Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » November Magazine » رسول اللہ ﷺکی جسمانی خصوصیات و برکات

رسول اللہ ﷺکی جسمانی خصوصیات و برکات

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

قارئین کرام ! اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا ان خصوصیات و برکات میں سے بیشتر کا تعلق آپ کے جسد اطہر سے ہے ۔

آپ کے جسم مبارک میں اللہ تعالی نے وہ برکتیں پوشیدہ رکھی تھیں جن کی دنیا میں مثال ملنا مشکل ہے ۔

لھذا آئیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کا ایمان افروز تذکرہ ملاحظہ فرمائیں ۔

1۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے چہرے کو دیکھ کر لوگ اس کی صداقت کی گواہی دیں اور اس کے مطیع بن جائیں یہ برکت بھی اللہ تعالی نے اپنے محبوب کے چہرے میں رکھی تھی کہ جو آپ کے چہرہ انور کو دیکھتا آپ کا بن جاتا۔

سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، وَلَمْ أَكُنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَقُلْتُ لِابْنِي : هَذَا وَاللہ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

میرا مدینہ منورہ آنا ہوا میں نے رسولﷺ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا پس آپﷺ نکلے اور آپ پر دو سبز چادریں تھیں میں (آپ کا چہرہ انور دیکھتے ہی سمجھ گیا) اور اپنے بیٹے سے کہا : اللہ کی قسم ! یہ واقعی اللہ کے رسولﷺ ہیں ۔(مسند احمد : 7118)

اسی طرح سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے اور کہا گیا : اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، یہ تین بار کہا ۔ چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ ( آپ کو ) دیکھوں ۔

فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ،‏‏‏‏ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّاب .

جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا ۔

(سنن ابن ماجة : 1334)

2۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جائے کے اس کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات حق و سچ ہے ۔اللہ تعالی نے یہ برکت بھی اپنے محبوب کی زبان مبارک میں رکھی تھی کہ آپ کی زبان سے جب بھی کچھ نکلتا حق ہی نکلتا ۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا یاد رکھنے کے لیے لکھ لیتا تھا ، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا اور کہا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں، غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں باتیں کرتے ہیں، تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :

اكْتُبْ، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ.

لکھا کر ! اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اس سے سوائے حق کے اور کچھ نہیں نکلتا ۔(سنن أبی داؤد : 3646)

3۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کا لعاب بیماریوں کے لیے تریاق ہو۔ یہ برکت بھی اللہ تعالی نے اپنے محبوب کے لعاب میں رکھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنا لعاب کسی بیمار کو لگاتے تو وہ صحتیاب ہو جاتا اگر کسی زخم کو لگاتے تو وہ صحیح ہو جاتا ۔

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا تھا : میں اسلامی جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں جھنڈا کسے ملتا ہے ؟ جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش ! انہیں کو مل جائے ! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا : وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔

فَأَمَرَ فَدُعِيَ لَهُ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّه لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ

آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں میں لگایا تو وہ فوراً صحتیاب ہو گئیں ، جیسے انہیں کوئی تکلیف ہی نہ تھی (پھر آپ نے انہیں جھنڈا دیکر خیبر کی طرف روانہ کیا) ۔(صحیح بخاری : 2942)

اسی طرح جناب یزید بن ابی عبید سے روایت ہے کہ : میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھا تو ان سے پوچھا : اے ابومسلم ! یہ زخم کا نشان کس چیز کا ہے؟ انہوں نے بتایا : غزوہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم لگا تھا ، لوگ کہنے لگے : سلمہ زخمی ہو گیا ہے ۔

فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَة .

چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر اپنا لعاب مبارک ملا ، اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ۔

(صحیح بخاری : 4206)

4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جو سوئے اور اس کا دل بیدار رہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ جب آپ سوتے تھے تو آپ کا دل بیدار رہتا تھا ۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي .

میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

(صحیح بخاری : 1174)

5۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے پسینے میں خوشبو ہو اور لوگ اس کا پسینہ خوشبو کے طور پر استعمال کرتے ہوں، یہ برکت بھی اللہ تعالی نے اپنے محبوب کے پسینے میں رکھی تھی کہ آپ کا پسينہ بھی خوشبو سے بھرا ہوا تھا اور لوگ اسے خوشبو کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی۔ (صحیح مسلم 6054)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اس میں ڈالنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟ قَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ .

اے ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی : آپ(ﷺ) کا پسینہ ہے، جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے۔(صحيح مسلم : 6055)

یاد رہے کہ جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس (ڈبیہ) ( جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ) میں سے ان کے خوشبو میں ملا دیا جائے۔ پھر ان کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ایسا کیا گیا۔

(ملاحظہ ہو بخاری : 6281)

6۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ

دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ہاتھوں میں اس قدر برکت ہو کہ ایسی بکری بھی دودھ دینے لگ جائے جس سے نر نے جفتی ہی نہ کی ہو ۔ یہ معجزہ بھی اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں رکھا تھا کہ آپ کے ہاتھ پھیرنے سے ایسی بکریاں بھی دودھ دینے لگ جاتیں ۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

میں مکہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر میرے پاس سے گذرے اور فرمایا : لڑکے تیرے پاس دودھ ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ، لیکن میں تو معتمد علیہ (جس پر اعتماد کیاگیاہو)ہوں ۔

آپ نے فرمایا :

فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ ؟ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ، فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ، فَشَرِبَ، وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ :  اقْلِصْ  ، فَقَلَصَ .

کیا تیرے پاس ایسی کوئی بکری ہے جس سے نر نے جفتی نہ کی ہو ؟

میں نے ایسی بکری پیش کر دی ۔ آپ نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو ان میں دودھ اتر آیا ، آپ نے اسے برتن میں دوہا اور خود بھی پیا اور ابوبکر کو بھی پلایا ۔پھر آپ نے تھنوں کو سکڑ جانے کا حکم دیا تو وہ سکڑ گئے۔(مسند احمد : 3598)

اسی طرح ایک بار آپ نے دو مشکیزوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ چالیس پیاسے آدمیوں کے لیے کافی ہو گئے ۔

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، رات بھر سب لوگ چلتے رہے جب صبح کا وقت قریب ہوا تو پڑاؤ ڈالا اس لیے سب لوگ اتنی گہری نیند سو گئے کہ سورج پوری طرح نکل آیا۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جاگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، جب آپ سوتے ہوتے تو جگاتے نہیں تھے تا آنکہ آپ خود ہی جاگتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی جاگ گئے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سر مبارک کے قریب بیٹھ گئے اور بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے لگے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جاگ گئے اور وہاں سے کوچ کا حکم دے دیا۔ ( پھر کچھ فاصلے پر تشریف لائے ) اور یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص ہم سے دور کونے میں بیٹھا رہا۔ اس نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے فلاں! ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اس نے عرض کیا : مجھے غسل کی حاجت ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا : پاک مٹی سے تیمم کر لو ( پھر اس نے بھی تیمم کے بعد ) نماز پڑھی۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند سواروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔ ( تاکہ پانی تلاش کریں کیونکہ ) ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، اب ہم اسی حالت میں چل رہے تھے کہ ہمیں ایک عورت ملی جو دو مشکیزوں کے درمیان ( سواری پر ) اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے جا رہی تھی۔ ہم نے اس سے کہا : پانی کہاں ملتا ہے؟ اس نے جواب دیا : یہاں پانی نہیں ہے۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلے پر ہے؟ اس نے جواب دیا : ایک دن ایک رات کا فاصلہ ہے، ہم نے اس سے کہا : اچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو، وہ بولی رسول اللہ کے کیا معنی ہیں؟ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آخر ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے، اس نے آپ سے بھی وہی کہا جو ہم سے کہہ چکی تھی۔ ہاں اتنا اور کہا کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے ( اس لیے واجب الرحم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کے دونوں مشکیزوں کو اتارا گیا اور آپ نے ان کے دہانوں پر دست مبارک پھیرا۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے اس میں سے خوب سیراب ہو کر پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور بالٹیاں بھی بھر لیں صرف ہم نے اونٹوں کو پانی نہیں پلایا، اس کے باوجود اس کی مشکیں پانی سے اتنی بھری ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا ابھی بہہ پڑیں گی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو کچھ تمہارے پاس ہے ( کھانے کی چیزوں میں سے ) میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ اس عورت کے لیے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں لا کر جمع کر دیں گئیں۔ پھر جب وہ اپنے قبیلے میں آئی تو اپنے آدمیوں سے اس نے کہا : آج میں سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر جیسا کہ ( اس کے ماننے والے ) لوگ کہتے ہیں، وہ واقعی نبی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کے قبیلے کو اسی عورت کی وجہ سے ہدایت دی، وہ خود بھی اسلام لائی اور تمام قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ (صحیح بخاری : 3571)

اسی طرح سیدنا سلمان فارسی کے واقعے میں ہے کہ ان کے یہودی آقا نے ان کی آزادی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اس کے نخلستان میں کھجوروں کے درخت لگائے اور جب تک وہ پھل نہیں دیتے سلمان ان میں کام کرتا رہے گا ۔

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے پودے لگائے سوائے ایک پودے کو جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا ، اور اسی سال سب درختوں پر پھل آ گیا سوائے ایک درخت کے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اس کا ماجرا کیا ہے ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اسے میں نے لگایا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکھیڑ کر خود لگایا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت سے ) وہ بھی ایک ہی سال میں پھل دینے لگا ۔(مسند احمد : 23385)

7۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں میں بھی اللہ تبارک وتعالی نے بڑی برکتیں رکھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کا معجزہ بیان کرتے ہوئے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا بات ہے؟ صحابہ بولے : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔

فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ :‏‏‏‏ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ :‏‏‏‏ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا : پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ ( سالم کہتے ہیں) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتایا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔

(صحیح بخاری : 4152)

8۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک

اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں بھی بڑی برکتیں رکھی تھیں۔ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل احد پر چڑھے تو احد ہلنے لگا آپ نے اس پر اپنا پاؤںلگا کر اسے روکا تو وہ رک گیا ۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

أَنَّ نَبِيَّ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ  .

نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا : ٹھہر جا اے احد ! (تیرے اوپر ) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔

(سنن ابی داؤد : 4651)

9۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کی ایک یہ خاصیت بھی ہے کہ آپ کی وفات کے بعد  آپ کا جسم محفوظ ہے ۔

سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے سب سے بہتر دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن چیخ ہو گی۔ اس لیے تم لوگ اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اوس بن اوس کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ ( وفات پاکر ) بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّ اللہ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ .

اللہ تعالیٰ نے زمین پر پیغمبروں کے بدن کو حرام کر دیا ہے ۔

(سنن ابی داؤد : 1047)

10۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پشت مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان گوشت کی ابھری ہوئی ایک بیضہ نما گلٹی سی تھی اور اس پر بال تھے ، بعض صحابہ نے اسے کبوتر کے انڈے جیسا قرار دیا ہے ۔

الغرض سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اسی مہر نبوت کو دیکھ کر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے اپنی طویل روئیداد بیان کی ہے جسے ہم اختصار سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے عموریہ کے راہب نے کہا : بیٹے ! اب ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمارے دین پر ہو جس کے بارے میں میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، لیکن اب ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت قریب ہے، جو دین ابراہیم کے ساتھ مبعوث ہوگا، عرب کی سر زمین میں اس کا ظہور ہوگا، دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا، جس میں کھجوریں ہیں، اس میں ایسی علامات ہیں جو مخفی نہیں،تحفہ قبول کرے گا، صدقہ نہیں کھائے گا، اس کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی، اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے جا ملو تو ایسا کر گزرو۔ پھر وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا۔جب تک اللہ نے چاہا میں ( عموریہ ) میں ٹھہرا رہا، پھر بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ میرے پاس سے گزراتو میں نے ان سے کہا: تم مجھے سر زمین عرب تک لے چلو ، میں اپنی ساری گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں نے انہیں ساری گائیں اور بکریاں دے دیں اور انہوں نے مجھے سوار کر لیا ،حتی کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ایک یہودی شخص کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا ،میں اس کے پاس ٹھہرا رہا ، میں نے کھجوریں دیکھیں، مجھے امید تھی کہ یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں مجھے میرے ساتھی نے بتایا تھا ، لیکن ابھی مجھے پختہ یقین نہیں تھا، میں اس یہودی کے پاس ہی تھا کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا اس کے چچا کا بیٹا مدینے سے اس کے پاس آیا اور اس سے مجھے خرید لیا ، اور مدینے لے آیا ۔ واللہ جب میں نے وہ علاقہ دیکھا تو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے وصف کی بنا پر اسے پہچان لیا۔ میں وہیں ٹھہرا رہا ، اللہ نے اپنے رسول کو مکہ میں مبعوث کر دیا ، اور وہ مکہ میں قیام پذیر رہا جب تک اللہ نے چاہا میں غلامی کی مصیبت میں ہونے کی وجہ سے اس کا تذکرہ نہیں سن سکا۔ پھر اس نے مدینے کی طرف ہجرت کی ۔ واللہ میں ایک کھجور کی چوٹی پر چڑھا کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس کے چچا کا بیٹا اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ بنی قیلہ کو برباد کرے وہ اس وقت ( قباء ) میں اس شخص کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو آج مکہ سے آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ،حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر جاؤں گا۔ میں نیچے اترا اور اس کے چچا کے بیٹے سے پوچھنے لگا : تم کیا کہہ رہے تھے؟ تم کیا کہہ رہےتھے؟ میرا مالک غصے ہوگیا اورایک شدید قسم کا گھونسہ رسید کردیا پھر کہنے لگا :تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اپنے کام پر توجہ دو، میں نے کہا : کچھ نہیں میں تو ویسے ہی یہ بات پوچھ رہا تھا۔ میرے پاس کچھ سامان تھا جو میں نے جمع کیا تھا ، شام ہوئی تو میں وہ سامان لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ قبا میں تھے ، میں آپ کے پاس آیا تو کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجتمند ساتھی ہیں، میرے پاس یہ کچھ سامان صدقے کے لئے ہے، تو میرے خیال میں آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؟ میں نے وہ سامان آپ کی طرف بڑھا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے صحابہ سے کہا: کھاؤاور اپنا ہاتھ روک لیا، آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا : یہ پہلی نشانی ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور کچھ چیزیں جمع کیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مدینے آگئے میں آپ کے پاس آیا اور کہا : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ، یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھا لیا ، میں نے اپنے دل میں کہا : یہ دوسری نشانی ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ بقیع الغرقد میں تھے اور اپنے کسی صحابی کے جنازے میں شریک تھے ۔آپ کے اوپر دو چادریں تھیں اورآپ صحابہ میں بیٹھےتھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں گھوما، آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھا کہ کیا میں وہ مہر دیکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھی نے مجھے بتائی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح گھومتے دیکھا تو جان گئے کہ میں ایسی چیز کا ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی کمر سے چادر گرادی میں نے اس مہر کی طرف دیکھا تو پہچان گیا، میں اس سے چمٹ گیا اسے بوسہ دینے لگا اور ساتھ ساتھ رونے لگا ۔

(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 894)

مسند احمد کے الفاظ ہیں :

فَنَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى  ظَهْرِ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَ بِهِ.

پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تو ایمان لے آئے ۔(مسند احمد : 23385)

About محمد سلیمان جمالی

Check Also

قیام اللیل کا اجر وثواب دینے والے اعمال

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *