Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

قسط نمبر : 2

نوجوانوں کے لئے اہم نصیحتیں :

ذیل کی سطور میں چند اہم نصیحتیں پیش کی جاتی ہیں ، جو ان شاء اللہ نوجوانوں کے لئے ایک رہنما نصائح کی حیثیت رکھتی ہیں۔

وقت کی قدر کریں

ویسے عمومی طور پر تمام عمر کے لوگوں کو ہی اوقات کی قدر کرنی چاہئے اور بالخصوص نوجوانوں کواس حوالے سے خصوصی توجہ دینی چاہئےاس لئے کہ ان کے لمحات سب سے مہنگے اور قیمتی ہیں ،اور وقت کی قدر کے حوالے سے نبی ﷺکا فرمان ہے: ’’نعمتان مغبون فیھما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ‘‘

(صحیح بخاری: 6412، کتاب الرقاق ، باب لا عيش إلا عيش الآخرة)

 یعنی دو قسم کی نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے حوالے سے اکثر لوگ ناقدری کا شکار رہتے ہیں اور ضائع کردیتے ہیں،ایک صحت اور دوسری چیزفرصت کے لمحات ۔

اسی طرح ایک حدیث میں فرمایا :صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مصروفیت سے پہلے غنیمت جانو۔

اچھی صحبت اور بری صحبت :

نوجوانوں کو بالخصوص اپنی صحبت (Gathering) پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔اس لئے کہ یہ انتہائی  اہم ترین سبب ہے کہ جس کی وجہ سے اچھا شخص بری عادتوں اور برا شخص اچھے لوگوں میں بیٹھنےکی وجہ سے بہت سی اچھی چیزیں سیکھ جاتا ہے۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اچھی صحبت اور بری صحبت کی مثال عطر فروش اور بھٹی والے سے دی ہے۔چنانچہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھے اور برے ساتھی کی مثال اس شخص کی سی ہے جو مشک لئے ہوئے ہے اور بھٹی پھونکنے والاہے، مشک والایا تو تمہیں کچھ دے دےگا یا تم اس سے خرید لوگے یا اس کی خوشبو تم سونگھ لوگے(یعنی ہر صورت فائدہ ہی فائدہ ہے ) اور بھٹی والایا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا تمہیں اس کی بدبو پہنچے گی۔(یعنی ہر صورت میں نقصان ہی نقصان ہے۔)( صحیح بخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ،صحیح مسلم :کتاب البر والصلۃ والآداب ،باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء)

بڑوں کو بڑا ہی سمجھا جائے

نوجوان افراد جوانی کے نشے میں عام طور پر بڑوں کو اولڈ مین (Old Man)کہہ کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس ترقی یافتہ دور سے یہ پرانے لوگ نا واقف ہیں ،اور اس دور کے تقاضوں کے مطابق ہی ہمیں اپنی جوانی گزارنی چاہئے۔ اور مزید اس پر یہ کہ بڑوں کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایسے تمام انداز انتہائی غلط ہیں ، اور اس طرح کی تنقید کرتے وقت ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیںکہ ہم اپنی کم عمری کی وجہ سے معاملات کی کنہ کو نہیں پہنچے کہ جس حدتک طویل تجربات کے بعد ہمارے بڑے پہنچ چکے ہیں۔ ہم اپنے بڑوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے وقت کیوں بھول جاتے ہیں کہ کبھی میں نے بھی بڑا ہونا ہے؟؟ ہماری سوچ تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ ہم ان بڑوں سے سیکھیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے نصیحتیں طلب کریں،تاکہ گزرتے وقت کے ساتھ جیسے جیسے میری عمر ڈھلے گی مجھے مختلف قسم کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑے گا مجھے ان ذمہ داریوں کا سامنا کرنے کے لئے اور انہیں بطریق احسن ادا کرنے کے لئے انہیں کے زیر سایہ اور زیر تربیت رہنا چاہئے۔نیز بڑوں کی غلطیوں میں بھی اپنے لئے سبق تلاش کیا جائے چہ جائیکہ ہم ان کی غلطیوں پر مبصر کی حیثیت سے کوئی رائے زنی کریں۔

جوانی کی حفاظت کریں

جو نعمت جس قدر بڑی اور اہم ہوتی ہے ، اس کی حفاظت بھی اسی قدر اہم ہوتی ہے۔لہذا ایسے فتنے جو انسان کو بدنظری اور زنا کی طرف لے جاتے ہیں ،ان سے حفاظت بہت ضروری ہے ،کیونکہ جوانی کی عمر میں انسان کی شہوت بھی خاصی متحرک ہوتی ہے، گناہ کے امکان بہت زیادہ ہوتے ہیں ، سلف صالحین اس حوالے سے اس قدر فکر مند ہوتے تھےکہ سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  !میں ایک جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس کے حوالے سے گناہ سے ڈرتا ہوں اور میں نکاح کی طاقت نہیں رکھتا ،لہذا مجھے خصی ہونے کی اجازت دے دیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،دوسری مرتبہ اپنی اس بات کو سیدنا ابوہریرۃ  رضی اللہ عنہ نے دہرایا، پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ،تیسری مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کو دہرایااور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  خاموش رہے ، چوتھی مرتبہ جب سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  نے اپنی بات کو دہرایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایااے ابوہریرۃ( رضی اللہ عنہ ) ! قلم خشک ہوچکے ہیں ،لہذا جو ہونا ہے وہ ہوکر رہے گا۔( صحیح بخاری:کتاب النکاح ، باب ما يكره من التبتل والخصاء)

اندازہ لگائیں کہ سلف صالحین میں اس حوالے سے کس حد تک جوانی کی حفاظت کا جذبہ موجود تھا۔

اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً صحابہ کی اس حوالے سے تربیت بھی کیا کرتے تھے ،بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا :

’’ یا معشر الشباب، من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج ،فانہ اغض للبصر ، و أحصن للفرج ، و من لم یستطع فعلیہ بالصوم ، فانہ لہ وجاء‘‘(صحیح مسلم: کتاب النکاح ،باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه ووجد مؤنه …)

یعنی : اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہے ، وہ شادی کرلے اس لئے کہ یہ نظر کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے اور جو شادی کی طاقت نہ رکھے ،وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس وقت جوانی کی عمر میں تھے ، فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میری ہی وجہ سے بیان کی گئی اور میں نے جلد ہی شاد کرلی۔ (ایضاً)

ایک موقع پر ایک لڑکی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ  اس کی طرف دیکھنے لگے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فوراً ان کے چہرے کو موڑ دیا۔( صحیح ابن خزیمۃ : 3031، کتاب المناسک ، باب ذكر الدليل على أن الشيخ الكبير…الخ)

ایک شخص نے آکر زنا کی اجازت مانگی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی بھی بڑے احسن انداز سے تربیت کی اور فرمایاکہ کیا تم یہ پسند کروگے کہ تمہاری ماں ،بہن اور بیٹی کے ساتھ کوئی اس طرح کا معاملہ کرےاس شخص نے کہا کہ میں یہ پسند نہیں کرتا ،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہا کہ یہی سوچ دوسرے کی بہن ،بیٹی اور ماں کے بارے میں ہونی چاہئے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :’’لا تتبع النظرۃ النظرۃ ‘ (سنن ابی داؤد: کتاب النکاح باب ما یؤمر بہ من غض البصر)

یعنی ٹکٹکی باندھ کر نہ دیکھ۔ (اگر اچانک نظر پڑجائے تو اس پر انسان گناہ گار نہیں)

ان تمام نصوص سے واضح ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جوانوں کو اس گناہ سے بچنے کے لئے مسلسل کس طرح سے تربیت کی جس کانتیجہ تھا کہ آج ہم کسی صحابی کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ اس طرح کے گناہ کا مرتکب ہو،بلکہ ایسا سوچناہمارے اسلام کے لئے خطرہ بن جائے گا۔

اوریہی ہمارا کرنے کا کام ہے کہ ہم نہ کہ صرف اس گناہ سے بچنے کی کوشش کریں بلکہ وہ تمام راستے جو زنا کی طرف لے جاتے ہیں،ان سے بھی بچنا ازحد ضروری ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔(الاسراء:۳۲) لہٰذا ایسے تمام امور واسباب جو زنا کے قریب لےجاتے ہیں،ان سے دور رہناچاہئے۔سیدنا یوسف علیہ السلام نے جوانی کی عمر میں ہی اپنے آپ کو اس گناہ سے بچایا جس کا تذکرہ رہتی دنیا تک قرآن مجید میں موجود رہے گا۔ بلکہ ایسا شخص جو کبھی ایسی صورتحال بن جانے کے باوجود کہ ایک خوب صورت اور حسب و نسب والی عورت اسےگناہ کی دعوت دے اور وہ خود کو اس گناہ سے بچالے ،اس کا صلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوگا۔ (صحیح بخاری: کتاب الزکوۃ ،باب الصدقۃ بالیمین)

بے شعوری نقصان دہ ہے

جوانی کی عمر ایسی عمر ہے کہ جس میں شعور توآجاتا ہے ،لیکن یہ شعوربدرجہ اتم نہیں ہوتا،جوانی کی عمر میں عجلت اور جذبات کا عنصر غالب ہوتا ہے۔اور جس حد تک یہ عنصر غالب ہوتا ہے اسی حد تک وہ شعور اور فہم و فراست سے دور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہےکہ جوان شخص بجائے اس کے کہ مکمل طور پر اپنے شعور پر اعتماد کرے، اسے اپنے بڑوں سے نصیحتیں اور ان سے رابطہ رکھنا چاہئے ۔ جوانی کی عمر میں بے شعوری اور عجلت انتہائی نقصان دہ ہے۔ بعض انصاری نوجوان کہہ بیٹھے تھے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے مال سے مہاجرین کو سو ،سو اونٹ دئیے ہیں،وہ قریش کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے۔باوجود اس کہ کے ہماری تلواریں ان کے خونوں سے تر ہیں۔نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب علم ہوا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم بہت مغموم ہوئے اور انصار صحابہ کو جمع کیا اور ان سے پوچھا تو انصار کے بڑی عمر کے سمجھ دار افراد کہنے لگے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! یہ بات بعض نوجوان لڑکوں نے کہہ دی ہے ،نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انصار صحابہ سے فرمایا کہ میں نے مال زیادہ دیا ہے ،تو انہیں دیا ہے جو ابھی نیا نیا کفر کے دین کو چھوڑ کر آئے ہیں ،اور تمہارے لئے اس سے بڑھ کر شرف کی بات کیا ہوسکتی ہےکہ لوگ اپنے گھروں میں مال لے کر جائیں اور تم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت لے کر جاؤ۔تمام انصار صحابہ نے کہاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس پر راضی ہیں۔ (صحیح بخاری:  کتاب فرض الخمس ، باب ما كان النبي صلی اللہ علیہ وسلم  يعطي المؤلفة قلوبهم وغيرهم من ..)

اندازہ لگائیں وہ صحابہ جن کے لئے اللہ کی رضامندی اور جنت کے اعلان ہوچکے ہیں ،ان میں سے بھی بعض لڑکوں سے اس طرح کی غلطی ہوسکتی ہے،اور وجہ ان کی کم سنی تھی( جسے بہرحال نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نےدرگزر  فرمادیا) اس واقعے کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے معاشرے پر نوجوانوں کے بے شعوری کے کس قدر خطرنا ک اثرات رونما ہوسکتے ہیں۔ظاہر سی بات ہےہم میں تو بالاولیٰ اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ،بلکہ یہاں ایک حدیث کو بھی بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’هلاک امتي علي يدي غلمة من قريش‘‘(صحیح بخاری:کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام)  یعنی میری امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھ ہے ۔

ظاہر سی بات ہے کہ وہ امت کے فساد اور خرابی کاسبب کیسے بنیں گے ؟؟اپنی کم فہمی اور بے شعوری کی وجہ سے۔

اس کے برعکس جب ایک نوجوان میں شعور پیدا ہوتا ہے تو وہ پورے سماج کی اصلاح کے لئے کمربستہ ہوجاتا ہے، اس کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں کہ جنہوں نے جب بت توڑے تو قوم جانتی تھی کہ ایک نوجوان ہی کا کام ہوسکتا ہے۔اور قوم کی مراد ابراہیم علیہ السلام تھے۔( الانبیاء:۶۰)  یعنی ایسا جرأتمندانہ فعل ایک جوان نے ہی کیا، اور جب جوان یہ کام نہ کرسکے تو کم ازکم اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ خاموش تماشائی بن جائے،بلکہ وہ کم از کم ایسے علاقے میں رہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس کی بڑی مثال اصحاب کہف ہیں،جوکہ نوجوان لڑکے ہی تھے، جب انہیں توحید کا فہم اور شعور آیا،پھر ان کی غیرت نے شرک و کفر کو قبول نہیں کیا، قوم ان کے درپے ہوئی اور ان کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا،بالآخر وہ اس علاقے کو چھوڑ کر ایک غار میں چھپ جاتے ہیں ،اس پورے واقعہ کا نقشہ قرآن مجید میں کھینچا گیا۔(دیکھئے: سورۃ الکہف: ۹ تا ۲۶)

بہرحال یہ نتیجہ ہے نوجوانوں کے صحیح شعور اور فہم و بصیرت کااور بے شعوری اور کم فہمی کا۔

آج کا نوجوان فتنوں کے نرغے میں

جوانی کی عمر آزمائشوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔جہاں اس عمر میں نوجوان کے کاندھوں پر مختلف قسم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ،ساتھ ہی اسے مختلف قسم کے فتنوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمر میں دنیاوی خواہشات اور حب الشہوات دونوں ہی عروج پرہوتی ہیںاور ساتھ ہی جوانی ایک غفلت کی عمر بھی ہے،ایسے میں جوان جن برے اعمال کا مرتکب ہوجاتا ہے بالخصوص دور حاضر میں نوجوان جس طرح سےغلط راہوں کا راہی بن چکا ہے اور اس میں دینی اور اخلاقی اعتبار سے جن بیماریوں کا شکار ہے ، ذیل میں ان کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

مال سے متعلق برے خصائل

چونکہ جوان اپنے والدین اوراولاد کی کفالت اور بیوی کے نان و نفقہ اور اقارب کے ساتھ صلہ رحمی جیسی مختلف ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر لئے ہوئے ہوتا ہے،اور اب دنیا کی دیکھا دیکھی محض دنیاوی حرص و طمع کی بنیاد پر یا اپنی ان مذکورہ ذمہ داریوںکو صحیح طور پر نبھانے کی دوڑمیں بسا اوقات وہ ناجائز راہوں کا انتخاب کرلیتا ہے،مثلاً چوری ،ڈکیتی ، جوا، سود خوری وغیرہ ۔ چونکہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مال کمانا اس کی ضرورت ہے اس لئے حلال و حرام کی تمییز کئے بغیر کثرت مال کی حرص اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔اور ان گناہوں کا مرتکب ہوجاتا ہے۔

حل :

اس قبیل کی برائیوں کا حل یہ ہے کہ ہمارا مقصد صرف ذمہ داریوں کا پورا کرنا ہو نہ کہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا۔اس لحاظ سے ہمیںاپنی جائز ضروررتوں کا تعین کرنا چاہئے۔ اور کسب حلال کوحیثیت دینی چاہئے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے پر عزم ہونا چاہئے کہ کوئی حرام راہ اختیار نہیں کروں گا۔اور شریعت میں موجود اس کی حرمت کو ملحوظ خاطر رکھے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:’’ إنه لا يربو لحم نبت من سحت إلا كانت النار أولى به‘‘ (جامع ترمذی :  ابواب السفر، باب ما ذکر فی فضل الصلوۃ)

یعنی : جوبھی گوشت کا ٹکڑا حرام سے پرورش پاتا ہے وہ جہنم کا ہی مستحق ہے۔

فراغت ،وقت کا ضیاع

جیسا کہ کہا گیا کہ کسی حد تک جوانی غفلت کی عمر بھی ہے ،نوجوان کچھ اس طرح کے بھی ہیںجو شاید اپنی جوانی کو بہت مصروف گزار رہے ہوں ،لیکن حقیقت میں وہ اپنی جوانی کی قیمتی عمر کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی جوانی جن کاموں میں مصروف ہونی چاہئے وہ خود کو ان کاموں میں مصروف نہیں کرتے۔ایسے لوگوں کواپنی اصل ذمہ اریوں کا تعین کرکے اپنا وقت صحیح مصرف میں صرف کرنا چاہئے۔

بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو کسی قسم کی مصروفیت کے بغیر کلی طور پر اپنی جوانی کے شب و روز کو ضائع کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اس نعمت کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔

بدعقیدگی یا اسٹائل

بکثرت یہ دیکھا گیا ہے کہ نئی جوان نسل میں بعض چیزیں بطور اسٹائل ہی کے کہہ لیں کہ ان میں مروّج ہیں حالانکہ وہ عقیدہ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔

مثلاً مغرب کی نقال نئی نسل کو دیکھا گیا ہے کہ باہم ایک دوسرے سےتعارف کرواتے ہوئے، ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے آپ کا اسٹار (ستارہ ) کیا ہے؟

جس طرح کفار ستاروں کے برجوں پر یقین رکھتے ہیں،ستاروں کی بنیاد پر لوگوں کی تقدیر کا حال پوچھا اور بتایا جاتا ہے۔ بالکل یہی حال آج کے مسلم نوجوان کا ہے۔کہ اس نے بدعقیدگی کو اپنا مروج انداز بنالیا ہے۔

آج کل کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بکثرت کوئی نہ کوئی دھاگہ ،کڑا یا اس قسم کا کچھ ضرور ہوتا ہے۔

بعض لوگوں نے یہ خاص منت یا بیماری وغیرہ کےسبب سے پہنا ہوتا ہے جوکہ صریح شرک ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک شخص کے ہاتھ میں کڑا پہنا ہوا دیکھا تو فوراً اسے اتروایا اور کہا کہ اس سے  مزید بیماری میں اضافہ ہوگا اور اگر اسی حال میں تیری موت واقع ہوگئی تو کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

(سنن ابن ماجۃ : کتاب الطب، باب تعلیق التمائم،صحیح ابن حبان :6085، کتاب الرقیٰ والتمائم، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، نیز امام حاکم کی تصحیح،علامہ بوصیری  کی تحسین اور محمد بن عبدالوھاب کے سند لابأس بہ کہنا ان سب کا جائزہ بھی لیا ہے۔ دیکھئے: الضعیفۃ : 1029۔بہرحال اس مضمون کی دیگر روایات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ تعویذ لٹکانا شرک ہے اگر وہ قرآنی نہ ہو۔اور قرآنی تعویذ کا لٹکانا بھی جائز نہیں۔کیونکہ یہ شریعت سے ثابت نہیں نیز یہ مقاصد ِقرآن کے بھی خلاف ہے۔ )

بعض نے یہ بطور تزین کے پہنا ہوتا ہےجوکہ عورتوں کے تزین کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

بعض نے غیروں کی نقالی کرتے ہوئے اسے پہنا ہوتا ہے،یہ اس لئے ناجائز ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی تشبیہ ہے۔اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ جس نےکسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔( سنن ابی داؤد: کتاب اللباس ،باب فی لبس الشھرۃ ، مسند احمد: 2/50)

میڈیا اور خراب لٹریچر

تفریح حاصل کرنے کے لئے نوجوان ساتھی میڈیا کا رخ کرتے ہیں اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر جس طرح سے مخرب اخلاق نشریات دکھائی جاتی ہیں اوربے حیائی اور عریانیت کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ الامان والحفیظ!! اور پھر اس کے جو برے اثرات معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ہر ذی شعور اس سے واقف ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے اس حوالے سے مزید جو عریانیت اور بے دینی کو ہوا دی،وہ بھی ناقابل بیان ہے۔

 ہمارا نوجوان فارغ وقت میں تھوڑی دیر کی مشغولیت کے لئے بغیر کسی تمیز کےکسی بھی لٹریچر کو پڑھنا شروع کردیتا ہے۔ نتیجتاً اس راستے سے باطل نظریات ،اسلام سے دوری، بے حیائی اور شہوت کو بھڑکانے والی تحریریں یا تصاویراورغیر اسلامی تہواروں کا فروغ ہوتا ہے۔

لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس حوالے سے بھی شعور حاصل کریں کہ کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ کس قسم کے نظریات کو فروغ دے رہی ہے؟؟ اور اس سے اجتناب کرنا ہمارے لئے کس قدر ضروری ہے؟؟ اور اس کے مقابلے میں کون سا لٹریچر یا چینل یا ویب سائٹ ہے جس کے ذریعے سے میرےاخلاق واقدار کی بہتری اور مستقبل کی تعمیر ہوسکتی ہے؟؟ یقیناً اس تمیز کے ساتھ اور اس فرق کو سمجھنے کے ذریعے سے ہی ہم نت نئے فتنوں سے بچ سکتے ہیں جو میڈیا کے راستے ہمارے دلوں میں گھر کرچکے ہیں۔

جدت پسندی کی آڑمیں اسلام کے بارے میں بدگمانی

جدت پسندی (ماڈرن کلچر ) دراصل یہ نام ہے ایک ایسی سوچ کا جو مغرب سے مرعوب ہےکہ مغرب میں جو کام ہوا ،بس وہ یہاں بھی ہونا چاہئے چاہے دین اس کی اجازت دیتا ہو یا نہ دیتا ہو۔ بلکہ ایسے کاموں کو اپنانے کے لئے ان کے ہاں دین کی تو قربانی دی جاسکتی ہے لیکن جدت پسندی کے نام پر مغرب کی نقالی کو چھوڑنا انہیں گوارا نہیں، حتٰی کہ جو لوگ اس فتنے سے روکتے ہیں، انہیں بنیاد پرست کا نام دے دیا جاتا ہے اور پھر اس مغرب کی نقالی میں اس قدر ہمارے جوان مستغرق ہوئے کہ بھول گئے کہ وہ مسلمان بھی ہیں!!شاید اسی صورتحال کو سامنے رکھ کر اقبال نے کہا تھا:

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

من چلے نوجوانوں اور مغرب سے متاثر لوگوں کی خواہش پرستی کا احترام کرنے والے (یا کہیں کہ اسی راستے سے اپنی جیبیں گرم کرنے والے) بھی خوب میدان میں اترتے ہیں، اور مغرب کی نقالی کو دینی رنگ چڑھانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ دور حاضر میں موسیقی اور شراب نوشی کے جواز کے فتوے منظر عام پر آچکے ہیں جو صرف اور صرف مغربی آقاؤں اور مغرب زدہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے انتہائی ناپاک جسارت ہے۔اور اسی قبیل کی جسارتیں یہ بھی ہوئیں کہ حقوق نسواں بل کے نام پر مغربی جراثیم کے متحمل مرد و زن کو کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کی گئی،اسی طرح نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرنے والے کے حوالے سے سزائے موت کی سزا کے مسئلے کو چھیڑا گیا۔اور اس میں باطل کی آمیزش کرنے کی کوشش کی گئی۔

تقاریب اختلاط مرد وزن

لوگ بالعموم اور کالجزاوریونیورسٹیوں سے تربیت یافتہ نئی نسل(New Generation) بالخصوص  مرد و زن کے اختلاط کو وقت کی ضرورت سمجھتی ہے اور صنف نازک کے ساتھ بھی اسے عین انصاف قرار دیا جاتا ہے کہ وہ مرد کے شانہ بشانہ رہے۔ دراصل یہ ایک سازش ہے کہ اس راستے سے مرد و زن کی شہوت کو ابھار کر ان کی دینی غیرت و حمیت کو شہوت کے پہاڑ تلے کچل دیا جائے۔اور مسلمان بس نام کا مسلمان رہ جائے اور انگریز کی بولی بولتا چلاجائے۔شاید اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

نئی نسل کو اپنی اس بری خصلت(جوسراسر غیراسلامی ہے) اور اس کے مضر اثرات کو بھی سمجھنا پڑے گا اور حد درجہ کوشش کرنی ہے کہ اس فریب سے خود کو آزا دکروائیں۔

موسیقی

آج کے نوجوان میں ایک برائی یہ بھی بہت پائی جاتی ہے کہ وہ موسیقی کادلدادہ نظر آتا ہے،اسے  روح کی غذا سمجھتا ہے۔اس کی خوشی، تفریح ،تہوار اورغمی سمیت کوئی موقع موسیقی سے خالی نظر نہیں آتا، بلکہ اب تو یہ موسیقی مساجد میں پہنچ گئی ہے۔ اور کچھ عرصہ قبل ایسے لوگ بھی منظر عام پر آنا شروع ہوگئے جنہوں نے شرعی نصوص کو توڑ مروڑ کر اسے جائز قرار دینے کی ناکام کوشش کی ، گویا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کا مصداق بن گئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔( صحیح بخاری: کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه)

بحمدللہ ربانی علماء بروقت اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کمربستہ ہوگئے،اور ان ریشہ دوانیوں کی حقیقت کو فوری سامنے لایا گیا۔ اس کے باوجود اس مزاج کے لوگ اپنی اس روش پر قائم ہیں۔اندازہ لگایا جائے جس قوم کے نوجوانوں کی بوریت ختم کرنے کا واحد حل موسیقی کو ٹھہرادیا جائے،وہاں اللہ کا عذاب نہ آئے تو اورکیا ہو؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں تو موسیقی کی شدید مذمت موجود ہے۔

ایک حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’صوتان ملعونان فی الدنیا والآخرۃ ، مزمار عند نعمۃ ،و رنۃ عند مصیبۃ ‘‘ (مسند بزار )

’’ دو قسم کی آوازیں دنیا و آخر ت میں ملعون ہیں،ایک نعمت ملنے پر موسیقی کی آواز اور دوسری مصبیت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔‘‘ ایک روایت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:’’ إن الله حرم علي أو حرم الخمر والميسر والكوبة ‘‘ (سنن ابی داؤد: کتاب الاشربۃ ،باب فی الاوعیۃو صححہ الالبانی)

یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یا فرمایا کہ شراب ،جوا اور طبلہ /موسیقی کو حرام کردیا ہے۔بہرحال موسیقی کی مذمت میں کئی ایک روایات کو پیش کیا جاسکتا  ہے۔لیکن افسوس آج کا مسلمان ہے کہ اسے اللہ کی حرام کردہ چیز اور ملعون چیز میں سرور و سکون ملتا ہے اور اس کی بوریت ختم ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’جب آلات موسیقی ،گانے بجانے والیاں اور شراب عام ہوجائے گی اس وقت میری امت میں قذف (تہمت) ، مسخ (شکلوں کا مسخ ہونا) اور خسف (زمین میں دھنسایا جانا)کے واقعات ہوں گے۔( جامع ترمذی:  ابواب الفتن ، باب ما جاء فی علامۃ حلول المسخ والخسف، صححہ الالبانی)

فکری حملے

چونکہ ہمارے اسکول سے لے کر یونیورسٹیز تک اسلامی تعلیم صرف نام کی حد تک ہے اور بسا اوقات ایسے مناظر بھی دیکھے گئے ہیں کہ اسلامیات جیسے مضمون (subject) کو پڑھانے کے لئے کسی جدت پسند مغربی افکار کے حامل شخص کا انتخاب کیا جاتا ہےکہ اس راستے سے جو تھوڑی بہت نئی نسل کواپنے دین کی تعلیم ملتی ہے وہ راستہ بھی بندہوجائے۔ اور کمیونسٹ قسم کا یہ اسلامیات پڑھانے والا ٹیچر اب مکمل طور پر طلباء کو نظریہ ارتقاء جیسے بدنام زمانہ نظریہ اوردیگرباطل نظریات کو غیر محسوس انداز میں نئی نسل کے ذہنوں میں ڈالتاچلاجائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان یونیورسٹیز سے ڈاکٹر ،انجینئرز پیدا ہوں یا نہ ہوں کمیونسٹ اور سیکولر قسم کے لوگ پیدا ضرور ہورہے ہیںاورپھر یہی نئی نسل اسلام کے بارے میں طرح طرح کے شبہات وارد کرتی نظر آتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج کا یہ نوجوان ایسا مسلمان ہے کہ جوغسل کا طریقہ سمیت کئی ایک مبادیات اور ضروریات دین سے ناآشنا ہے،حتی کہ اس کا مسلمان بھائی فوت ہوجائے یا اس کا اپنا ہی والد یا والدہ وغیرہ کا انتقال ہوجائے تو اسے غسل دینے ،کفنانے، دفنانے اور نماز جنازہ جیسے اہم حقوق سے بھی ناواقف ہوتا ہے جسے مسلمان کے حقوق میں شمار کیا گیا ہے حتی کہ میت کے دفنائے جانے کے بعد اب بھی منتظر ہے کہ اس کے گھر پر کوئی آجائے اور قرآن پڑھ جائے اور قرآن خوانی ہوجائے ۔یہ نئی نسل کی ابتری کی حالت ہے۔

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

اس پر مزید یہ کہ اپنے دین سے اس قدر لاعلم یہ اسلام سے متنفر مسلم نوجوان دوسرے مذاہب میں  محاسن تلاش کرتا ہے حالانکہ اگر یہی توجہ اگر اپنے دین کے حوالے سے دی جائے تو اسے دین اسلام مجموعہ خیر نظر آئے گا۔بہرحال اس نئی نسل کے ساتھ ستم بالائے ستم یہ بھی ہے کہ مدتِ طویل سے غیر محسوس انداز میں اس کا فکری اغواء کیا جارہا ہے۔اور آج کا یہ مسلم نوجوان اس دلدل میں پھنستا چلا جارہا ہے۔ اب اسے مغرب کی ہر نجاست میں حسن نظر آتا ہے اور بڑی مرعوبیت کے ساتھ اسے اختیار کرلیتا ہے۔

ان برے خصائل کا حل

ان تمام برے خصائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ نوجوان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسلام کے فہم اور اس کی دعوت کے لئے کمربستہ ہوجائے ۔اور اپنی چھٹی حس کو اس قدر قوی کرلے کہ وہ اس طرح کی تمام سازشوں کو بروقت محسوس کرسکے اور اپنی ذات کو اس طرح کے عوامل سے محفوظ رکھتے ہوئے امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے۔

آج مسلم قوم کو جس جوان کی تلاش ہے ،وہ ایک ایسانوجوان :

جوہردلعزیز شخصیت ہو۔

جو تمام محاسن کا جامع ہو۔

تمام برائیوں کے بارے میں نفرت اس کےدل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے والاہو۔

والدین و دیگر اکابر کا ادب کرنے والاہو۔

جس میں یہ صلاحیتیں بھی موجود ہوں کہ وہ اچھے سے اچھے انداز میں نئی نسل کی تربیت کرسکے۔

ایسے ہی جوان کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:

جوان ہوں میری قوم کے جسور و غیور

قلندری میری کچھ کم سکندری سے نہیں

آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ  امت کو ایسے جوان عطا فرمائے جن کی جوانیاں تاریخ کے روشن اوراق بن جائیں اور جوانی اور اسلام کا حق ادا کرجائیں۔ اور ہمارے لیڈروں کو بھی یہ توفیق دے کہ وہ جوانوں سے جوانوں والاکام لیں نہ کہ انہیں مغفّل زندگی گزارنے دی جائے۔اور ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ ہمارے نوجوان ایسے نہ ہوں کہ :

اپنے دین و ملت کی مبادیات سے بھی ناواقف ہوں۔

والدین سمیت اکابر کو پرانے لوگ قرار دے کر ان کی تحقیر کرتے ہوں۔

کسی بھی چیز کواپناتے وقت کوئی معیار ان کے پاس نہ ہو۔

ایسےبے شعور نہ ہوں کہ کالانعام (جانوروں کی طرح)ہوں جسے ، جو جدھر چاہے ہانک لے وہ وہیں چلنا شروع کردیں۔

اپنے ہی آپ میں اس قدر مگن نہ ہوں کہ لوگ مفاد پرست (Selfish) کے نام سے جانتے ہوں۔ قوم و ملت اور امت کے مفادات سے ناآشنا اور ان کے لئے کسی قسم کی کوئی قربانی دینے کا جذبہ بھی نہ ہو۔

یہ کچھ سطور جوانوں کے لئے ایک رہنما تحریر کی حیثیت رکھتی ہیں، اللہ اس ملت کے سپوتوں کونرغۂ اغیار سے محفوظ رکھے اور کما حقہ دین و ملت کی خدمت کی توفیق دے ۔آمین

یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

و صلی اللہ علی نبینا محمد و آلہ و صحبہ و سلم

About شیخ یونس اثری

Check Also

ملّت کے سپوت ذمہ داریاں اور درپیش فتنے

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply