Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » December Magazine » چنداسلامی اصول صحت

چنداسلامی اصول صحت

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

اسلامی اصول صحت نہایت آسان اور سادہ ہیں،مثلا: زندگی اور صحت کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز پاک وصاف اور تازہ ہوا ہے،جو اللہ تعالیٰ کی بے بہا نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، تازہ ہوا کاٹانک قدر ت کی طرف سے بالکل مفت مہیا ہے۔ کاش ہم اس کی قدر واہمیت کومحسوس کرتے ہوئے اپنےمشاغل ومصروفیات سے چند لمحات نکال کر،تھوڑا سا وقت پرفضا کھلی ہوا میں روزانہ چھل قدمی اور ورزش کریں، چونکہ واک کرتے ہوئے طویل اور گھرے سانس لینا صحت کے لئے بے حد ضروری ہیں تاکہ ’’آکسیجن ‘‘ کی رسد تکمیل کو پہنچ سکے، آکسیجن کی اہمیت کا اندازہ آپ ایک سعودی بزرگ شہری کے واقعہ سے لگاسکتے ہیں جو80برس کابوڑھا قدرے صحت مند ہوکر 2گھنٹے بعد اسپتال سے ڈس چارج ہوا توڈاکٹروں نے اسے 600سعودی ریال کا بل تھمادیا، جوبوڑھا دیکھ کر زاروقطار رونے لگا، ڈاکٹروں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جناب اگر آپ کے پاس پیسے نہیں تو کوئی بات نہیں! لیکن بزرگ مریض نےکہا کہ یہ توسارا بل میں بآسانی اداکرسکتاہوں لیکن رونے کا سبب یہ ہے کہ یہ مصنوعی آکسیجن کا بل توصرف 24گھنٹوں کاآپ 600ریال وصول کررہےہیں،جبکہ میری عمر80برس ہوچکی ہے ان اسی سالوں میں نجانے میرے رب العالمین نے کتنی آکسیجن دی ہوگی؟ لیکن اس منعم حقیقی نے آج تک کبھی بھی ایک ریال کا بھی بل نہیں بھیجاوہ کتنا عظیم الشان ہے۔
اس ایک واقع سے ’’آکسیجن‘‘ کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہےپھرہوا کو صاف وشفاف رکھنے کا ایک ذریعہ سبزہ، درخت ،پھول پتے وغیرہ ہیں، جو اسے انتہائی خوشگوار بناتے ہیں تو رحمت عالم ﷺ نےا رشاد فرمایا :
من من مسلم یغرس غرسا، أو یزرع زرعا، فیأکل منہ طیر أو انسان أو بھیمة إلا کان لہ بہ صدقة.(صحیح البخاری:2320)
جو شخص اس ارادہ سے کوئی پھلدار ،سایہ دار درخت لگاتا ہے کہ اس کے پھلوں یا سایہ سے انسان اورحیوان فائدہ اٹھائیں تو اسے بہت بڑا اجروثواب ملتا ہے۔
اگر ایک درخت لگانا قابل تعریف اور موجب اجروثواب کام ٹھہرا توبڑے باغات اور بستان لگانا کتنا اجروثواب اور ماحولیات کی کثافت کو دور کرنے کے ساتھ شجرکاری کی مہم کو تقویت دینے کا باعث بنے گا، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ مسجد کے بعد عموما باغات میںنماز اداکرنا پسند کیا کرتے تھے، اس کے علاوہ خوشبو بھی ہوا کو صاف ستھرا رکھنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہے، لہذ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے دنیا میں تین چیزیں نور نظر ہیں ،نماز،بیوی بچے اور خوشبو۔ مزید یہ کہ قرآن وسنت میںفرحت افزا،خوبصورت تازہ صاف ہواؤں کاجابجا تذکرہ ملتا ہے، جس سے اسلامی اصول کے تحت صاف ستھری خوشگوار ،فرحت بخش ہواؤں کی اہمیت کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ،ویسے بھی اسلام کے بنیادی اوصاف میں نظافت شامل ہے ،مثلا نماز کی ادائیگی کےلئے، جسم ،کپڑا اور زمین کا پاکیزہ ہونا ضروری ہے۔
اب ہوا کے بعد زندگی کے لئے دوسری اہم اور قیمتی چیز صاف پانی ہے، پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان نعمت ہے پانی کے بغیر حیات انسانی محال ہے، ہمارے جسم وجان کی ساخت میں پانی بکثرت شامل ہے، جسم اور کپڑوں کی صفائی بھی پانی کے بغیر ہونا ناممکن ہے، پانی انسانی جسم سے سمی فضلات کے اخراج میںممّدومعاون ہوتا ہے، پانی ایک مؤثر محلّل ہے جو جسم کی ضروریات پوری کرنے اور پیاس بجھانے کا باعث بنتا ہے، پیاس کی شدت میں ٹھنڈے پانی سے زیادہ کوئی اور چیز مرغوب نہیں ہوتی، اتنی اہمیت کے باوجود بہت کم لوگ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور آلودگیوں سے پاک رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں ،قرآن عظیم میں پانی بقاء حیات انسانی کے لئے بے حد اہم ہے، بڑے پر معنی الفاظ میں ارشاد گرامی ہے کہ [وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ۝۰ۭ ](الانبیاء:۳۰)یعنی پانی سےہم نے ہر چیز کو زندگی بخشی ہے۔ جبکہ پانی ،ہوا ،روشنی ،دھوپ کسی چیز کو پاک صاف کرنے اور نجاست وغلاظت کے خاتمہ میں بیحد ممد ومعاون ہوتی ہیں ،پانی کے سلسلہ میں بھی ہدایات ہیں کہ ہمیشہ انہیں صاف برتنوں میں ڈھانپ کر رکھنا ،اگر پانی صاف نہ ہوتو ابال کر چھان کر صاف پانی پینا ،انسانی صحت کےلئے بیحد ضروری ہے، پانی کی غلاظت سے بے انتہا موذی امراض جنم لیکر جسم وجان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
حفظان صحت کے سلسلہ میں جدید وقدیم اطباءجسمانی حرکت وسکون کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں اورخصوصا ورزش کو ۔چاک وچوبند ،خوش باش اورصحت مند رہنےکے لئے ورزش انتہائی ضروری ہے، ورزش کے بغیر دوران خون میں کمی، جگر سست، معدہ کمزور،قلب بے حد متاثر ہوکربیمار پڑ جاتا ہے ایک دم پھر جسم انسانی بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے ،رسول اللہ ﷺ نےامور زندگی میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، بلکہ مشاغل زندگی میں اپنا نمونہ حیات پیش کیا، اسی طرح ورزش جسمانی میں بھی خود دلچسپی لے کر دنیا کو نمونہ دکھایا ،حضورﷺ نے بچپن میں بکریاں چرائیں، دعوت اسلام کے ساتھ اپنے صحابہ کے ساتھ عموما تیراندازی بھی کیا کرتے تھے-بعض دفع اپنی شریک حیات کو بھی تیز چلنے کی تاکید کرتے تھے، مسجد نبوی جیسی مقدس جگہ پر بعض حبشیوں نے بھی، کھیلوں کامظاہرہ کیاجوخود آپﷺ نے ملاحظہ فرمایا،جسے ازواج مطہرات جیسی پاکیزہ خواتین باپردہ ملاحظہ فرمارہیں تھیں ،اسلام میں پانچ وقت کی باجماعت نماز بھی اپنے ساتھ خوبصورت ورزش کا رنگ لئے ہوئے ہیں ،نماز میں جس قدر قیام ،قعود،رکوع،سجود کے سبب جو جسم کو متحرک کیا جاتا ہے اس تحریک اور ان حرکات وسکنات سے جسم وجان کو بے حد فائدہ پہنچتا ہے جوروح کے ساتھ جسم کو بھی بالیدگی بخشتی ہے ۔
اسلامی حفظان صحت کے سلسلہ میں ہوا، پانی ،اور ورزش کے علاوہ نیند کا بھی خصوصی خیال رکھاگیا ہے، دن بھر دوڑ دھوپ اور تھکن سے چورانسان کی بڑی خواہش رات کی پرسکون نیند بھی ہے، تاکہ دوسرے دن تازہ دم ہوکر پھر زندگی کی تگ ودو میں لگ جائے، قرآن عظیم میں متعدد بار نیند کو موجب راحت وسکون قرار دیا گیا ہے ،رسول اللہ ﷺ کا بھی معمول تھا کہ رات کا بیشتر حصہ عبادت میں صرف فرمایا کرتے تھے، باقی وقت آرام فرمایا کرتےتھے، آپﷺ کا یہ بھی معمول تھا کہ دوپھر کوکھانے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے استراحت فرمایا کرتے تھے جسے عربی میں ’’قیلولہ‘‘ کہتے ہیں چونکہ نیند ترک کرنا قطعا صحت کے لئے اچھا نہیں، چنانچہ ابتداء اسلام رسول اللہ ﷺ جب رات کا بیشتر حصہ ’’قیام الیل‘‘ کرتے گزارتے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:[قُـمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا۝۲ۙ](المزمل:۲) یعنی کہ آپ مناسب وقت تک ضرور سویا کریں۔ بے شک رات کا جاگنانفس کوقابوکرنے کا مؤثر ذریعہ ہے لیکن اگر آپ طول دیں گے تو تھکن سے اپنے آپ کو چور کرلیں گے، بہرحال سکون کی نیند اللہ تعالیٰ کی بے بہا نعمتوں میں سے ایک نعمت عظمیٰ ہے۔ زندگی میں جب یہ نعمت منہ موڑ لیتی ہے تو انسان ساری رات بےآب ماہی کی طرح تڑپتا رہتا ہے!
اسلام میں حفظان صحت کے تحت پاکیزگی اور صفائی کی بھی بڑی اہمیت ہے بالکل ابتداء اسلام میں اللہ تعالیٰ نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو نور ہدایت سےمنور کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ
[وَثِيَابَكَ فَطَہِرْ۝۴۠ۙ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۝۵۠ۙ ](المدثر:۴،۵)
یعنی اپنے کپڑے (لباس) صاف ستھرے اور مطہر رکھاکرو اور ہر قسم کی غلاظت وگندگی سے پرہیز کیاکرو۔
قرآن وسنت میں ایک طرف جہاں اصول حفظان صحت سے آگاہ کیا گیا ہے وہاں پر صفائی پاکیزگی اور طہارت کی بھی بار بار تاکید کی گئی ہے ،سونے ،جاگنے ،کھانےپینے سے فراغت پاتے دانت صاف کرنے، منہ صاف رکھنے کے لئے مسواک کی بار بار تاکید کی گئی ہے اور غسل کرنے،وضوسے رہنے، باسلیقہ صاف اور پاکیزہ لباس زیب تن کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے، مثلا: رسول اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ :اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور پاک چیز پسند کرتا ہے۔صاف ستھرے رہا کرو،چونکہ اسلام پاکیزہ مذہب ہے۔مختصراً حاصل کلام یہ ہے کہ یقینا اسلامی اصول صحت پر عمل کرکے کم وقت وکم خرچ میں اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج حاصل کیےجاسکتے ہیں، یہ صرف مذہب اسلام کی خصوصیت ہے چونکہ اسلام دین فطرت اور ایک عالمگیر دین قیم ہے، جس میں قرآن کریم اوررسول اکرم ﷺ نے صحت انسانی کے ثبات کےمتعلق ایسی اعلیٰ تعلیم دی ہے، جوروحانی تعلیم کی طرح عدیم المثال ہے،یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ محکم دلائل وبراہین ،شہادات ،تجربات، مشاہدات اورحقائق پرمبنی ہے، مثلاً: ارشادات نبوی کاخلاصہ اور ماحصل سیرت رسول کے انمول اصول صحت سے صرف چند کاتذکرہ اصحاب علم وفکر کےلئے کافی ہے ،مثلا: اللہ تعالیٰ کریم ہے اور کریم کو دوست رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو بھی پسند کرتا ہے ۔ کھاتے وقت مناسب ہے کہ معدے کے تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ غذا کے لئے، ایک حصہ پانی کے لئے ، ایک حصہ سانس کی آمدورفت کے لئے رکھاجائے۔ اور مسلمان اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک ان کو اچھی طرح بھوک نہ لگے اور جب کھاتے ہیں تو سیر ہو کر بھی نہیں کھاتے۔ سیال غذاؤں میں سب سے اچھی غذا دودھ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے جو بچوں ،بوڑھوں اور جوانوں سب کی مثالی خوراک ہے جس کاتذکرہ قرآن عظیم میں کیاگیا ہے۔ گوشت سالن کا سردار ہے، گوشت میں کبھی کدوڈال دیاکرو۔پانی کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھا کرو۔ صلوٰۃ العشاء کے بعد جلدی سوجایاکرو۔ جوشخص رات کو جلدی سوتا ہے صبح کو جلد اٹھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ ہے، فجرکی نماز باجماعت ادا کرنے کی اسلام میں بے حد اہمیت ہےازیں انسانی جسم واعضاء بہتر کام کرتے ہیں اور صفائی ستھرائی نصف ایمان ہے۔ دین کی بنیاد ہی پاکیزگی اور طہارت پر ہے۔ کمزور اور ناتواں مؤمن کے مقابلے میں قوی اور توانا مسلمان اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
آخر میں یہ وضاحت بھی کرتے چلیں اسلام میں انسان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ جسم وروح دونوں سے مرکب ہے اسلام نے جہاں حفظان صحت کے سادہ مفید اور معیاری صحت کے اصول بتائے،وہیں اسلام نے روحانی بیماریوں کا علاج بھی ان کی متضاد اشیاء سے کیامثلا ًجہالت کا علاج علم سے، بخل کا سخاوت سے، تکبر وغرور کا تواضع وانکساری سے، حرص وطمع کا قناعت واستغناء سے، بیگانگی وعداوت کا انس ومحبت سے، درشت خوئی کانرم مزاجی سے، بدزبانی کا خوش کلامی سے،کذب وخیانت کا صدق وامانت سے،نام ونمود کا اخلاص ونصیحت سے علاج کرکے روح کے آلودگیوں اور بیماریوں کو شفابخشی مزید یہ کہ جسمانی وروحانی بیماریوں کے علاج کے لئے امت مسلمہ کے مہربان معالجوں نے ایک ایک مسئلہ کے حل کے لئے کئی کئی جلدوں میں کتابیں لکھیں جن سے ہرصاحب علم وذوق ،اسلام سےمحبت کرنے والامسلمان بھائی مستفید ہوسکتا ہے بہرحال یقینا اسلامی اصول صحت پر اسلام کو سب مذاہب پر فوقیت وبرتری حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلامی اصولوں سے ہمیں کماحقہ استفادہ کرنے کی توفیق بخشے۔آمین

About پروفیسر مولابخش محمدی

پروفیسر مولابخش محمدی،مٹھی تھرپارکر

Check Also

مولاناعبدالوکیل صدیقی خانپوری رحمہ اللہ

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *