Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » Febuary Magazine » عابد بندے کے لیے خوشخبریاں

عابد بندے کے لیے خوشخبریاں

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

عابد سے مراد ایسے عبادت گذار بندے ہیں جو قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی اللہ عزوجل کی عبادت میں بسر کرتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو اپنی مرضی کے مطابق جب چاہیں جیسے چاہیں عبادت کریں ۔
قرآن حکیم و احادیث صحیحہ میں ایسے لوگوں کےلیے بہت ساری بشارتیں وارد ہوئی ہیں جو لوگ دنیائے فانی سے بیزارو غافل ہوکر قرآن مجید اور فرمان نبوی کے مطابق اللہ تعالی کی عبادت کرنے کا حق ادا کرنے کی کوشش میں مشغول رہتے ہیں ۔
اللہ تعالی نے فرمایا : وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ
( سورة الزمر : 17)
اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور ( ہمہ تن ) اللہ تعالٰی کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں ، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے ۔
اور فرمایا کہ :
اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ( سورة التوبة : 112 )
وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے ، حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے ( یا راہ حق میں سفر کرنے والے ) رکوع اور سجدہ کرنے والے نیک باتوں کی تعلیم دینے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ( اے اللہ کے رسول ! صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے ۔
عابد ( عبادت گزار ) بندہ کی دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کا باری تعالی نے یوں اعلان فرمایا کہ :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَ اسۡجُدُوۡا وَ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ( سورة الحج : 77 )
اور نبی علیہ السلام نے فرمایا :
قَدْ اَفْلَحَ الْمُزْہِدُ الْمُجْہِدُ ( مسند احمد : 20430 )
وہ شخص کامیاب ہوگیا جو تھوڑے مال والا ہے اور عبادت میں اپنے آپ کو کھپا دینے والا ہے۔
ایسے بندہ کو اللہ عزوجل دنیا کی ہر چیز سے غنی فرما دیتا ہے اور اسے تمام تر محتاجی سے بچا کر رکھتا ہے سیدنا ابو ہریرہ‌ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا :
إِنَّ الله يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ .( الصحیحہ للالبانی : 308)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم میری عبادت كےلئے فارغ ہو جا، میں تیرے دل كو غنیٰ سے بھر دوں گا ، تیری محتاجی دور كر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ كیا تو تجھے مصروفیت میں پھنسا دوں گا اور تیری محتاجی بھی دور نہیں كروں گا ۔
عابد ( عبادت گزار ) اپنے رب کی عبادت کی بنا پر اللہ عزوجل کے ہاں مقرب ومحبوب بن جاتا ہے اللہ تعالی اس کے فرشتے اور تمام تر مخلوق ارضی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔
سیدنا ابو ہریرہ‌ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا :
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ .
(صحیح بخاری:6502)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے: نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔
کتنی بڑی خوشبختی ہے اس بندہ کےلیے کہ اللہ عزوجل ایسے بندے سے محبت کرنے لگتا ہے اور اس کے ہر کام کا ذمہ بھی اٹھاتا ہے اور اسے لوگوں کی تکلیف سے بھی بچاکر رکھتا ہے اور خود بھی اسے تکلیف دینے کو ناپسند سمجھتا ہے !
ذرا غور کریں کیا ایسے بندے کے قریب کبھی کوئی پریشانی آسکتی ہے جس کا ذمہ خود باری تعالی نے لیا ہو جو ہر چیز پر قادر اور قوی ہے ؟!
اللہ تعالی ایسے بندے کے اجر کو ضایع نہیں کرتا حتی کہ جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے تب بھی اسے نیکیوں کا اجر ملتا رہتا ہے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :
اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ عَلٰی طَرِیْقَۃٍ حَسَنَۃٍ مِنَ الْعِبَادَۃِ ثُمَّ مَرِضَ، قِیْلَ لِلْمَلَکِ الْمُوَکَّلِ بِہٖ: اکْتُبْ لَہُ مِثْل عَمَلِہِ اِذَاکَانَ طَلِیْقًا، حَتّٰی اُطْلِقَہُ، اَوْ اَکْفِتَہُ اِلَیَّ (مسند احمد: ۶۸۹۵)
بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے : تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا ، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔
اور ایسا بندہ دنیا و آخروی عذاب سے بھی محفوظ رہے گا جو زندگی باری تعالی کی عبادت میں بسر کرتا ہے آخرت سے محبت کرتا ہے اور دنیا سے بیزاری اور نفرت کرتا ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : کُنْتُ رِدْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ،قَالَ: فَقَالَ: یَا مُعَاذَ بْنُ جَبَلٍ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ قَالَ: ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟ قُلْتُ: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَ عْلَمُ،فَذَکَرَ مِثْلَہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: أَنْ لَّا یُعَذِّبَہُمْ بَدْلَ قَوْلِہِ أَنْ یُدْخِلَہُمُ الْجَنَّۃَ زَادَ فِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ: قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!! أَلاَ أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: دَعْہُمْ یَعْمَلُوا۔ (صحیح بخاری : 2856 )
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گدھے پہ سوار تھا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر ان کا حق یہ ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔
روز محشر تمام تر انسان پریشان اورپشیماں ہوں گے، نفسی نفسی کا عالم ہوگا،گرمی کی بہت شدت ہوگی،لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے لیکن جس بندے نے دنیا میں ہی اللہ کی عبادات میں زندگی بسر کی ہوگی وہ حشر میں باری تعالی کے عرش کے سائے تلے سکون حاصل کرے گا۔
سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، ‏‏‏‏‏‏إِمَامٌ عَدْلٌ وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ .
( صحیح بخاری : 1423 )
سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے ( عرش کے ) سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انصاف کرنے والا حاکم ، وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو ، وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہے ، دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں ، اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے ، ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔
اور ایسا بندہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل کیا جائے گا یہ ہی باری تعالی کا سچا وعدہ ہے عبداللہ بن عمرو‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ. ( سنن ترمذی : 1778 )
رحمن کی عبادت کرو، کھانا کھلاؤ، سلام کو عام کرو، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ ۔
یہ دنیا فانی ہےاور فقط کھیل وتماشہ کی چیز ہے اس سے دل لگانے کے بجائے اللہ تعالی کی عبادت سے دل لگایا جائے جو قبر حشر میں کام آنے والی چیز ہے اور ہر عبادت کرنے سے قبل غور کیا جائے کہ کیا قرآن سنت سے ثابت ہے کہ نہیں کیونکہ جو عمل قرآن وسنت سے ثابت نہیں ایسا عمل نجات کے بجائے وبال ہوگا ۔
اللهُمَّ أَعِنَّا عَلَى شُكْرِكَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ ! اپنے شکر ، ذکر اور اچھی عبادت کے لئے ہماری مدد فرما۔
آمین یا مجیب السائلين !

About عبدالسلام جمالی

Check Also

Shaheed K Liye Khushkhabriyan

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply