Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » October Magazine » ’’حصن المسلم“ کے مؤلف جوار رحمت میں

’’حصن المسلم“ کے مؤلف جوار رحمت میں

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

الحمدللہ والصلاۃ والسلام على رسول وعلى آله وأصحابه أجمعين أما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

  اکیس محرم 1440ھ بمطابق یکم اکتوبر 2018ع بروزپیر کا سورج اپنے ساتھ ایک روح فرسا اور المناک خبر لے کر طلوع ہوا ، وہ خبر تھی عالم اسلام کی نامور علمی شخصیت،سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے محترم المقام فضیلۃ الشیخ سعید بن وھف القحطانی رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات کی، جو اپنی عمر عزیز کی ستسٹھ بہاریں دیکھنے کے بعد کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔

اناللہ وانا الیہ راجعون۔

شیخ سعید بن وھف القحطانی رحمہ اللہ یقیناً ان علماء کرام میں سے تھے جن کا خلاء مدتوں پر نہیں ہوگا ،قحط رجال کے اس دور میں ایسے عالم ربانی کا داغ مفارقت ناقابلِ تلافی نقصان ہے!!! بقول شاعر:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداور پیدا

حسن بصری رحمہ الله کہتے ہیں : كَانُوا يَقُولُونَ : مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ.

(سنن الدارمي | الْمُقَدِّمَةُ  | بَابٌ : فِي فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِم . رقم الحدیث: 333ِ)

ترجمہ: سلف( صحابہ وتابعین ) کہا کرتے تھے کہ عالم (حامل کتاب وسنت) کی موت  اسلام میں ایک ایسی دراڑ  ہے کہ جب تک شب و روز کی گردش باقی ہے اس کو کوئی چیز بھر نہیں سکتی۔

علماء کا دنیا سے رخصت ہونا ہی دراصل علم کا دنیا سے اٹھ جانا ہے!

عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا “.

(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْعِلْمُ  | بَابٌ : كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ؟ رقم الحدیث:100)

ترجمہ: “اللہ تعالی علم کو اسطرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں (کے سینوں) سے کھینچ لے لیکن وہ علم کو اہل علم کی وفات کے ذریعہ سے اٹھا لے گا حتی کہ جب کوئ عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے. جب ان سے سوال کیا جائے گا تو بغیر علم کے فتوی دیں گے، لہذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“

قارئین کرام! اذکار وادعیہ کی شہرۂ آفاق کتاب “حصن المسلم“ کو کون نہیں جانتا؟ دنیا کی تقریباً تمام چھوٹی بڑی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے،اہل خیر کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کی گئی باوجود اسکے اس کتاب کی طلب میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جو یقیناً شیخ رحمہ اللہ کی حسن نیت کا مظہر ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرفِ قبولیت کی علامت ہے۔ان شاءاللہ

امام دارالھجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ کے آب زر سے لکھے جانے کے قابل وہ الفاظ جو( انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے علاوہ بھی دیگر علماء مؤطا کے نام سے کتب تالیف کر رہے ہیں )فرمائے تھے :’ما کان للہ بقی “

بقا اسی( مؤطا )کو نصیب ہوگی جو اللہ کے لیے لکھی گئی ہوگی! ( تدريب الراوي ج:1 ص:93)

آج کتب احادیث میں جو مقام ومرتبہ’’موطا امام مالک “ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

معزز قارئین! آئیے اس عالم ربانی کی زندگی کے مختلف گوشوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں:

شیخ رحمہ اللہ کا پورا نام سعید بن وھف القحطانی ہے،ان کی ولادت 1371ھ بمطابق 1951ع کو بلاد قحطان کی ’’عرین “نامی ایک بستی میں ہوئی۔ شیخ رحمہ اللہ کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا ان کے والد گرامی کے دس بیٹے ہیں جو سب کے سب مختلف علمی مجالات میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم ہیں۔

شیخ رحمہ اللہ کی پرورش دیہات میں ہوئی ابتدا میں انہوں نے بکریاں بھی چرائیں،جیساکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے بکریاں چرائیں!

 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ “. فَقَالَ أَصْحَابُهُ : وَأَنْتَ ؟ فَقَالَ : ” نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ “.(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْإِجَارَةُ.  | بَابُ رَعْيِ الْغَنَمِ عَلَى قَرَارِيطَ. رقم الحديث:2262)

ترجمہ:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں فرمایا جو بکریاں چرانے والا نہ ہو۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بھی (گلہ بانی کرتے رہے ہیں؟) آپ نے فرمایا:  میں بھی (بکریاں چراتا رہا ہوں۔) میں قیراطوں کے بدلے میں مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔

( قیراط ایک سکے کا نام ہے جو دینار کا بیسواں یا چوبیسواں حصہ ہوتاتھا۔ )

(النهاية لابن أثير، مادۃ قرط)

پندرہ برس کی عمر میں شیخ رحمہ اللہ نے “مدرسة العرین الابتدائية“ سے طلب علم کی  باقاعدہ ابتدا کی پھر 1399میں ان کے خاندان نے ریاض نقل مکانی کی جہاں کبار علماء علم کی مسند پر فروکش تھے آپ ان کے چشمے علمی سے خوب سیراب ہوئے اور یوں علم و عرفان کی منازل طے کرتے رہے جن کبار مشائخ سے استفادہ کیا ان میں بطور خاص سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ جن کے ساتھ بیس برس کی طویل ملازمت رہی ان سے خوب استفادہ کیا سفر و حضر میں ان کے ساتھ ساتھ رہے یہاں تک کہ شیخ ابن بار اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

درج ذیل کتب شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پڑھیں:

کتب احادیث میں سے :کتب ستہ ،مسند احمد ،مؤطا امام مالک اور سنن دارمی۔

کتب تفسیر میں سے: تفسير القران العظيم لابن كثير ، تفسير البغوى

مصطلح الحدیث میں:نخبۃالفکر اور شرح الفیۃ العراقی ۔

کتب شیخ الاسلام ابن تیمیہ  اور کتب ابن القیم رحمھما اللہ۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ بھی ان کے نمایاں اساتذہ میں سے ہیں۔

شیخ سعید بن وھف القحطانی رحمہ اللہ نے پی ایچ ڈی کی ڈگری جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ سے حاصل کی جس میں انہوں نے “فقہ الدعوۃ من صحیح البخاری “ کے نام سے ایک وقیع مقالہ تحریر کیا جو ممتاز مع شرف اول کی پوزیشن پہ فائز ہوا اوربعد ازاں زیور طباعت سے آراستہ ہوا۔

ان کا قرآن مجید سے گہرا تعلق تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین مختلف معروف قراء سے اجازہ حاصل کیا۔

اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود بھی ریاض کی ایک جامعہ مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

شیخ رحمہ اللہ کی چھوٹی بڑی تصانیف سو سے متجاوز ہیں ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

(1)بيان عقيدةأهل السنة والجماعة ولزوم اتِّباعها

(2)نور التوحيد وظلمات الشرك

(3)نور السنة وظلمات البدعة

(4)نور الإسلام وظلمات الكفر

(5)نور الإخلاص وظلمات إرادة الدنيا بعمل الآخرة في ضوء الكتاب والسنة

(6)قضية التكفير بين أهل السنة وفرق الضلال

(7)شرح أسماء الله الحسنى في ضوء الكتاب والسنة

(8)طهور المسلم في ضوء الكتاب والسنة

(9)منزلة الصلاة في الإسلام

(10)الأذان والإقامة

(11)قرة عيون المصلين في بيان صفة صلاة المحسنين

(12)سجود السهو

(13)صلاة الجماعة .. مفهوم، وفضائل، وأحكام، وفوائد، وآداب في ضوء الكتاب والسنة

(14)قيام الليل

(15)الإمامة في الصلاة

(16)الجهاد في سبيل الله

(17)السفر وأحكامه في ضوء الكتاب والسنة

(18)صلاة الكسوف

(19)صلاة الإستسقاء

(20)صلاة الخوف

(21)فقه الدعوة في صحيح الإمام البخاري

(22)الحكمة في الدعوة إلى الله تعالى

(23)الدعاء ويليه العلاج بالرقى من الكتاب والسنة

(24)حصن المسلم من أذكار الكتاب والسنة

(25)شروط الدعاء وموانع الإجابة في ضوء الكتاب والسنة

(26)وداع الرسول لأمته دروس، وصايا، وعبرٌ، وعظات

(27)آفات اللسان في ضوء الكتاب واسنة

(28)نور الشيب وحكم تغييره

(29)الربا أضراره وآثاره في ضوء الكتاب والسنة

(30)رحمة للعالمين : محمد صلى الله عليه وسلم۔

شیخ رحمہ اللہ کی نماز جنازہ ریاض کی معروف ’’جامع مسجد الراجحی‘‘ میں ادا کی گئی لوگوں کے جم غفیر نے ( جن میں  اکثریت علماء اور طلباء علم کی تھی) نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔

الله تعالیٰ ان کی دینی جھود کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اورجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔رحم اللہ امرأ قال آمینا

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

ہجرت مدینہ،چند اہم دروس واسباق

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply