Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2019 » August and September Magazine » ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

فطرتی حسن سے مالامال وہ خطہ ارضی جسے دنیا میںجنت نظیر کہاجاتاہے ، وہ کشمیر جوآج جل رہا ہے، جس کوآج یہاںکےمکینوں کےلئے دنیا کا سب سے بڑا’’قیدخانہ‘‘بنادیاگیاہے، مسلسل کرفیوکو آج چالیسواں روزہے، غاصب ہندوفوج نے ظلم وبربریت کی وہ مثالیں رقم کی ہیں جن کے سامنے ہٹلراورنپولین جیسے ظالم بھی ہیچ دکھائی دےرہے ہیں،مقبوضہ کشمیر کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں، انٹرنیٹ،موبائل سروس اور مواصلاتی نظام پر مکمل قدغن عائد کردی گئی ہے، تاکہ وہاں سے کوئی بھی خبرباہر نہ جاسکے، جومظاہرین اٹھتے ہیں ان کوجیل میں بند کرکے وہ ٹارچر کیے جاتےہیں کہ الامان والحفیظ.

آرٹیکل 370کاخاتمہ کرکے اوردہشت کا راج قائم کرکے’’ آرایس ا یس کاغنڈا مودی ‘‘یہ سمجھنےلگا ہے کہ اب کشمیر سے حق خودارادیت کاجذبہ اور تحریک مکمل ختم ہوچکے!اب اس کے ناپاک قدم’’ اکھنڈ بھارت‘‘ کی طرف مزیدآگے بڑھیں گے۔

دوسری طرف عالمی بےحسی بھی اپنی آخری حدود کو چھورہی ہے،نام نہاد اقوام متحدہ ،حقوق انسانی کے چیمپئن اور بڑی عالمی قوتوں کو چھوڑ ہی دیں،56اسلامی ممالک نے بھی کشمیریوں کے سوائے زبانی جمع خرچ کےکچھ نہیں دیا، بلکہ دوبرادر اسلامی ممالک نے قصاب مودی کو اپنے سب سےبڑے سول ایوارڈ سے عین ان ایام میںنوازاجب کشمیری بھائیوں،بہنوں،معصوم بچوں اور بزرگوں کو غاصب ہندوفوج اپنے ظلم وستم کا تختۂ مشق بنارہی تھی،افسوس صدافسوس! کشمیری بھائیوں کے زخموں پر مرہم تونہ رکھی جاسکی الٹا قصاب مودی کی یہ تکریم کرکے ان کے رستے زخموں پر نمک پاشی کی گئی،مادیت اور تجارتی مفادات نے اخوت دینی اور حمیت اسلامی تک کا جنازہ نکال دیا…؟

حمیت تھا نام جس کا گئی تیمور کے گھر سے

اب آیئے اپنے گریباں میں جھانکیں!

کشمیر ہماری شہ رگ ہے، کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل اور ادھوراہے، مودی کا یہ حملہ مقبوضہ کشمیر پر نہیں ہماری شہ رگ پر ہے، ہماری شہ رگ کی حفاظت ہمیں نےکرنی ہےلیکن افسوس کہ ہم نے بھی عملی طور پر کچھ کرنےاور قصاب مودی کو واضح پیغام دینے کے بجائے،استعماری قوتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا،اقوام متحدہ میں سینہ کوبی کی اوران اندھوں کےسامنے اپنے قیمتی آنسوضایع کیے جن کی آشیرباد اور حمایت کے بغیر بزدل مودی اتنا بڑا قدم کبھی نہیں اٹھاسکتا تھا۔ اگر ہم موقعےپرہی انڈیا کوٹھوس پیغام دیتے، مثلاً:اپنے سفیر کو واپس بلاتے اورہندوستان کے سفیر کو ملک بدر کرتے،اپنی فضائی حدود ہندوستان کےلئے بند کردیتے، ہر طرح کے تعلقات منقطع کردیتے، سرحدوں پریشربڑھاتےتود نیا پر بھی اس ایشو کی حساسیت واضح ہوتی اور بزدل ہندوبھی معاملے کی خطورت کوبھانپ جاتا…لیکن ایسا کوئی پیغام ہمارےحکمرانوں نے نہیں دیا، میں یہ نہیں کہتا کہ سفارتکاری کا کوئی فائدہ نہیں، کامیاب سفارتکاری بھی تب ہوتی جب آپ سفارتکاری کے ساتھ عملی اقدامات بھی کرتے۔

دنیا نے ہماری کمزوری اور ضعف کو دیکھااور مکار ہندوستان کی قوت اور عملی اقدامات کو ملاحظہ کیا، نتیجہ یہ کہ ہماری سفارتکاری بھی خاص سود مند ثابت نہ ہوسکی…

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

المیہ درالمیہ تو یہ ہے کہ جب مودی نے کشمیر پر اتنا بڑا قدم اٹھالیاتھا،توہمیں اپنے اندراتفاق ویگانگت کوقائم کرکے دشمن کے مقابلے میں اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھاوہیں اس جانب بھی ضعف اور کمزوری واضح رہی، ہم اپنے ذاتی مفادات کے حصول میں مگن رہے،، کوئی اپنی سیاست چمکانے میں مصروف رہاتو کسی کو اپنی پارٹی اور قیادت کی فکر دامن گیر رہی، آخری اطلاعات کے مطابق ایک مذہبی سیاسی جماعتی عنقریب اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کررہی ہے،اس کو باز رکھنے کی بڑی کوشش ہورہی ہے،نہیں معلوم نتیجہ کیا نکلے گا؟ یوں ہمارا اندرونی خلفشار ہمیں مزید دشمن کے بالمقابل کمزور کردے گا۔

متذکرہ بالازمینی حقائق کو سامنےرکھ کر اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر نظر ثانی کریں ،خصوصا پوری قوم بشمول حکمرانوں اور مقتدر حلقوں کے اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ اور انابت کا اظہار کریں،اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں اور یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

[وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ ](آل عمران:۱۲۶)

حقیقی مدد تو اللہ غالب اور حکمت والے ہی کی طرف سے آتی ہے۔

اختلاف اور تنازعات ملک اور قوم کو اندر سے دیمک کی طرح کھاجاتے ہیں، خصوصا جب دشمن کےمقابلے میں یہ اختلاف اور خلفشار ہوتو فرمان باری تعالیٰ ہے:

[وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ ](الانفال:۴۶)

اختلاف اور تنازعہ نہ کرو وگرنہ تم ہارجاؤگے اور تمہاری ہواکھڑ جائیگی۔

گویاکہ دشمن کے مقابلے میں اگر یہ دودہاری تلوار تمہارے پاس ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد کے اسباب اختیار کروگے تونصرت باری تعالیٰ تمہارے شامل حال رہے گی اور اپنے صفوں میں اتفاق واتحاد قائم رکھو گے،توتم یقینا کامیاب اور سرخروہوں گے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں ہوگا اور اس کی مدد کے اسباب کو نہیں اپناؤگے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں ذلت ورسوائی سے نہیں بچاسکتی، بہت غلطیاں اور کوتاہیاں کرچکے، سقوط ڈھاکہ سے بھی کچھ نہیں سیکھا، اب کی بار تو دشمن نے شہ رگ پروار کیا ہےاگر اب بھی بزدلی کےساتھ چمٹے رہے اور شجاعت وبہادری کو گلے نہ لگایا،اورکڑے فیصلے نہ کیے تو پھر:

تاریخ نے قوموں کے وہ ادوار بھی دیکھے ہیں

کہ لمحوں نے غلطی کی ہے صدیوں نے سزاپائی ہے

اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیزکاحامی وناصرہو، اپنی رحمت کا سایہ ہم پر قائم ودائم رکھے اور ہمارے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو غاصب افواج کے ظلم و جبر سے نجات دے، ان پر جلد آزادی کی صبح طلوع ہو،’’ہندوستان کے فرعون‘‘اور اس کے سپاہ کو عبرت کا نشان بنادے، افواج پاکستان کی حفاظت کرے،ہمارے ضعف اور کمزوری کو قوت میں بدل دے اور ہمارے حکمرانوں کو درست فیصلے کرنے کی توفیق عطافرمائے، آمین یا رب العالمین

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

اصلاح امت کا فریضہ ؛ امر واقع اور حقیقی طریقہ کار

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *