Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

قسط نمبر : 10

تعاملِ متواتر کابے بنیاددعویٰ

(۴۸) گھمن:نیز امت کےتعاملِ متواتر سے ان احادیث کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے اوتعامل متواتر مستقل دلیل ہے۔

(ص:۴۴)

جواب:امت کا تعاملِ متواتر کیا نرے دعوے سے ثابت کیا جاسکتا ہے؟قطعاً نہیں، اس کے لئے ٹھوس حوالہ جات کی ضرورت ہوگی، پھر امت چھٹی ساتویں ہجری کے چند معروف لوگوں کانام تونہیں،امت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے شروع ہوتی ہے کیاگھمن صاحب اور تمام مقلدین دیوبند سب مل کر کسی ایک صحابی سے بھی یہ ثابت کرسکتے ہیں صحیح یاحسن سند کے ساتھ کہ وہ شدرحال فرماکردوردراز کی مسافت طے کرکے رسول اللہ ﷺ کی قبرمبارک کی زیارت کے لئے تشریف لائے چہ جائیکہ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم سے۔پھر اسی طرح تابعین سے پھر اتباع التابعین سے؟؟؟

اگرنہیں اور یقیناً نہیں تو بتائیں کس امت کے’’تعامل متواتر‘‘ کا دعویٰ کیاجارہاہے؟؟؟

سنئے! آپ کے امام اہلسنت ،محدث اعظم پاکستان محمدسرفراز خان صفدر صاحب کیافرماتےہیں،لکھاہے:

’’تعامل کس طبقہ کامعتبرہے؟ اہل علم کی عبارات میں جب یہ آتا ہے کہ علماء نے اسکی تلقی بالقبول کی ہے یا اس پر امت کا تعامل ہےتو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہرعالم کہلانے والے کی تلقی بالقبول یاتعامل مراد ہے ورنہ ہربدعت پسند طبقہ جوحظوظ نفس کے لئے اپنی بدعات کوحرزِ جان قرار دیتا ہے اور اس پر شدت سے کاربنداورمصر ہے اس کا عمل بھی تلقی بالقبول کی مد میں ہوگا حاشاوکلا،عالم اور امتی سے وہ عالم اور امتی مراد ہے جو قرآن کریم اور سنت نبویہ علی صاحبھا الف الف تحیۃ کو جاننے والااور دل وجان سے ان پر عامل اورحضرات صحابہ کرامؓاور تابعینؒ ،تبع تابعینؒ اورسلفؒ وخلفؒ کےعمل کو صحیح اور ٹھوس حوالوں کے پیش نظر اپنے لئے راہِ نجات سمجھےاس لیے ان الفاظ سے نہ دھوکہ دیناچاہئے اور نہ کھاناچاہئے اللہ تعالیٰ ہر ایک کوصحیح سمجھ نصیب فرمائے۔(آمین)

( تسکین الصدور،ص:368)

گھمن صاحب! اپنے ہی بزرگ کی اس نصیحت کو پیش رکھتے ہوئے تعامل بلکہ’’تعامل متواتر‘‘ کے الفاظ سے دھوکہ نہ دیں ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  اور تابعین واتباع تابعین رحمہ اللہ  کا یہ عمل اگر ہے توٹھوس اور صحیح حوالوں سے پیش کیجئے، اور چلتے چلتے اپنے انہی بزرگ سرفرازصاحب کی ایک اور تحریر ملاحظہ کیجئے، جس سے شدرحال سے متعلق دیوبندیوں کا مؤقف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف سے مختلف ومتضاد ثابت ہوتا ہےلکھاہے:

’’اگرکسی بزرگ کی قبر قریب ہوتو اس پر حاضر ہوکر دعاکرنا،اور سنت کے مطابق سلام کہنا، سب درست اور جائز ہے۔ہاں البتہ دوردراز کی مسافت طے کرکے زیارتِ قبور کے لئے جانا،اہل سنت میں مختلف فیہ امر ہے اور منع کرنے والے حضرات حدیث ’’لا تشد الرحال الاالی ثلاثۃ مساجد‘‘ (الحدیث) سے استدلال کرتے ہیں۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ طور سے واپس آئے تو اس حدیث کے راوی حضرت بصرہ بن ابی بصرہ الغفاری  رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث سےطور کاسفراختیار کرنے کی ممانعت ثابت کی اور فرمایا:اے ابوھریرہؓ! اگر میںآپ سے آپ کے طور پرجانے سے پہلے ملاقات کرلیتا تو اس حدیث کے تحت میں آپ کو ہرگزوہاں نہ جانے دیتا۔ (نسائی:۱؍۱۶۰) حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حق میرے نزدیک یہ ہے کہ قبر اولیاء اللہ میں سے کسی ولی کی عبادت کامحل اور طُور سب کے سب اس نہی میں برابرہیں۔(حجۃ اللہ البالغۃ ۱؍۱۹۲)(راہِ سنت ،ص:۱۷۰مطبوعہ دہلی)

یہ توہم پہلے ہی بتاآئے ہیں کہ ایک ابن ابی بصرہ  رضی اللہ عنہ ہی نہیں اس حدیث کے دیگر رواۃ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ حدیث شدرحال کومساجدثلاثہ کے علاوہ دیگرمساجد کےلئے مخصوص ماننے کے بجائے مقامات مقدسہ کے لئے بھی عام ہی سمجھتے تھے جبکہ دیوبندی اس ممانعت کودیگرمساجد کے ساتھ مختص کرتے ہیں۔

(۴۹) گھمن:شاہ صاحب کا یہ رسالہ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے اقوال سے بھراپڑا ہے ہر جگہ علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے ہر عقیدے اور اقوال کوآنکھیں بند کرکے قبول کیا ہےگویااندھی تقلید کی ہے،جب تقلید آپ کے نزدیک گمراہی ہے توعلامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کی ہر بات کو حق وباطل کامیزان کیوں بنایاہوا ہے دوسروں کے عقائد ونظریات کے، اگر علامہ ابن تیمیہ  رحمہ اللہ آپ کے لئے حجت ہیں تو اپنے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟(ص:۴۴)

جواب:یہ گھمن صاحب کی صریح غلط بیانی ہے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ہرعقیدے اور اقوال کوآنکھ بندکرکے قبول کیا اور یہ اندھی تقلید ہے،اور یہ بھی ان کی صریح غلط بیانی ہے کہ ان کی ہر بات کو حق وباطل کامیزان بنایاہوا ہے،ایساہرگزنہیں،الحمدللہ ہمارے نزدیک حق وباطل کامیزان قرآن وحدیث ہیں، شاہ صاحب نے بھی بطور دلیل وحجت قرآن مجید یااحادیث کی نصوص ہی پیش کی ہیں البتہ بطور تائید وافادہ شیخ الاسلام ودیگر اہل علم کی عبارات بھی نقل کی ہیںتاکہ پراپیگنڈہ کے ماہرین مقلدین دیوبندیہ یہ پراپیگنڈہ نہ کرپائیں کہ یہ سب باتیں اور اعتراضات جدید ہیں چونکہ امام ابن تیمیہ کی جلالت علمی بہت سےاحناف اور دیوبندیوں کو بھی تسلیم ہے بلکہ انہیں اس امت کے اولیاء میں شامل سمجھتے ہیں تو ان کے فتاویٰ وغیرھا کے اقتباسات نقل کردیئے، رہی تقلید تووہ اکابر دیوبند کے معتبر بزرگ علامہ شعرانی صاحب نے لکھا:

وقد کان الامام احمد رضی اللہ عنہ یقول: خذوا علمکم من حدیث أخذہ الأئمۃ ولاتقنعوا بالتقلید فإن ذلک عمی فی البصیرۃ.

امام احمداللہ ان سے راضی ہوفرمایاکرتے تھے: اپنا علم وہاں سے لوجہاں سے ائمہ نے لیا(یعنی قرآن وحدیث سے) تقلید پر قناعت مت کروچونکہ یہ تقلید بصیرت میں اندھا پن ہے۔(میزان الکبری )

معلوم ہوا کہ تقلید تواندھی ہی ہوتی ہے ،دلائل دیکھ کر جو بات تسلیم کی جائے وہ تقلید نہیں ہوتی۔

باقی رہا گھمن صاحب کا یہ سوال کہ :اپنے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اور پھر اس بنیاد پر جہری قرأت کے دوران سورۂ فاتحہ کے بارے میں امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کی عبارت پیش کرکے قائم کردہ سوال ،ص:۴۶تک پھیلاہواہے:

اس کےجواب میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ہم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے نظریات کودوسروں کے خلاف حجت سمجھتےہیں اور نہ اپنے حق میں تو آپ کا یہ طویل سوال بنتا ہی نہیں کہ آپ نے اس کی بنیاد اپنی غلط فہمی پر رکھی ہے۔

(۵۰) گھمن:ہر وقت ہرگھڑی قال شیخ الاسلام قال شیخ الاسلام کی رٹ لگانے والے شاہ صاحب اور ان کی پوری جماعت زہر کاکڑوا گھونٹ پی کرمرنے کے لئے تو تیار ہے لیکن شیخ الاسلام کے اس قول کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اس کی اصل وجہ بقول شخصے:میٹھا میٹھا ہپ ہپ ،کڑوا کڑوا تھوتھو۔(ص:۴۵تا۴۶)

جواب:شاہ صاحب اور ان کی جماعت اہل حدیث کے بارے میں دیوبندیہ کے’’متکلم اسلام‘‘ گھمن صاحب کی یہ بات بھی صریح غلط بیانی ہے کہ’’ہر وقت ہرگھڑی قال شیخ الاسلام قال شیخ الاسلام کی رٹ لگانے والے،چونکہ ہم ہروقت ہرگھڑی یہ بات نہیں کہتے کجایہ کہ رٹ لگائیں، البتہ کچھ اپنی سنیں آپ کے امام اہل سنت ،محدث وشیخ الحدیث سرفراز خان صفدر صاحب کیافرماتے ہیں،لکھاہے:

’’مفتی کیاآپ حضرات شاہ ولی اللہ صاحب کومسلمان اور عالم دین اور اپنابزرگ تسلیم کرتے ہیں؟ اگرایسا ہے توآپ کو حضرت شاہ صاحبؒ کی بات تسلیم کرناپڑے گی اور اگر آپ ان کی بات تسلیم نہیں کرتے تو آپ کوان کی عبارت کا صحیح عمل بیان کرنا ضروری ہے‘‘(باب جنت بجواب راہ جنت ،ص:۴۹مکتبہ صفدریہ گجرانوالہ)

اسی تسلسل میں آگے چل کر لکھاہے:

’’ہمیں اور ہمارے شاہ ولی اللہ صاحب کو ایک طرف رہنے دیں جہاں وہ جائیں گے ان شاہ اللہ وہاں ہم بھی چلے جائیں گے کیونکہ ہم تاریخ کی روشنی میں یہ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں جس طرح دین کی خدمت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور آپ کے خاندان اور آپ کے تلامذہ نے کی ہے وہ اور کس نےنہیں کی اور اب محکمہ اوقاف نے ان کی علمی اور اسلامی خدمات کےلئے شاہ ولی اللہ اکیڈمی قائم کرکے مسلمانان پاکستان پر یہ روشن کردیا ہے کہ مسلمان ان کے علمی فیض سے کسی طرح مستغنی نہیں ہوسکتے بلکہ ان کی خوشہ چینی کو اپنی نجات وفلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔‘‘(باب جنت ،ص:۵۰)

پھر مزید لکھتے ہیں:

’’بڑے شوق سے مشکل وقت میں آپ حضرت شاہ ولی اللہ کا دامن چھوڑ دیںمگر ہم ان کادامن چھوڑنےکے لئے ہرگزتیارنہیں

ہم تو سمجھاتے رہے اس دل کو جعفرعمربھر

وقت مشکل دیکھ کر آنکھیں چرالیتےہیں لوگ

(باب جنت ،ص:۵۰)

اپنے امام ومحدث سرفراز صاحب کے ان اقتباسات پر گھمن صاحب اگرغورفرمائیں تو ان پر واضح ہوگا کہ یہ ان مقلدین کی تقلیدی روش ہی ہے کہ جس کا عالم اور اپنابزرگ تسلیم کرورتو اس کی بات ماننا ہی پڑے گی ،پھر شاہ ولی اللہ کی خوشہ چینی تو ان کے ہاں نجات وفلاح کا ذریعہ ہے اور ان کادامن چھوڑنےکے لئے ہرگز تیارنہیں، تو اس مسئلہ میں شاہ ولی اللہ صاحب کی بات گزشتہ صفحات میں خودسرفراز صاحب کے قلم سے واضح ہوچکی ہے کہ وہ شدرحال کی ممانعت کو دیگرمساجد کےلئے خاص نہیں مانتے تھے جبکہ گھمن صاحب اور بہت سے دیوبندی شاہ ولی اللہ صاحب کادامن چھوڑ کر اس ممانعت کو دیگرمساجد کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں!!!

وقت مشکل دیکھ کر آنکھیں چرالیتےہیں لوگ

گھمن صاحب غورکریں تومیٹھامیٹھا ہپ ہپ ،کڑوا کڑوا تھوتھو کےا صلی مصداق توخود دیوبندی ہیں کہ جس شخص کی خوشہ چینی کونجات کاذریعہ قرار دیتے ہیں اسی کی باتوںکے خلاف عقیدہ اپنائے ہوئے ہیں حتی کہ جس امام کی تقلید کوواجب قرار دیتےہیں کئی مسائل میں ان کی تقلید بھی چھوڑ دیتے ہیںگویا

شیشہ کے گھر میں بیٹھ کر پتھر ہیں پھینکتے

(جاری ہے)

About ابوالاسجد محمد صدیق رضا

Check Also

المھند کے دفاع کا علمی جائزہ بجواب المھند پر اعتراضات کا علمی جائزہ

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply