Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » September Magazine » نیکیوں کے خزانے

نیکیوں کے خزانے

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

سبحان اللہ والحمدللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر کے عظیم الشان فضائل

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کلمات کے فضائل میں صحیح احادیث بہت زیادہ ہیں (الفتاوی:10/162)

امیر صنعانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ: ان کلمات کی فضیلت میں اتنی کثیر احادیث وارد ہیں کہ جنہیں لکھا اور شمار نہیں کیا جاسکتا.

(سبل السلام تحت حدیث : 1456)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: أَفْضَلُ الْكَلَامِ یعنی کلام میں سے سب سے افضل کلمات : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔ ہیں ( مسنداحمد : 6412. علقه البخاري قبل حديث :6681. السلسلة الصحيحة تحت حديث : 1498)

ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے افضل کلمات یہی ہیں ۔(مسنداحمد : 20223)

ایک حدیث میں ان کو : أَطْيَبُ الْكَلَامِ یعنی سب سے پاکیزہ کلمات فرمایا گیا۔

 (مسند احمد : 20126. السلسلة الصحيحة : 346)

دوسری حدیث میں ان کلمات کو : خَيۡرُ الکَلاَمِ يعنی سب سے بہترین کلمات قرار دیا گیا .( صحیح ابن حبان : 836 ، السنن الکبری للنسائی : 10609.صحیح الجامع الصغیر : 3284)

ذیل میں حسب توفیق ان کلمات کی فضیلت ذکر کی جاتی ہے ۔

(1) عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ ؛ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ۔ (صحیح مسلم : 2137)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ چار کلمات اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسند ہیں کوئی حرج نہیں کہ کہیں سے بھی ان کی ابتداء کرلو : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ۔

(2)  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَأَنْ أَقُولَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ . (صحيح مسلم : 2695)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر.  کہوں یعنی ”اللہ پاک ہے، ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔

(3) عَن ْأَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَجَرَةٍ يَابِسَةِالْوَرَقِ، فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ، فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ، فَقَالَ : إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَتُسَاقِطُ مِنْ ذُنُوبِ الْعَبْدِ كَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ . (جامع ترمذي : 3533. صحيح الترغيب والترھيب للشيخ الالباني رحمه الله : 1570)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کی پتیاں سوکھ گئی تھیں، آپ نے اس پر اپنی چھڑی ماری تو پتیاں جھڑ پڑیں، آپ نے فرمایا: ” الحمد لله وسبحان الله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنے سے بندے کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کی پتیاں جھڑ گئیں۔

(4) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ : إِلَّا كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ . (مسنداحمد: 6479. جامع ترمدي: 3460. صحيح الترغيب والترهيب : 1569)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر جو کوئی بھی بندہ: لا إله إلا الله والله أكبر وسبحان الله والحمدلله ولا حول ولا قوة إلا باللهکہے گا تو اس کے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بہت زیادہ ہی کیوں نہ ) ہوں۔

نوٹ : ایک حدیث میں سوتے وقت دیگر ادعیہ کے ساتھ مذکورہ کلمات پڑھنے کا یہی اجر و ثواب ذکر ہوا ہے ۔ (صحیح ابن حبان : 5528. السلسلة الصحيحة للشيخ الالباني رحمه الله : 3414)

(5) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا جُنَّتَكُمْ  ، قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ : مِنْ عَدُوٍّ قَدْ حَضَرَ ؟ ، قَالَ : لاَ ؛ جُنَّتَكُمْ مِنَ النَّارِ ، قُولُوا : سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَإِنَّهَا يَأْتِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُنْجِيَاتٍ ، وَمُقَدَّمَاتٍ ، وَهُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ . (المستدرك للحاكم : 1985. المعجم الاوسط للطبرانی : 4027. السنن الكبرى للنسائي : 10617. السلسة الصحيحة : 3264)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا بچاؤ (اسلحہ ، ڈھالیں) تھام لو ! صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی کیا دشمن آگیا ہے کہ ہم اپنے ہتھیار اور بچاؤ اختیار کرلیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن تو نہیں آیا لیکن تم جہنم سے اپنا بچاؤ اختیار کرلو(اور وہ یہ ہے) کہ تم کہو : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ.

کیونکہ یہ چیز آگے قیامت کے دن کام آنے والی اور نجات دلوانے والی ہوگی اور یہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں ۔

دوسری حدیث کے الفاظ ہیں : أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ .

(مسنداحمد: 18353. السلسلة الصحيحة تحت ح : 3264)

(6) عَن ْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنَ الْكَلَامِ أَرْبَعًا : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ. وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ، كُتِبَ لَهُ بِهَا عِشْرُونَ حَسَنَةً، وَحُطَّ عَنْهُ عِشْرُونَ سَيِّئَةً، وَمَنْ قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمِثْلُ ذَلِكَ، وَمَنْ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، كُتِبَ لَهُ بِهَا ثَلَاثُونَ حَسَنَةً، وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا ثَلَاثُونَ سَيِّئَةً ۔ (مسند احمد : 8093. النسائي في الكبرىٰ : 10608. صحيح الترغيب والترهيب: 1554)

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ. جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی، جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر و ثواب ہو گا اور جس نے اپنے دل سے اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہا، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔

یعنی یہ چار کلمات صرف ایک ایک مرتبہ پڑھنے سے نوے (90) نیکیاں ملتی ہیں اور نوے گناھ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ وَ فِیۡ ذٰلِکَ فَلۡیَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ .

(7) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، غَرَسَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ . (المعجم الاوسط للطبرانی :8475. السلسلة الصحيحة : 2880)

یعنی جو شخص : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. پڑھتا ہے تو ہر ایک کلمہ کے بدلہ میں اللہ تعالی اس کیلیئے جنت میں ایک درخت لگادیتا ہے ۔

نوٹ : اس معنیٰ میں مندرجہ ذیل دو روایات بھی ہیں مگر ان کی صحت وضعف میں اختلاف ہے۔

(1)  عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ۔

 (جامع ترمذی : 3462. السلسلة الصحيحة : 105. )

وقال الشيخ زبير علي زئي رحمه الله : عبدالرحمان بن اسحاق ضعيف. وفي المسند(5/418) باسناد حسن عن ابراهيم عليه السلام قال لرسول الله صلي الله عليه وسلم : مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ. قَالَ : وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. (انوار الصحيفة : ص 295)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی ( زرخیز ) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ چٹیل میدان کی طرح (خالی) ہے اور اس کی باغبانی: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبرسے ہوتی ہے.

یعنی آدمی کے ذکر کرنے سے اس کیلیئے جنت میں درخت لگتے ہیں ۔

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا الَّذِي تَغْرِسُ ؟ قُلْتُ : غِرَاسًا لِي. قَالَ : أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى غِرَاسٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ هَذَا ؟ قَالَ : بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، يُغْرَسْ لَكَ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ.

 (سنن ابن ماجة: 3807. صحيح الترغيب والترهيب للشيخ الالباني رحمه الله: 1549. وقال الشيخ زبير علي زئي رحمه الله : عيسى بن سنان ابوسنان ضعيف ضعفه الجمهور و اصل الحديث صحيح بغير السياق. انوار الصحيفة ص :513)

سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ ایک دن درخت لگا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ابوہریرہ! تم کیا لگا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے لیئے درخت لگا رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر درخت نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ ضرور بتلائیے اللہ کے رسول!( ﷺ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ’’سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر‘‘کہا کرو، تو ہر ایک کلمہ کے بدلے تمہارے لیے جنت میں ایک درخت لگایا جائے گا ۔

(8) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِمَّا تَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ : التَّسْبِيحَ وَالتَّهْلِيلَ وَالتَّحْمِيدَ، يَنْعَطِفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، تُذَكِّرُ بِصَاحِبِهَا، أَمَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَوْ لَا يَزَالَ لَهُ مَنْ يُذَكِّرُ بِهِ ؟

(سنن ابن ماجة : 3809. السلسلة الصحيحة: 3308)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا جلال جو تم ذکر کرتے ہو وہ تسبیح ( سبحان الله) تہلیل (لا إله إلا الله) اور تحمید (الحمد لله) ہے، یہ کلمے عرش کے اردگرد گھومتے رہتے ہیں، ان میں شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھناہٹ کی آواز ہوتی ہے، (اللہ تعالی کے سامنے) اپنے کہنے والے کا ذکر کرتے ہیں تو کیا تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے لیئے ایک ایسا شخص ہو جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا برابر ذکر کرتا رہے.

(9) عَنۡ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَن ْتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُلِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي أَوْ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ تَوَضَّأَ قُبِلَتْ صَلَاتُهُ . (صحیح بخاری : 1154)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے:  لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔

 الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

اور پھر یہ پڑھے : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي .  اے اللہ! میری مغفرت فرما ، یا کوئی بھی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔

(10) سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بوڑھی اور کمزور ہو چکی ہوں، مجھے کوئی عمل بتایئے جو میں بیٹھے بیٹھے ہی کر لوں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، یہ تمہارے لئے اولاد اسماعیل(علیہ السلام) میں سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہے۔ اور سو مرتبہ الحمدللہ کہو، یہ تمہارے لئے سو عدد زین اور لگام پہنائے ہوئے( تیار شدہ)گھوڑوں کے برابر ہوگا جو تم اللہ کے راستے میں دو۔ اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، یہ تمہارے لئے نکیل ڈالی ہوئی مقبول اونٹنیوں کے برابر ہوگا۔ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو۔ ابن خلف نے کہا: میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ آسمان و زمین کو بھر دے گا، اس دن کسی شخص کا عمل اتنا بلند نہیں ہو گا سوائے اس شخص کے جو اس طرح کہے۔ (مسند احمد : 26911. السلسلۃ الصحیحۃ: 1316.)

(11) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ فِي صَلَاتِي، قَالَ : سَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، وَكَبِّرِيهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِيهِ حَاجَتَكِ، يَقُلْ : نَعَمْ نَعَمْ .(سنن النسائي:1299. جامع ترمذي : 481. السلسة الصحيحة تحت حديث 3338)

سیدنا انس بن مالک رضی  اللہ  عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : سیدہ ام سلیم رضی اللہ  عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے  پاس آئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کچھ ایسے کلمات  سکھا دیجیئے جن کے ساتھ میں نماز میں دعا کیا کروں ۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس دفعہ سبحان اللہ پڑھو اور  دس دفعہ الحمد للہ پڑھو اور  دس دفعہ اللہ أکبر پڑھو ۔ پھر  اللہ سے اپنی حاجت طلب کرو تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہاں ! ہاں ! ( میں نے تیری حاجت قبول کی )۔

دوسری حدیث میں الفاظ اس طرح ہیں : مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ – أَوْ فَاعِلُهُنَّ – دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ : ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً (صحیح مسلم : 596.جامع ترمذی: 3412)

یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ چیزیں نماز کے پیچھے ( بعد میں ) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے، ۳۳ بار الحمدللہ کہے، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے۔

(12) فرمان نبوی ﷺ ہے کہ :  بَخٍ بَخٍ لِخَمٗسِ مَّا اَثٗقَلَھُنَّ فَی الٗمِیٗزاَنِ : واہ بھئی واہ ! پانچ چیزیں میزان میں کس قدر بھاری ہیں۔

ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کونسی چیزیں ہیں؟ فرمایا : لَااَلٰہَ اِلَّا اللہ ، وَاللہُ اَکٗبَرُ ، وَسُبحَانَ اللہِ ، وَالٗحَمدُللہِ ، وَالٗوَلِدُ الصَّالِحُ یُتَوَ فّٰی فَیَحتَسِبُہُ وَالِدُہُ ۔

1: لاالہ الااللہ

2: اللہ اکبر

3:سبحان اللہ

4: الحمدللہ

5: اور نیک اولاد جو فوت ہو جائے اور اس کا والد (صبر کرے اور) اس کو ذخیرہ آخرت سمجھے۔

(مسند احمد : 5/366 ، ح : 23100 ، السلسلة الصحيحة : 1204)

(13) سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ (غریب ومسکین) صحابہ (کرام رضی اللہ عنھم) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! زیادہ مال رکھنے والے(صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہم سے) اجر و ثواب لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنی ضرورت سے زائد مالوں سے صدقات وخیرات کرتے ہیں (لیکن ہم یہ عمل نہیں کر سکتے)۔ فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لئے ایسی چیز نہیں بنائی جس سے تم صدقہ کر سکو؟ بے شک ہر دفعہ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ الحمد للہ کہنا صدقہ ہے، ہر دفعہ لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے۔۔۔

 دوسری حدیث میں ہے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: :تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر جب وہ صبح کرتا ہے تو ایک صدقہ (کرنا لازمی ہوتا ) ہے، پس تو ہر تسبیح (سبحان اللہ) کہنا صدقہ ہے ، ہر حمد (الحمداللہ) کہنا صدقہ ہے، ہر تہلیل (لا الہ الااللہ) کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیر (اللہ اکبر) کہنا صدقہ ہے۔۔۔ (صحیح مسلم : 1006۔ 720)

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ہم صدقات کیسے کریں ہمارے پاس تو مال و دولت ہے ہی نہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .

یعنی یہ الفاظ صدقات کے دروازے ہیں۔ (مسنداحمد: 21484.السلسلة الصحيحة: 575)

ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر ( ثواب میں ) بازی لے گئے ہیں، اور جو ( ثواب میں ) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) بار الله اكبر( ۳۳ ) بارالحمد الله( ۳۳ ) بارسبحان اللهکہا کرو، اور آخر میں لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير پڑھا کرو جو ایسا کرے گا ) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ (سنن ابوداؤد : 1504)

(14) بنی عذرہ (قبیلہ) کے تین آدمیوں کا ایک گروپ نبی ﷺ کے پاس آیا اور مسلمان ہوگیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: کون ان کی ذمہ داری لیتا ہے؟ سیدنا طلحہ بن عبيدالله رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ذمیداری لیتا ہوں ، تو وہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے لگے۔ نبی ﷺ نے ایک لشکر بھیجا ،ان میں سے ایک شخص اس لشکر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ آپ ﷺ نے پھر ایک لشکر بھیجا ۔ان میں سے دوسرا شخص اس لشکر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ اور آخر میں تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ان تین لوگوں کو جو میرے پاس رہتے تھے جنت میں(خواب میں) دیکھا۔ وہ شخص جو بستر پر فوت ہوا(جنت میں) ان سے آگے(پہلے) تھا اور بعد میں شہید ہونے والے کو اس کے ساتھ دیکھا، اور سب سے پہلے شہید ہونے والے کو سب سے آخر میں دیکھا اس(خواب) کی وجہ سے میرے دل میں عجیب خیال گزرا، میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کونسی بات عجیب لگی؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جس کی عمر زیادہ ہو اور وہ اللہ کی تسبیح ، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے ۔ یعنی “سبحان اللہ ، اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ“ کہتا رہے۔

(مسند احمد 1327. 1401. السلسلة الصحيحة : 654)

(15) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ الله عَنْهُ <مرفوعا و موقوفا> قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لا يُحِبُّ ، وَلا يُعْطِي الإِيمَانَ إِلا مَنْ أَحَبَّ , فَمَنْ ضَنَّ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ ، وَخَافَ الْعَدُوَّ أَنْ يُجَاهِدَهُ ، وَهَابَ اللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ ، فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ  . (شعب الایمان : 599 . مصنف ابن ابی شیبہ : 29725. السلسة الصحيحة : 2714. )

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفا اور مرفوعا مروی کہ : بے شک اللہ تعالی نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق کو اسی طرح تقسیم کیا ہے جس طرح کہ تمہارے درمیان رزق کی تقسیم کی ہے۔اور بے شک اللہ تعالی جس سے محبت کرتا ہے اسے بھی اور جس سے محبت نہیں کرتا اسے بھی دنیا عنایت کرتا ہے، اور دین صرف اسے دیتا ہے جس سے الله محبت کرتا ہے، تم میں سے اگر کسی پر تہجد کی نماز پڑھنا بھاری ہو یا وہ مال خرچ کرنے میں بخیل ہو یا وہ دشمن سے جہاد کرنے میں بزدل ہو تو : سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الا اللہ واللہ اکبر .  زیادہ سے زیادہ کہے.

(16)  عَنْ أَنَسٍ  ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي خَيْرًا ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : فَعَقَدَ الأَعْرَابِيُّ عَلَى يَدِهِ وَمَضَى فَتَفَكَّرَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَفَكَّرَ الْبَائِسُ فَجَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَعْرَابِيُّ ، إِذَا قُلْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ : صَدَقْتَ ، وَإِذَا قُلْتَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ اللَّهُ : صَدَقْتَ ، وَإِذَا قُلْتَ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، قَالَ اللَّهُ : صَدَقْتَ ، وَإِذَا قُلْتَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ اللَّهُ : صَدَقْتَ ، وَإِذَا قُلْتَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، قَالَ اللَّهُ :

قَدْ فَعَلْتُ ، وَإِذَا قُلْتَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي ، قَالَ اللَّهُ : فَعَلْتُ ، وَإِذَا قُلْتَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي ، قَالَ اللَّهُ : قَدْ فَعَلْتُ  ، قَالَ : فَعَقَدَ الأَعْرَابِيُّ عَلَى سَبْعٍ فِي يَدِهِ ثُمَّ وَلَّىٰ . (اخرجه البيهقي في شعب الايمان : 610. السلسة الصحيحة : 3336)

ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا مجھے بھلائی کی باتیں سکھائیں. نبی ﷺ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : کہو : سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر.

اعرابی اپنی انگلیوں پر یہ گنتے ہوئے وہاں سے چلا ، پھر رکا اور سوچنے لگ گیا .نبی ﷺ نے تبسم فرمایا اور کہا : ضرورت مند سوچ میں پڑ گیا! . وہ واپس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول(ﷺ) ! سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إلٰه إلا الله ، والله أكبر ، یہ تو اللہ تعالی کے لیئے ہے ، میرے لیئے کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اعرابی جب تم سبحان اللہ کہتے ہو تو اللہ فرماتا ہے اس نے سچ کہا .اور جب تم کہتے ہو الحمد للہ تو اللہ فرماتا ہے اس نے سچ کہا۔اور جب تم لا إله إلا الله کہتے ہو تو اللہ فرماتا ہے اس نے سچ کہا۔ اور جب تم کہتے ہو اللہ اکبر، اللہ فرماتا ہے اس نے سچ کہا ۔اور جب تم کہتے ہو : اللٰھم اغفرلی (اے اللہ مجھے معاف فرما دے ) اللہ فرماتا ہے میں نے معاف کردیا۔اور جب تم کہتے ہو : اللٰھم ارحمنی (اے اللہ مجھ پر رحم فرما) اللہ فرماتا ہے میں نے اس پر رحم کیا اور جب تم کہتے ہو : اللٰھم ارزقنی (اے اللہ مجھے رزق عطا کر ) اللہ فرماتا ہے میں نے اسے رزق عطا کیا. اعرابی نے یہ کلمات اپنی سات انگلیوں پر گننے شروع کیئے اور چلا گیا۔

(17) (18)  عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ. فَقَالَ :  قُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۔

(سنن النسائی : 924)

 ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے قرآن میں سے کچھ بھی یاد نہیں لہٰذا آپ مجھے وہ چیز سکھا دیں جو مجھے اس کی جگہ کافی ہوجائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سبحان اللہ، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبراور لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہتے رہو۔

(ابودائود : 832 .حسنہ الالبانی ارواء الغلیل : 303)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز سکھائی اور فرمایا کہ اگر تمہیں قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے تو اسے نماز میں پڑھو بصورت دیگر الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھتے رہو پھر رکوع میں چلے جائو۔

(بیہقی ص ۱۰۲ ج۲)

 (19) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں کہ جو کوئی مسلمان بندہ پابندی سے انہیں ( برابر ) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔

 (1) ہر نماز کے بعد دس بارسبحان الله اور دس بار الحمد الله  اور دس بار الله اكبرکہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں تو ایک سو پچاس بار ہوئے، لیکن قیامت کے دن میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، ( کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے )

(2) اور سونے کے وقت چونتیس بار الله اكبر، تینتیس بار الحمد الله، تینتیس بار سبحان اللهکہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ ( کی انگلیوں ) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ( اس طرح کہ ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند کے وقت آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی

شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی ( ضروری ) کام یاد دلا دے گا، ( اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا) (ابوداؤد : 5065 . صححه الشيخ الالباني رحمه الله )

 (20) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) چکی پیسنے کی تکلیف( اور کام کاج کی مشقت اور تھکاوٹ) کی شکایت کی اور خادم دینے کا مطالبہ کیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو، یہ عمل تمہارے لیئے کسی خادم سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری : 3705۔ صحیح مسلم : 2727. 2728

About الشیخ حزب اللہ بلوچ

Check Also

موسم سرما فضیلت ، احکام ومسائل

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply