Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2016 » August Magazine » Dr. Usmani k Nazriyat Aur Un ka Rad

Dr. Usmani k Nazriyat Aur Un ka Rad

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

ڈاکٹر عثمانی نظریات کے حاملین کی طرف سے دیئے گئے مجلہ ’’حبل اللہ‘‘کہ جس کا مقامِ اشاعت مسجد توحید کیماڑی کراچی ہے، میں لکھا ہے:
’’جوشخص اللہ کی رضا حاصل کرنے والایہ ذریعہ ایک پیشے میں بدل دے تو ایسے شخص کی اللہ کی ہاں مغفرت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، ایسا شخص جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا‘‘(مجلہ24دسمبر2007صفحہ:38)
اسی مجلہ 24کے صفحہ40پر المائدہ کی آیت:44درج کرنے کے بعد اس کاترجمہ لکھا ہے:
’’اب تمہیں چاہئے کہ لوگوں سے نہ ڈرواور صرف میراڈررکھو، میری آیات کو تھوڑے مول نہ بیچو،جولوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ(پورے اورپختہ) کافر ہیں‘‘(ترجمہ محمد جوناگڑھی)
پھر لکھتے ہیں:’’اس آیت میں اللہ کی کتاب پر اجرت لینے سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس قانون کو بھی بیان فرمادیا ہے کہ ہر معاملے میں تمہیں صرف اس چیز کے مطابق فیصلہ کرنا ہے جو اللہ کی طرف سے نازل کیاگیاہے، اگر تم ایسے نہیں کرتے توجان لو کہ ایسے لوگ کافر ہیں۔‘‘(مجلہ 24کے صفحہ40)
’’قرآن کی تعلیم پر ہرقسم کی اجرت وتحفہ حرام ہے۔ (ایضا:47)
’’قرآن وحدیث میں’’مفتی‘‘ کا کوئی تصورہی نہیںتو اس کی تنخواہ کیسی‘‘(ایضا:56)
’’قاضی ریاستی امور پرفائز شخص ہوتا ہے جس کی ذمہ داری ہمہ وقتی ہوتی ہے مگر اس کے برعکس اسلام میں مفتی یامولوی کا کوئی تصور ہی نہیں نہ جزوقتی نہ کل وقتی‘‘(ایضا:56)اسی مجلہ میں اگلےصفحہ پر لکھا ہے:
’’قاضی کی ذمہ داری تو ریاستی ہے ،اس پر قرآن وحدیث نے کوئی قدغن نہیں لگائی، لیکن آپ تو قرآن کی تعلیم اور اس کی تبلیغ پر اجرت لے رہے ہیں آپ کے اور قاضی کے عمل کاکیاموازنہ!(ایضا:57)
اسی مجلہ نمبر24دسمبر2007ءکے صفحہ:21پر’’توحید باری تعالیٰ کی بنیاد پر قائم ہونے والی اسلامی مملکت ‘‘بھی لکھا ہے۔
اسی مجلہ نمبر24دسمبرکے صفحہ:11پر سورۂ آل عمران کی آیت نمبر23کا ترجمہ لکھتے ہیں:
’’کیا تم نے ان لوگوں کے طرز عمل پرغور نہیں کیا جن کوکتاب کا کچھ حصہ دیاگیا ہے جب ان کو آپس کے معاملات کافیصلہ کرنے کے لئے کتاب اللہ کی طرف بلایاجاتاہے تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر کر پیچھے ہٹ جاتاہے ۔‘‘
اسی آیت کے تحت نیچے حاشیہ میںلکھتے ہیں کہ
’’ان سے اہل کتاب یعنی مدینے کے یہودی مراد ہیں…افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ آج یہ کلمہ گو امت بھی اس مرض میں مبتلا ہے اور اسی روش کو اپنائے ہوئے ہے۔(ایضا،ص:11)
ڈاکٹرعثمانی نظریات کے حاملین کی طرف سے دیئےگئے اسی مجلہ’’حبل اللہ‘‘ شمارہ نمبر26محرم1435ھ کے صفحہ:17پر لکھا ہے کہ:
’’اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا کہ جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا اس کاگناہ فتویٰ دینے والے پرہوگا۔‘‘
یہ اس تعلیم کانتیجہ ہے کہ صحابہ کرامyفتویٰ دینے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیتے تھے۔(ص:17)
-اس سے واضح ہوا کہ-
1اللہ کی رضاحاصل کرنےو الاعلم اگرکسی قسم کی تنخواہ ،اجرت کے حصول کا سبب بن جائے تو اجرت،تنخواہ وصول کرنے والاجنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا۔
2جوہرمعاملہ میں کتاب اللہ ،وحی الٰہی کے مطابق فیصلے نہ کرے وہ پورا اور پختہ کافر ہے۔
3اسلام میں قاضی کاتصور نہیں اس لئے اس کی تنخواہ بھی نہیں۔
4اسلام میں مفتی کاتصور نہیں اس لئے اس کی تنخواہ بھی نہیں۔
5پیارے محبوب نبی اکرم ﷺ نےفرمایا:’’فتویٰ دینے والے پر گناہ ہوگا اگر بغیر علم کےفتویٰ دے‘‘
6صحابہ کرام بھی فتویٰ دیتے وقت احتیاط سے کام لیتے(y)
7توحید کی بنیاد پر قائم ہونے والی اسلامی مملکت میں’’قاضی‘‘ ریاستی امورپرفائز ہوکراجرت لیتاہے اسلام نے،قرآن وحدیث نے کوئی قدغن نہیں لگائی۔
8کلمہ گو امت بھی یہودیوں کی روش اپناتے ہوئے اپنے تمام معاملات کافیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کرنے کوتیار نہیں۔
ڈاکٹرعثمانی عقائد ونظریات کے حاملین وپیرکار
آنکھیں کھول کر پڑھیں اورتحریری بتائیں کہ:
nلوگوں کے معاملات کافیصلہ کرنے والے’’قاضی‘‘ کتاب اللہ، وحی الٰہی کا علم حاصل کر کے اس کے مطابق فیصلے کریں گے ۔
یا
nلوگوں کے تمام معاملات کافیصلہ ’’قاضی صاحبان‘‘ کتاب اللہ، وحی الٰہی کا علم حاصل کئے بغیر ہی کریں گے۔
vپہلی صورت میں آپ نے اپنے اصول کے مطابق اللہ کی رضا حاصل کرنے والاذریعہ پیشے میں بدل کر،اجرت وتنخواہ درست قرار دے کر نہ صرف ’قاضی صاحبان‘ کو جنت کی خوشبو سے محروم کرنے کازبردست انتظام کیا بلکہ خود بھی اپنے اصولوں کےمطابق کتاب اللہ کاانکار کرکے قلابازیاں کھاتے ہوئے، اپنی مغفرت کوداؤ پرلگاتے ہوئے جنت کی خوشبو سے محروم ہوئے یانہیں۔؟؟
vدوسری صورت میں
آپ اپنے اصولوں کے مطابق لوگوں کے تمام معاملات کافیصلہ کتاب اللہ، قرآن وحدیث کے علم کے بغیر کرواکر نہ صرف لوگوں کو گمراہی میں دھکیلنے،کتاب اللہ سے دور کرنے کے مجرم ہوئے بلکہ کتاب اللہ کا انکار پوری شدت سے کرگزرے اور تمام لوگوں کو گمراہی میں دھکیلتے ہوئے’قاضی صاحبان‘ سمیت اپنی مغفرت داؤ پر لگائے،سب کے ’’سرپرست‘‘بن کریہودی روش پر چلتے ہوئے جنت کی خوشبو سے محروم ہوئے یانہیں۔؟؟
مزید یہ کہ
آپ کے اس جھوٹ کاپو ل کھلنے میں زیادہ وقت بھی نہیں لگا کہ
دسمبر2007بمطابق۱۴۲۸ھ میں کہا:اسلام میں مفتی کا کوئی تصور نہیں۔
اور
تقریبا ۶سال بعد ۱۴۳۵ھ میں آپ نے حبل اللہ کے مجلہ ہی میں نبی اکرم ﷺ کے فرمان سے بھی اقرار کر لیا اورصحابہ کرام yکا فتویٰ دینے کابھی۔
معلوم ہوا وہ لوگ دھوکے دینے والے ،جھوٹ بول کر مفتیان اسلام کوبدنام کرنے والے ہیں جو کہتے ہیں کہ اسلام میں فتویٰ دینے والے مفتی کا کوئی تصور نہیں۔لہذا ایسے لوگوں سے کتنا ہوشیار رہنے کامقام ہے۔
پتہ چلا
اسلام میں قاضی کاتصور ہے تو اسلام میں مفتی کا’فتویٰ دینے والے‘ کابھی تصور ہے۔ اور دونوں کے لئے قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
اب جب کہ آپ کے جھوٹ کاپول کھلنے کے بعد ۲سال گزرنے کو ہیں۱۴۳۷ھ رواں دواں ہے۔ دوسال عرصہ گزرنے کے باوجود آپ کوئی ایسی تحریر،کتاب،کتابچہ نظر سے نہیں گزرا کہ جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ آپ لوگوں نے اپنے جھوٹ کی تردید کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے فرمان اور صحابہ کرم yکے طرز عمل سے محبت کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہو کہ’’اسلام میں ’مفتی‘ کاتصور ہے اور آپ لوگوں نے فلاں فلاں کو’مفتی‘ مقرر کرکے اس پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔
کیا آپ لوگ اب بھی حدیث مبارکہ کےمنکر اورصحابہ کرام کے طرز عمل پر کاربند نہیں ہیں-یا-مفتی مقرر کردیئے گئے ہیں فتوی دینے کے لئے-یا-کیا آپ کے فرقہ کا ہر فرد اب’’مفتی‘‘ بن چکا؟؟
اور بتائیں اب آپ اپنے ان جملوں کو کیسے درست کریں گے :
قرآن وحدیث میں مفتی کاکوئی تصور نہیں۔
اسلام میں مفتی یامولوی کا کوئی تصور نہیں۔
قرآن وحدیث میں مفتی کا کوئی تصور ہی نہیں تو اس کی تنخواہ کیسی۔
-غور فرمائیں-
آپ کی نظر میں ڈاکٹر عثمانی مفتی ہو نہیں سکتے کیونکہ ۱۴۲۸ھ تک کو اس کے پیروکار’مفتی‘ کا اسلام میں تصور ہی نہیں مانتے ورنہ وہ ان کی اپنی تحریر کے مطابق ’اسلام سے باہر‘ کاتصور بن جائیں گے۔
جبکہ’’ڈاکٹر عثمانی‘‘ کا’قاضی‘ بن کر رہائشی امورپر فائز ہو کر قرآن وحدیث کے مطابق فیصلے کرکے اجرت لینا ہی آپ کو گوارانہیں اور نہ ہی ثابت کیا۔
اب بتائیں جوصاحب’نہ مفتی‘ ہو اور نہ ’قاضی‘ کیا اسے اسلام نے اجازت دی ہے کہ وہ لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے اور ان کے کفر واسلام کے فیصلے صادر کرتا رہے؟
اگر کفر کے فتوے لگانا درست ہو تو جوشخص ’مفتی‘ کا اسلام میں تصور ہی ختم کردے،اس کے اصول کے مطابق’غیراسلامی‘ تصور والے کام کا مرتکب ٹھہرا۔
اگر اللہ کی رضا والاعلم حاصل کرکے کفرواسلام کافیصلہ کرنے والااجرت والاقاضی بن جائے تو اپنے اصولوں کے مطابق’فی سبیل اللہ‘ سے گیا۔
اور بتائیں
قاضی فیصلہ کرے گا لیکن کب؟ جب دونوں فریق موجود ہوں -یا- ہر فن مولابن کر جومرضی کرتارہے۔مفتی بھی؍قاضی بھی!
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کاصحیح علم وفہم عطافرماکر اس پر ثابت قدم رکھے۔آمین

About ابومحمد مختار احمد مغل

Check Also

Dr. Usmani K Nazriyat Or Un Ka Rad

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply