Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ!

حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ!

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ع کی باقاعدہ منظوری دی،جس میں حجاج بیت اللہ الحرام کو کسی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔امسال ایک لاکھ سات ہزار دو سو دس پاکستانی فریضہ حج ادا کریں گے،جس میں سرکاری کوٹہ ساٹھ فیصد جبکہ پرائیویٹ کا کوٹہ 40 چالیس فیصد رکھا گیا ہے اس طرح ایک لاکھ سات ہزار پاکستانی سرکاری اسکیم کے تحت فریضہ حج ادا کریں گے جبکہ 76 ہزار سے زائد عازمین حج پرائیویٹ اسکیم کے تحت بلادِ حرمین شریفین جائیں گے۔

حسب سابق حکومتی اراکین اور ان کے ہمنواؤں نے مذکورہ بالا حج پالیسی کی خوب حمایت کی اور ہر محاذ پر دفاع کرتے نظر آئے،جبکہ دوسری طرف حزب اختلاف کی جماعتوں اور بعض ناقدین نے اس حکومتی اقدام کو آڑے ہاتھوں لیا اور خوب نکتہ چینی کی۔

وطن عزیز میں روز افزوں مہنگائی نے غریب کا چولہا بجھا دیا ہے اور عوام کی کمر توڑدی ہے،جس کی وجہ سے مصائب و مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں یہ حکومتی اقدام مزید پریشانی اوراضطراب کا موجب بنے گا۔

ہر مسلمان خواہ وہ امیر ہو یا غریب حج بیت اللہ سے والہانہ لگاؤ اور وارفتگی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ فکر اور سوچ اسے بے چین رکھتی ہے کہ وہ حج وعمرہ کی سعادت سے مشرف ہو! سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو صاحبہ سے کسی صحافی نے پوچھا تھا کہ غریب اور مفلس خواتین جب آپ سے ملتی ہیں توسب سے زیادہ وہ کیاطلب کرتی ہیں؟

تو انہوں نے جواب دیا ’’وہ چاہتی ہیں کہ کسی طرح ان کو حج کرایا جائے!‘‘

غریب کے لیے حج وعمرہ کرناتو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن حالیہ اقدام نے تو متوسط طبقے کو بھی استطاعت کے دائرے سے باہر کردیا ! وہ بزرگ خواتین وحضرات جوپوری زندگی اپنے خون پسینے کی کمائی سے ایک ایک پائی اس امید پر جمع کرتے رہے کہ زندگی کے آخری ایام میں بیت اللہ کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گے اور معصیت و گناہ کے بوجھ سے خود کو آزاد کریں گے،ان کے ارمانوں کا خون ناحق کر لیا گیا!!!

مقام حیرت ہے کہ ’’ریاست مدینہ کے نام لیوا‘‘ قادیانیوں اور سکھوں کے لیے تو سہولیات اور آسانیاں کر رہےہیں ملک میں سینیما گھروں کا جال بچھانے کے لیے سبسڈی دے رہےہیں لیکن “اللہ کے مہمانوں“ کے لیے ان کے پاس کوئی سبسڈی نہیں ہے!

تاریخ اسلام کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ خیرالقرون سے لیکر ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے حجاج کرام کی خدمت کو اپنے لیے باعث شرف سمجھا بلکہ دور جاہلیت میں بھی لوگوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر زائرین بیت اللہ کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ حجاج تو صاحب استطاعت ہوتے ہیں!

آج استطاعت استطاعت کی گردان کرنے والے بھول گئے ہیں کہ کتنے لوگ تھے جو اس ہوشربا اضافے سے پہلے صاحب استطاعت تھے جو اب صاحب استطاعت نہیں رہے۔ کیا ریاست مدینہ کے علمبرداروں کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ ملک میں اسلامی اقدار اور روایات کو فروغ دینے کے لیے عوام کو ریلیف اور سبسڈی دیں۔ ان بزرگوں پر کیا بیتی ہوگی جنہوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ کاٹ کر اتنی رقم اکٹھی کرلی کہ اپنے حج کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے تھے لیکن اس اچانک اضافے نے ان کے خواب سے تعبیر کو کوسوں دور کر دیا۔

آخری گزارش:

یقیناً موجودہ حکومت وطن عزیز کو اقتصادی اور معاشی خسارے سے نکالنے کے لیے پر عزم ہےاور معیشت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگانا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے سب سے پہلے شفاف اور منصفانہ احتساب کا عمل شروع کیا جائے اور ان بڑی مچھلیوں کو پکڑیں جنہوں نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ان سے ایک ایک پائی وصول کی جائے۔

حکومتی شاہ خرچیوں پر کنٹرول کریں اور تمام شعبوں میں سادگی کو اپنایا جائے،کرپشن اور سودی نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکا جائے اسی طرح کے دیگر عملی اقدامات کیے جائیں جن سے معیشت کو سہارا مل سکے۔

ہمارا حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ حج میں حالیہ اضافے کو فی الفور واپس لیا جائے اور اضطراب اور بے چینی میں مبتلا عوام کو خوشخبری سنائی جائے اور اللہ کے مہمانوں کی دعائیں لی جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور اپنی رحمت سے ہمارے جملہ مسائل اور پریشانیوں کا مداوا کر دے اور ہم دنیاوی اعتبار سے بھی ترقی اور کامیابی کی منازل طے کرتے رہیں۔

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

سال نو؛ چند غور طلب پہلو 

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply