Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ دسمبر » دین سے نابلد سیاستدان

دین سے نابلد سیاستدان

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
وطن عزیز پاکستان کےسیاستدان امور سیاست ودنیاداری میں چالاکی وشاطرانہ چالوں کے حوالے سے شاید اپنا ثانی نہ رکھتے ہوں لیکن وہ دین کے حوالے سے بالکل کورے ہیں۔
چندمثالیں ملاحظہ ہوں:
1یہ ان ایام کی بات ہے جب سعودی عرب میں شاہ فیـصل aحکمران تھے، وہ ایک مرتبہ دورۂ پاکستان پرآئے، چونکہ وہ نماز کے پابند تھے لہذا وقتِ نماز ہوتے ہی انہوںنے نماز کا اہتمام کیا، پاکستانی وزیراعظم بھی نماز پڑھنے آئے نماز کاآغازہوا،دونوں حکمران ایک ساتھ کھڑے تھے، پاکستانی حکمران نے اپنابایاں ہاتھ دائیں پر رکھا، دورانِ نماز ہی شاہ فیصل aنے ان کا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیاکہ رسولِ اکرم ﷺ کےصحابی وائل بن حجرtآپﷺ سے متعلق فرماتے ہیں کہ:اذا کان قائما فی الصلاۃ قبض بیمینہ علی شمالہ.(سنن نسائی،کتاب الصلاۃ)
2ایک پاکستانی حکمران اپنےد ور صدارت میں بھارت کےد ورے پر گئے، راجیوگاندھی وہاں کاحکمران تھا، جب دونوں حکمرانوںکی ملاقات ہوئی تو،اخبارات میں شایع تصاویر کے مطابق صدرِ پاکستان بھارتی وزیراعظم کے سامنے تقریبا رکوع کی حد تک جھک گئے،حالانکہ اس طرح جھکنا صرف اللہ رب العزت کےسامنے ہی رواہے۔
3قومی اسمبلی کااجلاس چل رہاتھا، اچانک قریبی مسجد سے اذان شروع ہوگئی تو وزیراعظم کی آواز آئی:’’خاموش ہوجائیے،اذان بج رہاہے‘‘ حالانکہ بجتی تو موسیقی ہے نہ کہ اذان۔
4ایک تقریب کے آغاز پر وفاقی وزیرداخلہ کو تلاوتِ کلام پاک کا کہاگیا،سورۂ اخلاص ،جوکہ ایک ورقے پر تحریران کے پاس موجود تھی، موصوف وہ بھی نہیں پڑھ سکے،لم یلد ولم یولد کو لم یلد ولم یلدپڑھتے رہے۔
5قومی اسمبلی کے ایک قائد حزب اختلاف نے مہاجرین کو جھونپڑیوںمیں رہنے والے اور ان کے متعلق دیگر نازیبا باتیں کہہ کر ملک بھر میں فتنہ برپاکردیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ اکرم الخلائق محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بیشتر جلیل القدر صحابہ کرامyبھی مہاجرتھے۔
6اسی طرح ملک میں تبدیلی لانے اور نیاپاکستان بنانےکے دعویدار ایک سیاستدان کا تازہ بیان ملاحظہ ہو:
’’مجھے دوزخ میں بھی گرمی نہیں لگے گی‘‘(روزنامہ امت کراچی مورخہ ۳۰اکتوبر۲۰۱۷ء)
موصوف کو دین کاذرا سابھی فہم ہوتا تو وہ قطعا ایسانہ کہتے،دوزخ وہ مقام ہے جسے خالق کائنات نے :وساءت مرتفقا.(بہت برا ٹھکانہ) قرار دیا ہے۔ (الکھف) وہ مقام کہ جس کاتذکرہ آتے ہی سلف صالحین اس سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے۔صحیح مسلم میں امام نووی aکی تبویب ملاحظہ ہو:
ذکرجھنم اعاذنا اللہ منھا.یعنی جہنم کاتذکرہ، اللہ ہمیں ا س سےپناہ میں رکھے۔ موصوف نہ صرف وہاں جانے کیلئے تیار ہیں بلکہ یہ خبر بھی دے رہے ہیں کہ مجھے وہاں گرمی نہیں لگے گی۔ایسا ہی شخص کہہ سکتا ہے جو دینی احکامات سے بالکل ناواقف،آخرت سے غافل اور جنت وجہنم سے قطعی طور پر بے فکرہو۔
ذیل میں دوزخ سے متعلق چندآیات ذکر کی جاتی ہیں، جن سے اس کی ہولناکی مزیدواضح ہوجاتی ہے:
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ۝۴۹ۚ سَرَابِيْلُہُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْہَہُمُ النَّارُ۝۵۰ۙ] یعنی: اس روز تم دیکھوگے مجرم لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوں گے، وہ تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پرچھائےجارہے ہوں گے۔(ابراھیم:۴۹،۵۰)
ایک اور مقام پر فرمایا:[خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰى سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ۝۴۷ۖۤ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ۝۴۸ۭ ] یعنی: اس کو پکڑ لواور رگڑتے ہوئے جہنم کے وسط میں لے جاؤاور اس کے سرپرکھولتے پانی کاعذاب انڈیل دو۔(دخان:۴۷،۴۸)
مسند احمد کی ایک حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے اس آیت کی وضاحت میں فرمایا:جب کھولتا ہواپانی ڈالاجائے گا تو یہ سر میں چھید کرکے جسم کےاندر کے تمام اعضاء کوجلاڈالے گا،اور پھر یہ اعضاء دبر کے راستے نکل کر اس کے قدموں میں آگریں گے۔
یہ جہنم کی ہولناکی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کو اس سے بچاؤ کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں چنددعائیں مانگنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا کہ:اہل ایمان کہتے ہیں:
[وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ۝۰ۤۖ اِنَّ عَذَابَہَا كَانَ غَرَامًا۝۶۵ۤۖ اِنَّہَا سَاۗءَتْ مُسْتَــقَرًّا وَّمُقَامًا۝۶۶ ] (الفرقان:۶۵،۶۶)
یعنی: اے ہمارے رب ہم سے جہنم کاعذاب پھیردے اس کاعذاب توچمٹ جانے والاہے،بیشک جہنم بہت ہی برا ٹھکانہ اور بہت ہی بری جگہ ہے۔
ایک اور مقام :[رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۲۰۱ ](البقرہ:۲۰۱)
یعنی: اے ہمارے رب!ہمیں دنیا میں اچھائی عطافرمااور آخرت میں بھی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
ایک اورمقام:[رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا۝۰ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝۱۹۱ رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَہٗ۝۰ۭ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۝۱۹۲ ](آل عمران:۱۹۱،۱۹۲)
یعنی: اے ہمارے پروردگار!تو نے یہ(زمین وآسمان) بے مقصد نہیں بنائے،تیری ذات پاک ہے( اس بات سے کہ کوئی عبث کام کرے) پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔ اے ہمارے پروردگار!جسے تو نے آگ میں داخل کیا اسے تو نے رسوا کردیا….الخ
اب ذرا جہنم کے حوالے سے صحابہ کرام yکی کیفیت ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي اسود، قَالَ: ” كَانَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى سُورِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ الشَّرْقِيِّ يَبْكِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَالَ: «منْ هَاهُنَا، أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى جَهَنَّمَ»(رواہ الحاکم -حوالہ کتاب الاھوال ،رقم:۷۳)
زیاد بن ابی اسود سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت tبیت المقدس کی مشرقی دیوار پر تھے، اچانک رونے لگے، لوگوں نے پوچھا: اے ابوالولید!کیوں رورہے ہو؟ فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایاتھا کہ میں نے جہنم دیکھی ہے۔
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: ” كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَاضِعًا رَأْسَهُ فِي حِجْرِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ تَبْكِي فَبَكَيْتُ، قَالَ: إِنِّي ذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] فَلَا أَدْرِي أَنَنْجُو مِنْهَا أَمْ لَا (رواہ الحاکم-حوالہ کتاب الاھوال،رقم:۱۱۰)
قیس بن حازم کہتےہیں کہ عبداللہ بن رواحہ tاپنی بیوی کی گود میں سررکھے ہوئے تھے کہ(اچانک) رونے لگے، ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی رونے لگیں، انہوںنے پوچھا:تم کیوں رورہی ہو؟ بیوی نے کہا:آپ کو روتے دیکھا تو میں بھی رونے لگی ،فرمایا: اللہ کا یہ فرمان یادآگیا’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کاجہنم سےگذرنہ ہو، اور مجھے معلوم نہیں کہ ہم اس سے نجات پاسکیں گے یا نہیں۔
قال سعد بن الاخرم رحمہ اللہ کنت امشی مع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فمربالحدادین وقد اخرجوا حدیدا من النار فقام ینظر الیہ ویبکی .(حلیۃ الاولیاء ۲؍۱۳۳)
سعد بن اخرمaفرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعودtکے ساتھ جارہاتھا ہم لوہار کی دکان سے گذرے انہوں نے آگ سے(سرخ سرخ) لوہا باہرنکالا،عبداللہ بن مسعودtاسے دیکھنے کے کئے کھڑے ہوگئے اور رونے لگے۔
قارئین کرام!یہ صحابہ کرامyکی جہنم کے تذکرہ کے حوالے سے حالت وکیفیت ہے حالانکہ قرآن وحدیث ان کے ذکر خیر اور ان کے لئے بشارتوں سے پُرہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے ملک کے یہ سیاستدان ہیں کہ موصوف بڑی جرأت سے کہتے ہیں کہ مجھے تو دوزخ میں بھی گرمی نہیں لگے گی، یقینا ایسی بات ایسے فرد ہی کی زبان سے نکل سکتی ہے جو احکامِ شریعت سے بالکل کورااور دین سے قطعی طور پرنابلد ہو۔
چونکہ وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا لہذا ضروری ہے کہ اس مملکت میں کوئی کسی بھی حوالے سے باگ ڈور سنبھالے اسے دین اسلام سے متعلق بنیادی معلومات ضرورہونی چاہئے اس کیلئے اگر قرآن مجید باترجمہ پڑھنے کی شرط عائد کردی جائے تو مستحسن رہے گا، لہذا ہماری اعلیٰ عدلیہ وافواج پاکستان سے اپیل ہے کہ آئین پاکستان میں اس شق کا اضافہ ضرور کیاجائے۔اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔
المعہد السلفی کراچی کے3اساتذہ کو سعادتِ عمرہ مبارک ہو
10نومبر اور12نومبر2017ءبروزجمعہ واتوار المعہدالسلفی کراچی کے تین اساتذہ کرام شیخ ضیاء الحق بھٹی ،شیخ عبیدالرحمٰن محمدی اور شیخ محمد صہیب ثاقب بغرضِ عمرہ سعودی عرب روانہ ہوگئے، تینوں اساتذہ کرام کے اسباق دیگر اساتذہ میں تقسیم کردیئے گئے ،ادارہ ماہنامہ دعوتِ اہل حدیث تینوں علماءِ کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تینوں او ردیگر تمام معتمرین کے عمرہ،عبادات وادعیہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،آمین

About شیخ ذوالفقارعلی طاہررحمہ اللہ

.سابق ناظم امتحانات جمعیت اہل حدیث سندھ اور ایڈیٹر دعوت اہل حدیث اردو مجلہ ٣ جنوری ٢٠١٨ کو ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے ‏اللهم اغفر له، وارحمه، وعافه، واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله داراً خيراً من داره، وأهلاً خيراً من أهله، وزوجاً خيراً من زوجه، وأدخله الجنة، وأعذه من عذاب القبر، ومن عذاب النار

Check Also

پاکستان زندہ آباد

فضیلۃ الشيخ ذوالفقار علی طاہرر رحمہ اللہ کی یوم آزادی کی مناسبت سے لکھی ہوئی …

جواب دیجئے