Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » March & Aprail Magazine » ظلم سےخبردارکرنا

ظلم سےخبردارکرنا

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

آج کی اس گفتگو میں آپ کے سامنے ظلم کے حوالے سے چند اہم اور ضروری باتوں کوپیش کیاجائےگا۔

1.سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کوحرام قرار دیا ہے،اللہ تعالیٰ کا صحیح حدیث قدسی میں فرمان گرامی ہے:

یاعبادی انی حرمت الظلم علی نفسی وجعلتہ بینکم محرما فلاتظالموا.(صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ ،باب تحریم الـظلم ،حدیث:6517)

ترجمہ:اے میرے بندو میں نے(مجھ اللہ نے) ظلم کوخود اپنے اوپر حرام کرلیا(میںاپنے بندوں پرظلم نہیں کروںگا) اور میں نے ظلم کو تمہارے درمیان بھی حرام ہی قرار دیا ہےتوتم لوگ آپس میں ظلم نہ کرنا۔

2.اورجوبھی شخص دوسروں پرظلم کرےگا تواللہ تعالیٰ سزا کے طور پر اس پر اس سے بھی زیادہ ظالم مسلط کردے گا،جیسا کہ اللہ کافرمان ہے: [وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ  ](الانعام:۱۲۹)

ترجمہ:اور اسی طرح ہم کچھ ظالمو ں کو کچھ ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں۔

ایک عرب شاعر کہتا ہےکہ:ومامن ظالم الاسیبلی بأظلم.

کہ جو بھی ظالم ہے وہ اپنے سے بڑے ظالم سے آزمایاجائیگا۔

(یعنی اللہ اس پر اس سے بھی زیادہ ظالم مسلط کردےگا)

3.اسی طرح نبیﷺ کا صحیح حدیث میں فرمان گرامی ہےکہ:

المسلم اخوالمسلم لایظلمہ.(صحیح البخاری،کتاب الاکراہ،باب یعین الرجل لصاحبہ:6951)

ترجمہ:مسلمان مسلمان کابھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا۔

4.اسی طرح اللہ تعالیٰ کاقرآن میں فرمان گرامی ہے:

[وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ ۭ](فاطر:۴۳)

ترجمہ: اوربری سازشیں محض اپنے کرنے والوں کو ہی گھیرتی ہیں۔

یعنی: اللہ تعالیٰ بری سازشوںکوان کے کرنے والوں پر ہی لوٹادیتا ہے اور دوسروں کے لئے براچاہنے والے خود اپنی سازشوں کا شکار ہوکررہ جاتے ہیںلہذا ضروری ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کے خلاف ظلم اور سازش نہ کریں کس بھی مسلمان کونقصان پہنچانے کے لئے کوئی بھی برامنصوبہ نہ بنائیں ورنہ اللہ اس برے منصوبے کو اس کے بنانے والوں پر ہی لوٹادے گا۔

5.اسی طرح صحیح حدیث میں نبیﷺ کا فرمان گرامی ہے:

انصراخاک ظالما أومظلوما.(صحیح بخاری، کتاب الاکراہ،باب: یعین الرجل لصاحبہ،6952)

ترجمہ:تم اپنے بھائی کی مددکرو،خواہ وہ ظالم ہویامظلوم ہو۔

توایک صحابی نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ اگر ہمارا بھائی مظلوم ہو اور ہم اس کی مدد کریں توبات سمجھ میں آتی ہے مگر ہمارا بھائی ظا لم ہو توہم اس کی مدد کیسے کریں؟ تونبی ﷺ نے فرمایا:تمنعہ عن الظلم.‎‎‎‎‎ظالم کی مدد یہ ہے کہ تم اسے ظلم کرنے سے منع کرو۔

توظالم کے ساتھ اس کے ظلم میں تعاون نہیں کرنا کیونکہ گناہ اور ظلم وزیادتی کے کاموں میں تعاون کرنا قرآن کے فیصلے کے مطابق حرام ہے:[وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ](المائدۃ:۲)

ترجمہ:اور گناہ اور ظلم وزیادتی کے کاموںمیں آپس میں تعاون نہ کرو۔

البتہ ظالم کے ساتھ صحیح اور بہترتعاون یہ ہے کہ اسے ظلم کرنے سے روکا جائے اور اسے ظلم کرنے سے منع کیاجائے کہ یہی اس کی صحیح مدد ہے۔

6.اسی طرح صحیح حدیث میں نبیﷺ کا فرمان گرامی ہے:

واتق دعوۃ المظلوم ،فانہ لیس بینھا وبین اللہ حجاب. (صحیح بخاری،کتاب الزکاۃ، باب:أخذ الصدقۃ من الاغنیاء،1496)

ترجمہ:نبیﷺ نےجب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نامی عظیم صحابی کو یمن کے علاقے کانگران او رگورنر بناکربھیجا توانہیں اس موقع پر کئی قیمتیں نصیحتیں کیں ان نصیحتوں میں سے ایک عظیم نصیحت یہ بھی تھی کہ ’’تم مظلوم کی بددعاء سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بددعاء اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔

تشریح:(۱)بلکہ اللہ مظلوم کی بددعاء کو ضرور قبول کرتاہے خواہ مظلوم فاسق وفاجر ہی کیوں نہ ہواورظالم نیک مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (۲)اگر کسی بھی شخص پرظلم ہوا ہے تو اللہ اس کی بدعاء کوضرور قبول فرمائے گا۔ (۳)لہذا ہمارے لیے بے حد ضروری ہے کہ ہم دوسروں پر ظلم کرنے سے پوری طرح گریزکریں تاکہ ہم مظلوم کی بددعاء سے محفوظ رہ سکیں۔(۴)اورحقیقت میں مظلوم کی بددعاء سے ظالم کی پوری زندگی بھی تباہ ہوسکتی ہے اور وہ ظالم نہایت ہی شدید اورسخت ترین جانی اور مالی مصیبتوں کاشکار ہوسکتا ہے۔(۵)اور قبر اوردوزخ میں بھی ظالم شخص کو سخت ترین عذاب سے دوچارکیاجائیگا۔(۶)لہذا دوسروں پر ظلم کرنے سے پوری طرح گریزکرنا ہی شرافت اور سمجھداری بھی ہے اور خود اپنے نفس پر مہربانی بھی ہے۔(۷)اسی طرح ظلم کی ایک شکل کے بارے میں صحیح مسلم میں یہ عظیم اورخطرناک حدیث آتی ہے کہ :نبی ﷺ نے فرمایا کہ:’’جس نے زمین کا ایک بالشت کے برابرحصہ بھی ظالمانہ طریقے سے لے لیا(ایک بالشت کے برابرزمین پر بھی ناجائز قبضہ کرلیا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گلے میں سات زمینوں کاطوق ڈالیں گا۔‘‘

(۱)جس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی شخص کی زمین یاپلاٹ یا فلیٹ پرناجائز قبضہ کرنا کس قدر خطرناک اور بدترین جرم ہے۔(۲)اور اس کا آخرت میں کتنا بھیانک انجام ہے۔(۳)لہذا دوسروں کی زمینوں پر ناجائز طور پر قبضہ کرنے سے پوری طرح گریز کرنا نہایت ضروری ہے۔(۴)اور پھر یہ بھی سمجھ لیں کہ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز بھی ناجائز طور پر لی ہے جیسے:چوری کی ہے یا زور زبردستی سے حاصل کی ہے تو غلطی کی معافی کے لئے صرف زبانی طور پر توبہ استغفار کرنا ہی کافی نہیں ہے۔(۵)بلکہ اللہ کے سامنے معافی کے لیے اوراللہ کی سخت ترین سزا سے بچنے کے لیے ظالمانہ طریقے سے حاصل شدہ چیز کا واپس لوٹانا بھی ضروری ہے۔(۶)ورنہ وہ شخص صرف اکیلی زبانی توبہ استغفار سے اللہ کی پکڑ سے ہرگز نہیں بچ سکے گا۔(۷)مثال کےطور پر کسی شخص نےکسی شخص کی موٹرسائیکل چوری کی ہے تو پھر دنیا اور آخرت میں اللہ کی سزا اورپکڑ سے بچنے کےلیے صرف زبانی طور پر توبہ استغفار کافی نہیں ہے۔(۸)بلکہ اس چرائی ہوئی چیز کا واپس لوٹانا بھی ضروری ہے۔(۹)اور چرائی ہوئی چیز کوواپس کرنے سے اللہ اس واپس کرنے والے شخص کی مغفرت بھی فرمادے گا اور اسے اپنے غیب کے خزانوں میںسے خوشیاں اور اچھارزق بھی عطافرمائے گا۔

7.جہاں تک دوسروں کی چیز کو ناجائز طور پرحاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ بات اسلام میں سخت حرام اور منع ہے کہ کسی بھی شخص کی کوئی بھی چیز اس کی مرضی،اجازت اور مکمل رضامندی کے بغیرحاصل کی جائے اگرچہ کہ وہ تھوڑی اور معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو اورخواہ ظالم شخص اس چیز کو قسم اٹھاکرحاصل کرے یابغیرقسم کے حاصل کرے جیسا کہ اس بارے میں نبیﷺ کا صحیح مسلم میں فرمان گرامی ہے:

(جس شخص نے(جھوٹی)قسم کے ذریعے کسی مسلمان کاحق مارا (اس کی کوئی بھی چیز قسم کے ذریعے حاصل کرلی)تو اللہ نے ایسے شخص کے لیے جنت حرام کردی ہےتو کسی شخص نے کہا:اےاللہ کے رسول ﷺ اگرچہ تھوڑی اور معمولی چیز ہی ہوتونبیﷺ نے فرمایاکہ:(جی ہاں) اگرچہ کہ مسواک کی ایک ڈنڈی ہی کیوں نہ ہو)

(۱)غورفرمائیں جس شخص نے جھوٹی قسم کے ذریعے مسواک کی ایک ڈنڈی بھی حاصل کرلی تو اس کی اتنی سخت سزا ہے کہ اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کے لیےدوزخ کوواجب قرار دے دیا۔ (۲)توپھر اس شخص کی سزا ہلاکت،بربادی اوربرے انجام کا کیاکہنا جو کہ جھوٹی قسموں کے ذریعے ہزاروں یالاکھوں روپے مالیت کی چیزوں یاپلاٹوں اور فلیٹوں کوحاصل کرلے؟؟(۳)لہذا ہرسمجھدار مسلمان مرد اورخاتون کے لیے اللہ سے ڈرنا ضروری ہے اور ظلم کی ہر شکل وصورت سے گریز کرنا نہایت ضروری ہے۔(۴)اور ہر مسلمان مرد اور خاتون کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیا اور دولت کے حصول کے لیے صرف حلال اور جائز راستے اور طریقے ہی اپنائے اورحرام وناجائز راستوں اور ذریعوں سےپوری طرح گریز کرے۔(۵)اسی میں عزت، نجات اورکامیابی ہے۔(۶)جبکہ حرام طریقوں اور راستوں سے عارضی کامیابیوں کوحاصل کرنے میں ڈر،خوف،پریشانی،ذلت ورسوائی اوراللہ کی پکڑ اوردوزخ کی شدیدآگ کے علاوہ کچھ نہیں۔(۷)جس شدید آگ میں جلنے کے پہلے لمحے میں ہی دنیا میں حاصل ہونے والے تمام ناجائز مزے پوری طرح ختم ہوکررہ جائیں گے ۔(۸)اور پھر نہ جانے دنیا میں کیے ہوئے ظلم کی وجہ سے اس شدید آگ میں کتنے مہینوں یا سالوں جلناپڑے جوآگ صحیح حدیث کے مطابق دنیا کی آگ سے انہتر(69)دفعہ زیادہ ہے۔(صحیح الجامع الصغیر:6742)

(۹)جب ہم سے دنیا کی آگ اور گرمی ہی برداشت نہیں ہوتی۔(۱۰)جلتے ہوئے چولھے پر ایک گھنٹہ توکیاآدھاگھنٹہ اور دس منٹ بھی نہیں بیٹھ سکتے تودوزخ کی سخت ترین آگ کیسے برداشت کرسکیں گے؟؟(۱۱)لہذا ضروری ہے کہ :دنیا اور دولت کے حصول کے لیے تمام حرام اور ناجائز راستوں،طریقوں اور ذریعوں سے پوری طرح گریز کیاجائے۔(۱۲)اسی میں دنیا اور آخرت دونوں ہی جہانوں کی عزت،سکون اورخوشیاں اورکامیابیاں ہیں۔(۱۳)اور یہ بات بھی نہایت ضروری ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کی جان پر بھی ظلم نہ کریںاس کے مال پھر ظلم نہ کریں اور اس کی عزت وآبروپربھی ظلم نہ کریں، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حلال راستوں کو ہی اختیار کرنے اور تمام حرام راستوں سے بچنے اورظلم سے پوری طرح گریز کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین والحمدللہ رب العالمین۔

About الشیخ سید عبدالحلیم بن سید وسیم

Leave a Reply