Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » March & Aprail Magazine » نظر رحمت سے محروم بد بخت

نظر رحمت سے محروم بد بخت

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

قارئین کرام ! اللہ رب العالمین بعض لوگوں سے اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھنا تک گوارہ نہیں کرتا، اور روز قیامت بھی ایسے لوگوں کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا۔

یہ کون سے گناہ ہیں جو اللہ رب العالمین کو اس قدر ناراض کر دیتے ہیں ؟

آئیں ملاحظہ فرمائیں اور اپنا دامن بچائیں ۔

کپڑا گھسیٹ کر چلنا

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَنْظُرُ الله إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ .

اللہ تعالی قیامت کے دن  ايسے شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔

(صحيح بخاري : 5783)

ایک روایت میں ہے :

مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ .

تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہوگا۔

(بخاري : 5787)

بیوی سے دبر میں ہم بستری کرنا

سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لَا يَنْظُرُ الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا .

اللہ تعالی قیامت کے دن  ايسے شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ، جو اپنی بیوی سے اس کے دبر ( پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے ۔(سنن ابن ماجہ : 1923)

ایک روایت میں ہے :

مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا .  (سنن أبي داؤد : 2162)

جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے ۔

ايک روايت کےا لفاظ ہیں :

مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ .

جس شخص نے حائضہ سے جماع کیا یا بیوی سے دبر میں ہم بستری کی یا کاہن کے پاس آیا اور اس کی تصدیق کی ، تحقیق ایسے شخص نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ تعالی نے محمدﷺ  پر نازل کیا ۔

(مسند أحمد :  10167)

خاوند کی نا شکری کرنا

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى امْرَأَةٍ لَاتَشْكُرُ لِزَوْجِهَا .

اللہ تعالی قیامت کے دن  ايسی عورت کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ، جو اپنے شوہر کی شکر گزاری نہیں کرتی۔

(السنن الكبري : 14720)

ایک روایت میں ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا :

يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَ:‏‏‏‏ وَبِمَ يَا رَسُولَ الله ؟ ‏‏‏‏‏‏قَالَ :‏‏‏‏ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ .

اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا  :یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔(صحیح بخاری : 304)

احسان جتلانا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنا

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ الله وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا  يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ . قُلْتُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا. فَأَعَادَهَا ثَلَاثًا، قُلْتُ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ الله ؟ خَابُوا وَخَسِرُوا. فَقَالَ :  الْمُسْبِلُ ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ . أَوِ :  الْفَاجِرِ.

تین طرح کے لوگوں سے اللہ تعالی قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا میں نے پوچھا : وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول ! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔ (سنن  ابي داؤد : 4083)

ماں باپ کی نافرمانی ، شراب نوشی  اور بے غیرتی

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ، وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ، وَالدَّيُّوثُ.

تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث ( بے غیرت ) ۔

(سنن نسائي : 2562)

زائد پانی روکنا ، اپنی مطلب کے لیے بيعت کرنا

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ  الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا، إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِالله لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ.

تین طرح کے لوگوں کی طرف اللہ تعالی قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک شخص وہ ہے جو راستے میں فاضل پانی کا مالک ہو اور مسافر کو دینے سے منع کرے، ایک وہ شخص جو دنیا کی خاطر کسی امام ( خلیفہ ) کے ہاتھ پر بیعت کرے، اگر وہ اس کا مطالبہ پورا کر دے تو عہد بیعت کو پورا کرے اور مطالبہ پورا نہ کرے تو عہد بیعت کو پورا نہ کرے، ایک وہ شخص جو عصر کےبعد کسی شخص سے کسی سامان پر مول تول کرے اور اس کے لیے اللہ کی قسم کھائے کہ یہ اتنے اتنے میں لیا گیا تھا تو دوسرا ( یعنی خریدنے والا ) اسے سچا جانے ( حالانکہ اس نے اس سے کم قیمت میں خریدی تھی ) (سنن نسائي : 4462)

بوڑھے کا زنا کرنا ، فقیر کا گھمنڈ کرنا ، حاکم کا جھوٹ بولنا ۔

سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْإِمَامُ الْكَذَّابُ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ.

تین طرح کے لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہيں دیکھے گا : بوڑھا زنا کار، گھمنڈی فقیر، جھوٹا امام ۔

(مسند أحمد : 2582)

نماز میں پشت کو سیدھا نہ رکھنا

سیدنا طلق بن علي رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا .

اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز کی طرف دیکھے گا بھی نہیں جو رکوع وسجود میں اپنی پشت کو سیدھا نہیں رکھتا  ۔

(سلسلة الصحيحة : 2536)

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :

  كان ﷺ إِذَا رَكَعَ ، لَوْ صُبَّ عَلَى ظَهْرِهِ مَاءٌ لاسْتَقَرَّ.

 آپ ﷺجب رکوع کرتے تو آپ کی پیٹھ پر اگر پانی ڈالاجاتا تو وہ بھی ٹھہر جاتا ۔

(سلسلة الصحيحة : 661)

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

رسول اللہ ﷺکی جسمانی خصوصیات و برکات

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply