Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » ایں سعادت بزور بازو نیست

ایں سعادت بزور بازو نیست

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

توحید نعمت الہی ہے جو زیادہ علم، اونچا عہدہ، بلند status، اعلی دماغ ،بڑی ڈگری، اونچا بنگلہ ،مالی فروانی اور چرب زبانی یا فلاسفری اور باریک بینی سے حاصل نہیں ہوتی ہے .
میرا یقین اس وقت کامل ہو گیا جب ایک کالے کوٹ والے عالی دماغ جو کہ اشرف المخلوقات کے درمیان دلائل کی بنا پر فیصلے صادر فرماتے ہوئے ہر نقطہ پر فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ قانونی دلیل لے کر آئیے جو تمھارے دعوی کو ثابت کرے لیکن جب اتفاق سے میں نے عالی دماغ کے سامنے مقدمہ توحید رکھا تو دلائل سے یکسر آنکھین بند کر کے یوں گویا ہوا چونکہ چنانچہ میرا مذھب …ہم عاشقان… قادیانیت کو سب سے بڑا ڈر ہم سے ہے وغیرہ وغیرہ …تم اماموں کو نہیں مانتے۔ عرض کی یا عاشق رسول! ہم اماموں کو Trial court مانتے ہیں سپریم کورٹ نہیں مانتے ہمارے نزدیک دین میں سپریم اتھارٹی رسول اللہﷺ ہیں بس یہی فرق ہے آپ میں اور ہم میں۔
ایک دفعہ مسجد نبوی میں بھی بعد از مغرب ایک وکیل صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تعارف سے معلوم ہوا کہ موصوف کا تعلق ضلع کوٹلی آزادکشمیر سے ہے اور موصوف انگلستان میں بغرض قانونی تعلیم اور حجت بازی سیکھنے گئے ہوئے ہیں لیکن جب توحید پر بات ہوئی تو صاف بولے کوئی دلائل قرآنی کی ضرورت نہیں جو عقیدہ باپ دادا نے اپنایا ہے میں اس سے ایک درجہ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور ساتھ ہی متعدد نمازیوں کی صفیں چیرتے پھلانگتے،برہم مزاج ہوتے داغ مفارقت دے گے۔بقول کسی دانا زمین پر بیٹھ کر آسمان پر راکٹوں کے رخ سیدھے کرتا ہے لیکن جب سائنسی تجربہ گاہ سے باہر نکلتا ہے تو کبھی گائے کے آگے کبھی مورتی کے آگے اور کبھی قبر کے آگے سر بسجود ہوتا ہے ۔
ترجمہ قرآن پڑھنا شروع کیا تو بار بار یہ خیال ذہن میں آتا مولا! وہ آیت کب آئے گی جس میں پیر صاحب،مرشد صاحب،حضرت صاحب، قبلہ حضور، کے کنٹرول واختیارات علوم لدنیہ برکات فیوض اور ہمارے ایمان کے فیصلے کرنے کا تذکرہ آئے گا لیکن جب سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 66 تا 68 پر پہنچے تو کچھ اس طرح لکھا تھا ” اس دن انکے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے ( حسرت وافسوس سے )کہیں گے کہ کاش ہم اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے پیشواؤں اور اکابرین کی مانی جنھوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا،پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما۔ ”
اس کے علاوہ بھی آیات بینات کا مطالعہ کیا خود کو حاملین 16 علوم نہ پاتے ہوئے رخ تو حضرت قبلہ حضور کی طرف بنتا تھا ۔ حضور قبلہ نے اپنے لدنی علوم کا خزانہ یوں کھولا کہ یہ قرآن کا ظاہری معنی ہے مثلا سورہ الانعام کی آیت نمبر 50 ” اے محمد کہہ دیجئے کہ میرا کوئی دعوی نہیں کہ اللہ کے خزانے میرے کنٹرول میں ہیں (اس سے مختار کل والے عقیدے پر ضرب لگتی دکھائی دیتی تھی ) اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب جانتا ہوں ( اس سے عالم الغیب عقیدہ کی نفی ہوتی نظر آتی تھی ) اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ( اس سے نوری والے عقیدے کی نفی لگی )”
لیکن قبلہ نے فرمایا یہ قرآن کا ظاہری معنی ہے کہ میں غیب نہیں جانتا حقیقی معنی ہے وہ غیب جانتا ہوں جس کے شروع میں عطائی لگا ہوا ہے اور میں ظاہری بشر (انسان) ہوں حقیقی نہیں وغیرہ وغیرہ البتہ یہ سب باطنی معنی حضرت قبلہ کے لدنی صندوق میں ہی تھے کسی ڈکشنری یا مسند تفاسیر (طبری، قرطبی، تفسیر ابن کثیر) وغیرہ جو فرقہ بندی سے قبل لکھی گئی ان میں اس طرح کا کوئی لدنی خزانہ نہ تھا ذہن میں سوالات اٹھے یا اللہ! قرآن تو ہدایت کے لئے آیا ہے نہ کہ گمراہ کرنے کے لئے ( لا اعلم ) کا ظاہری معنی ہے میں نہیں جانتا اور اسی کا باطنی معنی ہے میں جانتا ہوں ؟
This is a book
یہ ایک کتاب ہے اور باطنی حقیقی معنی یہ pen ہے۔
I dont know
کا حقیقی معنی عطائی جانتا ہوں عاجزانہ جھوٹ بول رہا ہوں کہ نہیں جانتا !
اگر دنیا کی کسی بھی زبان سے یہ کھلواڑ کیا جائے جو حضرت قبلہ نے عربی زبان سے کھیلا ہے تو کوئی بھی زبان باقی نہ رہے گی اور دنیا میں کوئی بھی کسی پر اعتماد نہ کرے گا کہ ہو سکتا ہے عاجزانہ الٹی ڈکشنری کا ستیاناس کر رہا ہو۔
تو قرآن جو چشمہ رشد وہدایت اور لاریب کتاب ہے نہ جانے حضرت کس عقیدے کو چھپانے کے لئے اس سے کھلواڑ کر رہے تھے
اس ذہنی پریشانی میں سورہ الانعام کی آیت نمبر 70 کام آئی کہ (ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش ہو جا جنھوں نے اپنے دین کو کھلواڑ بنایا ہوا ہے …. )
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ زبان بے اختیار کہہ رہی تھی “بھائی عجمی ہونے کا یہی نقصان ہے کہ آدمی اپنے عجمی فھم کو دین سمجھ کر قرآن کو اپنے فھم کے تابع کرنے کی ناکام کوشش میں لگا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں شیخ الاسلام ہو گیا ہوں ”
آنکھوں کے سامنے سورہ الفتح آیت نمبر 2 عجمی مفسر کا تحریف شدہ ترجمہ تھا جس نے اپنے عجمی فھم کو ترجمہ وتفسیر کا نام دیا ہوا تھا
اچھا یہ تحریف شدہ ترجمہ کیا ہوتا ہے ظاہری معنی کچھ اور باطنی معنی کچھ کیا ہوتا ہے۔
اسکو ہم ایک مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں ایک انگریزی Text کا باطنی مجازی عطائی چشتی قادری ترجمہ کرتے ہیں اس کو عربی پر قیاس کر کے تحریف کا معنی سمجھ لینا
My name is akhtar
میرا نام مختار کل ہے کیونکہ اختر اختیار سے ہے
I read in 8th class
میں آٹھویں جماعت میں بظاہر پڑھتا ہوں حقیقت میں پڑھاتا ہوں
My father is the head mastr
میرے ابا جی ماسٹر کے ہیڈ ہیں ہیڈ سر کو کہتے ہیں مراد گردن ہے یعنی ہر ماسٹر کی گردن پر ان کا قدم ہے اسوقت تک کوئی علم ماسٹری حاصل نہیں کر سکتا جب تک انکی ولایت کا قدم ماسٹر کی گردن پر نہ ہو
We live in a village
ہم بظاہر گاوں میں (حقیقت میں پیرس ،ماسکو میں )رہتے ہیں کیونکہ اگلی عبارت میں قرینہ ہے
There are green fields in the village
تو اس طرح گرینی پیرس میں بدرجہ اتم ہوئی
We are three btothers
ہم بظاہر تین بھائی لغت میں تین تین سے ہے تین کو تین سے ضرب دی نو ہوئے تو اس طرح ہم نو بھائی ہیں
I am very fond of reading
مجھے پڑھنے کا بڑا شوق ہے یعنی میرے پاس علم لدنی کے خزانے ہیں
I am weak in mathematics my brother help me in my studies
میں ریاضی میں کمزور ہوں ” کم” ہلکے کو کہتے ہیں اور “زور” طاقت کو کہتے ہیں تو اس طرح معنی ہوا ” ہلکی سی طاقت سے ریاضی کی دھجیاں ادھیڑ دیتا ہوں ” اس طرح ریاضی کا ماہر ہوا میرا بھائی پڑھائی میں میری مدد کرتا ہے یعنی اسکو سبق یاد نہ ہوتا ہو تو فورا یا اختر مدد کہتا ہے وگرنہ میں تو مختار کل ہوں یعنی میرے نام سے اپنی مدد کرتا ہے
جناب عالی یہ تھا برصغیری خالص عجمی تحریف شدہ ترجمہ ، جو لوگ عجمی تراجم کو پڑھتے ہیں وہ خوب گواہی دیں گے کہ ان عجمیوں نے عربی متن کا یہی حشر کیا ہے اور اپنے عجمی فھم کو ترجمہ وتفسیر کا نام دے رکھا ہے ۔
اگر انگریزی کا ایسا ترجمہ کر کے انگلستان بھیجا جائے تو گورا اس کتاب کی انگلستان داخلے پر پابندی عائد کرے گا کہ ایسی بے ہودہ تشریح کر کے ہماری لغت کی تباہی نہ کی جائے ۔
اسی لئے سعودی عرب نے ان عجمی شیخ الاسلاموں اعلی حضرتوں کے تراجم پر اس گئے گزرے دور میں بھی پابندی عائد کر رکھی ہے کہ یہ تراجم سرزمین رسول میں داخل ہونے کے بھی قابل نہیں ہیں کیونکہ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں !
ایمان سے بتائیے اگر ایسا ترجمہ امتحان میں لکھا جائے تو طالب علم پاس ہو جائے گا تو جناب عالی سوال بجا بنتا ہے کہ قرآن کا ایسا ترجمہ پڑھ کر اللہ تعالی کے امتحان میں کیسے پاس ہوا جا سکتا ہے اور اسطرح کا ترجمہ کیا خاک عقیدہ درست کرے گا ۔
آج عقیدہ توحید کو حقیقی اور ظاہری معنی کے نیچے دفن کیا جا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تفاسیر کی طرف رجوع کریں جو وہابی دیوبندی بریلوی وغیرہ وغیرہ فرقوں کے وجود سے کئ سو سال پہلے لکھی گئی ہیںمثلاً: تفسیر طبری،تفسیر قرطبی،تفسیر ابن کثیر وغیرہ یہ تفاسیر محمد بن عبدالوھاب ، قاسم نانوتوی ، رشید گنگوہی ، احمد رضا خان اور دیگر بانیان فرق سے قبل لکھی گئی ہیں یقینا ابن جریر طبری مذکورہ بانیان کے پیروکار نہ تھے تو انھوں نے مسلکوں سے بالا تر ہو کر ہی صحیح تفسیر کی ہو گی ۔
اگر اس سے بھی باریک بینی میں جایا جائے تو کتب احادیث میں باقاعدہ کتاب التفسیر کے نام سے chaptar ہوتا ہے جس میں خود پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے اصحاب سے مروی تفسیر بھی مل سکتی ہیں اور مندرجہ ذیل سوالات کا جواب ڈھونڈا جا سکتا ہے کیا قبر والے حاجات پوری کر سکتے ہیں ؟ کیا قبروں کے واسطے سے ملتا ہے؟ کیا عرس حکم خداوندی ہے ؟ کیا ولی اللہ کامعاون ہے ؟ کیا مخلوق کو سجدہ جائز ہے؟ کیا قرآن میں صرف ایک دفعہ بھی پیر صاحب کے اختیارات کا ذکر خیر آیا ہے ؟ اور اس طرح کے دیگر سوالات جو ہمارے ہندوستانی رسومات رفتہ رفتہ اس قدر عام ہوئے کہ ہم نے انھیں دین سمجھ لیا کیا ان کا ذکر قرآن میں آیا ہے یا ان سے منع کیا گیا ہے ۔
اگر ہم قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات کا سلیس ترجمہ عجمی مولوی کی بریکٹ اور حاشیہ آرائی کو چھوڑ کر چند بار غور سے پڑھ لیں تو شفاء یقینی ہے
* کیا قربانی نذر نیاز رکوع سجود مشکل میں پکارنا،دعا کرنا وغیرہ عبادت ہے اگر جواب ہاں میں ہے تو کس کی ہونی چائیے جواب تلاش کریں( سورہ البقرہ آیت نمبر 21)
یہ کدھر لکھا ہے نفع نقصان کا مالک صرف اللہ ہے بڑی بڑی ہستیاں نہیں۔ (الاعراف 188)
یہ کدھر لکھا ہے اگر کہا جائے اولاد بابے کے دربار سے ملی ہے تو شرک ہو جاتا ہے (الاعراف 189-190)
یہ کدھر لکھا ہے مصیبت میں بزرگ کو نہیں پکارا جا سکتا اور علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے۔( الانعام 56-59-71 )
یہ کدھر لکھا ہے کہ جانور غیراللہ کے لئے قربان نہیں کیے جاسکتے۔
( الانعام 136 تا139)
گنج بخش داتا مشکل کشا کون ہے ( یونس 104تا 107 )
یہ کدھر لکھا ہےکلمہ گو شرک کر سکتا ہے ( یوسف 106 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس سے بری الذمہ ہیں جواب تلاش کریں ( یوسف 108)
کیا اللہ نے کہا ہے فلان دربار سے شفا اور فلان سے اولاد اور فلان سے حکومت ملتی ہے جواب تلاش کر سکتے ہیں ( یوسف 40)
یہ کدھر لکھا ہے اولیاء نہیں دے سکتے اللہ دیتا ہے جواب مل سکتا ہے ( سورہ رعد آیت 16)
یہ کدھر لکھا ہے قبر والے نہیں سنتے اگر بالفرض سن بھی لیں تو کچھ نہیں کر سکتے جواب تلاش کریں (فاطر 13-14-15-19 تا 22 )
اکابرین اور مرشد صاحب کی بات قرآن میں کدھر لکھی ہوئی ہے جواب تلاش کریں ( احزاب 66تا 68)
کس آیت سے ثابت ہوتا ہے تقلید نہیں کرنی چاہیے جواب تلاش کریں ( سورہ الفرقان 27 تا 31 – النساء 61- البقرہ 170)
لنگر شریف کا تذکرہ کدھر ہے تلاش کریں ( البقرہ 173- المائدہ 3 – النحل 115)
یہ کدھر لکھا ہے تبرک کھانے سے جنت نہیں ملتی عمل کرنا پڑتا ہے ( التحریم 10-11)
اچھا بھائی !دعاوں میں یاد رکھنا
في أمان الله

About نویدامجد طیب آزاد کشمیر

Leave a Reply