاباس بہ ہے اور اس کی حدیث ضعیف راویوں میں لکھی جاتی ہے۔

(الکامل ۲؍۵۶۲،دوسرا نسخہ ۲؍۳۷۰)

معلوم ہوا کہ ابن عدی کے نزدیک لاباس بہ کے الفاظ ہر جگہ توثیق نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات جرح بھی ہوتےہیں لہذا اگر یہ الفاظ جمہور کی توثیق کے مطابق ہیں تو انہیں توثیق پر محمول کیاجائے گا اور اگر جمہور کی جرح کے مقابل ہیں تو انہیں جرح پر محمول کرنا چاہئے۔

تنبیہ: حافظ ذہبی کی جرح اور توثیق دونوں باہم متعارض ہونےکی وجہ سے ساقط ہیں۔

خلاصۃ التحقیق: من زار قبری والی روایت مذکورہ موسیٰ بن ہلال کی وجہ سے ضعیف ہے۔                               (جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

قسط نمبر:7 المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ طور سے متعلق تھانوی صاحب کی توجیہ …

جواب دیجئے