Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » November Magazine » جشن میلاد سے متعلق ایک تحریر کا تحقیقی جائزہ

جشن میلاد سے متعلق ایک تحریر کا تحقیقی جائزہ

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

کچھ عرصہ قبل ہم تک ایک لٹریچر بنام ’’عید میلاد کی شرعی حیثیت‘‘ پہنچا ۔جو عوام الناس میں تقسیم کیا گیا تھا ۔یہ لٹریچر ماہنامہ تحفظ کے ایڈیٹرشہزاد قادری صاحب کی تحریر پر مشتمل تھا ،جس میں جشن عید میلاد النبی کو ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی گئی تھی۔نیز یہی مضمون ماہنامہ تحفظ جنوری ،فروری ،2013ءکے شمارے میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ اگرچہ یہ لٹریچر قابل التفات نہ تھا ،کیونکہ اس سے پہلے اکابر بریلویت نے جو کچھ لکھا، اس کے بحمداللہ علمی و تحقیقی جوابات وقتاً فوقتاً جماعت کے رفقاء کی طرف سے شائع ہوتے رہے ہیں۔لیکن اس لٹریچر کے کچھ منفی اثرات کو دیکھتےہوئے، بعض احباب کی خواہش تھی کہ اس کی حیثیت کو واضح کیا جائے ۔بتوفیق اللہ و عونہ ہم نے اس حوالےسےچند گزارشات لکھی ہیں ۔

مسئلہ تاریخ ولادت :

موصوف نے اپنی بات کا آغاز اس بات سے کیا ہے کہ بارہ ربیع الاول ہی نبی ﷺ کی ولادت کی تاریخ ہے ۔

جہاں تک نبی ﷺ کی ولادت کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ہماری درج ذیل گفتگو،موصوف کے پیش کئے گئے سارے اقوال سے مستغنی کردے گی(ان شاءاللہ)اگرچہ بعض اقوال میں موصوف نے جو کاری گری کی ہے اس کی حقیقت اپنے مقام پر عیاں کی جائے گی۔

نبی  ﷺ کی ولادت کے حوالےسے کچھ تفصیل قابل توجہ ہےکہ آپکی ولادت کے دن کے حوالے سے خود نص صریح سے واضح ہے کہ آپﷺ پیر کے دن پیدا ہوئے۔(صحیح مسلم : 1162،)اب سال اور مہینہ اور دن کے تعین کا مسئلہ رہ گیا۔تو آئیے اس کی وضاحت بھی ملاحظہ فرمائیں ۔

جہاں تک سال کا معاملہ ہے تو یہ بھی کثیر تعداد بلکہ بعض نے اس پر اتفاق کی بات کی ہے کہ وہ سال عام الفیل تھا،اور یہ بات خود موصوف کے نزدیک بھی مسلّم ہے۔

اور جہاں تک مہینہ کا معاملہ ہے ،تو وہ بھی جمہور کے نزدیک ماہ ربیع الاول ہے۔اور اس پر بھی موصوف متفق ہیں۔

لہذا تعیّن سال ،ماہ اور دن میں ہمارا اورموصوف کا اتفاق ہے۔ اب رہ گیا مسئلہ تعیّن تاریخ کا !!تو یہ ایک حقیقت ہے کہ اس حوالے سے کافی اختلاف ہے ،بلکہ صرف مطلق اختلاف سے قطع نظر ماہ ربیع الاول کی ہی تاریخوںکے حوالے سے کافی اختلاف ہے،مثلاً بعض کے نزدیک دو ،بعض کے نزدیک آٹھ ،بعض کے نزدیک نو ،بعض کے نزدیک بارہ اور بعض کے نزدیک سترہ ربیع الاول ہے ۔اب اس اختلاف کی صورت میں یا تو توقف کیا جائے گا یا پھر کسی ایک قول کو ترجیح دی جائے گی اور ترجیح کے لئے سبب ترجیح ہوناضروری ہے ۔لہذا ہم نے نو والے قول کو ترجیح دی ہے اس کا سبب ترجیح یہ ہے کہ فلکیات کا علم جو ایک مسلمہ علم ہےاور اس علم کے ما ہر محمود پاشا فلکی کی نبی ﷺ کے دور میں ہونے والے چاند گرہنوں کے ذریعے سےتحقیق کے ساتھ یہ نتیجہ نکلتاہے کہ آپﷺ کی ولادت نو ربیع الاول کو ہوئی۔اس تحقیق کو کئی ایک سیرت نگاروں نے ذکر کیا اور تسلیم بھی کیا ۔لہذا یہی راجح ہے کہ نو (9)ربیع الاول ہی آپﷺ کی ولادت کا دن ہے ۔

اس تحقیق کا موصوف اور ان کے ہم مسلکوں کے پاس کوئی معقول جواب نہیں ۔لہذا انہیں بھی یہی مؤقف اختیار کر لینا چاہئے ۔ورنہ اسی علم فلکیات کے ذریعے سے ان پر اپنے مؤقف کو ثابت کرنا ،ایک ایسا قرض ہے جسے ابھی تک چکایا نہیں جا سکا ۔

اس مختصر سی گفتگو سے موصوف کے بارہ ربیع الاول کی تائید میں پیش کئے جانے والے تمام اقوال کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے ۔البتہ چندایک اقوال جن میں موصوف نے انتہائی نا انصافی اوردھوکہ سے کام لیا ہے ہم ان کی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

موصوف البدایہ والنھایہ اور بلوغ الامانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’حافظ ابو بکر ابن ابی شیبہ (متوفی 235ھ ) سندصحیح کے ساتھ روایت کرتےہیں کہ عفان سے روایت ہے کہ وہ سعیدبن میناء سے روایت کرتے ہیںکہ حضرت جابر اورحضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادت عام الفیل میں بروز پیر بارہ ربیع الاول کو ہوئی‘‘(عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت :صفحہ نمبر 1)

جواب:

اولاً: آپ نے جو اس کی سند پر یہ کلمات کہہ دئیے ہیں کہ’’ سند صحیح کے ساتھ ‘‘اس کلمہ سے چند سوال پیدا ہوتے ہیں کہ آپ ویسے ہر ضعیف و موضوع کو اپنے مطلب کے لئے بیان کرتے پھرتے ہیں ،تو یہاں آپ کا یہ کلمہ کہنا چہ معنیٰ دارد ۔بلکہ مزید اس پر بھی یہ کہ آپ کےکتنے ہی عقائد و مسائل کی اساس صحیح تو درکنار موضوع روایات ہیں ۔اور ایسی ضعیف و موضوع روایات کو خوب بیان کیا جاتا ہے ۔جن کی چند مثالیں دیکھنے کے لئے ماہنامہ دعوت اہل حدیث شمارہ نمبر 143،144میں شائع شدہ راقم الحروف کے مقالات کا مطالعہ کیا جائے ۔

ثانیاً:قبل اس کے کہ ہم یہ حقیقت واضح کریں کہ اس کی سند صحیح نہیں۔یہاں اس اثر سے متعلق جسے موصوف نے صحیح قرار دیا ہے ۔محض میلاد کے اثبات کے لئے انہوں نے اپنی شب معراج کی بدعتوں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے ؟؟کیونکہ موصوف نے اس اثر کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اور اسی اثر میں یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کو اسی دن (12 ربیع الاول کو ) معراج بھی کروایا ہے ۔اب یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ اس اثر کی سند کو صحیح قرار دینے کےبعد موصوف کس منہ سے 27 رجب کو شب معراج کے نام پر مختلف قسم کی اختراعات کے حامل ہیں ؟کیسی دو رنگی ہے کہ یہی اثر اس بارے میں پیش کیا جائے کہ معراج 27رجب کو نہیں ہوئی تو یہ اثر ناقابل عمل ہوجاتا ہے اور پھر جب ربیع الاول آئے تو اسی کی سند صحیح ہوجاتی ہے اور اسی اثر کی بنیاد پر نبی ﷺ کی ولادت کی تاریخ بارہ ربیع الاول کو متعین کردیا جاتا ہے ۔کیا یہ بالکل وہی طرز عمل نہیں کہ جس کا نقشہ قرآن نے یوں کھینچا: [أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ](البقرہ : 85) یعنی: کیا تم کتاب کے بعض احکام مانتے ہو اور بعض کا انکار کر دیتے ہو؟

لہذا ہماری محترم سے یہی گزارش ہے کہ دو رنگی چھوڑ یک رنگ ہوجا!!

ثالثاً: اس میں معراج کے ساتھ ساتھ ہجرت کا بھی ذکر ہے ۔اور وفات کا بھی ۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آگےچل کر خود موصوف یہ لکھتے ہیں کہ : ’’ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ علمائے اسلام کا حضور ﷺکی تاریخ وصال میں اختلاف ہے۔‘‘(مذکورہ لٹریچر : صفحہ نمبر: 3)موصوف کے اس طرز عمل کو قارئین ہی جو چاہیں نام دیں کہ مذکورہ اثر میں ہی وفات کا لفظ موجود ہے کہ وہ بھی بارہ ربیع الاول کو ہوئی مگر موصوف کواس میں اختلاف نظر آرہا ہے حالانکہ بہ نسبت ولادت،تاریخ وفات میں اختلاف بہت کم ہے ۔اورصحیح نتیجے تک پہنچنا بہت آسان ۔اور پھر مزید اہل علم کی بڑی تعداد کا مؤقف یہی ہے ،جن میں سیدہ عائشہ ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما ،ابن سعد ،،ابن اسحق ،ابن حبان ،امام طبری ،ابن اثیر ،امام نووی،مولاناشبلی نعمانی،قاضی سلیمان منصورپوری،صفی الرحمن مبارکپوری، ابوالحسن علی ندوی ۔ان سب کا یہی مؤقف ہے کہ نبی ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کوہوئی ۔[دیکھئے:طبقات ابن سعد :273 ،272/2، البدایۃ والنھایۃ:255/5،الکامل فی التاریخ لابن الاثیر :219/2، دارالکتاب العربی ،شرح مسلم :82/15،تاریخ طبری:455/2، مؤسسۃ العلمی للمطبوعات ،سیرت النبی: 183/2،رحمۃ للعالمین:251/1،الرحیق المختوم :۷۵۲،السیرۃ النبویۃ: 404، دارالشرق الطبعۃ السابعۃ ]

امام ذہبی نے یہی مؤقف سعید بن عفیر ،محمدبن سعد الکاتب کا بھی نقل کیا ہے ۔(تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر الاعلام للذھبی، 633/1)

ملا علی قاری نے اسی مؤقف کو اکثر کا مؤقف قرار دیا ۔(مرقاۃ شرح مشکوۃ :104/11،مکتبہ حقانیہ پشاور )

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسی مؤقف کو جمہور کا مؤقف قرار دیا ۔(فتح الباری : 163/8)

اور پھر مزید یہ کہ یہی مؤقف احمد رضا صاحب کا ہے ۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت : 252/2)

اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ موصوف کا یہ جملہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟؟

رابعاً:اب آئیے مذکورہ بالا اثر کی سند پر بحث کر لیں، جسے موصوف صحیح قرار دے چکے ہیں ۔

عرض یہ ہے کہ یہ اثر سنداً ضعیف ہے ۔اسے کئی ایک ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔مثلاً

1۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ :

                                  انہوں نے اس اثر کو نقل کیا اور اس کے بعد اس کی سند پر کلام کرتے ہوئے یہ کہا ’’فیہ انقطاع ‘‘ اس کی سند میں انقطاع ہے ۔(البدایہ والنھایہ : 107/3،طبع دارالریان ،و نسخۃ اخری :109/3 ،طبع مکتبۃ المعارف بیروت)

2۔امام جورقانی :

                                    امام جورقانی نے اس روایت کو اپنی کتاب الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير میں نقل کیا ہے اوراسے صحیح نہیں کہا ہے ۔اور کوئی بھی باشعور سمجھ سکتا ہے کہ ایک روایت کو الاباطیل والمناکیر والصحاح والمشاہیر کے تحت لایاجائے اور اس پر صحت کا حکم نہ لگایاجائے تو اس کا کیا مطلب ہوا؟

خلاصہ یہ ہے کہ یہ اثر ضعیف اور وجہ ضعف جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے بیان کی ہے کہ اس میں انقطاع ہے ۔کیونکہ عفان بن مسلم کا سعید بن میناء سے سماع ثابت نہیں ۔عفان بن مسلم اتباع التابعین کے شاگردوں میں سے ہیں ،اور سعید بن میناء متوسط طبقے کے تابعین میں سے ہیں ۔نیز کتب رجال میں کسی نے بھی عفان بن مسلم کے اساتذہ میں سعید بن میناء کا ذکر نہیں کیا اسی طرح سعید بن میناء کے تلامذہ میں عفان بن مسلم کا ذکر نہیں ملتا ۔

لہذا یہ اثر سنداً ضعیف و منقطع ہے ۔جو ناقابل حجت ہے ۔

امام ابن جریر طبری سے متعلق شبہ کا جواب :

موصوف نے یہ بات لکھی کہ نبی ﷺ کی ولادت ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی ۔جبکہ یہ قطعاً امام طبری کا اپنا مؤقف نہیں ہے بلکہ امام طبری نے اس حوالے سے کئی ایک اقوال پیش کئے ہیں۔ امام طبری کی اس حوالے سے یہ بات قابل غور ہے فرماتے ہیں کہ صحیح احادیث کی روشنی میں نبی ﷺ کی پیدائش کے حوالے سے واضح ہے کہ آپ ﷺ پیر کو پیدا ہوئے اب وہ پیر کون سا تھا اس میں اختلاف ہے ،پھر اختلاف کو ذکر کیا ۔(تاریخ طبری : باب من الشھر الذی نبئی فئیہ و ما جاء فی ذلک )

اب اندازہ لگائیں کہ امام صاحب تو اختلاف ذکر کرہے ہیں اور اس حوالےسے دن کی طرف توجہ دلارہے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ،کہ آپ کی ولادت کا دن پیر ہے ،البتہ تاریخ میں اختلاف ہے ،جبکہ محترم کا مزعومہ بات کو امام طبری کی طرف منسوب کرنا یقیناً خیانت اور دھوکہ ہے ۔

صدیق حسن خان صاحب کا قول :

موصوف صدیق حسن خان صاحب کی عبارت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’غیر مقلدین (اہلحدیث ) کے پیشوا علامہ سیدصدیق حسن خان اپنی کتاب الشمامۃ العنبریہ کے صفحہ نمبر 6 پر رقم طراز ہیں کہ اہل مکہ کا اس پر عمل ہے ۔ طیبی نے کہا کہ آپ ﷺ کی ولادت پیر کے دن بارہ ربیع الاول کو ہوئی ۔‘‘(مذکورہ لٹریچر : صفحہ نمبر : 1)

جواب:

کتنی واضح سی عبارت ہے جو موصوف نے نقل کی ہے کہ صدیق حسن خان صاحب طیبی کا قول نقل کر رہے ہیں۔ اب اس سے یہ مفہوم کشید کرنا کہ ان کا بھی یہی مؤقف ہے یہ بڑی نا انصافی ہے ۔بلکہ اس اصول کے تحت آپ کے اعلیٰ حضرت بھی آجائیں گے کہ انہوں نے 12ربیع الاول کے علاوہ دیگر اقوال بھی پیش کئے ہیں جو اس بات کو مستلزم نہیں کہ انہوںنے جتنے اقوال پیش کئے ہیں،وہ سب ہی ان کا مؤقف ہیں ۔

اب جب ہم نے صدیق حسن خان صاحب کی اس عبارت کی وضاحت کردی ہے ،اب یہاں ایک حوالہ ہم پیش کئے دیتے ہیں ۔

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ولدنبینا محمد ﷺ فیہ‘‘ یعنی : ہمارے نبی کریمﷺ کی ولادت دس محرم کو ہوئی ہے۔

(غنیۃ الطالبین مع فتوح الغیب مترجم : 869/1،کتب خانہ سعودیہ، حدیث منزل کراچی )

معصومیت دیکھئے ایک طرف تو شیخ عبدالقادر جیلانی کو غوث الاعظم مانا جائے آپ کو مختار کل مانا جائے ،اور آپ کے کشف و کرامات بیان کرتے ہوئے آپ کو عالم الغیب مان لیا جائے ۔لیکن جب یہی شیخ عبدالقادر جیلانی کہہ دیںکہ نبی ﷺ کی ولادت دس محرم کو ہوئی ۔اس وقت شیخ عبدالقادر جیلانی سے متعلق سارے عقائد ونظریات کو پس پشت ڈال کر ان کے اس قول سے اعراض کر لیا جاتا ہے ۔

تاریخ ولادت کےحوالے سے ہماری اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کی ولادت نو ربیع الاول کو ہوئی ،البتہ موصوف کے پاس سوائے تضاد کے اور کچھ نہیں ۔کیوں کہ اگر وہ بارہ ربیع الاول کو تاریخ ولادت کے طور پر مانتے ہیں اور مذکورہ بالا ابن عباس رضی اللہ عنہ  کے اثرسے سہارا لیتے ہیں تو شب معراج کی بدعتیں خطرے میں پڑتی ہیں ۔اوردوسری طرف اپنے عقائد کی رو سےشیخ عبدالقادر جیلانی جن کے بارے میں آپ کا عقیدہ ہے کہ وہ غوث الاعظم ہیں ،ان کی بات نہ مان کر گستاخ بھی ٹھہرتےہیں۔ اور اگر بارہ ربیع الاول کی تاریخ ولادت کو نہیں مانتے تو بارہ ربیع الاول کی منائی جانے والی بدعات خطرے میں پڑتی ہیں ۔

کیاجشن میلاد قرآن سے ثابت ہے  ؟

 موصوف اپنے مزعومہ فلسفے کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتےہوئے عنوان قائم کرتے ہیں :’’قرآن مجیدسے میلادمصطفٰی ﷺ منانے کے دلائل‘‘اس عنوان کے تحت سورۃ الضحیٰ کی یہ آخری آیت پیش کرتے ہیں ۔

ترجمہ : اپنے رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو ۔ (مذکورہ لٹریچر : صفحہ نمبر 1)

تبصرہ :

یہی ترجمہ احمد رضاخان بریلوی اور مفتی احمد یار خان نعیمی نے کر رکھا ہے اور موصوف نے تھوڑا اس ترجمے میں مزید اضافہ کردیااحمد رضا صاحب نے ترجمہ کیا :اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ۔

مگر موصوف کو شاید اپنے اعلیٰ حضرت کا یہ ترجمہ پسندنہ آیا اور شایدان سے بڑے اعلیٰ حضرت بننے کی کوشش میں ایک اور’’ خوب ‘‘ کا اضافہ کر دیا ۔یعنی موصوف نے لفظ ’’خوب ‘‘ کو تکرارکے ساتھ اور ان کے اعلیٰ حضرت نے بغیر تکرار کے ساتھ ترجمہ کیا ۔چہ خوب!

اب اس ترجمے کو سامنے رکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یا تو اعلیٰ حضرت پیچھے رہ گئے اور موصوف آگے نکل گئے یا پھر موصوف اپنے مبالغے کو تسلیم کر لیں !!

اولاً: ہماری گزارش یہ ہے کہ کیا یہ ہی ترجمہ جو آپ نے کیا ہے صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس آیت پر اس طرح سے عمل کیا ہو جس طرح سے آپ نے کیا اگر نہیں !!تو پھر کوئی بھی با شعور آدمی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ آپ کے یہاں فہم صحابہ کی کیا وقعت ہے ؟؟ نیز قرون اولیٰ کے فہم سلف صالحین کی کیا وقعت ہوگی آپ کے یہاں ؟؟حقیقت یہ ہے کہ یہ ترجمہ کرنا معنوی تحریف ہے ۔

تحریف کے حوالے سے احمد یار خان نعیمی صاحب کا قول ملاحظہ کیجئے :

’’قرآن کی تحریف کرنا کفر ہے ۔‘‘ (جاء الحق : 18/1)

مزید لکھتے ہیں : ’’اب تفسیر قرآن کے چند مرتبے ہیں ،تفسیر بالقرآن۔ یہ سب سے مقدم ہے ۔اس کے بعد تفسیر قرآن بالاحادیث کیوں کہ حضور علیہ السلام صاحب قرآن ہیں ۔ان کی تفسیر قرآن نہایت ہی اعلیٰ،پھر قرآن کی تفسیر صحابہ کرام کے قول سے خصوصاً فقہاء صحابہ اور خلفاء راشدین کی تفسیر ۔

رہی تفسیر قرآن تابعین و تبع تابعین کے قول سے ۔یہ اگر روایت سے ہے تو معتبر ورنہ غیر معتبر ‘‘ (جاء الحق : ایضاً)

اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ سب سے مقدم قرآن کی تفسیر ہے پھر نبی ﷺ ،پھر صحابہ اور پھر تابعین بلکہ تابعین کے بارے میں تو نعیمی صاحب نے لکھ دیا ہے کہ اگر ان کا قول روایت سے نہیں تو غیر معتبر ہے۔یقیناً جب تابعی کے قول کی جب کوئی حیثیت نہیں تو آج کے کسی مولوی ،مفتی کے قول یا غیر مستند تفسیر کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے ؟بلکہ قرآن کے معنیٰ میں تحریف کرنے والا نعیمی صاحب کے قول کی روشنی میں کفر کا مرتکب ہے ۔

اس آیت کا صحیح مفہوم : جیسا کہ نعیمی صاحب کا قول گزرا کہ تفسیر قرآن میں سب سے مقدم جو قرآن سے ہو ۔اب قرآن مجید ہی کی روشنی میں اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھتے ہیں ۔

سورۃ الضحیٰ پوری سورت کو سامنے رکھیں کہ اس میں سب سے پہلے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا اور نزول وحی کا سلسلہ جاری ہے ۔جس کا پس منظر فترت وحی کے ایام میں عوراء بنت حرب ،ابو سفیان کی بہن اور ابو لہب کی بیوی نے کہا تھا کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا تو اللہ نے نبی ﷺ کو بطور تسلی کے اور اس قول کے مقابلے میں یہ سورت نازل کی کہ اللہ نے تجھے اکیلا نہیں چھوڑا ،اور سلسلہ وحی جاری ہے اور پھر آیت نمبر(4) میں ایک اور خوشخبری سنادی کہ اب آئندہ زندگی میں آپ کے لئے بڑے اچھے دن آنے والے ہیں ۔اور یہ آیت ایسی جامع ہے کہ گویا کہ اس جملے کی ضمن میں اللہ نے اپنی کتنی ہی نعمتوں کا ذکر کردیا گیا جن سے نبی ﷺ کو نوازا گیا ۔پھر آیت نمبر (5) میں مزید انعام کا ذکر ہے کہ اللہ آپ کو دے گا آپ راضی و خوش ہو جائیں گے ۔تو ان آیات نمبر 3تا 5 میں عظیم انعامات کاذکر کرنے کے بعد آیت نمبر (6،7،8) میں آپ کی زندگی کے مختلف مراحل سے متعلق نعمتوں کا ذکر جن میں یتیمانہ بچپن میں نصرت ،راہ ہدایت کا راہی اور ایام افلاس میں تونگری و غنی کردینا ۔ان نعمتوں کا ذکر ہے ۔اور پھر انہی کی نسبت آپ ﷺ کوبالخصوص کفالت یتامی ،سائلین کو دینا اور اور اللہ کی نعمتوں کامطلق طور پر بھی شکر ادا کرنے کا حکم دیا جارہاہے۔

یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ بکثرت رات کا قیام کیا کرتے کہ آپ کے پاؤں سوجھ جاتے ،اور جب آپ سے کہا جاتا کہ آپ کو اس قدر عبادات کی کیا ضرورت آپ تو معصوم عن الخطاء ہیں ؟تو نبی ﷺ فرماتے کہ افلا اکون عبداً شکوراً ۔کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں ۔

(صحیح بخاری : 4837،)

خلاصہ یہ ہے کہ اس سیاق قرآنی سے اس آیت کا صحیح مفہوم واضح ہو چکا ہے ۔

ثانیاً: اس آیت میں کہاں یہ لکھا ہےکہ بارہ ربیع الاول کو جلوس نکال کر نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی منانی ہے ۔

ثالثاً: اگر خوشی منانے کو مان بھی لیا جائے تو طریقہ بھی محمد ﷺ کا ہوگا یاخود ساختہ ومن گھڑت؟؟اور نبی ﷺ نے اپنی ولادت کی خوشی روزہ رکھ کر منائی ۔کما سیاتی ان شاءاللہ

رابعاً:کس دن کو خوشی منانی ہے؟گذشتہ گفتگو کی روشنی میں یہ مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

دوسری دلیل :

موصوف نے سورہ یونس سے ایک آیت کا غلط مفہوم لیتے ہوئے ترجمہ کیا : ’’تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت پر چاہئے کہ وہ خوشی کریں ۔وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ۔‘‘(سورہ یونس آیت نمبر : 58) (مذکورہ لٹریچر : صفحہ نمبر : 1)

احمد رضا نے بھی اس کا یہاں معنی کیا کہ’’ خوشی کریں ۔‘‘

تبصرہ :

            محترم کا یہ ترجمہ قرآن میں معنوی تحریف ہے جس کے حوالے سے ہم رد پیش کر آئے ہیں ۔اگرموصوف کا کیا ہوا معنی یہاں کیا جائے تو قرآن مجید کے ایسے دیگر کئی مقامات کا معنی غلط ہوجائے گا،کہ وہاں اسی مادے ’’فرح ‘‘سے مختلف صیغے آئے ہیں ۔جیسا کہ :

[فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ] (التوبہ : 81) یعنی : پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے ۔

 اگر مذکورہ آیت کا معنی انہوں نے خوشی منائی تھی اور عید منائی تھی۔ جوکہ تا قیام قیامت کوئی ثابت نہیں کر سکتا ۔اور کمال کی بات یہ ہے کہ یہاں بریلویت کے اعلی حضرت نے بھی خوشی منانے کا معنی نہیں کیا۔ جیسا کہ اوپر کیا گیا ترجمہ انہی کا ہے ۔اب ایک جگہ خوشی منانے کا معنی اور دوسری جگہ خوش ہونے کا معنی کرنا ؟؟

اسی طرح (الشوری : 48)میں اسی مادے ’’فرح ‘‘ سے لفظ [وَ اِنَّاۤاِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا ] استعمال ہوا ہے ۔اس آیت کا احمد رضا بریلوی کا ترجمہ یہ ہے : اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیںاور اس پر خوش ہوجاتا ہے ۔

اب دیکھیں یہاں ترجمہ کیا جارہا ہے کہ ’’خوش ہو جاتا ہے ‘‘لیکن وہاںاسی مادہ کا معنی ’’خوشی کریں‘‘کیا؟؟جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔جو معنی سورہ یونس کی مذکورہ آیت کا کیا جاتا ہے، وہی معنی’’یہاں‘‘ کیا جائے تو نتیجہ نکلے گا کہ ہر انسان ہی خوشی منارہا ہے اور جلوس نکال رہا ہے اور عید منا رہا ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا مذکورہ معنی صحیح نہیں اور یہ ترجمہ کرنے والوں نے محض اپنی خواہش پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے قرآن مجید میں معنوی تحریف کی ہے ۔

 اس آیت کا صحیح مفہوم : اس صورت کی آیت نمبر (57) میں قرآن مجید کی نعمت کا خصوصی تذکرہ ہوا ہے کہ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت آچکی ۔یہ دلوں کی امراض کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ۔

اس آیت نمبر (57) میں قرآن مجید کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیت (58) میں ہی کہا گیا کہ اس پر خوش ہو جاؤ یعنی اسے اپنا مطاع بنانےمیں خوش ہوجاؤاور اس سے یہ تعلق جو کچھ تم جمع کرتے ہو اس سے یہ بہتر ہے ۔مزید بھی اس آیت میں مذکور الفاظ فضل اور رحمت کے حوالے سے اہل علم کے اقوال موجود ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے ۔مگر جو اس سے آیت سے اثبات میلاد کے لئے کشیدہ جاتا ہے ۔وہ سراسر غیر ثابت ہے ۔نبی ﷺ کے اخلاق کو قرآن کہا گیا معنیٰ یہ کہ قرآن مجید کی عملی تصویر اور آپ کی زندگی میں یہ دن 63مرتبہ آیا ،مگر کوئی ایک مثال مروجہ جشن کی صورت کی سی ثابت نہیں کی جاسکتی ۔

کیا احادیث سے جشن میلاد ثابت ہے ؟

موصوف نے عنوان قائم کیا :احادیث مبارکہ سے میلادمصطفٰی ﷺمنانے کے دلائل ‘‘اس عنوان کے تحت دلیل ذکر کی :

’’حضرت ابو قتادہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ !آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟آپ نے جواب دیا اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔ (صحیح مسلم جلد اول صفحہ نمبر 7)(صفحہ نمبر 1)

تبصرہ :

یہی گزارش ہماری ہےکہ اس حدیث پر عمل کریں کیونکہ اس حدیث میں آپ ﷺ کےروزہ رکھنے کا ذکر ہے نہ کہ کسی اور عمل کا ۔اب جسے خوشی ہے اور نبی ﷺ کی خوشی جیسی خوشی ہے تو اسے یہی عمل کرنا چاہئے ،یعنی ہر پیر کو روزہ رکھنا چاہئے ۔اور جسے نبی ﷺ کی خوشی جیسی خوشی نہیں وہ جو چاہے مرضی کرے چاہے جلوس ،جلسے نکالے اور اربوں روپے خرچ کردے ۔اسے نبی کی خوشی جیسی خوشی نہیں ۔البتہ یہ تو واضح ہے کہ جسے نبی جیسی خوشی نہیں(یعنی جوآپ کی ولادت کی مناسبت سے بس صرف روزے پر اکتفاء نہ کرے اور باقی اختراعات سے خود کو محفوظ نہ رکھے ۔) اسے نبی کی ولادت پر خوشی کیسے ہوسکتی ہے ؟؟

فافھم فانہ واضح

ثانیاً:پر نبی ﷺ نے اس روزے کی دو وجہ بتائیں۔ ایک ولادت اور دوسری نبوت۔میلادکے قائلین سے گزارش ہے کہ ذرا اپنا جائزہ لیں کہ نبی ﷺ سے عشق کا نعر ہ بڑے زور و شور سے لگایا جاتا ہے اور جس دن نبوت ملے اس دن خاموشی کیوں ؟؟

تنبیہ : یہ جملہ بطور التزامی جواب کے کہا گیا اس سے ہر گز یہ کشید نہ کیا جائے کہ ہم نبوت والے دن کو مروجہ جشن کی طرح منانے کی دعوت دے رہے ہیں ۔

ثالثاً: اس میں دن کا ذکر ہے نہ کہ بارہ تاریخ کا ۔جبکہ موصوف بارہ ربیع الاول کے مروج جشن عید میلاد کو ثابت کر رہے ہیں ۔

رابعاً:اس حدیث سے صحابہ نے وہی سمجھا جو آپ ﷺنے بیان کیا، کہ اس دن روزہ رکھنا چاہئے۔ نہ کہ وہ جو بریلویہ نے تراشہ کہ بارہ ربیع الاول کو جشن منانا چاہئے ،جس کا اس حدیث سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ اب جن کی عقل دانی کا عالم یہ ہو کہ انہیں پیر کے روزے میں بارہ ربیع الاول کا جشن نظر آرہا ہو تو ایسی عقلوں پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ۔

دوسری دلیل :

’’حدیث شریف ابو لہب کو جب اپنے بھائی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے یہاں بیٹے کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کردیا ۔ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑے برے حال میں ہے تو اس سے پوچھا گیا کیا گزری ؟ ابولہب نے جواب دیا ’’مرنے کے بعد کوئی بہتری نہ مل سکی ،ہاں مجھے اس انگلی سے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے (اپنے بھتیجے محمد ﷺ کی ولادت کی خوشی میں)ثویبہ لونڈی کو آزاد کیا تھا۔ ‘‘(بخاری شریف ،کتاب النکاح ،حدیث5101 ،ص912،مطبوعہ داراسلام ریاض سعودی عرب )(مذکورہ پملٹ : 2)

مذکورہ واقعہ سے متعلق موصوف کی کذب بیانیاں :

پہلا جھوٹ : موصوف نے اسے حدیث باور کروایا جبکہ یہ حدیث نہیں ۔حدیث نبی ﷺ کے قول فعل اور تقریر کو کہا جاتا ہے یہاں یہ تینوں چیزیں موجود نہیں ہیں ۔بلکہ کسی مجہول کا خواب اور وہ بھی کافر کے بارے میں اسے حدیث کہنا آپ کے مبلغ علم کو واضح کردیتا ہے ۔

دوسرا جھوٹ :

موصوف نے صحیح بخاری طبع دارالسلام کےحوالے سے، ابو لہب کے ثویبہ کو آزاد کرنے کی مذکورہ وجہ لکھی ،کہ ’’ابو لہب کو جب اپنے بھائی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے یہاں بیٹے کی خوشخبری ملی تو بھتیجے کی آمد کی خوشخبری لانے والی کنیز ’’ثویبہ ‘‘ کو اس نے انگلی کا اشارہ کردیا ۔‘‘جبکہ ہم نے اس محولہ طبع کو بھی چیک کیااور موصوف کے مکتبہ فکر کے کسی ادارے کے مطبوعہ میں بھی یہ الفاظ جو موصوف نے لکھے ہیں ۔نظر نہیں آئے ۔صحیح بخاری کی روایت میں قطعاً یہ مذکورہ کلمات موجود نہیں ۔لہذا یہ امام بخاری کی طرف بہت بڑا جھوٹ ہے ۔

تیسرا جھوٹ :

اسی طرح موصوف نے خواب دیکھنے والے کا جو نام لکھا ہے وہ عباس ہے ،حالانکہ صحیح بخاری میںقطعاً عباس کا نام نہیں ۔بلکہ صحیح بخاری کے علاوہ بھی بعض دیگر کتب میں ہمیں یہ روایت ملی لیکن عباس کا نام ہمیں اس میں نہیں ملا اور یہ مرسل ہی ملی ۔لہذاموصوف کا صحیح بخاری کے حوالےسے یہ الفاظ لکھنا ’’ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا ‘‘۔یہ صحیح بخاری پر الزام باندھا گیا ہے ۔اورسیاہ جھوٹ ،نرا دھوکہ ہے ۔

مذکورہ واقعہ کا رد :

اولاً: یہ روایت مرسل ہے، عروہ اس خواب کو بیان کر رہے ہیں ۔لیکن عروہ نے کس سے سنا یہ واضح نہیں ۔

ثانیاً : یہ خواب دیکھنے والا مجہول ہے اور مجہول کےبارے میں آپ کے اعلیٰ حضرت کیا فرماتے ہیں ،ملاحظہ فرمائیں :’’ان لفظۃ یعنی قبل ان یغسلوھا مدرج فی الحدیث ولا یدری قول من ھو ولاحجۃفی المجہول۔‘‘

کہہ رہے ہیں کہ لفظ ’’یعنی قبل ان یغسلوھا ‘‘ مدرج ہے اور یہ نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے،اور مجہول سے دلیل نہیں لی جاتی۔

(فتاوی رضویہ : جلد نمبر 2)

اگر ابھی بھی نہیں سمجھے تو لیجئے ایک اور حوالہ احمد رضا صاحب کا ملاحظہ فرمالیں : ’’والنقل فــــــعن المجھول لایعتمد ‘‘ یعنی : مجہول سے نقل کرنا قابل اعتماد نہیں ۔(فتاوی رضویہ : جلد نمبر 1)

لہذا مجھول سے بیان کرنا کوئی حجت نہیں رکھتا۔

ثالثاً : کئی ایک سیرت نگاروں کے حوالے پیش کئے جا سکتے ہیں،جن میں ابن سعد ،ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی، ابن عبدالبر وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ابو لہب نے ثویبہ کو نبی ﷺ کی ہجرت کے بعد آزاد کیا تھا ۔حافظ ابن حجرنے بھی ابن سعد کے حوالے سے اسی بات کو نقل کیا۔ حوالوں کے لئے دیکھئے :طبقات ابن سعد :109 ،108/1 طبع دار صادر بیروت،المنتظم فی التاریخ:260/2،دارالکتب العلمیہ الوفا باحوال المصطفی : 107/1،دارالکتب الحدیثۃ،الاستیعاب :135/1دارالکتب العلمیہ ،الاصابہ :36/4،دارالکتب العلمیہ )

لہذا مذکورہ بالا مرسل قول،جوکہ ایک مجہول کے خواب پر مشتمل ہے۔ ان اقوال کے بھی منافی ہے ۔

رابعاً: یہ آیت قرآن مجید کے بھی خلاف ہے کیوں کہ قرآن مجید میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے :’’ تَبَّتْ يَدَاۤ اَبِيْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ۰۰۱ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ۰۰۲‘‘ (اللھب : 1)یعنی : ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں اور وہ (خود بھی) ہلاک ہو۔ نہ اس کا مال اس کے کسی کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا۔

اب ہر ذی عقل جانتا ہے کہ اس آیت میں ہاتھ کی ہلاکت کا خصوصی طور پر ذکر موجود ہے ۔اب یہاں قرآن کہے کہ ابولہب کے ہاتھ ہلاک ہوگئے لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق موصوف اور ان کے ہمنوااس مرسل قول کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ابو لہب کو اس کی انگلی سے کچھ پینے کو مل جاتا ہے ۔مزید یہ کہ قرآن کہے کہ کہ مال کسب اسے کوئی فائدہ نہ دے گا ۔لیکن یہاں کہاجائے کہ نہیں اس کا مال کسب (لونڈی )نے اسے فائدہ دیا ۔

خامساً : یہ ایک غیر نبی (اوریہاں تو اس کے دیکھنے والے کا بھی معلوم نہیں ،کہ کون ہے ؟ )کا خواب ہے اور غیر نبی کے خواب کے بارے میں الیاس قادری صاحب کچھ یوں کہتے ہیں :

’’غیر نبی کا خواب شریعت میں حجت یعنی دلیل نہیں اور فقط خواب کی بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا جاسکتا ۔‘‘(بیانات عطاریہ : 109/2) اس قول کی روشنی میں دیکھیں آج کیا ایک خواب کی بنیاد پر میلاد کی اساس رکھ کر نہ منانے والوں کی ان الفاظ میں تکفیر نہیں کی جاتی کہ’ ’سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منارہے ہیں‘‘ جو چوکوں چوراہوں پر لکھے دکھائی دیتے ہیں۔

لہذا یہ واقعہ جو ایک غیرنبی کے خواب پر مشتمل ہے ۔اسےشریعت کا درجہ نہیں دیا جاسکتااور قرآن کے بھی منافی جبکہ فقہ حنفی کا اصول ہےکہ خبر واحد قرآن کےخلاف ہو تو قابل قبول نہیں (تمام حنفی اصول فقہ کی کتب میں یہ بات موجود ہے۔اور سراسر غلط اصول ہے یہاں اس اصول کا حوالہ محض اس لئے دیا گیا ہے کہ موصوف حنفی ہونے کے دعویدار ہیں۔)مگر یہاں خبر واحد تو کجا ؟؟ایک ایسی روایت جس کے لکھنے والے کا علم تک نہیں اس کے ذریعے سےقرآن کی مخالفت کی جارہی ہے ؟؟

ضرورت ہے خدا کے لئے نادم  ہو جا

کر رہا تیرے اغماض کا شکوہ کوئی

جشن میلاد کو عیدکہنا :

اما ابوالقاسم اصفہانی علیہ الرحمہ (متوفیٰ 502ھ ) عید کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’عید اسے کہتےہیںجو بار بار لوٹ کر آئے ، شریعت میں لفظ ’’عید ‘‘ یوم الفطر اور یوم النحر کے لئے خاص نہیں ہے۔ عید کا دن خوشی کے لئے مقرر کیا گیا ہے ۔رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عید کے ایام کھانے پینے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے ہیں ،اس لئے ہر وہ دن جس میں خوشی حاصل ہو، اس دن کے لئے عید کا لفظ مستعمل ہوگیا ہے ۔(صفحہ : 2)

امام قسطلانی علیہ الرحمہ اپنی کتاب مواہب الدنیہ کے صفحہ نمبر 75پر فرماتے ہیں اللہ تعالی اس مرد پر رحم کرے جس نے آنحضرت کی ولادت کے مبارک مھینہ(ربیع  ا لاول)کی راتوں کو ’’ عیدین‘‘اختیار کیا ہے تاکہ اس کا یہ (عید) اختیار کرنا ان لوگوںپر سخت تر بیماری ہو جن کے دلوں میں سخت مرض ہے اور عاجز کرنے والی لا علاج بیماری ، آپ کے مولد شریف کے سبب ہے ۔ بعض نادان لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عیداس دن کو کہتے ہیں جس دن عید کی نمازپڑھی  جائے ، حالانکہ یہ نادانی ہے ، ’’عید میلاد النبی ‘‘بمعنی حضور کی ولادت کی خوشی ہے ۔(ایضاً)

جواب :

قارئین غور فرمائیں کہ عید میلاد کو عید ثابت کرنے کے لئے کوئی نص قرآنی یاحدیث نہیں ملی۔بلکہ قرون اولیٰ سے بھی کوئی مثال پیش نہیں کی۔ا ب چھٹی صدی کے علماء کی بات کوئی دلیل شرعی کی حیثیت نہیں رکھتی ۔مزید یہ کہ امام قسطلانی کا یہ قول تو اگر ثابت ہے تو بالکل ہی شاذ ہے کیونکہ محدثین کی کتب اٹھاکر دیکھیں تو سب نے کتاب العیدین (دو عیدیں ) ہی کا عنوان قائم کیا ہے ۔اور یہی اسلامی شعار ہیں ۔

امام بخاری ،امام مسلم ،امام ابوداؤد ،امام ترمذی ،امام نسائی، امام ابن ماجہ ،امام مالک ،امام بیہقی ،امام دارمی ،امام حاکم ،امام ابن حبان ،امام ابن خزیمہ ،امام دارقطنی ،امام ابن ابی شیبہ ،امام عبدالرزاق ،امام فریابی (احکام العیدین) کتاب الآثار لابی یوسف،کتاب الآثار لمحمد بن حسن الشیبانی ،فقہ حنفی میں البحر الرائق شرح کنز الدقائق ،ابن نجیم حنفی ،درمختار حصکفی کی ،العنایۃ شرح الھدایۃ لبابرتی ،ھدایہ ،مرغینانی ،ابن ھمام ،سرخسی ،زیلعی وغیرہ سب نے عیدین کے ابواب قائم کئے اور عیدین سے متعلق شرعی مسائل کو ذکر کیا ۔کسی نے بھی اس ضمن میں نہ ہی عید میلاد کا ذکر کیا اور نہ ہی اس سے متعلق مسائل ذکر کئے بلکہ جو مزعومہ فلسفہ موصوف نے لکھا ہے یہ بھی کسی نے بیان نہیں کیا۔

بلکہ دور حاضر میں سے بعض بریلویہ کے اقوال پیش کئے جا سکتے ہیں جنہوں نے اسے عید شرعی شمار نہیں کیا ،سردست طاہر القادری صاحب ہیں انہوںنے اپنی کتاب معمولات میلاد میں عنوان قائم کیا کہ’’ جشن میلاد النبی ﷺعید مسرت ہے عیدشرعی نہیں ‘‘۔(معمولات میلاد : 207) اس عنوان کے تحت صریح طور پر لکھا : ’’جشن میلاد النبی ﷺعید شرعی ہے نہ ہم اسے عید شرعی سمجھتے ہیں ۔‘‘(ایضاً) پھر اگلے ہی صفحےپر لکھا:’’ ہمارے نزدیک شرعی طور پر صرف دو ہی عیدیں ہیں ،عید الفطر اور عید الاضحیٰ ۔‘‘ (معمولات میلاد : 208)اب اندازہ لگائیں ایک طرف یہ بھی کہا جائے کہ یہ عیدوں کی عید اور دوسری طرف یہ بھی کہا جائے کہ یہ شرعی عید نہیں ۔

بہرحال موصوف کا صرف جشن میلاد کے اثبات کے لئے معنی عید میں وسعت اور عموم پیدا کردینے کی حیثیت واضح ہوچکی ہے ۔

صحابہ اور میلاد :

موصوف نے ’’صحابہ کرام کا میلاد منانا ‘‘کا عنوان قائم کرکے بخاری شریف سے نقل کرتے ہوئے سیدنا حسان سے میلاد منانا ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔’’حدیث شریف : حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ،سرکار ﷺ کی تعریف میں فخریہ (نعتیہ )اشعار پڑھتے ،سرکار کریم ﷺ، حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لئے فرماتے ۔اللہ تعالی روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام ) کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے ۔‘‘

(مذکورہ لٹریچر : 2)

تبصرہ :

اس سے استدلال بھی بہت بڑا دھوکہ ہے ،کیونکہ محفل میلاد کا معنی آپ نے خود کیا ہے کہ میلاد کا تذکرہ کرنا (صفحہ ایضاً) مگر سیدنا حسان سے جو حدیث پیش کررہے ہیں ۔اس میں خود آپ نے ترجمہ کیا ہے ’’حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ،سرکار ﷺ کی تعریف میں فخریہ (نعتیہ) اشعار پڑھتے ‘‘ اب یہاں ہمیں بھی دکھایا جائے کہ تذکرہ میلاد کہاں ہے؟ چہ جائیکہ کہ اس طرز عمل کو ثابت کیا جائے جو آپ اختیار کرتے ہیں ۔اور بارہ ربیع الاول والے دن جشن منانا ثابت کیا جائے ۔مختصر یہ کہ اس کا آپ کےبارہ ربیع الاول کے جشن میلاد سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔باقی رہا مسئلہ نبی ﷺ کی شان اور سیرت بیان کرنا اور اشعار میں پڑھنا یقیناً کار خیر ہےجس کا کسی کو انکار نہیں ۔

اسی طرح رضیہ التنویر فی مولد السراج المنیرکے حوالے سے عامر انصاری کا اثر پیش کیا کہ وہ اپنے گھر میں بچوں کو نبی کی ولادت کے واقعات سکھلا رہے تھے ۔(صفحہ : 2)

اولاً : رضیہ التنویر کا حوالہ معتمد نہیں اصل مرجع کا حوالہ پیش کیا جائے ۔

ثانیاً: نبی کی ولادت کے واقعات سکھلانا یابتلانا اور چیز ہے اور بارہ ربیع الاول کو محفل منعقد کرکے جشن منانا اور چیز ہے ۔ورنہ محض نبی ﷺ کی بیان اور اس کا علم اپنے بچوں کو دینا مستحسن عمل ہے۔کہ نبی ﷺ کی سیرت سے اپنے گھر والوں اور بچوں کو متعارف کروانا تربیت کا حصہ ہے ،جو بالعموم پورے سال کے لئے عام بلکہ پوری زندگی کے لئے عام ہے اور آپﷺ کی سیرت کے پہلوؤں میں سے ایک پہلو ولادت بھی ہے جس کا کسی کو انکار نہیں ۔لیکن اس سے یہ تراشنا کہ یہ میلادمناتے تھے اور آپ کا موضوع تو بارہ ربیع الاول کے جشن عید میلاد کو بیان کرنا ہے جس سے اس کا دور کا بھی تعلق نہیں ۔

لہذا حقیقت یہ ہے کہ مروجہ میلاد کسی صحابی سے ثابت نہیں اور اس کا خود آل بریلویت کو بھی اعتراف ہے چناچہ چند حوالے پیش خدمت ہیں ۔ مثلاً:

 جناب احمد یار خاں نعیمی نے اسے بدعت مستحبہ کہہ کر بدعت مانا ہے ۔(جاء الحق : 198/1)اب بدعت کی مستحبہ وسیئہ کی تقسیم ناجائز ہے اس تفصیل کا یہ محل نہیں ۔یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ انہوں نے بدعت مان لیا ہے ۔

جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب یوں اعتراف ِحقیقت کرتے ہیں:

’’سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں بجا ہے۔‘‘ (شرح صحیح مسلم : 179/3)

جناب عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتے ہیں :ــ’’یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوایعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔‘‘(انوارِ ساطعہ در بیان مولود و فاتحہ :267،ضیاء القرآن پبلی کیشنز )

بلکہ خود موصوف لکھتے ہیں : ’’یہ کہنا کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان سے مروجہ میلاد منانا ثابت نہیں ہے ،ایسا کہنے والوں سے ہمارا سوال ہے کہ کیا کبھی صحابہ کرام علیھم الرضوان نے سالانہ اجتماعات حج کے علاوہ کئے ۔۔۔الخ ‘‘ (مذکورہ لٹریچر : 2)

اس عبارت کو بغور پڑھا جائے موصوف خود اعتراف کر رہے ہیں کہ صحابہ سے یہ ثابت نہیں تبھی تو اپنے تئیں التزاماً مثالیں پیش کررہے ہیں ۔

ان تمام حوالوں سے واضح ہوگیا کہ میلاد کا دور صحابہ سے کوئی تعلق نہیں ۔جوکہ خود بریلویہ کی عبارات سے واضح ہے ۔اب اسے تسلیم کرلینے کے باوجود زبردستی صحابہ سے ثابت کرنے کی کوشش کرنا!!واضح تضاد بیانی ہی نہیں بلکہ موصوف کے مبلغ علم کی بھی آئینہ دار ہے ۔

کیا شب ولادت ، شب قدر سے افضل ہے :

موصوف لکھتے ہیں : ’’شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :سرور کونین ﷺ کی ولادت کی شب یقیناً شب قدر سے افضل ہے کیونکہ شب ولادت آپ ﷺ کی ولادت کی شب ہے اور شب قدر آپ ﷺ کو عطا ہوئی شب  ہے ۔ ‘‘(مذکورہ لٹریچر : 2)

تبصرہ :

 آپ کا اس باب میں کوئی شرعی نص پیش نہ کرنا آپکی اس حوالے سے بے بسی کو واضح کر رہا ہے ،کیونکہ اس باب میں آپ کو اگر موضوع روایت بھی مل جاتی تو مزے لے لے کے بیان کرتے کہ ۔۔۔مگر افسوس ! چہ باید کرد

جہاں تک شب قدر کی فضیلت کا تعلق ہے قرآنی آیات ،احادیث اور اسلاف صالحین کے اس پر اقوال و ادلہ موجود ہیں کہ یہ سارے سال کی تمام راتوں سے افضل رات ہے اور قرآن نے اسے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا یہ اس کا اور ایک رات کا باہم فضیلت میں فرق ہے ۔جو کہ قرآن سے ثابت ہوگئی ۔اب موصوف کو بھی چاہئے کہ ایسی صریح آیت پیش کر کے وہ کسی اور رات کو شب قدر سے افضل ثابت کردیں ،ہم مان لیں گے ۔

شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا قول اس بارے میں کوئی شرعی دلیل نہیں ۔اور نہ ہی آپ ان کے مقلد ہیں آپ پر لازم تو یہ ہے کہ آپ حق تقلید نبھاتے ہوئے اس حوالے سے امام ابوحنیفہ سے یہ ثابت کرتے ،لیکن اس حوالے سے موصوف کے پاس ادلہ شرعیہ سے دلیل تو درکناراپنے مقلَّد امام کا کوئی قول بھی نہیں ۔

جھنڈے و پرچم لگانا:

موصوف لکھتے ہیں : ’’شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ما ثبت من السنۃ میں رقم طراز ہیں کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ (شب ولادت)میں نے تین پرچم اس طرح دیکھے کہ ان میں سے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا‘‘ (مذکورہ لٹریچر : 3)

تبصرہ :

اس حوالے سے بھی ہماری عرض وہی ہے جو پچھلے فقرے میں تبصرہ گزر چکا ہے ۔

شب ولادت کھڑے ہو کر سلام پڑھنا :

موصوف لکھتے ہیں : ’’حضرت امام سبکی علیہ الرحمہ کی محفل میں کسی نے یہ شعر پڑھا ’’ بے شک عزت و شرف والے لوگ سرکار اعظم ﷺ کا ذکر سن کر کھڑے ہو جاتے ہیں ‘‘ یہ سن کر امام سبکی علیہ الرحمہ اور تمام علماء و مشائخ کھڑے ہوگئے ۔ اس وقت بہت سرور اور سکون حاصل ہوا  ‘‘(مذکورہ پمفلٹ : 3)

برصغیر کے معروف محدث اور گیارھویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتےہیں کہ میں محفل میلاد میں کھڑے ہو کر سلام پڑھتا ہوں ۔ میرا یہ عمل شاندار ہے ۔(ایضاً)

تبصرہ :

گیارھویں صدی کے عالم دین کے عمل سے کوئی کام شریعت نہیں بن جاتا ۔شریعت وہی ہے جو قرآن اور صاحب قرآن سے ثابت ہے،جوکہ موصوف پیش نہیں کر سکے ۔اور تا قیامت پیش نہیں کر سکیں گے۔ باقی مزید گفتگو پچھلے فقرے میں کی جا چکی ہے ۔

کرسمس اور عید میلاد النبی میں فرق :

موصوف لکھتے ہیں :’’کرسمس اور عید میلاد النبی میں بڑا فرق ہے ۔ عیسائی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا یوم (معاذاللہ ) ان کو خدا ہونے یا خدا کا بیٹا ہونے یا تیسرا خدا ہونے کے لحاظ سے مناتے ہیں ۔لیکن مسلمان اپنےآقا و مولٰی ﷺ کی ولادت پر خوشی مناتے ہیں ۔آقا کریم ﷺکو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ مانتے ہیں ۔اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ کتنا بڑا فرق ہے کرسمس اور عید میلاد النبی ﷺ منانے میں ۔‘‘(ایضاً)

تبصرہ:

کوئی فرق نہیں ۔عیسائی اس دن خوشی عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی ہی مناتے ہیں ۔بطور آئینہ طاہر القادری کی اس حوالے سے تقاریر اور تحریروں کو بھی شامل حال رکھیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا یہ جملہ بھی محل نظر ہے کہ ’’آقا کریم ﷺکو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ مانتے ہیں ۔‘‘ کیونکہ آپ کےمکتبہ فکر کی ایسی عبارات پیش کی جاسکتی ہیں کہ آپ نبی ﷺ کو نور بلکہ نور من نور اللہ مانتے ہیں ۔

پھر مزید یہ ہے کہ بعض نے صریح طور پر خدا بھی کہا ہے ۔یا اس مفہوم کے کلمات بھی کہے ہیں ۔

اب ان عبارات کی موجودگی میں آپ کا مذکورہ جملہ کہہ کر راہ فرار اختیار کرنا ،بہت بڑا دھوکہ ہے ۔

کیا مروجہ میلاد النبی ﷺ ایک ظالم اور عیاش بادشاہ کی ایجاد ہے ؟

عید میلاد النبی ﷺ سے عداوت رکھنے والے ایک من گھڑت بات یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ میلاد کی ابتداء عیاش اور ظالم بادشاہ مظفرالدین نے کی ۔ حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مظفر الدین شاہ اربل عیاش نہ تھا بلکہ عادل تھا ۔ دیوبندیوں اور غیر مقلدین کے معتبر مؤرخ ابن کثیر اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :

شاہ اربل مظفر الدین بن زین الدین ربیع الاول میں میلاد شریف مناتا ،اور عظیم الشان جشن برپا کرتا تھا ۔ وہ ایک نڈر،جانباز عاقل ،عالم، اور عادل بادشاہ تھا ۔اللہ تعالٰی ان پر رحم فرمائے اور انہیں بلند درجہ عطا فرمائے ۔ شیخ ابوالخطاب بن دحیہ نےان کے لئے میلاد شریف کی ایک کتاب تصنیف کی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر النذیر ‘‘رکھا تو انہوں نے شیخ کو ایک ہزار دینار پیش کیا ۔انہوں نے ایک طویل عرصے تک حکمرانی کی اور سات سو تیس ہجری میں جب وہ عکا شہر میں فرنگیوں کے گرد حصار ڈالے ہوئے تھے ، ان کا انتقال ہوگیا ۔ وہ اچھی سیرت و خصلت کے حامل تھے ۔ (البدایہ والنھایہ ، جلدسوم ، صفحہ 136) (مذکورہ : 4)

تبصرہ :

اولاً:آپ کی یہ عبارت ’’عید میلاد النبی ﷺ سے عداوت رکھنے والے ایک من گھڑت بات یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ میلاد کی ابتداء عیاش اور ظالم بادشاہ مظفرالدین نے کی ۔ حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ مظفر الدین شاہ اربل عیاش نہ تھا بلکہ عادل تھا ۔ ‘‘ بالکل واضح ہے کہ آپ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ اسی کی ایجاد ہے ۔جب آپ نے اس عبارت کے ذریعے سے اپنے اکابر کی طرح آپ کے پاس یہ ماننے کے علاوہ چارہ ہی نہیں تھا کہ یہ مظفر الدین کی ایجاد ہے ۔تو کیوں خوامخواہ پچھلے فقرات میں قرآن و احادیث و آثار صحابہ کو توڑنے مروڑنے کی جسارت کرتے رہے ۔

ثانیاً:جب یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ مروجہ میلادکی اصل یہ ہے کہ اب مؤجد اگر بالفرض آپ اسے ایک عادل بادشاہ ثابت کر بھی دیں تو بھی شریعت کسی عادل بادشاہ کے عمل کا نام نہیں اور نہ ہی آپ کسی عادل بادشاہ کے مقلد ہیں۔پھر یہاںبادشاہ کے عادل و ظالم کی بحث چہ معنیٰ دارد ۔

ثالثاً : تاریخی روایات میں اس بادشاہ کا شاہ خرچ اور اسراف کرنا ثابت ہے اور اسی کا نام عیاشی ہے ۔بلکہ بعض میں اس کا رقص کرنے کا ذکر بھی ہے ۔نیز آپ اس کی عدالت ثابت کر رہے ہیں جبکہ کسی کے محض عادل ہونے سے اس کی باقی عصمت کا پاک ہونا ثابت نہیں ہوجاتا ۔ابن خلکان نے لکھاہے کہ وہ محفل سماع کا شوقین تھا ،اور کبھی کبھی اپنے کپڑوں کا بعض حصہ اتار بھی دیاکرتا تھا ۔مزید شہاب الدین ابی عبداللہ یاقوت بن عبداللہ الحموی نے معجم البلدان میں لکھا ہے :طباع ھذا الامیر مختلفۃ متضادۃ فانہ کثیر الظلم ،عسوف بالرعیۃ راغب فی اخذ الاموال نم غیر وجھھا ،و ھو مع ذلک مفضل علی الفقراء ،کثیر الصدقات علی الغرباء ،یسیّر الاموال الجمۃ الوافرۃ یستفک بھا الاساری من ایدی الکفار ،(معجم لبلدان : 138/1،دار احیاء التراث العربی)

یعنی:  اس کی شخصیت مختلف قسم کی تھی کہ وہ بہت زیادہ ظلم کرنے والا بھی تھا اور لوگوں سے مال لینے والا بھی تھا ،اور ساتھ ہی قراءسے اچھے انداز سے پیش آنے والا ،صدقہ کرنے والا ،کفار سے قیدیوںکو چھڑانے والا بھی تھا ۔

بہرحال اس کی شخصیت کے حوالے سے اور بھی کئی اقوال مل جائیں گے ۔اصل بات وہی ہے کہ اس کے عادل اور ظالم کے فرق سے بدعت سنت نہیں بن جائے گی بلکہ بدعت ،بدعت ہی رہے گی ۔

رابعاً: مسئلہ صرف بادشاہ کا نہیں اس مولوی کا بھی ہے جس نے کتاب شائع کرکے پیسے کمائے اور وہ کتاب اس بدعت کی عام ہونے کا سبب بنی اور اس پر متعدد ائمہ کی جرح ثابت ہے ۔مثلاً

امام ذہبی : متہم

ابن نقطہ : ابن دحیہ ایسی چیزوں کا دعوی کرتا تھا جن کی کوئی حقیقت نہیں ۔

حافظ ضیاء :  لم يعجبني حاله كان كثير الوقيعة في الأئمةیعنی : مجھے وہ پسند نہیں تھا ائمہ کے بارے میں بہت زیادہ سب و شتم سے کام لیتا تھا ۔

 إبراهيم السنهوري: أن مشائخ المغرب كتبوا له جرحه وتضعيفه یعنی : مغرب کے مشائخ نے اس پر جرح و تضعیف کی ہے ۔

قاضی حماۃ بن واصل : معرفت حدیث کے باوجودبے تکی باتیں نقل کرنے میں متہم ہے ۔

 وقال ابن النجار: رأيت الناس مجتمعين على كذبه وضعفه وادعائه سماع ما لم يسمعه ولقاء من لم يلقه

یعنی : میں نے لوگوں کے اس کے کذب ،ضعف سماع و لقاء کے جھوٹے دعووں پر مجتمع پایا ہے ۔

[میزان الاعتدال :181/3 ،لسان المیزان :163/5 ]

لہذا ابن دحیہ مجروح اور درباری عالم تھا ۔اور ایسے شخص نے جو کتاب لکھی محض شاہ اربل کے تقرب اور پیسہ کمانے کے لئے ۔لہذا اس کی کتاب اور اس عمل کی میدان علم میں کوئی حیثیت نہیں۔

میلاد النبی اور علماء اسلام :

موصوف نے امام قسطلانی ،شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز کے اقوال پیش کئے ہیں ۔جبکہ یہ انتہائی متاخر علماء کے اقوال پیش کئے ہیں، جو قرآن و وسنت کے برخلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں ۔بلکہ اس کے برعکس متعد علماء نے اسے بدعت قرار دے رکھا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں ۔

(1)تاج الدین عمر بن علی فاکہانی رحمہ اللہ :نے اس حوالے سے مستقل رسالہ بنام المورد فی عمل المولد بھی لکھا۔ اس بدعت کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

إِنَّ عَمَلَ الْمَوْلَدِ بِدْعَۃٌ مَّذْمُومَۃٌ  یعنی : میلاد منانامذموم بدعت ہے ۔

نیز فرماتے ہیں : بَلْ ہُوَ بِدْعَۃٌ أَحْدثَہَا الْبَطَّالُونَ، وَشَہْوَۃُ نَفْسٍ اعْتَنٰی بِہَا الْـأَکَّالُونَ .

’’بلکہ یہ باطل پرست اور شکم پروروں کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ ‘‘(رسائل فی حکم الاحتفال بالمولد النبوی ،رسالۃ الاولیٰ المورد فی احکم المولد :9)

(2)حافظ ابنِ حجرعسقلانی رحمہ اللہ :میلاد کے عمل کی اصل،بدعت ہے ۔ یہ عمل قرون ثلاثہ کے سلف صالحین میں سے کسی سے منقول نہیں۔‘‘ (الحاوی للفتاوی ،شرح صحیح مسلم از غلام رسول سعیدی بریلوی :176/3،فرید بک اسٹال )

(3) ابن الحاج نے بھی اسے دین میں زیادتی قرار دیا اور فرمایا اسلاف صالحین سے یہ عمل ثابت نہیں ۔(الحاوی للفتاوی سیوطی ،شرح صحیح مسلم از غلام رسول سعیدی بریلوی : 179/3)

(4) امام سیوطی نے اس کے رد میںطویل کلام کر کے اس کا رد کیا اور کئی ایک ائمہ سے اس کا رد نقل کیا اورکہا کہ اس کا مؤجد بادشاہ اربل تھا۔(ایضاً)

(5)شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ: یہ سلف صالحین سے ثابت نہیں۔ اگر یہ کام کار خیر ہوتا تو سلف سے ضرور منقول ہوتا۔(اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیۃ :333،جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی )

(6) حافظ سخاوی : لَمْ یَفْعَلْہُ أَحَدٌ مِّنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَۃِ، إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدُ .

میلاد شریف تینوں زمانوں میں (خیر القرون)کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا۔‘‘ (جاء الحق :212/1)

اسی طرح امام شعبی ،امام سخاوی ،امام ابو عبداللہ الحفار ، عبدالرحمن بن حسن بن محمد بن عبدالوھاب ،محمد بن عبدالوھاب ،محمدبن عبداللطیف ،محمد عبدالسلام الشقیری،ابن الطباخ ،ابو زرعۃ العراقی ،الشیخ ظہیر الدین جعفر التزمنتی ان سب نے اس عمل کو بدعت قرار دیا ہے ۔(کما فی القول الفصل فی حکم الاحتفال بمولد خیر الرسل ﷺ)

 ان چند اقوال سے واضح ہوا کہ موصوف نے جو عنوان قائم کیا دراصل حقیقت اس کے برعکس ہے ۔

مزیدکئی ایک اہل علم نے اس کے رد میں کتب لکھیں ،جن میںسے چند ایک یہ ہیں ۔

(1)المورد فی عمل المولد ،للشیخ ابی حفص تاج الدین الفاکھانی

(2)حکم الاحتفال بالمولد النبوی والرد علی من اجازہ مفتی الدیار السعودیہ الشیخ محمد بن ابراھیم آل الشیخ

(3) حکم الاحتفال بالمولد النبوی ،الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز

(4)الرد القوی علی الرفاعی والمجھول وابن علوی و بیان اخطائھم فی المولد النبوی ،فضیلۃ الشیخ بن عبداللہ التویجری

(5)الانصاف فیما قیل من المولد من الغلو والاحجاف لفضیلۃ الشیخ ابی بکر الجزائری

(6)القول الفصل فی حکم الاحتفال بمولد خیر الرسل ﷺلفضیلۃ الشیخ اسماعیل بن محمد الانصاری

(7)الاحتفال بالمولد بین الاتباع والابتداع لفضیلۃ الشیخ محمد بن سعد بن شقیر

یہ سات رسائل اب ایک کتاب کی شکل میں بنام رسائل فی المیلاد دستیاب ہیں ۔یہ کتاب دو جلدوں میں ہیں ۔اہل ذوق اس کا مطالعہ فرمائیں ۔

بحمدللہ موصوف کے دلائل کا علمی رد قارئین کی خدمت میں پیش کردیا گیا ہے ۔اب ہم چند سوالات پراس بحث کو ختم کرتے ہیں ۔

ہمارے قائلین میلادسے چند سوالات :

(1)مقلد ہونے کی حیثیت سے امام ابو حنیفہ سے یہ میلاد ثابت کیا جائے؟

(2)مقلد ہونے کی حیثیت سے امام ابو حنیفہ سے اس کا حکم شرعی بھی ثابت کیا جائے ؟

(3)میلاد نہ منانے والوں کا کیا حکم ہے امام ابو حنیفہ سے ثابت کیا جائے ؟

About شیخ یونس اثری

Check Also

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *