Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » ہماری عزت !کیسے اور کہاں ؟

ہماری عزت !کیسے اور کہاں ؟

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

ہرانسان چاہتا ہے کہ مجھے عزت ملے میں معزز کہلاؤں ،میری بات کو قبول کیاجائے ،میرے مشورے کواہمیت دی جائے اور اس عزت کی تلاش میں ہر کوئی اپنااپنا طریقہ اختیارکرتا ہے ،کوئی ذرا پیسے والاکیا ہوگیا سمجھتا ہے میں تو سب سے بڑاہوں وہ متکبر بن جاتا ہے اپنے سےکم تر لوگوں کو چند روپے دیکر سمجھتے ہیں ہم نے ان کو خرید لیا اب وہ میری بات، میرے حکم سےروگردانی نہیں کرسکتےاور واقعی لوگ بڑے شوق سے بک بھی رہے ہیں آج کل ،مگرسوچیئے کیاخریدنے والا اور بکنے والا عزت حاصل کرپایا، نہیں نا۔ کیوں؟ دونوں کی اپنی مجبوری ہے،نام نہاد عزت کی خاطر خریدار پیسہ استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں سے عزت خرید سکے اور بکنے والے کو پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے صحیح کو غلط ماننا پڑ رہا ہے، لیکن حقیقت میں دونوں ہی کے دل میں ایک دوسرے کے لئے منفی جذبات ہوتےہیں ،دل مطمئن نہیں ہوتااس لئے کہ دنیا کی خاطر جو کام کیاجائے اس میں اطمینان نہیں ملتا بلکہ بے سکونی ہی مقدر ہوتی ہے ہمیں اپنے ارد گرد بڑی مثالیں ملتی ہیں جو دنیا وعزت پانے کےلئے ساری زندگی بھاگ دوڑ کرتے رہے مگر ان کے مرنے کےبعد لوگوں کو صرف ان کے مال سے دلچسپی ہوتی ہے ایسے لوگ تواڑتی دھول بن جاتے ہیں کسی شاعر نےکہا ہے:
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
فرمان باری تعالیٰ ہے کیا خوب فرمایا میرے رب نے:
[مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ۝۰ۭ وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّـيِّاٰتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ۝۰ۭ وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ ہُوَيَبُوْرُ۝۱۰ ](فاطر:۱۰)
ترجمہ:جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے، تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے، جو لوگ برائیوں کے داؤ گھات میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت تر عذاب ہے، اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا ۔
تفسیر: یعنی جو چاہتا ہے کہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت ملے تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اس طرح سے اسے یہ مقصود حاصل ہوجائیگا اس لئے کہ دنیا وآخرت کا مالک اللہ ہی ہے ساری عزتیں اسی کے پاس ہیں وہ جس کو عزت دے وہ معزز ہوگا جس کو ذلیل کردے اسے دنیا کی کوئی طاقت عزت نہیں دے سکتی۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
[الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝۱۳۹ۭ ](النساء:۱۳۹)
ترجمہ:جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے ۔
(الکلم) کلمۃ کی جمع ہے ،ستھرے کلمات سےمراد اللہ کی تسبیح وتحمید، تلاوت اورامربالمعروف ونہی عن المنکر ہے، چڑھنے کا مطلب قبول کرنا ہے یا فرشتوں کا انہیں لے کر آسمانوںپرچڑھنا ہے تاکہ اللہ ان کی جزا دے۔(یرفعہ) کی ضمیرکا مرجع بعض کہتے ہیں(الکلم الطیب)یعنی عمل صالح ،کلمات طیبات کو اللہ کی طرف بلند کرنا ہے یعنی محض زبان سے اللہ کاذکر (تسبیح وتحمید) کچھ کہتے ہیں جب تک اس کے ساتھ عمل صالح یعنی احکام وفرائض کی ادائیگی نہ ہو۔ بعض کہتے ہیں (یرفعہ) میں فاعل کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو کلمات طیبات پر بلند فرماتا ہے اس لئے کہ عمل صالح سے ہی اس بات کا تحقق ہوتا ہے کہ اس (کلام)کا عامل فی الواقع اللہ کی تسبیح وتحمید مین مخلص ہے۔ (فتح القدیر)گویا،قول اللہ کےہاں عمل کےبغیر بے حیثیت ہے۔
اور ہماراکیاحال ہے؟ ہم دوسروں کی نقالی کرکے سمجھتےہیں ہم عزت کمارہے ہیں مگردرحقیقت ہم ذلت کی طرف جارہے ہیں کیوں کہ عزت اللہ کی اطاعت میں ہے۔
نمازپڑھتےہیں مگرہماری نماز ہمارے لئے بے حیائی کے کاموں سے بچانے کاذریعہ نہیں بن رہی! کیوں کہ ہماری نماز میں خشوع نہیں خضوع نہیں ہم نماز کوروٹین کے کام کی طرح اداکرتےہیں ،رب کی اطاعت گزار بن کر نہیں۔روزہ رکھتے ہیںلیکن روزہ ہمارے لئے شہوات کے آگے ڈھال نہیں بنتا وہی گالم گلوچ ،وہی غیبت ،وہی جھوٹ ،ٹی وی دیکھنا، شرک وکفر کی وڈیوز دیکھنا ،نظربازی کرناغرض ہر برائی کا ارتکاب روزے میں بھی ہورہا ہوتا ہے کیوں کہ ہم نےروزہ رب کی اطاعت میں رکھاہی نہیں روزے کا احترام ہم نے نہ کیا تو روزہ ہمارے لئے شہوات اور جہنم سے ڈھال کیسے بنے گا؟
ہم اوروں کونصیحت کرنے والے بنتے ہیں مگر کسی پے ہماری نصیحت کا اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ہم ناصح تو بنتے ہیںمگر اپنا اس پے عمل نہیں ہوتا،اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
[اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۴۴ ](البقرۃ:۴۴)
ترجمہ:کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟
فرمان رسول ہے،اسامہ بن زیدt سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے روز ایک شخص کولاکر دوزخ میں ڈالاجائے گا تو اس کی آنتیں تیزی سے باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کے گرد اس طرح چکرکاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد چکرکاٹتا ہے تودوزخ والے اس کے پاس جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے تجھے کیا ہوا ہے کیا تو بھلائی کاحکم نہیں دیاکرتا تھا اور برائی سے روکنے کا؟ تو وہ کہے گا میں تمہیںتوبھلائی کاحکم دیا کرتا مگرخود بھلائی نہ کرتا اور تمہیں تو برائی سے روکنے کاحکم دیاکرتا مگرخود ہی برائی کرتا رہتا تھا…(بخاری ومسلم،صحیح ترغیب وترھیب)
ایک اور حدیث میں ہے،رسول اللہ ﷺ نےفرمایاجودوسروں کو تونیکی اور بھلائی کی تعلیم دیتاہواورخود کو بھول جاتا ہو وہ بتی کی طرح ہے جو دوسرں کو روشنی دیتی ہے اور خود کو جلاتی ہے۔
(بزاربروایت ابوھریرہ ،صحیح ترغیب وترہیب)
معزز قارئین! معلوم ہوا کہ دوسروں کو تلقین کرنا خود ویسا نہ کرنا عقل مندوںکاکام نہیں بلکہ عذاب شدید کاباعث ہے اور عذاب،اللہ کی نافرمانی پے ہوتا ہے ناکہ فرمانبرداری پر جب اللہ ذوالجلال والاکرام خالق مالک کی اطاعت ہم نہیں کرتے اور خواہش معزز بننے کی ہے ہم اپنی ہی مثال لے لیں کوئی ہماری کہی بات نہ مانے ،رد کردے،ہمیں ٹھکرادے توکیا وہ ہمارے پاس عزت کا مستحق ہوتا ہے ہمارے دل میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے؟؟؟
یقیناً نہیں، والدین کے نزدیک وہی بچہ زیادہ لائق ہوتا ہے جوان کی اطاعت میں سب سےآگے ہو، ٹیچر اسی شاگرد کو چاہتے ہیں جو ان کی کہی بات کو ٹالتا نہیں ہے، ہرمعاملے میں چاہے گھر ہو،اسکول ہو، آفس ہو، غرض ہر شعبےمیں چھوٹااپنے بڑے کی،اپنے ماتحت کی فرمانبرداری کرتا ہے تبہی اسے عزت ملتی ہے ،یہ بات ہمارے سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ عزت اللہ کی اطاعت میں ہی ہے ناکہ دنیاوی طریقے اپنانے میں،اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے آج تک نہ کوئی معزز بن پایا ہے نہ بن سکے گااگر بنے بھی تو ظاہری طور پر مختصر وقت کے لئے ایسے لوگ معزز نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کاسامان بن گئے، فرعون، قارون کی مثال قرآن میں بیان ہے، کسری وقیصر کا نام ونشان نہیں رہا، تو کیوں نہ ہم اللہ کی اطاعت قبول کرکے اس کے فرمانبردار بن کرمعزز ہوجائیں دنیا وآخرت میں ۔بھلا اس دنیائے فانی کے پیچھے بھاگنے سے حاصل ہی کیا ہوتا ہے،انسان کو،اب چند اعمال خیر کاذکر جن کوکرنے سے اللہ اور اس کے محبوب رسول کریم ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور انسان کو خیر اوربھلائی پہنچتی ہے لیکن آج کل ان اعمال کے برعکس اعمال کرنے کو اپنی عزت سمجھاجاتاہے!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نرمی برتنے پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو سختی کرنے پر نہیں دیتا۔ جب اللہ کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے نرم مزاجی عطا فرمادیتا ہے جس گھرانے کو نرمی سے محروم رکھا جاتا ہے وہ تمام بھلائیوں سے محروم بن جاتا ہے ۔(طبرانی بروایت جریر بن عبداللہt)
اور ہماراحال یہ ہےکہ نرمی کی تو لوگ ہمیں کھاجائیں گے ،ہمارا اسٹینڈر خراب ہوجائیگا ،لہجے کو کچھ سخت بناؤ اور اپنی دھاک بٹھاؤ!!! عجیب منطق ہے انسان کی سمجھتا ہے یہ طریقہ ہےاپنی عزت بڑھانے کا اور حدیث ہمیں بتاتی ہے ایسے کرنا ہرخیر سے محروم ہوجانا ہے،یااللہ !ہمیں محروم نہ رکھ۔
وعن انس رضی اللہ عنہ ان النبیﷺ قال: لاتباغضوا ولاتحاسدوا ولا تدابروا ولاتقاطعوا وکونوا عبا د اللہ اخوانا ولایحل لمسلم أن یھجر اخاہ فوق ثلاث.(صحیح بخاری:۶۰۷۶)
انسtسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :نہ آپس میں بغض رکھو، نہ حسد کرو، نہ دشمنی کرو نہ ہی باہمی تعلقات توڑو، اور اللہ کے بندو!آپس میں بھائی بن کر رہو، کسی مسلمان کےلئے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کوچھوڑ دے۔
ایک اورحدیث میں ہے:
وعن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ لایحل لمسلم أن یھجر أخاہ فوق ثلاث فمن ھجر فوق ثلاث فمات دخل النار.
ابوھریرہtسے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ دے جوکوئی تین دن تک ناراض رہیگا اور فوت ہوجائیگا تو جہنم میں داخل ہوگا۔(رواہ ابوداؤد:۴۹۱۴)
اللہ اکبر!کتنی بڑی وعید ہے اور ہم انسان اپنی عزت بڑھانے کے لئے نہ جانے کتنے کتنے دن پڑوس میں رہتے ہوئے بھی نہیں ملتے صرف اس وجہ سے کہ وہ ہمارے پاس نہیں آتے تو ہم کیوں جائیں ہم کوئی ان سے کم ہیںکیا؟ عزت ہماری بھی ہے میں ہی جاکرکیوں اپنے آپ کو اس کے سامنے کمتر محسوس کراؤں ،یہ آج کل کی حقیقت ہے محض لفاظی نہیں۔ محترم قارئین کرام! ہماری عزت کسی سے جاکر ملنےمیں کم نہیں بلکہ زیادہ ہوگی اس لئے کہ یہ اللہ اوراس کے محبوب ﷺ کا حکم ہے اور ہم اللہ اورآپﷺ کی حکم عدولی سے معزز نہیں بن سکتے، اللہ کی رضا کے لئے صرف کسی کے ہاں جاکر سلام دعا کرنے میں ہمارا کیانقصان ہوتا ہے،اگر وہ بیٹھنے کو کہے تو بیٹھ جائیں ورنہ سلام دعا کر کے ہی آئیں اور اگلے کے لئے بھی دعائے خیر کریں۔
اگر کسی کوکوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی ایذا دیتاتو وہ کہے گا میں تو اسے قیامت تک معاف نہ کروںگا،کبھی نہ بخشوں گاجب کہ ہم چاہتے ہیں ہماری ہر غلطی اللہ اور اس کے بندے بخش دیں، کیا ایسا کر کے ہماری عزتوں میں اضافہ ہوا؟حدیث کے مطابق توبخش دینے اورمعاف کرنے میں ہی عزت ہے۔
نبیuنے فرمایا:صدقہ کرنے سےمال کم نہیں ہوتا، معاف کرنے سے اللہ بندے کی عزت بڑھادیتا ہے جو اللہ کے لئے عاجزی دکھاتا رہیگا اللہ اسے رفعت عطافرماتا ہے۔(مسلم،ترمذی، بروایت ابوھریرہ)
معلوم ہوا کہ انسان کی ساری عزت اللہ کی فرمانبرداری میں ہے اپنے بناوٹی اصولوں اور طریقوں میں نہیں۔
اللہ سے دعا ہے کہ یااللہ!ہمیں اپنا اور اپنے رسول ﷺ کا مطیع وفرمانبرداربنادے اور دنیاوآخرت کی بھلائیاں عطا فرمادے۔ (آمین)

About ازکیٰ اخت حافظ محمد احمد میمن

Check Also

خوش گوار زندگی کے دس پھول

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply