Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » March & Aprail Magazine » دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں

دو چار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانے کتنے ہیں

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

4 فروری کی شام کو دفتر سے نکلتے ہی خیال آیا کل 5 فروری بسلسلہ ’’یوم یک جہتی کشمیر‘‘ تعطیل عام ہے، اکابرین استنبول چوک سے اسمبلی ہال تک’’لانگ مارچ‘‘ کریں گے ، تو کیوں نہ ہم بعض آئمہ مساجد کے ساتھ یک جہتی کر لیں، اڑھائی گھنٹے کا سفر طے کر کے سرحدی علاقے کی ایک مسجد میں پہنچا ، جہاں کے امام صاحب جو کہ کئی بار زیارت کی دعوت دے چکے تھے جو کہ پہلے ہی باب المسجد کے پاس منتظر کھڑے تھے، حال احوال پوچھنے کے بعد مولوی صاحب محرابِ مسجد کے ساتھ ہی ایک لکڑی کے ڈربے میں لے گئے ، جو کہ اتنا تنگ تھا کہ اندر صرف ایک بستر کی جگہ تھی جس پر مجھے بٹھادیا گیا اور مولوی صاحب کونے میں مزید گھس کر بیٹھے اورگفت وشنید میں مصروف  ہوئے، بستر اتنا سادہ تھا جو متعدد جگہ سے شاید چوہے کا کترا ہوا تھا یا پھٹہ پرانہ تھا اور شدید سردی کے موسم میں ڈوبتے کو تنکے کا سہرا والا معاملہ تھا ، اسوقت مجھے یاد آیا دمشق کی سردی اور ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ  کا بستر۔

امام صاحب نے بتایا کہ جس روز مسجد کا مصلی سونپا گیا اس روز اس لکڑی کے ڈربے میں گرد وغبار اور کیڑے تھے ، جو کہ میں نے خود صاف کیے اور امام صاحب نے خوش ہو کر بتایا کہ مسجد کی ماربل جس کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا خالص پانی سے صاف کی ہے ، کوئی صابن وغیرہ مسجد کو میسر نہیں تھا ، لوگوں کا کہنا تھا ماربل خراب ہو گئی ہے یہ صاف نہیں ہو سکتی، دیکھا میں نے صرف پانی اور ٹاکی سے صاف کر دی ہے چمک رہی ہے ناں؟

رات کا وقت تھا امام صاحب بولے آپ ادھر بستر پر سو جائیں میں باہر مسجد میں سو جاؤں گا اور ساتھ ہی مجھے تسلی دی کہ ادھر بہت بستر ہیں آپ ہماری فکر نہ کریں۔

اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ مرد مجاہد جاگتا رہا یا کسی دری کا سہارا لیا، جب میں ڈربے سے سحری ٹائم نکلا تو امام صاحب تھجد میں مصروف تھے ، دن کو کسی ٹائم بات کرتے ہوئے امام صاحب نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ لوگ کہتے ہیں پہلے حافظ صاحب جو تھے وہ روٹی وغیرہ مانگ لیا کرتے تھے، مولوی صاحب بولے میں تو بھوکا مر جاؤں گا،مانگوں گا نہیں! اس مرد مجاہد کے توکل سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ویسے تو کشمیر کے نام پر آر پار کئی نسلیں پل رہی ہیں ، لیکن یہ ایسی قوم ہے جو اظہار یک جہتی کی زیادہ حقدار ہے !

مجھے چونکہ علم تھا کہ امام صاحب کی تنخواہ اتنی قلیل ہے کہ ہوٹل سے کھانا تناول کرنا امام صاحب کے بس کا کھیل نہیں، البتہ ازخود ایک غیر اہلحدیث امام صاحب کو دو ٹائم کھانا  بھیج دیتا ہے جس کے عوض ، میں نے دیکھا کہ امام صاحب نے محلے کے بچوں کو کھلی اجازت دے رکھی تھی کہ جب دل چاہے آکر قرآن مجید دعائیں وغیرہ پڑھ لیا کریں میں سارا دن مسجد میں ہی ہوتا ہوں ، میں نے دیکھا صبح سے شام تک ایک دو بچے آتے ہی رہے اور مشفق استاذ بخوشی پڑھاتے رہے ، صبح ایک متولی نما شخص مسجد میں گرج رہا تھا ’’او مولوی جی !یہ لیٹرینیں نہ کھولاکرو لوگ دن بھر گندی کرتے رہتے ہیں تالا لگا کر رکھا کرو ‘‘ پر مولوی جی دھیمے لہجے میں بولے:یار کوئی بات نہیں میں خود ہی تو صفائی کرتا ہوں میں صاف کر دوں گا لوگ بیچارے بوڑھے اور بیمار وغیرہ آ جاتے ہیں کدھر جائیں ، میں صفائی کر دوں گا۔ صبح مولوی صاحب نے اپنی تقریر ریکارڈ شدہ مجھے سنائی تو میں دل میں سوچ رہا تھا اتنا صاحب علم اور خطیب بے مثال اگر اینکر ہوتا تو شاید یہ ان پڑھ اینکرز اسکے سامنے دوزانوں ہو کر بیٹھنے میں فخر محسوس کرتے، لیکن یہ چونکہ امام مسجد ہے اس لئے اسکا حق ہے کہ زندگی بھر ڈربے میں رہے، ٹوٹے بستر میں گزر بسر کرے، مسجد کی لیٹرینیں تک خود صاف کرے، نہ اتوار کی چھٹی نہ پنشن کا لالچ، بے لوث معمار قوم ،ان کو ایک نیا بستر نہیں مہیا کیاجاسکتا، وہ بھی مسجد کے چندے سے ، ولی کامل کی اس مختصر ملاقات کے بعد میں نے واپسی کی راہ لی، راستہ میں ایک مسجد میں نماز پڑھی اس مسجد کے امام مسجد صاحب نے زبردستی بٹھایا کہ روٹی تیار ہے کھانے کے بغیر نہیں جانے دوں گا ، آج بکرے کا گوشت پکایا ہے، شاید اس امام کی تنخواہ پہلے امام سے سو پچاس زیادہ ہو گی ، لگتا تھا یہ فراخ دل ساری ہانڈیا میری پلیٹ میںانڈیل لایا ہے، ساری بوٹیاں میری اور ایک نمازی کی پلیٹ میں ڈال دیں اور خود صرف شوربے سے کھانے لگا، بہت منت کی آپ بھی گوشت لیں لیکن صاف انکار کردیاکہ میں نہیں کھاؤں گا اور ساتھ ہی دو کپ چائے لے آئے خود نہیں پی مجھے اور دوسرے نمازی کو کپ تھما دیا ، دوسرے بندے کے پوچھنے پر کہ آپ بھی پیتے ناں کہنے لگے میں نہیں پیتا کیونکہ پھر روز دل کرتا ہے روز دودھ نہیں ملتا ….! واہ یہ تو ایک سے بڑھ کر دوسرا ولی ہے ۔

  ” ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة  “

میری ملاقات کا آخر تیسرا امام تھا ، جو کہ میرا ادارہ فیلو بھی تھا، اسکی مسجد کی راہ لی، اس شیر دل کی داستانیں میری آنکھوں کے سامنے ہی تھیں ، ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں نے بچشم خود دیکھا متولی مسجد نے سائیکل بھی چھین کر دھکے مار کر عہدہ امامت سے برطرف کر دیا، شاید بروقت تنخواہ مانگنے پر ایسا ہوا تھا، پر یہ شیر دل ہمت نہ ہارا ، علم کا سمندر تھا رات کو چھوٹے چھوٹے رسالہ جات بر زبان عربی اٹھائے ہوئے مجھے عربی عبارات سنا رہا تھا اور نکات علمیہ بیان کر رہا تھا ، صبح نماز فجر کے بعد نان بائی کی دوکان سے کچھ نان خرید کر سر پر اٹھا کر شہر کی نواحی آبادی میں فروخت کرنے چلا گیا ، ایک نان پر ایک روپیہ کماتا ہے،ناشتے کا ٹائم گزر جاتا تو ایک سکول کا رخ کرتا جہاں پر بچوں کو ناظرہ دعائیں پڑھاتا اور ظہر کو اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتا ہے ، اس طرح بمشکل اسکول، مسجد، بھیری لگا کر تیرہ چودہ ہزار کما کر رزق حلال کھانے والا یہ امام مسجد باوقار شخصیت شکل سے ہی شیخ الحدیث لگتا ہے ، شاید شیخ القوال یا شیخ النعت بنتا تو یہ مشقت نہ کرنا پڑتی پر یار لمبی داڑھی اونچی شلوار صاف ستھرے بغیر استری شدہ کپڑے ، ان ولیوں کو دیکھ کر میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کیا یہ معاشرے پر بوجھ ہیں ؟ انکی وجہ سے پاکستان ترقی نہیں کر پا رہا؟ یہ دقیانوس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں؟ مجھے یاد ہے پلندری شہر میں سلنڈر کی دوکان پر آگ لگ گئی، مالک دوکان بھی بھاگ نکلا ،ایک مولوی صاحب مسجد سے دوڑتے ہوئے آئے، پانی کا پائپ اٹھایا ہوا سر پر بوری گیلی کر کے باندھی ہوئی اور اکیلا مرد مجاھد دوکان میں لگی آگ بجا رہا تھا، تمام شہر تماشہ دیکھ رہا تھا اور یہ مولوی صاحب کبھی دوڑ کر اپنے سر پر پانی ڈالتے بوری کو خوب گیلا کرتے اور پھر سے دوکان کی طرف دوڑ پڑتے آخر کار اپنے اس مشغلے میں کامیاب ہوئے آگ بجھ گئی اور شہری کا لاکھوں کا سامان تباہ ہونے سے بچ گیا، آپ سوچ رہے ہوں گے اس تاجر نے خوش ہو کر مولوی صاحب کو نیا بستر لے دیا ہو گا یا بھاری انعام سے نوازا ہو گا ،یا میڈیا اس زمرد خان کے گرد اکٹھا ہوا ہو گا کہ یار تو نے کمال کر دیا !اللہ کی قسم نہیں ایسا کچھ نہیں ہوا اس مولوی جی کا بستر بھی میں نے ملاحظہ کیا،وہ بھی سردی میں لاحول ولاقوۃ کی تسبیحات پڑھتا تھا !

یہ ہے داستان مولوی، جب ملکی سرحد کو خطرہ ہو تو مفت گردن پیش کردیتا ہے،یہ سستا مال مولوی ہے جو بغیر تنخواہ یا کسی لالچ کے بغیر جان کا نذرانہ تک اللہ کے راستے میں پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے ، جس کی قربانیوں سے تاریخ کالاپانی لبریز ہے ، ہندوستان سے پاکستان آنے والے راستے جس کی جرأت کو سلام پیش کرتے ہیں، بالاکوٹ کی

پہاڑیاں بزبان حال کہہ رہی ہیں گردن وفاشعاروں کی کٹی ہے بر سر میدان مگر جھکی تو نہیں ، گردن مولوی نے کٹائی اور اقتدار کے مزے داڑھی کٹوں نے نہ صرف لوٹے بلکہ اپنا حق سمجھا اور مولوی کو قوم پر بوجھ ، ترقی کی راہ میں رکاوٹ دقیانوس قدامت پسند ، پینڈو جیسے بدبودار الفاظ سے نوازا ! معاشرے میں ڈرائیور پیشہ کو اخلاق سے عاری طبقہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی مولوی پر آوازے کسے گا ’’ او مولوی جی فرنٹ سیٹ لگی ہے اس پر باہو ہور بھسن ‘‘ بندہ مولوی پوچھے کیا میں پلید ہوں میں فرنٹ سیٹ پر کیوں نہیں بیٹھ سکتا میں کرایہ نہیں دوں گا کیا ؟ جب مرنے لگتے ہو مولوی جی آنا پھوک مارنا، بابا مر گیا غسل دینا، یہ بابو اتنا ہی مقدس ہے تو جنازہ اس سے کیوں نہیں پڑھواتے؟ بیٹی کے نکاح کا معاملہ ہے جی ضرور آنا لیکن فرنٹ سیٹ پر تم نہ بیٹھنا اس پر ’’باہو ہور بھسن‘‘ جسے سیدھی فاتحہ شریف پڑھنی بھی نہیں آتی، لگ یوں رہا ہوتا ہے کہ اگر مولوی پر اسکا بس چلے تو اسے ڈگی میں بند کر دے لاحول ولاقوۃ الاباللہ ۔

 مولوی صاحب کا مقام :  سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ليس من أمتي من لم يجل كبيرنا ولم يرحم صغيرنا ولم يعرف لعالمنا حقہ)  جو بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور علماء کی قدر نہیں کرتا وہ میری امت میں سے نہیں.

( مسند احمد وسندہ حسن –)

سچ کہا جاتا ہے’’ موت العالِم موت العالَم‘‘عالِم کی موت عالَم کی موت ہوا کرتی ہے ۔

About نویدامجد طیب آزاد کشمیر

Check Also

ایں سعادت بزور بازو نیست

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply