Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » September Magazine » ترجمان اہلحدیث ڈاکٹرعبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ کا مختصرتعارف

ترجمان اہلحدیث ڈاکٹرعبدالحفیظ سموں حفظہ اللہ کا مختصرتعارف

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

واٹس ایپ کی دنیامیں خدمت دین میں رواں دواں علمی مجموعہ ’’دارالاسلاف‘‘میں تعارف علماء اہلحدیث کے سلسلہ میں ناظم اعلی جمعیت اہلحدیث سندھ،پروانہ توحیدوسنت،داعی مسلک حق،فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبدالحفیظ سموںکاتعارف پیش گیاتھا ۔بعض احباب کی خواہش اورافادہ عامہ کے لیے اسے مجلہ دعوت اہل حدیث کے قارئیں کی خدمت  میں پیش کیاجارہاہے!(ادارہ)

نام :عبدالحفیظ

ولدیت:ڈاکٹرصاحب کے والد محترم کا اصل نام محمد ہارون تھا بعد میں وہ فقیرمحمد کے نام سے معروف ہوگئے۔

تاریخ پیدئش: 17دسمبر1960ع بالموافق۲۶جمادی الثانی ۱۳۸۰ھ کوبدین شہر میں پیداہوئے۔

خاندانی پس منظر:

ڈاکٹرصاحب کے خاندان کا اصل تعلق ہندوستان  کے معروف قصبہ کچھ سے ہے۔آزادی ملک سے قبل سندھ کی طرف ہجرت کر آئے۔

ڈاکٹرصاحب کے خاندان کا شروع سے ہی دین سے لگائو  تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی نانی بدین کی متعدد خواتین کو قرآن کی تعلیم دیتی رہی ہیں۔ اور اسی طرح  ڈاکٹرصاحب کی نانی کے والد صاحب فاتح لواری حاجی احمدملاح کےاستاد تھے۔

نرینہ اولاد:

اللہ نے ڈاکٹر صاحب کو دو بیٹے(زید اورطلحہ)عطا کیے ہیں۔ چھوٹے بیٹے کو عالم بنانے کاارادہ رکھتے ہیں،اس وقت وہ حفظ کررہے ہیں اللہ نے انہیں بڑی ذہانت عطافرمائی ہے۔

اللہ تعالی انکو شیخ محترم کا حقیقی جانشین بننے کی توفیق دے۔آمین

دینی تعلیم:

ناظرہ قرآن کریم اپنے ماموں مولوی محمدصالح سموںسے پڑھا، علوم اسلامیہ وعربیہ باقاعدہ کسی مدرسے سے نہیں حاصل کئے البتہ اپنےدورکے کبار اہل علم سے بھرپوراستفاذہ کرتے رہے ہیں۔

دنیاوی تعلیم:

۱۹۸۷ع کو لیاقت میڈیکل کالج جامشورو سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔

اساتذہ:

جن اہل علم سے شیخ محترم استفادہ کرتےرہے ہیں ان کے اسماء ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں۔

1۔محدث دیارسندھ شیخ العرب والعجم سیدعلامہ بدیع الدین شاہ  راشدی رحمہ اللہ ۔

موصوف حفظہ اللہ کی شاہ صاحب سے پہلی ملاقات۱۹۷۶ع کو    جامع مسجد حاجی احمدملاح،غریب آباد بدین میں ہوئی،وہاں پر شاہ صاحب رحمہ اللہ کو خطاب کرنے لیے مدعو کیاگیاتھا  ڈاکٹر صاحب  بھی علمی خطاب سے مستفید ہوئے اس وقت ان کی عمر ۱۶سال تھی۔

شاہ صاحب کی یہ پہلی تقریر سننے کے بعد دین سے محبت میں اضافہ ہوگیا اور شاہ صاحب رحمہ اللہ سے آہستہ آہستہ مضبوط تعلق ہوتا گیا، پھر بالآخر وہ دن بھی آیا کہ انہوں نے موصوف رحمہ اللہ کو جمعیت اہلحدیث سندھ کانائب ناظم اعلی مقرر کر دیا۔

اس کے بعد شاہ صاحب سے بکثرت استفاذےکے مواقع میسر ہوئے، یہی تعلق انکی وفات تک قائم رہا۔

2۔محدث العصر حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ

موصوف حفظہ اللہ نے ان سے فون پر خوب استفادہ کیاہے موصوف نے اپنی کتاب (اللہ تعالی کہاں ہے ؟)میں شیخ زبیررحمہ اللہ کو اپنا استاد تسلیم کیاہے، ڈاکٹر صاحب فرماتےہیں: میں نے منہج سلف اور مسلکی غیرت انہی سے سیکھی ہے۔

3۔مولانا عبدالرحمن اعوان رحمہ اللہ

موصوف حفظہ اللہ فرماتے ہیں: میں نےنحووصرف کا علم انہی سے سیکھا اس وقت وہ جامع مسجداحمدملاح غریب  آباد بدین میں ہوتے تھے عربی گرائمر میں انہیں مہارت تامہ حاصل تھی۔

4استاذ الاساتذہ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ (امیرجمعیت اہلحدیث سندھ)

تلامذہ:

مولانا بشیراحمدعسکری

محترم عبدالرزاق کھٹی

محترم عبدالستار سموں

محترم عبدالقیوم کھٹی

تصانیف:

شیخ محترم حفظہ اللہ کے قلم سے کئی علمی کتب منصئہ شہود پر آچکی ہیں۔

ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

1۔اصلی مسنون تراویح اردو ـسندھی(مطبوع)

یہ کتاب  موصوف حفظہ اللہ نےبدین کے ایک بریلوی مولوی کی کتاب (حقیقی مسنون تراویح )کے تعاقب  میں لکھی تھی۔

پہلی دفعہ سندھی میں شایع ہوئی اوردوسری دفعہ اردو زبان میں شایع ہوچکی ہے نیز اس کتاب پر فضیلۃ الشیخ مبشراحمد ربانی حفظہ اللہ نے مختصر مگرجامع تقریظ بھی لکھی ہے۔

2۔اللہ تعالی کہاں ہے؟اردو(مطبوع)

یہ کتاب بھی دو دفعہ شایع ہوچکی ہے ،اللہ کی صفت استواء علی العرش پر اردو زبان میں سب سے بہتر کتاب ہے۔

اس کتاب کاجدید ایڈیشن فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی اور فضیلۃ الشیخ مبشراحمد ربانی حفظہ اللہ کی تقدیمات کے ساتھ مطبوع ہے۔

3۔ماتم کی شرعی حیثیت سندھی(مطبوع)

یہ کتاب ایک شیعہ کے رد میں لکھی گئی ہے،ماتم کے کے حوالے سے یہ کتاب عظیم الشان حیثیت رکھتی ہے،اسی کے پیش نظر مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ ابوالاسجد محمد صدیق رضاحفظہ اللہ اسکا اردو میں ترجمہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

4۔پیری مریدی کی شرعی حیثیت سندھی(مطبوع)

5۔کیا باطل پر تنقید فرقہ واریت ہے؟اردو(مطبوع)

جو لوگ اہل باطل پر دلائل ومتانت پر مبنی تنقید کو برا محسوس کرتے ہیں ان کے اس موقف کا اس کتاب میں کتاب وسنت واقوال سلف سے بہترین رد کیاگیاہے۔

یہ کتاب استادمحترم فضیلۃ الشیخ مفتی حافظ محمدسلیم حفظہ اللہ کی تقریظ کے ساتھ مطبوع ہے۔

6۔شرح بلوغ المرام سندھی (غیرمطبوع)

بلوغ المرام کی سندھی زبان میں پہلی دفعہ لکھی گئی جامع شرح   ہے اس میں ڈاکٹر صاحب حفظہ اللہ نے لغت الحدیث،فقہ الحدیث ،اور حکم الحدیث پر مفصل بحث کی ہے طلباء وعلماء کے لیے بیش قیمت تحفہ سے کم نہیں ہے۔

7۔مقالات ومضامین سندھی(غیرمطبوع)

اس کتاب میں موصوف کےان  مضامین وقلمی مناظروں کو جمع کیا گیاہے جو سندھی اخبارات(کاوش،عبرت،شام)میںچھپتے رہے ہیں۔

8۔ایک بھولی ہوئی سنت سندھی(مطبوع)

نماز مغرب سے پہلے دو رکعت سنت کے ثبوت میں لکھی گئی ہے۔

9۔اہل حدیث اور اہل تقلید اردو (غیرمطبوع)

ایک دیوبندی مولوی کے سوالات کے جوابات پر مشتمل جامع کتاب ہے۔

10۔اہلحدیث کا اہل حرم سے اتفاق سندھی(غیرمطبوع)

یہ کتاب بدین کے ایک دیوبندی مولوی جمال الدین زئور کی  کتاب (اہل حرم اور غیرمقلدین کے عقائد کاتقابلی جائزہ) کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

اس میں دلائل سے ثابت کیاگیاہے کہ اہل حدیث اور علماء حرمین عقائدمیں متفق ہیں ۔اس بارے میں آل تقلید کے تمام شبہات کا دندان شکن جواب دیاگیاہے۔

11۔خطبات ۵ جلدیں سندھی(غیرمطبوع)

12۔طریقہ نماز کتاب وسنت کی روشنی میں سندھی(مطبوع)

طریقہ نمازکے متعلق جامع کتاب ہے۔

13۔محمدبن قاسم رحمہ اللہ حقائق اور افسانے سندھی(زیرتالیف)

14۔شرح عقیدۃ  الوسطیہ سندھی(غیرمطبوع)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی مشہور کتاب’’ عقیدۃ الواسطیہ‘‘  کا سندھی میں ترجمہ اور جامع شرح  ہے۔

15۔بدعت کیاہے؟سندھی(مطبوع)

16۔نماز کی چابی سندھی(مطبوع)

نوٹ: ہم نے موصوف حفظہ اللہ کی ذاتی کتب کے ذکر پرہی اکتفاء کیاہے باقی کئی اہل علم کی کتب کے تراجم انکے علاوہ ہیں نیزعام فہم سندھی میں ترجمہ قرآن  کا بھی کام شروع کردیاہے نیز دفاع صحابہ پر بھی مفصل کتاب زیرتالیف ہے۔

پسندیدہ شخصیات:تحقیق حدیث کے حوالے سے موصوف حفظہ اللہ ان علماء کوپسند کرتے ہیں۔

1شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ

2۔محدث العصرعلامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ

3محدث العصر حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ

4شیخ سلیم الھلالی حفظہ اللہ

فقہات کے حوالے سے درج ذیل علماء کو پسند کرتے ہیں۔

1امیرالمؤمنین فی الحدیث محمدبن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ

2۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

3۔امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ

4۔شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ

خطابت کے حوالے سے سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ پروفیسر عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ شیخ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ اورسید سبطین شاہ  نقوی حفظہ اللہ کو پسند کرتے ہیں۔

مناصب:

1ناظم اعلی جمعیت اہلحدیث سندھ

2۔مدیر مکتبہ اصحاب الحدیث بدین

3۔خطیب جامع مسجد سعدبن ابی وقاص قائداعظم روڈ بدین

خطابت:

موصوف حفظہ اللہ کو اللہ تعالی نے خطابت کا بڑاملکہ عطا فرمایا ہے ۱۹۹۰ سے اب تک خطابت کے میدان میں بھی دین کی خوب خدمت کر رہے ہیں،ڈاکٹر صاحب کی تقریریں کئی لوگوں کے لیے مشعل راہ  ثابت ہوئی ہیں۔

بیرون ملک(سعودی عرب اورانڈیا)میں بھی کئی دفعہ تقریر کرنے کا موقعہ ملا۔

2008میں عمرے  کی غرض سے سعودیہ گئے، جدہ میں انگریزی میں تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تقریر کے اختتام پر 4اشخاص نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔{ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ }

بلاشبہ موصوف حفظہ اللہ اہل سندھ کے لیے نعمت عظمی سے کم نہیں ہیں۔

شیخ العرب والعجم سیدبدیع الدین راشدی رحمہ اللہ کے بعد اہل باطل کا تعاقب  اور توحید کا پرچارکرنا انہی کے کے حصہ میں آیا ہے۔اللہ تعالی ان کاسایہ ہمارے سر پر تادیر قائم رکھے آمین۔

مجموعہ دارالاسلاف کے لیے نصائح:

موصوف فرماتے ہیں میں اہل مجموعہ(علماءوطلباءکی جماعت )کو تین نصائح  کرنا چاہونگا۔

1۔اپنے آپ کو منہج سلف سے وابستہ رکھیں،قرآن وحدیث کو سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھیں اسی میں فلاح ہے فہم سلف سے کنارہ کشی کرنے ہی کی وجہ سے گمراہیاں پھیلتی جارہی ہیں۔

2۔آج کادور پرفتن دور ہے علماء کا فرض بنتاہے کہ وہ اس دور میں اہل باطل(بالخصوص دشمنان صحابہ)کا علمی انداز میںبھرپور تعاقب کریں۔

3۔ہم سب پر ضروری ہے کہ تمام علماء حق کی عزت واحترام کو ملحوظ رکھیں اور انکی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں،ان سےحسدکرنے سے بچیں۔

اہل علم پران کے بعض تفردات کے وجہ سے طعن کرنا قطعا درست نہیں،ان کی مخالفت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ کئی لوگوں کا علماء  حق پر اعتماد ہوتاہے وہ ان سے متاثر ہوتے ہیں جب ہم ان کی مخالفت کریں گے تو لوگوں کا ان پر اعتماد ختم ہوجائیگا  اوروہ علماء حق سے بدظن ہوجائیں گے نتیجۃً گمراہی ان کا استقبال کرے گی ۔

About محمدابراھیم ربانی

Check Also

الصلاۃ خیر من النوم K Alfaaz Kis Azan Me ?

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply