نصرتِ دین

نصرتِ دین

دینِ اسلام کی آبیاری ہو ہم سے

پھیل جائے جہاں میں، ہمارے دم سے

ہم کریں روز وشب، دینِ حق کی اشاعت

پھیل جائے گا ہر سو، رب کے کرم سے

رب نے وعدہ کیا ہے، غلبۂ دین کا

رک نہ پائے گا ہرگز، کسی کے شتم سے

دینِ اسلام ہے، دینِ نور ہدایت

نورِ دیں ہے زیادہ، ہلال ونجم سے

نعمتیں رب نے دی ہیں، بے حد وحساب

دیں کی نعمت بڑی ہے، ساری نعم سے

خدمتِ دین کا تو تقاضا یہی ہے

نصرتِ دیں کریں ہم، عزم بالجزم سے

دعوتِ دین کا ہم، گر کریں حق ادا

دوجہاں میں سعادت، ملے گی قسم سے

دعوتِ دین کا حق، گر ادا نہ کیا

آخرت میں جھکے گا، سر اپنا شرم سے

دل میں جو کچھ بھی وارد ہوا تھا میرے

زباں دے چکا ہوں اسے میں قلم سے

تمنا ہے اثری کہ ہو تجھ میں پیدا

حرارت جواں سی، میری اس نظم سے

About حافظ عبدالکریم اثری

Check Also

نظم (اہمیت دین)

اہمیت دین موقوف دین پہ ہے بس، فلاح وکامرانی دین سے ہے تمسک، ایمان کی …

جواب دیجئے