Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2018 » شمارہ دسمبر » شہید کےلیے خوشخبریاں ……!!

شہید کےلیے خوشخبریاں ……!!

محترم قارئین ! راقم نے اپنی سابقہ معروضات میں مجاھد کے لیے خوشخبریاں پیش کی تھیں مضمون ہذا میں ان مجاھدین کے لیے خوشخبریاں پیش کی جاتی ہیں جو اللہ کی راہ میں شھادت پا کر اپنے رب سے جا ملتے ہیں ۔

شہید کے لیے قرآن سنت میں بے شمار بشارتیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند یہاں ذکر کی جاتی ہیں :

راہ الہی میں جان قربان کرنے والے شہید کی باری تعالی کی تمام تر مخلوق عزت توقیر کرتی ہے یہاں تک کہ ایک جبل بھی شہداء کی عزت کرتا ہے ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ .

احد! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔

( صحیح بخاری : 3675 )

دیگر روایات میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح کہنے سے احد پہاڑ رک گیا تھا۔

شہید کو اللہ عزوجل ایسی زندگی عطا فرماتا ہے جو دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے اعلی و بالا ہے اللہ تعالی نے انہیں مردہ کہنے سے منع فرمایا ہے : اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ

( سورة آل عمران : 169)

جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگِز مُردہ نہ سمجھو ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزق دیے جاتے ہیں ۔

کتنی بڑی دلچسپ و عجیب بات ہے کہ اللہ عزوجل شہید کو شہادت کے بعد جب وہ دنیا سے کوچ کر جاتا ہے رزق سے نوازتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا :  وَ الَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ثُمَّ قُتِلُوۡۤا اَوۡ مَاتُوۡا لَیَرۡزُقَنَّہُمُ اللّٰہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ  لَہُوَ  خَیۡرُ  الرّٰزِقِیۡنَ ( سورة الحج : 58 )

اور جن لوگوں نے راہ الٰہی میں ترک وطن کیا پھر وہ شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے اللہ تعالی انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا اور بیشک اللہ تعالٰی روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے ۔

جو بندہ اللہ کی راہ میں جھاد کرنے کےلیے نکلتا ہے تاکہ شہادت حاصل کرلے تو وہ بندہ اللہ عزوجل کے ذمہ میں ہوتا ہے جیسا کہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :‏‏‏‏ انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، ‏‏‏‏‏‏أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ .( صحیح بخاری : 36 )

جو شخص اللہ کی راہ میں  ( جہاد کے لیے )  نکلا، اللہ اس کا ضامن ہو گیا۔  ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے )  اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے  ( اس سرفروشی کے لیے گھر سے )  نکالا ہے۔  ( میں اس بات کا ضامن ہوں )  کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ، یا  ( شہید ہونے کے بعد )  جنت میں داخل کر دوں ۔

جب مجاھد بندہ شہادت حاصل کرلیتا ہے اور اس فانی دنیا سے الوداع ہوجاتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی اس کارخیر کی خاطر اس کی اولاد کو بھی خوشحال رکھتا ہے اور ان کی پریشانیاں دور فرمادیتا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی زندگی یقینا سبق آموز واقعہ ہے ( ملاحظہ ہو ، صحیح بخاری : 2405 )

سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے یحیی بن عباد بن عبداللہ( بن زیبر) اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : ‌يَقُول عِنْد قَتْلِ حَنْظَلَة بْن أَبِي عَامِر بَعْدَ أَنِ التقى هُوَ وَأَبُو سُفْيَان بْن الحَارِث حِيْنَ عَلَاه شَدَّاد بن الأَسْوَد بِالسَّيْف فَقَتَلَه ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: « إِنَّ صَاحِبَكُمْ تغْسِلُه المَلَائِكَة » فَسَأَلوُا صَاحِبَتَهُ فَقَالَتْ : إِنَّه خَرَجَ لَمَّا سَمِعَ الهَائِعَة وَهُوَ جُنبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : « لِذَلِكَ غَسَلَتْهُ المَلَائِكَة » ( الصحیحہ : 3416 )

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنظلہ بن ابی عامر  رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت فرما رہے تھے : جب حنظلہ اور ابو سفیان بن حارث کا مقابلہ ہوا اور شداد بن اسود تلوار لے کر حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گیا اور انہیں شہید کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو فرشتے غسل دے رہے تھے لوگوں نے اس کی بیوی سے پوچھا تو اس نے کہا : جب اس نے اعلان سنا تو یہ جنبی حالت میں باہر چلا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے فرشتے اسےغسل دے رہے تھے ۔

جیسے ہی شہید بندہ زیور شہادت سے آراستہ ہوتا ہے اللہ تعالی کی جانب سے چند انعامات حاصل کرلیتا ہے جیسا کہ مقدام بن معد یكرب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ الله خِصَالٌ يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَان وَيُزَوَّجُ (اثنَيْنِ وَسَبْعِيْنَ زَوْجَةً)مِنْ الْحُورِ الْعِينِ. وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ. وَيُوْضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الياَقُوتُة مِنْهُ خَيْرُ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا. وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ .

( الصحیحہ : 1495 )

اللہ کے ہاں شہید کے لئے کچھ انعامات ہیں:

1 : خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔

2 : وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔

3 : اسے ایمان کا لباس پہنا دیا جاتا ہے۔

4 : (بہتر 72)حوروں سے اس كی شادی كر دی جاتی ہے۔

5 : عذابِ قبر سے بچا لیا جاتاہے۔

6 : بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتا ہے۔

7 : اس کے سر پر وقارکاتاج رکھ دیا جاتاہے جس کاایک یاقوت دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے۔

8 : اپنے ستر(70) گھر والوں کی سفارش کرے گا

شہید بندے سے اللہ تعالی بہت خوش ہوتا ہے اس کے اس عمل خیر کو دیکھ کر باری تعالی مسکراتا بھی ہے(جیسے اس کی شان کے شایان ہے۔) اور اس عمل خیر کی بنا پر شہید کا روز قیامت حساب بھی معاف فرمادے گا جیسا کہ سیدنا نُعیم بن ہمار  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے مروی ہے کہ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  أَیُّ الشُّہَدَاء ِ أَفْضَلُ قَالَ: ((اَلَّذِینَ إِنْ یُلْقَوْا فِی الصَّفِّ یَلْفِتُونَ وُجُوہَہُمْ حَتّٰی یُقْتَلُوا أُولَئِکَ یَنْطَلِقُونَ فِی الْغُرَفِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ وَیَضْحَکُ إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ وَإِذَا ضَحِکَ رَبُّکَ إِلٰی عَبْدٍ فِی الدُّنْیَا فَلَا حِسَابَ عَلَیْہِ ۔(مسند أحمد: ۲۲۸۴۳)

ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے چہروں کو اُن ہی کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں، یہ وہ لوگ جو جنت کے بلند بالا خانوں میں چلتے ہیں اور ان کا ربّ ان کی طرف ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میں ہی کسی کی طرف ہنس پڑتا ہے تو اس پر کوئی حساب نہیں ہوتا۔

یعنی شہید بندے بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کیئے جائیں گے اور بڑی خوش بختی یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے فرشتے شہید بندوں کو سلام کریں گے اور شہداء کو اللہ عزوجل بلا بلاکر جنت میں داخل کرے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : أَوَّلَ ثُلَّةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْفُقَرَاء الْمُهَاجِرُون ، الَّذِين تُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِه ، إِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا ، وَإِن كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إلى السُّلْطَان ، لَم تقْض لَه حَتَّى يَمُوت وَهِي في صَدْرِه ، وَإِن الله عَزَّوَجَلَّ لَيَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّة، فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا زِيْنَتِهَا فَيَقُول: أَيْن عِبَادِيَ الَّذِين قَاتَلُوا في سَبِيْلِي ، وَقُتِلُوا ، وَأُوذُوا في سَبِيلِي؟ وَجَاهَدُوا في سَبِيلِي ، ادْخُلُوا الْجَنَّة فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْر حِسَابٍ ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَة فَيَسْجُدُوْنَ فَيَقُولُون: رَبَّنَا نَحْن نُسَبِّح بِحَمْدِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، وَنُقَدِّس لَكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الَّذِيْن آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ -عَزَّوَجَلَّ- : هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ  سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ (۲۴) (الرعد) .  ( الصحیحہ : 1472 )

پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا،وہ فقراءاورمہاجرین کا ہوگا  جن کے سبب سے مشکل حالات سے بچا جاتا رہا ہوگا، جب انہیں حکم دیا جاتا سنتے اور اطاعت کرتے، اگر ان میں سے بادشاہ وقت کے پاس کسی کا کام ہوتا تو مرنے تک اس کاکام نہ ہوتا اور یہ حسرت اس کے دل میں ہی رہ جاتی ۔

اللہ عزوجل قیامت کے دن جنت کو بلائے گا تو وہ پوری سج دھج کے ساتھ آئے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال کیا؟ شہید کر دیئے گئے میرے راستے میں انہیں تکالیف دی گئیں، اور میرے راستے میں جہادکیا؟ (آؤ) جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت میں بغیر حساب  کےداخل ہو جائیں گے۔

 فرشتے آئیں گےاور سجدہ کریں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم رات اور دن تیری تسبیح ،تحمید اور تقدیس بیان کر تے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے ہم پر ترجیح دی؟ رب عزوجل فرمائے گا: یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میرے راستے میں قتال کیا اور میرے راستے میں انہیں تکلیف دی گئی۔ فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے،  (الرعد:۲۴)  تمہارے صبر كی وجہ سے تم پر سلام ہو، آخری انجام بہت اچھا ہے

یعنی شہید بندے کے تمام تر گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور اس کےلیے بغیر حساب کے جنت کے دخول کا اعلان کیا ہوا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ : فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ  بَعۡضٍ ۚ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ  ( سورة آل عمران : 195 )

پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمالی کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا، تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے ، میں ضرور ضرور ان کی بُرائیاں ان سے دُور کردوں گا اور بالیقین انہیں اُن جنّتوں میں لے جاؤنگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، یہ ہے ثواب اللہ تعالٰی کی طرف سے اور اللہ تعالٰی ہی کے پاس بہترین ثواب ہے ۔

شہید بندے کو اللہ عزوجل جنت میں داخل فرماکر بہترین رزق اور بہت ساری انعامات سے مالا مال فرمائے گا حتی کہ شہید بندہ خوش ہوجائے گا اور دوبارہ شہادت حاصل کرنے کا خواہشمند ہوگا جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى. ( صحیح بخاری : 2795 )

کوئی بھی اللہ کا بندہ جو مر جائے اور اللہ کے پاس اس کی کچھ بھی نیکی جمع ہو وہ پھر دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا گو اس کی ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ مل جائے مگر شہید پھر دنیا میں آنا چاہتا ہے کہ جب وہ  ( اللہ تعالیٰ کے )  یہاں شہادت کی فضیلت کو دیکھے گا تو چاہے گا کہ دنیا میں دوبارہ آئے اور پھر قتل ہو  ( اللہ تعالیٰ کے راستے میں ) ۔

ان تمام تر اور دیگر بشارتوں کو دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین شہادت حاصل کرنے کےلیے فکرمند ہوا کرتے تھے اور ہر جھاد میں شرکت کرتے تاکہ ہمیں شہادت حاصل ہوجائے جیسا کہ ابو بکر بن ابی موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ دشمن کے سامنے کھڑے کہہ رہے تھے کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے : إِنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحَ الْجَنَّة  ، فَقَالَ لَه رَجَلٌ رَثّ الْهَيْئَة : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُوْلِ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ: نَعَم! فَسَلَّ سَيْفَه وَكَسَر غَمْدَهُ وَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَالَ: أَقَرَأ عَلَيْكُم السَّلَام ، ثُمَّ تَقَدَّم إِلَى الْعَدُوِّ فَقَاتَل حَتَّى قُتِلَ. ( الصحیحہ : 1459 )

تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں ایک پراگندہ حالت والے شخص نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ  ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے اپنی تلوار سونتی،اپنی میان توڑی اور اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا: میں تمہیں سلام کہتا ہوں پھر دشمن کی طرف بڑھا اور شہید ہونے تک لڑتا رہا حتی کہ شہید ہوگیا

اور خود نبیء کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بار بار شہادت حاصل کرنے کی خواہش فرمائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ : ‏‏‏‏‏‏وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُحْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُقْتَلُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُحْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُقْتَلُ . ( صحیح بخاری : 36 )

میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر مارا جاؤں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم بھی شہادت کی تمنا کیا کریں کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ وَلَوْنُهُ لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ عَلَيْهِ طَابِعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ سَأَلَ اللهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا أَعْطَاهُ اللهُ أَجْرَ شَهِيدٍ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ ( مسند احمد : 21094 )

جس شخص کو اللہ کے راستے میں کوئی زخم لگتا ہے تو قیامت کے دن وہ آئے گا، اس کےزخم کی خوشبو کستوری کی خوشبو کی طرح ہوگی اور اس کا رنگ زعفرانی ہوگا۔ اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی۔ جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے مخلص ہو کر شہادت کا سوال کیا، اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ باری تعالی ہمیں شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔

آمین یا مجیب السائلین

About عبدالسلام جمالی

Check Also

عابد بندے کے لیے خوشخبریاں

عابد سے مراد ایسے عبادت گذار بندے ہیں جو قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی …

جواب دیجئے