Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » December Magazine » نوجوانوں میں پھیلتاہواتکفیری فتنہ

نوجوانوں میں پھیلتاہواتکفیری فتنہ

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

کاوش : عبدالمالک ساہڑ

خطبہ مسنونہ کے بعد

اس نشست کے لئے جس موضوع کا تعین ہوا ہے وہ ہے’’عصر حاضر کے فتنے ‘‘یہ موضوع کچھ پیچید ہ بھی ہے اور مشکل مباحث بھی ہیں لیکن چونکہ یہ موضوع وقت کی ضرورت ہے تو میں اس مجلس میں چاہوں گا آسان اور سادہ الفاظ میںکچھ مسائل کی نشاندہی ہوجائے۔

فتنہ عربی کالفظ ہے اور لغت عرب میں اس کا معنی ہے’’ سونے کو آگ میں ڈالناتاکہ اس کاکھوٹ نکالاجائے ، تاکہ خالص سونا باقی رہ جائے۔ ‘‘

فتنہ اس لئے فتنہ کہلاتا ہے کہ درحقیقت یہ آگ ہے جس میں لوگ گرتے ہیں ،کچھ لوگ فتنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور کچھ ناکام ہوجائیں گے ،جوکامیاب ہوتےہیں وہ خالص سونے کی طرح ہوتے ہیں اور جو ناکام ہوجاتے ہیں وہ کھوٹ کی طرح ہیں۔

اس لئے بھی فتنوں کے دور میں استقامت ہماری ضرورت ہے تاکہ ہم خالص سونا ثابت ہوں اور کھوٹ ثابت نہ ہوں۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس امت میںکثرت سے فتنوں کی نشاندہی کی ہے،بہت سی احادیث موجود ہیں، مثلا: تموج الفتن کموج البحر

فتنے ہوں گے،سمندر کی لہروں کی طرح۔

 ہر بعدوالافتنہ پہلے فتنے کوچھوٹا کردے گا۔

جس وقت لہریں اٹھتی ہیں اگرآدمی سمندر میں کچھ اندر ہوتو وہ لہر سے ڈر جاتا ہے یہ موج مجھے بہاکرنہ لے جائے، بلکل فتنوں کاعالم بھی یہی ہے جب فتنے اپنی یلغار انسان پر ڈالتےہیں ،مسلط ہوتے ہیں تو یقینا وہ خوفناک ہوتے ہیںاور انسان یہ سوچتا ہے کہ

ہذہ  مھلکة

یہ فتنہ مجھے لے ڈوبے گا،اور یہ فتنہ مجھے تباہ کردے گا،

تموج کموج البحر ،(سمندرکی موجوں کی طرح فتنے اٹھیں گے)اس میں دوچیزوںکی نشاندہی ہے ،ایک فتنوںکا کثرت سے آنا،کیونکہ سمند ر کی موجیں تھمتی اور رکتی نہیں ،اور دوسرا فتنوں کا پے درپے آنا ،کیونکہ سمندر کی موجیں پے درپے آتی ہیںکسی وقفے کے بغیر، اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے:

تعرض الفتن علی القلوب کعرض الحصیر عودا عودا

کہ فتنوں کی یلغار انسانوں کے دلوں پر ہوگی ۔

یہ سب سے خطرناک فتنہ ہے۔

کچھ فتنے وہ ہیں جس کی لپیٹ میں انسان کا مال آجاتا ہے ،کوئی تجارتی گھاٹاہوجاتا ہے، یہ قابل برداشت ہے ،کچھ فتنے ایسے ہوتے ہیں جن کی لپیٹ میں گھر کا کوئی فرد آجاتا ہے، اس کی موت واقع ہوجاتی ہے، یہ بھی قابل برداشت ہے، کچھ فتنے انسان کی ا پنی موت کا باعث بنتے ہیں یہ بھی قابل برداشت ہے،کچھ فتنے ایسے ہوتےہیں جن کی لپیٹ میں انسان کی صحت آجاتی ہےاور انسان دائمی مریض بن جاتا ہے،یہ بھی قابل برداشت ہے،بلکہ انسان صبر کرے تو اس کا مرض اس کی بلندیٔ درجات کا باعث بن سکتا ہے۔

نبی ﷺ کی ایک حدیث کامفہوم یہ ہے کچھ بندوں کے لئےاللہ تعالیٰ نے جنت میں اونچے درجات تیار کررکھے ہیں،مگر ان کے عمل ان درجات سے قاصر ہیں، تو اللہ رب العزت انہیں ان درجات تک پہنچانے کےلئے کسی بیماری میں مبتلا کردیتا ہے اور ساتھ ساتھ صبر کی توفیق دے دیتا ہے، چنانچہ وہ بیمار پڑ جاتے ہیں ،صبر کرتے ہیں اوروہ صبر ان کو ان درجات تک پہنچادیتا ہے،توجنت ان کے لئے تیارہے۔

یہ فتنہ نقصان دہ نہیں ہے مگر وہ فتنہ نقصان دہ ہے جس کی یلغار انسان کے دل پر ہو،اس کی پاداش میں انسان کا ایمان کھوسکتا ہے ، اور انسان کفر کی وادی میں داخل ہوسکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث کے مطابق :یصبح الرجل فیھا مومنا ویمسی کافرا،ویمسی مومنا ویصبح کافرا

کہ ایسے ایسے فتنے انسان کے دلوں پر یلغار کریں گے کہ انسان صبح کو جب اٹھے گا تو مومن ہوگا اور جب شام ہوگی تب وہ کافر بن چکاہوگا۔جب رات کو سوئے گا تو مومن ہوگا صبح کو اٹھے گا تو کافر بن چکاہوگا۔

یہ ہے سب سے خطرناک فتنہ جو انسان کے دین کو مونڈ ڈالتا ہے، اور انسان کے ایمان کوختم کردیتا ہے، اور اس کو کفر کی وادی میں دھکیل دیتا ہے ۔

چنانچہ اس معنی میں نبی ﷺ کی حدیث ہے:

الجنة اقرب الی احدکم من شراک نعلہ والنار مثل ذالک

(بخاری:6488)

جنت تم سے تمہارے جوتے کے تسمے کے فاصلے پر اور جہنم بھی تم سے تمہارے جوتے کےتسمے کے فاصلے پرہے۔

معنی بعض اوقات تم ایسی نیکی کرجاتے ہو،اللہ تعالیٰ کو پسند آجاتی ہے ،اللہ رب العزت تمہیں اس نیکی کی وجہ سے جنت میں داخل فرمادیتا ہے،اور بعض اوقات ایسا گناہ کرجاتے ہو جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے اور وہ گناہ تمہارے جہنم میں داخلے کا سبب بن جاتا ہے۔

تو صحیح مسلم کی یہ حدیث کہ فتنوں کی یلغار انسانوں کے دل پر ہوگی، اور ایک ،دو،تین چار فتنے نہیں بلکہ جس طرح چٹائی ایک ایک تنکے سے بناتے ہیں اس طرح ان جڑے ہوئے تنکوں کے مانند آپ کے دلوں میں ان فتنوں کی یلغار ہو گی۔انتہائی قابل غور ہے۔

ہمیںکیاکرناچاہئے؟

دوباتیں عرض کردوں ایک تو جو فتنوں کا دورہو توکثرت سے اللہ تعالیٰ کاذکر ہو۔ یہ جوذکرہے، سمجھیں کہ آپ کے ایمان اور عقیدہ کی حفاظت کا قلعہ ہے،ذکر کرکے آپ نے قلعہ بند کردیا۔جہاں شیطان کی شرارتیں نہیں پہنچ پائیں گی اور فتنوں کی یلغار آپ تک نہیں پہنچ سکے گی۔

ایک دفعہ نبی  ﷺ  رات کی نیند سے جلدی اور معمول سے پہلے بیدار ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:

سبحان اللہ !ماذا انزل الیلة  من الفتن وماذا فتح  من الخزائن

سبحان اللہ! آج رات اللہ تعالیٰ نے بڑے فتنے اتارے ہیں معنی آپﷺ نے خواب دیکھا اور خواب میں جن فتنوں کی لپیٹ میں اس امت نے مستقبل میں آنا تھا ان کی نشاندہی اللہ پاک نے کی اور نبی کے خواب اللہ کی وحی ہوتی ہے، فرمایا: سبحان اللہ! آج کتنے فتنے اللہ تعالیٰ نے نازل کیے ہیں اور کتنے خزانے کھول دیے۔قیصرروم کے خزانے ،کسری فارس کے خزانے اور مدائن یمن کے خزانے۔

خزانہ بھی فتنہ ہوسکتا ہے ،مال بھی فتنہ ہوسکتا ہے پھرآپﷺ نےاپنی خادمہ سے فرمایا:

ایقظوا صواحب الحجر

جو کمروں میں عورتیں سورہی ہیں ان کو جگاؤ،کون عورتیں؟امہات المؤمنین ،ہم سب کی مائیں ،سیدہ عائشہ، حفصہ، ام سلمہ رضی اللہ عنھن اجمعین

ان کو جگاؤ، اور جگا کر ایک بات کہہ دو

رب کاسیة فی الدنیا عاریة یوم القیامة أو عاریة  فی الآخرة

کہ دنیا میں بہت سی عورتیں لباس پہنی ہونگی ،قیامت کے دن برہنہ (اٹھیں گی)اس کامقصد کیا ہے کہ دنیا میں بہت سے لباس ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں ،ہم پاک صاف نظر آتے ہیں، کسی پر عہدے کالباس ہے،کہ فلاں عورت خاتون اول، فلاں عورت گورنر کی بیٹی، وزیر اعظم کی بیٹی، ،ان عہدوں کی آڑ میں ان کے عیب چھپ جاتے ہیں، یہ دنیاکالباس ہے، انہیں بتادوکہ اگر عمل نہیں ہوگا تو قیامت کے دن برہنہ ہونگی ،ان لباسوں کے بغیر، نہ کوئی مال ، نہ کوئی دولت، وہاں جو چیز تمہیں حفاظت فراہم کرے گی وہ تمہارا عمل اور عقیدہ ہوگا۔

اب اس حدیث کی کیا ترتیب ہوگی ؟آپﷺ نےخواب دیکھا، خواب میں فتنے دیکھےاور ساتھ ساتھ یہ آرڈر جاری کیا کہ کمروں میں سوئی ہوئی عورتوں کو اٹھاؤ، اٹھانے کامقصد کیا ہے تاکہ وہ اٹھیں نیند کو چھوڑ دیں اور آج رات میں نے فتنے دیکھے ہیں ان کو سنیں اور ان فتنوں کی خطورت سےڈر جائیں،اور رات کودعائیں کرلیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے مناجات کرلیں ۔

یعنی آپ کی یہ تعلیم ہےکہ جب فتنوں کاد ور ہو،سب سے فائدہ مند چیز ذکراللہ ہے، تعلق باللہ ہے۔

دوسرا کرنے کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ جوکبار علماء ہیں ان کے ساتھ رابطہ ،ان کے ساتھ تعلق ،ان کی صحبت میں رہنے کی کوشش۔

ایک بہت بڑے محدث گزرے ہیں حسن بصری رحم اللہ ان کا قول ہے:

والفتن اذا اقبلت عرفھا کل عالم واذا أدبرت عرفھا کل جاھل

جب فتنہ آتا ہے ،فتنہ کاآغاز ہوتا ہے تو اس کو عالم پہنچان لیتا ہے کہ یہ فتنہ ہے ،کیوں؟ ان کے پاس کتاب وسنت کے نصوص ہیں،ہرآنے والے فتنے کو کتاب وسنت پر پیش کریں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ فتنہ ہے اس سے بچاؤ اختیار کرلیں گے اور جب فتنہ پوری طرح لوگوں کو مسخ کردیتا ہے اور تباہ کردیتا ہے،واپس پلٹتا ہے تو اس کو جاہل بھی پہچان لیتا ہے۔

لیکن اگر جہلاء اورعامۃ الناس علماء کے ساتھ ہونگے ،ان کی صحبت اختیار کریں گے اور ان کے علم سے استفادہ کریں گے تو فتنوں کی پہلی یلغار جوہوگی جیسے وہ علماءپہچان لیں گے ویسے آپ بھی پہچان لیں گےاس طرح فتنوں سے فوری بچاؤ کا فائدہ حاصل ہوگا۔

آپ کے سامنے فتنوں سے بچاؤکیلئے یہ دوکارگرچیزیں پیش کی ہیں :ایک علماء کی صحبت ان کے ساتھ تعلق اور ان کے علم سے استفادہ، اور دوسری چیز کثرت سے اللہ تعالیٰ کاذکر،اورتعلق باللہ ہے،یعنی اللہ کی طرف انابت اور نوافل کی ادائیگی۔

 اور واقعتا یہ فتنوں کا دور ہے جس کی لپیٹ میں معاشرہ پوری طرح آگیا ہے۔

میں ایک بڑے فتنے کی نشاندہی کرناچاہتاہوں وہ ہے’’ فتنہ تکفیر‘‘

یہ نوجوانوں میں کثرت سے سرایت کرتاجارہا ہے یعنی ایک دوسرے کوکافرکہنا، فلاں کافر، فلاں کافر، فلاں عالم کافر، فلاں فرمان روا کافر، فلاں بادشاہ کافر، یا فلاں حاکم کافر ہے وغیرہ۔

یعنی کسی شخص کو نامزد کرکے اس کو کافر قرار دینا، یہ فتنہ تکفیر ہےاور آج کل یہ خاص طور پر نوجوانوں میں پوری طرح سرایت کرتاجارہا ہے، اور یہ وہ نوجوان ہیں جن کا علماء سے تعلق نہیںہے۔ایک بات نوٹ کرلیں ،علم کامصدر علماء ہیں، علم کتابوں سے نہیں آتا، علوم یوٹیوب سے نہیں آتا، علم گوگل سے نہیں آتا، علم صرف اور صرف علماء سے آتا ہےوہ علماء جنہوں نےعلم حاصل کیا مشائخ سے وہ مشائخ جنہوںنے اپنے مشائخ سے لیا، وہ مشائخ جنہوں نے علم حاصل کیا اپنے اساتذہ سے،اسی طرح ایک صدی سے دوسری صدی تک پھر تیسری اس طرح چلتے چلتے تابعین کا دور،صحابہ کا دور بالآخر محمد رسول اللہ ﷺ کا دور۔

علماء کے پاس آپ جائیں گے ،وہ آپ کو علم دین دیں گے،اس فہم کے ساتھ جو فہم انہوں نے اپنے مشائخ سے لیا، وہ جو فہم دیں گے وہ اپنے مشائخ سےلیا ہے، علم صرف الفاظ کا نام نہیں ہے، علم درحقیقت صحیح فہم کا نام ہے،نبی ﷺ کی حدیث ہے:

من یرد الله  بہ خیرا یفقہ فی الدین

اللہ تعالیٰ جس بندہ کےساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ،اسے دین کا فہم دیتا ہے۔

اس کے پاس دینےکو بہت کچھ ہے ،بادشاہتیں دے دے، ثروتیں دے دے، دینے کے لئے بہت کچھ ہے ،لیکن وہ جس بندہ کے ساتھ بھلائی کا فیصلہ کرلے اس کو دین کا فہم اور دین کی سمجھ عطافرماتا ہے، جو ہر ایک کے پاس نہیں ہے، ہر بندے کے پاس نہیں ہے۔

اگریورپ میں نبیﷺ کی گستاخی کا کوئی واقعہ ہوجائے تو پوری قوم سڑکوں پر نکل آتی ہے اور اپنی جان قربان کرنے کی باتیں کرتی ہے، ٹھیک ہے یہ محبت کا ایک انداز ہے،ا ن سےکہوجس نبی کی حرمت پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو اس نبی کے طریقے کےمطابق نماز پڑھ لو، وہ نہیں ہے۔

معنی فہم نہیں ہے، دین کا فہم نہیں ہے، جس نبی کی عزت اور حرمت پر اپنی جان قربان کرنے پر اعتماد ہو اس نبی کی یہ سنت مان لو، وہ نہیں ہے، اس نبی کے طریقےکے مطابق حج کرلو،وہ نہیں کریں گے، یہ کونسا فہم ہے؟ یہ کونسی عقل ہے؟نبی کی بعثت کا مقصد کیاہے؟اس کی اطاعت کرنا ہے، یہ فہم بہت بڑی نعمت ہے، اور یہ آپ کو علماء سےملے گا، علماء نے کہاں سےلیا، اپنےمشائخ سےلیا انہوں نے اپنے مشائخ سے، اس طرح بات چلتے چلتے تابعین اور صحابہ کے دور تک پہنچ جاتی ہے، یہ وہ فہم ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان ہے جو علماء کےساتھ سینہ بسینہ منتقل ہوتی ہے اور آپ تک پہنچتی ہے، یہ فہم آپ کو کتابیں یا کمپیوٹر نہیں دیں گے ،ٹھیک ہے ان سے وقتی فائدہ آپ کو حاصل ہوسکتا ہے لیکن جو حقیقی تعلم ہے وہ علماء کے ساتھ ہے۔

نبیﷺ نے قیامت کے قریب علم کے اٹھ جانے کاذکر کیا ہے۔

یرفع العلم ویکثر الجھل(بخاری)

علم اٹھالیاجائے گا اور جہالت پھیل جائےگی۔

پھرآپﷺ نے فرمایا: علم کیسے اٹھے گا؟

ان الله لایقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من الناس ولکن یقبض العلم بقبض العلماء (الترمذی:2652)

اللہ اس علم کو لوگوں کے سینوں سے محو نہیں کرے گاکہ لوگ علم بھول جائیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ اللہ علم کو اٹھائے گا ،علماء کو اٹھانے کے ساتھ۔ کتابیں موجود ہونگی ،علم نہیں ہوگا، کیوں کہ علماء چلے گئے۔ تو علم کا مصدر علماء ہیں اور علماء کا ختم ہونا یہ علم کے اٹھ جانے کے مترادف ہے اسی لئے ابن قیم رحمہ فرماتے ہیں: جس بستی میں عالم دین نہ ہو اس بستی کےر ہنے والوں پر وہاں سے ہجرت کرنا فرض ہے۔یعنی جہاں عالم نہیں اس علاقے کو چھوڑ دو اور ایسے علاقے میں آباد ہوجاؤ جہاںعلماء موجود ہوں تاکہ علم سے استفادہ حاصل ہوسکے۔

سفیان ثوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

لوکان الفقیہ علی رأس الجبل لکان ھو الجماعة

ایک عالم دین پہاڑ کی اونچی چوٹی پر بیٹھا ہوتو وہ آپ کا مرجع ہے جاؤ اس کے پاس ،ٹھیک ہے پہاڑ پر چڑھنا بھی مشکل اترنا بھی مشکل ،لیکن عالم ہے اور آپ کے دین کی بات ہے آپ ان کے پاس روزانہ جاؤ ،اور اس سے علم حاصل کرو۔

سعید بن جبیر علماء تابعین میں سے ہے ،عبداللہ بن عباس کے شاگرد ہیں ،ان سے ایک بار پوچھاگیا:

ماعلامة  ھلاک  الناس(سنن دارمی)

قوموں کی بربادی کب ہوتی ہے؟

اذا مات عالمھم

جب اس قوم کا عالم فوت ہوجائے تو یہ قوم کی بربادی ہے۔

طاعون اگر آتا ہے ،زلزلہ آتا ہےتویہ جسم کی تباہی ہے،جسم نے ایک دن ختم ہونا ہے ،لیکن ایک عالم جو آپ کو روحانی غذا دیتا ہے ،تو اس میں آپ کی روح کی غذا ہے ،آپ کے ایمان کی بقاء ہے،یقینا ایک عالم کا چلے جانا آپ کی بربادی کا باعث ہوسکتا ہے۔

محمد بن سیرین رحمہ اللہ علماء تابعین میں سے، ان کا قول ہے:

اذا مات العالم وقع فی الاسلام ثلمة  لایسدھا شیٔ الی یوم القیامة

جب کوئی عالم دین فوت ہوجائے تو دین اسلام میں ایک دراڑ ہوجاتی ہے اس دراڑ کو کوئی چیز پر نہیں کرسکتی ،جتنا چاہے دور گزر جائے۔

علماء کی صحبت اختیار کریںاور ان کے علم سے استفادہ کریں،ان کی غیبتیں نہ کریں، ان کی چغلیاں نہ کریں، ان کے عیوب کو نہ اچھالیں، دیکھیں ایک عالم میں کوئی عیب اگر موجود ہے تو اس کی دوصورتیں ہیںیا وہ عیب ذاتی عیب ہے، یا وہ منہجی اور دینی ہے، تواللہ کے بندواگر وہ منہجی عیب ہے تو اس کو پیش کرو، علماء کی عدالت میں، علماء فیصلہ کریں آپ نہ کریں۔

اگر ذاتی ہے تو اس پر پردہ ڈالنا ہے، اپنی زبانوں کو بند کرنا ہے، اس کی ذات پر تنقید اس کی بات پر تنقید کے مترادف ہے۔

اوریہ دین اسلام کو کمزور کرنے کی بات ہے، نبی ﷺ کی حدیث ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

من عاد لی ولیا فقد آذنتہ بالحرب (بخاری:6502)

جو بندہ میرے کسی دوست سے دشمنی قائم کرے گا اس کے ساتھ میرا اعلان جنگ ہے۔

اس حدیث کی تفسیر امام شافعی رحمہ اللہ کرتے ہیں

ان لم یکن الفقیہ ولیا فلیس لله ولیا

لوگو! اگر ایک عالم دین اللہ کا ولی نہیں ہے تو اس زمین کی پشت پر کوئی اللہ کا ولی نہیں ہے۔

علماء سے عداوتیں ،ان کی غیبتیں ،ان کی چغلیاں ،ان کے عیوب کو اچھالنا یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔

توعرض کررہاہوں کہ یہ بھی ایک فتنہ ہے،فتنہ تکفیر جو بندے کو ایک لمحے میں کافر بنا سکتا ہے، ایک لمحے میں کیوں؟؟

نبی ﷺ کی حدیث ہے: من قال لاخیہ یا کافر فقد باء احدھما

اگر کسی نے اپنے بھائی کو کافر کہہ دیا ،تودونوں میں سے کوئی ایک کافرہوگا۔یاتووہ ہے جس کو آپ نے کہا،اگر وہ نہیں ہے تو پھر کہنے والاکافر ہے۔

دیکھیں ایک لمحے میں بندہ خود اپنے آپ کو کفر کی وادی میں دھکیل چکا ہے۔

کسی کی ذات کو کافر قرار دینا، اور تعین کرنا کہ فلاں کافر ہے ،اگر وہ ہے اللہ کے علم میں ہے توٹھیک ہے،اگر وہ نہیں ہے تو کہنے والاکافر ہے۔

نبی ﷺ کی ایک حدیث ہے:

ایک بندہ اپنی زبان سے کوئی گالی نکالتا ہے ،یا کلمہ لعنت نکالتا ہے، تو وہ گالی تیزی سے آسمان کی طرف جاتی ہے،فرشتے جب اس کو دیکھتے ہیں توآسمانوں کے دروازے بند کردیتے ہیں ،اور وہ گالی آسمان سے ٹکراکر اسی تیزی سے نیچے کی طرف آتی ہے، جو زمین کے اطراف میں فرشتے موجود ہیں وہ اس کو نیچے آتاہوادیکھتے ہیں،تووہ زمین کے دروازے بند کردیتےہیں، پھر وہ گالی زمین سے ٹکراتی ہے،بھٹکتی ہے کہ اب میں کہاں جاؤں ،مجھے جائے پناہ آسمانوں میں نہیں ملی، زمینوں میںنہیں ملی، اب مجھے پناہ کہاں ملے گی؟ بھٹکتی ہے، ادھراُدھرہوتی ہے، پھر اس بندے کی طرف جاتی ہےجس کوگالی دی گئی ہے جس کو آپ نے گالی دی فحش گوئی یا کوئی بھی گالی ہو، تو وہ گالی سوچتی ہے جس بندے کو دی گئی ہے میں اس میں داخل ہوجاؤں اس کی طرف چلی جاتی ہے اگر وہ ا س گالی کے قابل نہیں ہے اس گالی کا مستحق نہیں ہے ،تویہ گالی وہاں سے واپس آجاتی ہے تو اس کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں سوائے اس شخص کے جس نے گالی دی ہے، اس کے اندر داخل ہوجاتی ہے، اب آپ کی مرضی کسی کو ماں کی گالی ،کسی کو بہن کی جو مرضی گالی دو، یہ نتیجہ ضروری ہے۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ سب سے بڑی گالی کسی کو کافر کہنا، دین سے خارج قرار دیناہے، دین اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

یہ معاملہ اسی حدیث سے سمجھ میں آتا ہےکہ صبح کو مؤمن ،شام کو کافر۔ شام کو مؤمن صبح کو کافر۔

یہ فتنہ تکفیر ایساہی ہے، ایک بندہ اچھا خاصا مسلمان ہے مومن ہے، لیکن کسی مخالف کو کافر کہہ دیا کہ فلاں توکافر ہے!اگر وہ کافر ہے تو ٹھیک ہے ،نہیں ہےتوکہنے والاکافر ہے۔

تو فتنہ تکفیر آج بالخصوص نوجوان انیس ،بیس برس کے تیس برس کے،جن کو پوری طرح وضوء کےا حکام نہ آتے ہوں ،نماز کے مسائل کا علم نہ ہو، استنجاء کے مسائل کا علم نہ ہو، ان مسائل پر باتیں کرتے ہو،جن مسائل میں علماء بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیںکہ ہم ایسی بات نہیں کرسکتے یہ بات ہمارے علمی مستوی سے اونچی ہے تو یہ فتنہ ہر جگہ موجود ہے، اور پوری طرح امت کولپیٹ میں لیاہواہے،جس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

تکفیر کی دوقسمیں ہیں:

1تکفیر معین 2تکفیر مطلق

سب سے زیاده عافیت كی بات یه هے كه آپ اگر كسی پر حكم لگاناچاهتے هیں تو آ پ اس كی ذات پر حكم نه لگاؤ بلكه حكم مسئلے پر لگاؤ۔

ایك شخص بے نمازی هے، حدیث موجود هے:

من ترك الصلاة متعمدا فقد كفر

جس نے جان بوجه كر نماز كو ترك كیا وه كافر هوگیا۔

مطلق حكم هے، اس میں كسی بندے كو مخصوص نهیں كیاگیا، همیشه نماز نهیں پڑھتا ،تو آپ کیا کہیں گے؟یہ نہ کہو توکافر ہے ،کیوں کہ تو تارک الصلاہ ہے، بلکہ تم اس کو یہ کہو کہ بھائی ترک الصلاۃ کفر ہے۔

حکم ذات پر نہیں، حکم مسئلے پر ہے، اس کی دلیل موجود ہے، نبی ﷺ کی حدیث :

من ترك الصلاة متعمدا فقد كفر

لیکن اگر ذات پر حکم لگارہے ہو کہ تو کافر ہے اس کی دلیل موجود نہیں ہے۔

کسی کو متعین کرکے کافر قراردینا ،کسی کلمہ گو کو،یہ حکم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، کیوں؟؟وجہ کیا ہے؟

کیوںکہ ایک انسان مکمل طور پر جوکافر قرارپاتا ہے وہ دوچیزوں کے ساتھ ایک اس کا ظاہر دوسرا اس کا باطن۔

آپ کے سامنے اس کا ظاہر ہے اس کا باطن نہیں ہے،یا تو کوئی ایسی ایکسرے کی مشین تیار ہوگئی ہو جوآپ کو بندوں کا باطن بھی دکھادے کہ یہ بھی کافر ہے،ایساکوئی معاملہ نہیں ہے۔

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کاایک شخص سےمناظرہ ہوا،مناظرہ تھا اللہ تعالیٰ کا استوی ،وہ معتزلی فکر کاحامل تھا۔اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویل کرنے والا،اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے ،ہمارا ایمان ہے۔

[اَلرَّحْمٰنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى۝۵ ](طہ:۵)

وہ اس کاانکا ر کررہاتھا۔

شیخ الاسلام نے فرمایا: دیکھو اللہ تعالیٰ کاجواستوی علی العرش ہے اگر میں اس کا انکارکروں تومیں کافرہوں ،کیونکہ میں اپنے ظاہر اور باطن کو جانتا ہوں،مجھے معلوم ہے کہ اللہ مستوی علی العرش ہے،یہ کتاب وسنت کے دلائل سےثابت ہے ،ان کامجھے فہم بھی ہے، تومیں انکارکروں میں کافرہوں، لیکن میں تجھے کافرنہیں کہوںگا ،میں تیرے ظاہر کو جانتا ہوں تیرے باطن کو نہیں جانتا۔

اتنابڑاعالم ،شیخ الاسلام اور کتنی احتیاط

یہاں دوفٹ کےبچے،اچھل اچھل کر فلاں کافر ،فلاں کافر ،بہت بڑی زیادتی ہے،اللہ کاخوف کرناچاہئے ،ایسی باتیں زبان سے مت نکالو، جس کی زد میں خود آپ کے آنے کاامکان ہو۔

تکفیر مطلق میں کیابرائی ہے،شریعت نے حکم لگایا ہے ،مسائل پر، مسائل پر حکم لگاؤ، ترک صلاۃ کفر ہے، اگر کوئی تارک الصلاۃ ہے تو یہ مت کہو کہ تو کافر ہے، اس کےسامنے مسئلہ رکھو کہ بھائی ترک صلاۃ کفر ہے، اگر وہ حکم اس پر منطبق ہوتا ہے ،تواللہ تعالیٰ جانتا ہے، منطبق نہیں ہوتا، تو آپ بھی محفوظ ہیں، کم از کم آپ تو بچ گئے۔ آپ نے کسی کی ذات کو کافر قرار دے دیا حالانکہ وہ ہے نہیں ،اللہ کے علم میں ہے یہ سارا نزلہ آ پ پر گرے گا،وہ حکم آپ کی طرف لوٹ کر آئےگا،اور وہ آپ کی بربادی کا باعث بن جائےگا۔چاہے آپ نمازی ہو،تہجدگزار ہواور کتنا ہی خیر کا کام کرنےوالےہو،لیکن نبی ﷺ کی حدیث بلکل واضح ہےکہ اگر کسی بھائی کوکافرکہاگیا اور وہ کافر نہیں ہے تو سیدھی بات ہے کہ کہنے والاکافر ہے۔

تکفیر کا حکم مکمل ہوتا ہے ظاہر اورباطن کے ساتھ، باطن اللہ کے علم میں ہے ۔دیکھیں اس کے نظائر ہیں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے:

باب لایقال فلان شھید

کہ یہ نہیں کہاجائے کہ فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے۔

کسی کا نام لیکر فلاں شہید ہے،گو کہ آپ کے سامنے میدان جہاد میں ماراگیاہے۔

کیوں ؟شہادت کا پوراحکم ظاہروباطن کے ساتھ ہے،ظاہر کیا ہے اس کا گھر سے نکلنا ،میدان جہاد میں آنا،دشمن کا مقابلہ کرنا ،اپنا خون بہا دینا، حتی کہ میدان جہاد میں قتل ہوکرگرجانا،یہ ظاہر ہے۔باطن کیا ہے؟ وہ کیوں آیا،اس نے جہاد کیوں کیا،اس نے قتال کیوں کیا، اللہ کی رضاکے لئے یا کسی اور کے لئے؟آپ جانتے ہیںکہ اس کی نیت کیا تھی؟اس کی نیت اخلاص تھی یا ریاکاری تھی، اللہ تعالیٰ کی رضامقصود تھی یا دنیا کی شہرت، اپنی بھادری کی دھاگ جمانا تھا،کیا نیت تھی؟ وہ آپ نہیں جانتے۔ پھر متعین کرکے مت کہو کہ فلاں شہید ہے کیونکہ یہ مکمل حکم ظاہر وباطن کے ساتھ ہے۔

نبی ﷺ کے دور میں ایک شخص میدان جہاد میں بڑی بہادری سےلڑرہاتھا،حدیث کے الفاظ ہیں:

لایدع لھم شاذة ولافاذة(بخاری:2898)

ایسا بہادرکہ جہاں دشمن کاجمگھٹا دیکھتا اس میں کود جاتا اور ان کو قتل کردیتا، کسی اکیلے کافر کو دیکھتا اس کو ماردیتا، آگے بڑھتاجارہا ہے، صحابہ اس کے کارنامے کو دیکھ رہے تھے ،انہوں نے کہا:ایسا بہادر ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے سن لیا فرمایا:

انہ من اھل النار

یہ توجہنم میں جائے گا، بتاؤ ظاہر کیا؟ظاہر کیادیکھاجارہا ہےکہ ایسا جہاد ہم میں سے کسی نے نہیںکیا؟؟ اور آپﷺ کیا فرمارہے ہیں اور آپ کا فرمان اللہ کی وحی ہے، آپ ناطق وحی ہیں۔اللہ نے علم دے دیا فرمایا یہ جہنمی ہے ،کیاحکم لگاؤگے، ظاہر میں آپ کو کیادکھائی دے رہا ہے، تو ایسے امور جن کا مکمل ہونا بندے کے ظاہر اورباطن کے ساتھ ہو، اس میں آپ حکم لگانے کےمجاز نہیں ہیں، آپ کے سامنے اس کاظاہر ہے اس کا باطن نہیں ہے، ایک صحابی اس کے پیچھے چل پڑا،کہ دیکھوں کہ یہ جہنم میں کیوں جائے گا اگر یہ جہنم میں جائے گا توہمارا کیاہوگا۔

تھوڑی دیر بعد واپس آیا ،اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں ور آکر کہا:اشھدانک رسول الله

میں گواہی دیتاہوں ،میرا ایمان تازہ ہوگیا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں۔

کیاہوگیا؟ عرض کیا : میںنے اس شخص کو دیکھا جس کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ جہنم میںجائے گا، میں اس کے پیچھے لگارہا ،وہ لڑتا رہا ،لڑتا رہا حتی کہ زخموں سے چور ہوگیا اتنے زخم کھائے کہ تکلیف برداشت نہ کی بالآخر اس نے اپنی تلوار کی نوک اپنےسینے میںگھونپ کر خود کشی کرلی۔

ہمارے سامنے اس کاظاہرہوتا ہے اس کا باطن نہیں،لیکن محدثین نے عقیدے کی کتابیں لکھی ہیں ان میں ایک مسئلہ یہ ہے:استثناء فی الایمان

تھوڑی علمی بات ہے لیکن آپ سمجھیں ،استثناء فی الایمان ،فلاں بندہ مسلمان ہے یامؤمن؟ آپ یہ کہہ سکتے ہیں فلاں بندہ مسلمان ہے کیونکہ اسلام پانچ ظاہری امور کا نام ہے:

1کلمہ کا اقرار2 نماز 3روزہ4 زکاۃ اور5حج

یه ظاهری اعمال هیں، جو ان كو اختیار كرلے وه مسلمان هے، لیکن کیا یه كهاجاسكتا هے كه فلاں مؤمن هے؟ یا نهیں۔

كیونكه ایمان كچھ امور ظاہرہ کا نام ہے اور کچھ امور باطنہ کا۔ کچھ باطنی امور ہیں جن کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے، تو آپ تو ظاہر کو جانتے ہیں باطن کو نہیں جانتے اس لئے محدثین نےکہا:

 فلاں مؤمن ان شاء الله ،فلاں شہید ان شاءالله

یہ استدلال ہے جو بندے کی عافیت کا باعث ہوگا، بالکل اس کی صداقت کا ترجمان ہے، توتکفیر کاحکم ظاہر وباطن کے ساتھ ہے۔

تین مثالیں پیش کررہاہوں ،اختصار کے ساتھ جس سے بات واضح ہوجائے گی۔

نبی ﷺ نے سابقہ قوموں میں سے ایک فرد کا قصہ بیان کیا کوئی بندہ بستر پر مرنے والاتھا بس اس کی آخری سانسیں تھیں تواس نے اپنے بچوں سے پوچھا:

کیف کنت ابا لکم

میرے بیٹو! بتاؤ میں تمہارا کیسا باپ تھا۔

بچوں نے بڑی تعریف کی ،بہترین باپ، ہماری تربیت کی، ہماری کفالت کی، ہمیں پالاپوسا،ضرورتیں پوری کیں بہت اچھے باپ تھے۔

اچھابیٹو!میں نے پوری زندگی تمہارے کام کیے،میرا ایک کام کروگے؟جی اباجی ضرور کریں گے،کہا:جب میں مرجاؤں تو میری میت کو جلادینا،آگ لگاکےجلادینا،اور جوراکھ جمع ہو اس کو محفوظ کرلینا، پھر ایسے دن کاانتظار کرنا کہ تیز آندھی چل رہی ہو،راکھ لے جانا ،آدھی راکھ ہواؤں میں اڑادیناتاکہ ہوائیں میری راکھ کو زمین میں پھیلادیں، باقی آدھی راکھ جو ہے سمندر کی لہروں میں بہادینا، سمندر کی لہریں اس کو بہا کر لےجائیں،ڈوب جائے ختم ہوجائے، اس کانام ونشان باقی نہ رہے،یہ کروگے؟ جی کریں گے ۔

وہ شخص مرگیا ،بچوں نے اس کی وصیت کو نافذ کردیا، اس کی وصیت کا ایک جملہ یہ ہے:

لئن قدر علی ربی لیعذبنی عذابا ما عذبہ احدا(بخاری:3481)

یہ وصیت کیوں کی ہے؟اگر اللہ تعالیٰ مجھے پکڑنےپر قادر ہوگیا تو اللہ تعالیٰ مجھے بڑی سزا دے گا، بڑا عذاب دے گا، میں نے بڑے گناہ کیے ہیں، اس کا معنی اس کا عقیدہ یہ تھا ،اس کا فہم یہ تھا، کہ جسم کی راکھ بناکر اس کو پھیلادیاجائے ،سمندر کی لہروں کے سپرد کردیاجائے ،ہواؤں میں اڑادیاجائے تو اللہ تعالیٰ جمع کرنے پر قادر نہیں ہے، یہ کفر ہے کہ نہیں؟اللہ کی قدرت کا انکار یہ کفر ہے۔اگرآج کا تکفیری ہو توکہہ دے کہ تو کافرہے،یہ کہناواقعی کفر ہے،اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک بھی کفر ہے۔

[اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝۱۰۹](البقرہ:۱۰۹)

اللہ ہر شیٔ پر قادر ہے۔

[قُلْ ہُوَالْقَادِرُ ](الانعام:۶۵)

کہہ دو اللہ ہی قادر ہے۔

استخارہ کی دعا میں:

انک تقدر ولااقدر

یا اللہ تو قادر ہے میں قادر نہیں ہوں۔

صاحب قدرت تو ہے اور کوئی نہیں ہے، یہ اللہ کے نبی ﷺ کا اقرار ہے۔

قدرت میں شک ،قدرت کاانکار،کوئی تکفیری ہوتا یہ الفاظ سنتاتو کہتا کافر ہوگیا، اگر یہ حدیث ہم تک نہیں پہنچتی لوگوں کو پتا نہیں چلتا، فلاں شخص مرتے ہوئےیہ وصیت کی اور اللہ کی قدرت میں شک کیا،تو یہ بھی کافر کہاجاتا۔

آگے چلیں اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے ،اللہ تعالیٰ نے سمندروں کی لہروں کوحکم دیا جوراکھ تم نے پھلائی ایک ایک زرہ لے آؤ۔ اسی طرح سمندر سے اور ہواؤں سے راکھ جمع ہوگئی اور بندہ تیار ہو گیا ۔

اللہ تعالیٰ نے پوچھا:

ماحملک علی ماصنعت

میرے بندے کیاکرکے آئے ہو،کیاکیاتم نے ،تم نے وصیت کی ہے تمہیں اس چیز پر کس نے ابھارا۔اس نے ایک ہی جواب دیا یا اللہ تیری خشیت نے، تیراخوف آگیامیرے دل میں۔

اللہ رب العزت نےاس بندےکو معاف کردیاکہ موت سے قبل مجھ سے ڈر گیا میری خشیت کی بناء پراس نے یہ وصیت کی،اس کا علم ادتنا ہی تھا ،اس کا ادراک اتنا ہی تھا ،اس کی معرفت اتنی ہی تھی، لیکن یہ خشیت اور خوف جو ہے وہ بخشش کا باعث بن گیا۔

اب آپ کو تو معلوم نہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کا ولی بن چکا ہے ،جنتوں کا وارث بن چکا ہے اورآپ اب تک کہہ رہے ہیں ،جناب وہ کافر ،وہ کافرتو آپ اللہ کے دشمن ہیں یادوست۔

اللہ کے دوست کو آپ کافر قرار دے رہے ہو، آپ حکم عام لگائیں کہ اللہ کی قدرت میںشک کرنا یا انکار کرنا کفر ہے۔

اس زد میںآتا ہے تو آئے ،نہیں آتا تو آپ بھی محفوظ وہ بھی محفوظ، ایسا کام کیوں کرتے ہیں جس کی زد میں خود آپ کے آنے کا امکان ہو۔

نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے کہ نہیں؟اللہ کے پیغمبرکو گالی دینا کفر ہے کہ نہیں؟ بہت بھیانک کفر ہے، اور یہ معاملہ ایک صحابی سے ہوگیا۔ایک صحابی عمار بن یاسر ،بڑے ستائے گئے ،بڑا ان کو مارا گیا ،انہیں ، ان کے والد کو ان کی والدہ کو اور وہ دونوں بزرگ زخموں کے تاب نہ سہہ سکے اور جام شہادت اختیار کرلی،شہید ہوگئے۔ان شاء اللہ

عمار کو بھی مارتے گھسیٹتے ایک دن اتنا مجبور کیا کہ تم نبی کو گالی دو، پھر تمہیں چھوڑیں گے،خوب مارا گیا ،سختی کی گئی کہاگیا تمہاری جان جب چھوٹے گی جب اپنے نبی کو گالی دوگے،وہ گالی دینے پر مجبور ہوگئے۔چھوڑ دیاگیا،جب باہر نکلے بڑا افسوس ہوا کہ میرا ایمان تولٹ گیا اپنے حبیب کو گالی دی، یہ کلمہ کفر ہے۔

اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ کام کر بیٹھا ،بڑا پچھتاوا ،بڑا ملال ہواکہ یہ میں نے کیا کردیا، اللہ کے نبیﷺ خاموش ہیں ،واقعتا نبی کی شان میں گستاخی، نبی کوگالی دینا یہ کلمہ کفر ہے ،اللہ تعالیٰ خاموش نہ رہا وحی آگئی۔

[مَنْ كَفَرَ بِاللہِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ ](النحل:۱۰۶)

عمار بن یاسر مجبور کیے گئے جب وہ گالی دے رہے تھے ،آپ کی شان میں گستاخی کررہے تھے ،ہم ان کے دل کو دیکھ رہے تھے،عمار کا دل پوری طرح ایمان پر قائم تھا، یہ باطن آپ نہیں جانتے ،اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

باطن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہےآپ تو محض کسی کے کردارپر کفر کا حکم لگائیںلیکن ذات پر تکفیر کا حکم پورا ہوتا ہے ظاہر اور باطن کے ساتھ ۔

تیسری مثال بنی اسرائیل کے سوبندوں کے قاتل کی۔

تکفیری، منہجِ خوارج پر ہیں، خوارج فرقہ عام گناہوں پربھی لوگوں کو کافر قرار دیتا ہے، کوئی جھوٹ بولتا ہے کہتے ہیں کافرہے، زنا کا ارتکاب کرے کافرہے، چوری کرلی کافر، وہ کہتے ہیں کوئی بھی کبیرہ گناہ کا ارتکاب بندے کو کافر کردیتا ہے۔

ا ب یہ شخص ایک دوتین کا قاتل نہیں بلکہ سو کا قاتل تھا، تو اس سے بڑا کفر کیاہوگا، منہج خوارج کےمطابق کیونکہ تکفیری بھی منہج خوارج پر ہیں۔

قصہ اس کا طویل ہے اس کو توبہ کا احساس پیداہوگیا،

ھل لی من توبة

لوگو!کیا میرے لئےتوبہ ہے؟توبہ کرنا چاہتا ہوں، ایک بار ایک راہب کے سپرد کردیا گیا، راہب نے کہاتیری توبہ کہاں ہوگی،توقاتل ہے ،اس نے اس کو بھی قتل کردیا۔پہلے ننانوے تھے سو پورے ہوگئے۔

پھر باہر نکلا،ھل لی من توبة

لوگو!کیا میرے لئےتوبہ ہے کہ نہیں بتاؤ۔

اب کی بار ایک عالم ربانی ،تورات کا علم رکھنے والےکے پاس بھیجاگیا ،فلان محدث،فلاں عالم جس کے پاس علم کا نور ہے ،اس کے پاس جاؤ، چلا گیا، جناب میں نے سو قتل کیے ہیں توبہ ہے میرے لیے،فلاں نے کہا تیرے لئے توبہ نہیں ہے، اس نے علم کی روشنی میں کہا:من یحول بینک وبین توبتک

تیرے اور تیری توبہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔

اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرنےو الاہے۔

[قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝۵۳ ](الزمر:۵۳)

وہ توسارے گناہوں کو بخشنے والاہے،مایوس نہیں ہونا،تیری توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی، اس کا یہ کردار کوئی نہیں جانتا۔اس عالم نے کہا، فلاں بستی میں بڑے صالحین اور نیک لوگ ہیں وہاں چلے جاؤ، جاکر توبہ بھی کرو،ان سے علم بھی لو، ان کےساتھ مل کرعبادت بھی کرو، چپکے سے وہاں سے روانہ ہوا،جو اس کی زمین تھی قتل وغارت گری کی اس میں اس کی شہرت تھی کہ قاتل ہے اس کا انجام کوئی نہیں جانتا، کہاں چلاگیا، کہاں غائب ہوگیا۔

اس زمین کی طرف جارہا ہے ،راستے میں وقت اجل آگیا، فرشتے روح قبض کرنے کے لئے آگئے اب دیکھو اللہ کی تدبیریں۔

ایک حدیث کے مطابق جنت اور جہنم کے فرشتے اس کے  بارے جھگڑ رہے ہیں، کہ اس کی روح کن فرشتوں کے حوالے کی جائے، جنت کے یاجہنم کے ،جنتیوں کا مؤقف یہ تھا کہ پشیماں ہوگیا تھا ،توبہ کرنےجارہا تھا ،اور جہنمی فرشتوں کا مؤقف یہ تھا کہ توبہ کرنے جارہا تھا توبہ کی نہیں تھی۔

اللہ تعالیٰ نےایک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا، جاؤ یہ فیصلہ کرکے آؤ، فیصلہ کیا ہے، دنوںزمینوں کوناپو، جہاں سے آرہا تھا وہ اس کی قتل اور نافرمانی کی زمین ہے،اور جہاں جارہا ہے اس کو بھی ناپو، وہاں سے لیکر اس زمین تک، جوزمین کم ہو اس کے مطابق فیصلہ کرلینا، اور ناپناکہاں سے ہے؟ ایک حدیث پیش کردوں۔

ناپنا دل سے ہے، دل اشرف الاعضاء ہے، جب وہ مرنے کے لئے گرا ،اللہ کی حکمت اللہ کی تدبیر اللہ نے اسے ایسا گرایا اس کے پاؤں معصیت کی زمین کے قریب تھے ، اس کاد ل توبہ کی زمین کی طرف تھا، یہ اللہ تعالیٰ کافیصلہ ہے ،اللہ تعالیٰ نےا سےمعاف کردیا۔

سوقتل معاف کردیے ،قیامت کا دن ہوگا اور یہ مقتول سارے کےسارے آئیںگے یا اللہ ہمیں انصاف چاہئے تویہ قاتل بھی آئے گا مقتول بھی آئیں گے ،جان چھوٹ نہیں رہی، روزمحشراس پر عدل قائم ہوگا ،عادلانہ فیصلہ ہوگا، اب اللہ کیاکرے گا؟ اللہ اس کو معاف کرچکا ہے، اب ان سومقتول کا کیاکیاجائے؟

اللہ تعالیٰ ایک ایک مقتول کو ا پنی طرف سے دیناشروع کردے گا، جنت لے لو، جنت کے درخت لے لو، جنت کے باغات لے لو،اور اس کو معاف کردو،یہ تدبیریں ہیں نبی ﷺ کی ایک حدیث ہے:

ایک ظالم اورمظلوم اللہ کے دربار میں کھڑے ہونگے اورظالم کی جان نہیں چھوٹنے والی وہ مظلوم جب معاف کرے گا تو اللہ تعالیٰ معاف کرے گا، اچانک جنت سے پھل داردرخت ابھرے گا، اور محلات سونے اورچاندی ،مسک ان کا گارا،خوشبودار جھونکیں ابھریں گے،ظالم بھی دیکھ رہا ہے ،مظلوم بھی دیکھ رہا ہے، مظلو م پوچھے گا یا اللہ یہ کیاہے؟ یہ درخت یہ محلات کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے یہ سب تیرے لئے ہیں ،میرے لئے ہیں؟ ہاں تیرے لئے ہیں، یہ لے لے اسے معاف کردے۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کامنظر قیامت کے دن ہوگا۔

اب لوگ نہیں جانتے وہ سوبندوں کا قاتل کہاں گیا ،اس کی موت کیسے ہوئی، اس کا معاملہ کیا ہوا وہ نہیں جانتے۔

جومنہج خوارج پرلوگ قائم ہیں وہ کبیرہ گناہ کرنےو الے کو کافر کہتےہیں۔

یہ سوبندوں کاقاتل جس نے ظلما ان کو قتل کیا، اللہ نے بخش دیا، اور آپ تلے ہوئےہیں اس کو کافر کہنے پر۔

تو یہ اللہ کی رضا ہے یاناراضگی ،تو ایسا کلمہ اپنی زبان سے مت نکالو جس کی زد میں خود آپ کے آنے کا امکان ہو،بلکہ حکم مطلق جو شریعت نے مسائل پر حکم لگایا ،آپ بھی مسائل پر حکم لگاؤ، ترک صلاۃ کفر ہے، یہ نہ کہو کہ تو کافر ہے۔ متعین کرکے کسی کو کافر نہ کہو، کیونکہ کسی انسان کا مکمل کفر کاحکم جو ہے وہ اس کے ظاہر اور باطن کے ساتھ ہے۔

توبھائیو!یہ فتنہ مزید اپنے پر نکال رہا ہے، اب اس فتنے کی پاداش میں کچھ ظلم اور بھی سامنے آرہے ہیں،تکفیر کے اس فتنے کی بنیاد پر اب معاملہ کچھ علماء تک آگیا،چنانچہ اس لسٹ میں علماء بھی آگئے، فلاں عالم کافر، فلاں عالم کافر۔

بڑے بڑے مفتیان ،ائمہ حرم پربھی کفرکے فتوے لگائے جارہے ہیں۔

علماء کی تنقیص،حالانکہ آپ نے حدیث سنی کہ میرےکسی ولی کے ساتھ عداوت کرنے والا،اس سے میرا اعلان جنگ ہے۔

توعلماء تو کتاب وسنت کے علوم کے وارث ہیں۔

[ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا۝۰ۚ] (فاطر:۳۲)

اپنی اس کتاب کی وراثت ،نبی کی سنت کی وراثت ہم نے جن لوگوں کو دی ہے وہ ہمارے چنے ہوئے لوگ ہیں۔

ایک عالم کا مقابلہ دنیا کا کوئی طبقہ نہیں کرسکتا، اس پرتفصیلی بات ہوسکتی ہے۔

صرف ایک حدیث سن لیجئے، کہ ایک عالم کا مقام کیا ہے

فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکواکب

(ابوداؤد:3641)

ایک عالم کی فوقیت ایک عابد پر ایک طرف عابد ہیں:تہجد گزار، روزہ رکھنے والے،نفل پڑھنے والے، قرآن پڑھنے والے، اللہ کاذکر کرنے والے، ان کےسامنے ایک عالم کا فرق کیا ہے ان سارے عبادت گزاروں پر ایسا ہے جیسے چودہویں کے چاند کا فرق سارے ستاروں پر ہے۔

عالم کی شان کیا ہے،عابدوں اور عبادت گزاروں کےد رمیان جس طرح ستاروںکے جھمگٹ میں چاند کا مقام ہے، یہ ایک عالم کا مقام ہے۔

[قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۰ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۝۹ۧ](الزمر:۹)

اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ برابر نہیں ہوسکتا، عالم اور جاہل ،برابر نہیں ہوسکتے ،کیسے ہوسکتےہیں ،ایک عالم کی عابد پر یہ فوقیت ہے، جو فوقیت چودہویں کےچاندکی تمام ستاروں پر ہے۔

تو ان کے مقام کوکون پہنچ سکتا ہے، یہ انبیاء کے وارث ہیں ،نبی ﷺ کی حدیث ہے :

کانت بنوا  اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی(متفق علیہ)

پہلی جو قومیں تھیں ان قوموں کا سارا معاملہ انبیاء کےہاتھ میں تھا، ایک نبی فوت ہوتا، دوسرا نبی آجاتا ،دوسرا فوت ہوتا تیسرا آجاتا۔

ان کی ساری سیاست انبیاء کے ہاتھ میں تھی اور میں اللہ کا آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، تو پھر امت کا معاملہ کیسے ہوگا؟

دوسری حدیث :

العلماء ورثة الانبیاء

کہ علماء جو ہیں وہ میرے وارث ہیں۔

معنی جو سابقہ قوموں میں انبیاء کا مقام تھا ،سیاست کے تعلق سےوہ میری امت میں علماء کا ہوگا، انبیاء کے مقام کو کوئی پہنچ نہیںسکتا،جو کردار قوموں کے انبیاء کا تھا وہ کردار میری امت کے علماء انجام دیں گے۔تو فتنہ تکفیر کی سرایت علماء تک پہنچ گئی !

فتنہ تکفیر کی سرایت حکام تک پہنچ گئی ہے،فلاں حاکم کافر، فلاں حاکم کافر۔

یعنی کتنا بڑا ظلم وزیادتی ہے،حکام پر تنقید کاکوئی جواز ہی نہیں ہے، ایک حاکم کی حکومت اگر استقرار پاجائے اس کے خلاف آپ بول نہیں سکتے،شرعی ہدایت ہے، سلفی فکر ہے۔ اللہ کے پیغمبر کی حدیث ہے:

جس کامعنی یہ ہے اگر آپ اپنے حاکم کو نصیحت دینی ہے تو چوکوں اور چوراہوں پر مت دو۔برسرممبر مت دو،کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان نہیں بلکہ جب موقع ملے تو ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے جاؤ۔

تنہائی میں نصیحت کرو، آج تنہائی میں نصیحت دینےکے اور راستے موجود ہیں ،ورنہ خاموشی اور دعائیں۔

معنی جو یہ مظاہرے ،یہ دھرنے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ،بہت سے لوگوں نے دھرنے دیے ،سوسو دن کے دھرنے دیے یہ سب دین کے خلاف ہیں، یہ امرموجبِ فتنہ ہے ،جس کی حکومت استقرار پاجائے، اگرغلطی پر ہے تو اس کی ہدایت کی دعا کرو۔

ہاں اطاعت کی حدبندی کردی، معروف میں اطاعت ،معصیت میں نہیں۔

حاکم کی جو بات کتاب وسنت کے خلاف ہے اس میں اطاعت نہ کرو۔

علیکم بالسمع والطاعة فی عسرک ویسرک ومنشطک ومکرھک وأثرة علیک(رواہ مسلم)

تنگی ہو آسانی ہو، خوشی ہو ،ناراضگی ہو ،جبر اور اکراہ ہو تمہیں سننا اور اطاعت کرنا ہے، معروف میں اطاعت کرنی ہے اور منکر میں اطاعت نہیں کرنی، لیکن بغاوت بھی نہیں کرنی،خروج اختیار نہیں کرنا۔

چوکوں اور چوراہوں پرکھڑے ہو کربات نہیں کرنی، کیونکہ یہ معاملہ موجب فتنہ ہوسکتا ہے، دیکھوصحابہ کےد ور میںمثالیں موجود ہیں:

جناب عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  امت کے فقیہ ،ولید بن عقبہ مدینہ کے امیر ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھی، ان کے خلاف نہیں بولے، حالانکہ وہ نشے کا عادی تھا ،شرابی تھا، ایک دن نشے میں دھت فجر کی نماز پڑھائی او ر دو کی جگہ چار رکعتیں پڑھادیں،سلام پھیرا ،لوگوں نے کہا آپ نے چار رکعت پڑھائی ہیں تو کہنے لگا اور پڑھاؤں،نشے میں دھت ،لیکن ان کے خلاف بات نہیں کی تاکہ جو استقرار ہے وہ قائم رہے، ہاں تنہائی میں اس کو نصیحت کی جاسکتی ہے، غلطی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے ،متنبہ کیا جاسکتا ہے۔

دعائیں کی جاسکتی ہیں، یااللہ اس کو ہدایت دے دے، اگر سمجھ اور ہدایت کےقابل نہیں تو اس کی جگہ دوسرے کو دے دےجو عدل قائم کرسکے۔

تو یہ تکفیر کا فتنہ جو سرایت کرتا کرتا علماء تک پہنچ گیا ،حکام تک پہنچ گیا ،حالانکہ یہ ایسا فتنہ ہے سب سےزیادہ امت کانقصان اسی فتنے کی بنیاد پر ہے،سلف کے دور سے آپ لے لیں،بڑے بڑے اختلافی مسائل،اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات میں اختلاف لیکن اسماء وصفات کے اختلاف کے بناء پرخون ریزی ،قتل وغارت گری نہیں ہوئی۔

اللہ کےوجود پر اختلاف ،جو اب بھی ہے، مگر یہ مسئلے خون ریزی کا باعث نہیں بنے، نماز میں اختلاف، حج میں اختلاف، مگر یہ اختلاف امت میں خو ن ریزی کاباعث نہیں بنے، حکا م پر تنقید اورفتنوں کا پھل جانا ۔تو اس میں بے تحاشا قتل ہوئے۔

نبیﷺ کے دور میں اسی کے قریب جنگیں ہوئیں ،ان میںکچھ غزوات تھے اور کچھ سریہ تھے، لشکر بھی آپ نے بھیجے ،کل ۸۰کے قریب ہیں۔

ان اسی غزوات میں اتنے صحابہ شہید نہیں ہوئے جتنے ان فتنوں میں ہوئے،خوارج نے اسی بدعت کی پاداش میں کتنے صحابہ کو قتل کیا، ہزاروںکی تعداد میں، روم کے علاقے کو فتح کیا گیا، فارس کے علاقوں کو فتح کیاگیا اتنی شھادتیں نہیں ہوئیں جتنی شھادتیں اس فتنہ خوارج کی بناء پر ہوئیں، مسلمانوں اور صحابہ کی ہوئیں،یہ بھی اسی فتنے کے جراثیم ہیں مختلف تنظیمیں بن گئیں کوئی داعش بن گئی ،کسی کا القاعدہ سےتعلق ہوگیا، ان کا اقدام ایک ہی ہے کہ امت میں فتنے کھڑے کرنا کتنے ہی فتنے تکفیر کی پیدائش ہیں۔

پھر جناب تکفیرکی طرح تنفیربھی خطرناک معاملہ ہے۔

تنفیر کا معنی لوگوں میں نفرت کابیج بونا، تکفیر کا معنی جگہ جگہ بم دھماکے کرنا، لوگ مریں ،جلیں اس تکفیر کے فتنےکی وجہ سے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہئے۔

اس کو پہچان کر اپنے کردار کا تعین کرو،وہ کام کرو جو آ پ کے لائق ہے ایک نوجوان کا کام کیا ہے؟ ایک نوجوان کا کام اللہ کے پیغمبر ﷺ نے بیان کیا ہے:

سبعة یظلھم الله  فی ظلہ  یوم لاظل الا ظلہ (متفق علیہ)

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات قسم کے انسانوں کو میدان محشر میں جب سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا،ان میں سے ایک وہ نوجوان جو پروان چڑھا اپنےرب کی عبادت میں۔

یہ نوجوان کا کردار ہے ،رب کی عبادت،دین کی خدمت، تعلم ۔

نوجوان قائد نہیں ہے، نہ ہی وہ فتوے لگانےو الاہے ، یہ کام علماء کا ہے، علماء کی صحبت،اللہ تعالیٰ کاذکر ،اللہ کی عبادت، اس پر پروان چڑھے تو اس کردار کی طرف آئیں، اور وہ باتیں جو موجب فتنہ ہیں ان سے پوری طرح گریز کرناچاہیے توعصر حاضر کے جوفتنے ہیں بے شمار فتنے ہیں ان میں سے سب سے خطرناک فتنے ہے جو اپنا سراٹھاچکا ہے فتنہ تکفیر ہے،اس کے ساتھ بہت سی باتیں جڑی ہوئی ہیں جن سے اپنے آپ کو بچاناضروری ہے ،سب سے بڑھ کر اللہ کاذکر جو عبادت اور جو علماء ربانی ہیں ان کی صحبت ان کے علم سے استفادہ اور ان کے ساتھ ساتھ رہنا، تاکہ فتنوں کی معرفت ہوسکے جو ایک عالم ہی کو معلوم ہوتی ہے، کیونکہ ہر فتنہ شیطان کےملمع سازی کے ساتھ ہے،شیطان اپنا راستہ سجاکر پیش کرتا ہے، جس کو جاہل نہیں پہچانتا،وہ اس ملمع سازی سے دھوکہ کھاجاتا ہے لیکن ایک عالم جس کے سینے میں علم ہے کتاب وسنت کا وہ بات کو نصوص شرعی پرپیش کرےگا وہ دھوکہ نہیں کھائے گا ،شیطان اس کو دھوکہ نہیں دے سکتا، علم میں بڑی قوت ہے علم ایک بصیرت ہے علم فتنوں سے بچاتا ہے۔

سب سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہے،اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ ہر نماز میںفتنہ دجال سے پنا ہ مانگتے تھے اور آپ نے حکم بھی دیاکہ جب تم نماز پڑھو :

قولوا اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر ومن عذاب الجھنم ومن فتنة  المحیاء والمماة ومن شرفتنة المسیح الدجال

اسی لئے بعض فقہاء کا قول ہے کہ تشہد میں یہ دعا پڑھنا فرض ہے، کیونکہ اللہ کے پیغمبر ﷺ کاحکم ہے اور حکم وجوب کیلئے ہے، کتنا بڑا فتنہ  ہے، دجا ل جب آئے گا توپوری زمین کا چکر لگائے گا، مگر مکہ ومدینہ میں نہیں جاسکے گا،اس کواطلاع ملے گی کہ ایک شخص ہے جومیرے خلاف شد ومد سے باتیں کرتا ہے تو مدینہ آئے گا اس شخص سے مقابلہ یامناظرہ کرنے کے لئے،جب مدینہ آئے گا تو مدینہ کے اطراف میں فرشتے کھڑے ہونگے جو دجال کو مار کر وہاں سے نکال دیں گے، وہاں سے بھاگے گا ،’’صمخ‘‘مدینہ کے قریب وہاں پہنچ جائے گا اور وہاں سے کسی اپنے نمائندہ کو کہے گا جاؤاس شخص کو یہاں لیکر آؤ کہ یہاں آکرمیرا مقابلہ کرے ، بہت سےعلماء کی رائےہے کہ یہ شخصیت امام مہدی رحمہ اللہ ہیں، جن کا نام محمد بن عبداللہ جوقریش کا ایک نوجوان ہوگا ،عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں آئیں گے اور دجال کا مقابلہ کریں گے ،امام مہدی رحمہ اللہ جس کا آنا حق ہے، جو ضرور آئے گا۔

اللہ کےپیغمبر ﷺ کی حدیث ہے:لو لم یبق من الدنیا الایوم لطول الله ذلک الیوم حتی یبعث فیہ رجلا منی(ابوداؤد)

اگرآخری دنیا کا دن باقی ہو اور مہدی نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس آخری دن کو لمبا کردےگا ،لمبا کرکے اس میں مہدی کوبھیجے گا،جس کا دورانیہ زمین میں سات سال ہے۔وہ دن سات سال کے برابرہوگا بلکہ امام مہدی ا س سے قبل آئے گا۔

حدیث کا مقصد یہ ہےکہ مہدی کا آنا حق ہے، اب وہ آجائیں گے دجال کے پاس تو دجال کہےگا:تو مجھے نہیں مانتا؟ کیوں نہیںمانتا؟ امام مہدی فرمائیں گے:اس سے قبل تجھے دیکھا نہیں تھا آج دیکھ لیا ہے ایمان تازہ ہوگیا کہ تو وہی دجال ہے :

دجال کذاب

کیوںکہ میرے پاس اور علم یقین آگیا ہے ،میرے پیغمبر کا فرمان ہے:دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا،اور تو کانا ہے۔

میرے پیغمبرﷺ کا فرمان ہے: اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا،تو کافر ہے۔

تو رب کیسے ؟رب تو لوگوںکو دکھائی نہیں دیتا، لا تبصرہ الابصار. تو رب کیسے؟ دنیا تجھےدیکھ رہی ہے۔

ہر کوئی دیکھ رہا ہے، کافر ،فاسق سب دیکھ رہےہیں۔

میرا ایمان اور تازہ ہوگیا ،اب ان نصوص کا اس کے پاس جواب نہیں ہوگا۔

وہ سمجھے گا میری ہوا اکھڑ رہی ہے ،فوراً پینترا بدلے گا اور جولوگ اس کے ماننے والے ہوں گے ان کو کہے گا یہ مجھے پہچانتا نہیں حالانکہ میرے ہاتھ میںزندگی بھی ہےاور موت بھی ہے، لوگوں نے جو پہلی بار سنا کیا معنی زندگی اور موت کا اختیارہوگا؟

میں کھڑے کھڑے اس کو اشارہ کرکے مارسکتا ہوں، اشارہ کروں گا یہ مرجائے گا اس کی تصدیق میرےپاس ہے ۔کرکے دکھاؤ،اشارہ کریگا وہ گر جائے گا اس کی موت واقع ہوجائے گی ،لوگ کہیں گے بڑی تصدیق ہے۔جاہل لوگ کیوں نہ مانیں جو آج ننگوں دھڑنگوں کو مشکل کشا مانتےہیں ،جرس کے نشے میں دھت، غلاظتوں کے ڈھیر میں کتوں کی سرکار ،بلیوں کی سرکار، غلیظ قسم کےلوگ انہیں اپنامشکل کشا مانتے ہیں، دجال تو چلتا پھرتا ،اشاروں سے بارشیں برسائے گا ،اشاروں سے لوگوںکو مارےگا،اشاروں سے لوگوں کو اٹھائے گا ،کہیں گے یہ تو سب سے بڑا پیر ہے، یہ تو سب سے بڑا مشکل کشا ہے!!!

کسی بھی فتنے سے بچاؤ کا راستہ ایک ہی ہےوہ ہے کتاب وسنت کا علم یہ آپ کو بچائے گا۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرمایاکرتے تھے:

ایک شخص کو تم اگر دیکھو ہواؤں میں اڑتاہوا اور کہتا ہے مجھےمانو، آگ پر چلتاہےجلتا نہیں ،کہتاہے مجھے مانو، بارش میں چلتا ہے بھیگتا نہیں اور کہتا ہے میری کرامتوں کو مانو۔(مت مانو)

اس میں سے کوئی چیز ولایت کے اثبات کےلئے شریعت نے بیان نہیں کی ۔اس سے دھوکہ نہیں کھانا۔

یہ ہے علم دھوکہ نہ کھانا، کیونکہ ولایت یہ نہیں ہے ،ہواؤں میں اڑو، آگ پر چلو، پانی پر چلو، یہ ولایت نہیں ہے۔

[اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۶۲ۚۖ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۝۶۳ۭ ](یونس:۶۲،۶۳)

ولایت تو ایمان کا نام ہے ، عقیدہ کا نام ہے، توحید اور تقویٰ کانام ہے۔

لوگوں سے کہے گا میں اسےاشارے سے مار دوں گا،وہ اشارہ کرے گا وہ گر جائے گا ،اور روح اس کے جسم سے نکل جائے گی ،لوگ کہیں گے ،تمہارےپاس اتنی قدرت؟کہے گا ہاں میں اس کو اشارہ کرکے اٹھابھی سکتاہوں ،اشارہ کریگا دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔

اس لیے دجال کا فتنہ بڑا خطرناک فتنہ ہےجو لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا،بچے گا وہ جس کے پاس علم ہوگا، اگرآپ کے پاس علم ہوگا کہ موت اور حیات کا اختیار کس کے پاس ہے ؟اللہ کے پاس۔ تو آپ اس قسم کے فریب سے بچ جائیں گے، کیوں؟کیونکہ آپ کے پاس قرآن ہے،آپ کے پاس حدیث ہے ،کوئی شعبدے باز آجائے اور وہ کہے میں آپ کو آپ کے گھر کی خبریں دے سکتاہوں یعنی غیب کے احوال دے سکتاہوں اور بتاسکتاہوں تو آپ اس کو مانیں گے ؟ کیوں؟ کیونکہ آپ کے پاس قرآن کی آیت ہے :

[قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۝۶۵ ](النمل:۶۵)

نہ آسمانوں میں نہ زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔

آپ کو علم ہوگا ،کسی دوسرے کے بارےمیں علم غیب کا عقیدہ کفر ہے۔

آپ کیسےمانیں گے؟

اسی طرح یہ معاملہ اگر علم قوی ہوگا کہ حیات اور موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے تو آپ اس کا انکارکریں گے تم جوچاہے کرتےپھرو، ہم ایمان نہیں لائیں گے،وہ آدمی کھڑا ہوجائےگا ،دجال کہے گا اب تو مانا ؟ کہے گا میرا ایمان اور بڑھ گیا تو وہی جھوٹا ہے،میرے نبی کا یہ فرمان تھاکہ دجال یہ کام بھی کرے گا، اور یہ بھی فرمایا تھا کہ تو اب دوبارہ اس کام پر قادر نہیں ہوسکے گا۔

اب اشارہ کرکے مار کے دکھا، اب وہ اشارہ کریگا ،کچھ نہیں ہوسکے گا۔ اب وہ ناکام اور نامراد ہوجائے گا۔

توبہت بڑا فتنہ لیکن تحفظ اور بچاؤ کا راستہ ،شرعی علم میں ہے، وہ علم آپ کےپاس موجود ہے، تو اس کو ہمیشہ تازہ کرتے رہو، ورنہ علماء کی صحبت علماء کے ساتھ اٹھنابیٹھنا تاکہ ان کی صحبت سے کتاب وسنت کا علم پہنچا رہےاور فتنوں سے بچاؤ حاصل ہوتا رہے، ورنہ جو فتنوں کی یلغار میں آنےوالاہے ،وہ لمحے بھر میں کفر کی وادی میں داخل ہوسکتا ہے۔

والعیاذباللہ

اللہ مجھے اور آپ کو محفوظ رکھے، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ،ہمارے ظاہر وباطن کو ایمان کے نور سے منور فرمائے، علم نافع عطا فرمائے، یااللہ جب تک زندہ رکھنا اپنی توحید پر زندہ رکھنا، اپنی اور اپنے پیغمبر ﷺ کی محبت پر قائم رکھنا ،اور جب موت آئے تو تیری توحید پر آئے، آمین

 وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین.

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

جماعت حقہ اور اس کا منہج

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *