Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » January Magazine » مقدمہ بدیع التفاسیرقسط199

مقدمہ بدیع التفاسیرقسط199

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

قسط :199

نویں فصل :

مشترک اوراس کاحکم
لفظ مشترک وہ ہے جس کے ایک سے زیادہ معانی ہوںیا جس کا ایک معنی حقیقی ہو اور دوسرا مجازی، ایسی صورت میں بعض فقہاء کے نزدیک اس کا ایک ہی معنی مراد لیاجائے گا جوقرائن وسیاق کے اعتبار سےزیادہ بہترہو،مگرصحیح بات یہ ہے کہ اس کے تمام معانی مراد لیے جائیں گے جن کے لئے وہ وضع کیاگیاہے بشرطیکہ ان میں ایسا تعارض وتنافی نہ ہو کہ بیک وقت دویازیادہ معانی مراد لینا ممکن نہ ہو،کیونکہ کسی لفظ کے لئے واضع کے وضع کردہ تمام معانی میں سے کسی بھی معنی کو بلاوجہ کرنا اس لفظ کے حق مارنے کے مترادف ہے بلکہ ہر ایک لفظ کاحق تب ہی ادا ہوسکتا ہے جب واضع کے وضع کردہ تمام معانی مراد لیے جائیں بلاوجہ کسی معنی سے اس لفظ کو عاری کرنا صحیح نہیں ہوسکتا۔
ثانیاً:جس لفظ کے معانی زیادہ ہوتے ہیں اس سے احکام بھی زیادہ معلوم ہوتے ہیں،پھر اشتراک والی صورت میں ایک ہی معنی مراد لینے سے ایک کے سواء باقی احکامات کوبھی ترک کرنا پڑے گا، باقی تعارض وتنافی والی صورت ہوتوکہاجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک ہی حکم نازل فرمایا ہے جودلیل سیاق کے اعتبار سے زیادہ مناسب معلوم ہوگا، امام راغب اصفہانی مقدمہ التفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
العبارۃ الموضوعۃ لمعنیین علی سبیل الاشتراک …… فھوحقیقہ فیہ ومجازفیھم(ملحق المفردات للراغب، ص:۶۰۶)
کوئی عبارت دومعانی کے لئے مشترک ہو،ایک حقیقی اور دوسرا مجازی اس صورت میں اگرمنافات نہ ہو تودونوں معنی مراد لینا صحیح ہوگا مثلا:صل صلاۃ(نماز پڑھ) اس سے فرض ونفل دونوں نمازیں مراد لی جاسکتی ہیں اگرمنافات نہ ہوتو دونوں ہی مراد ہوں گی، لیکن اگرمنافات ہو تو دومعنی مرادلینادرست نہ ہوگامثلاً:المس بمعنی چھونا(ہاتھ لگانا) یا جماع بیک وقت دونوںمعانی مراد لینا ممکن نہیں ہے، امام شافعی کا مسلک بھی یہی ہے، امام النحو سیبویہ کے اس کلام کا تقاضہ بھی یہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ عرب کے اس جملے الویل لہ (اس کے لئے ویل ) سے بددعا اور اس کے حال کی خبردینامراد ہے، گویا کہ انہوں نے ایک ہی کلام سے دو معنی مراد لیے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی امثلہ ان سے منقول ہیں ،جن سے ان کا یہی مسلک ظاہر ہوتا ہے ،کئی امثلہ مزید بھی اس پر گواہ ہیں مثلاً: افعلوا کذا.اس جملہ میں خطاب مردوں اور عورتوں کو ہے نیز الرجال والنساء فعلوا مذکرکے لئے حقیقتاً اور مؤنث کے لئے مجازا مستعمل ہے۔[يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ ](الطلاق:) میں حقیقی خطاب نبیﷺ سے ہے اورمجازی طور پر امت اس میں شامل ہے، اس کے علاوہ کئی مثالیں امام راغب نے ذکر کی ہیں۔

دسویں فصل :

عام وخاص کے حکم کابیان
عام وخاص میں کوئی تعارض نہیں سمجھاجاتا کیونکہ خاص کو مستثنی قرار دیکر عام کو اس حکم سے خارج کردیاجاتاہے،جیسا کہ آٹھویں باب میں امام عبدالعزیز کے مناظرے میںمثال گزری کہ:[كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۣ ](العنکبوت:۵۷)میں بظاہرحکم عام ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات مبارکہ اس میں شامل نہیں ہے کیونکہ [ھو الحی] وہ ہمیشہ زندہ ہے بلکہ اس کی خاص دلیل بھی کئی جگہ ذکر ہوئی ہے،مثلا:[كُلُّ مَنْ عَلَيْہَا فَانٍ۝۲۶ۚۖ وَّيَبْقٰى وَجْہُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۝۲۷ۚ ] (الرحمٰن:۲۶،۲۷) [كُلُّ شَيْءٍ ہَالِكٌ اِلَّا وَجْہَہٗ۝۰ۭ] (القصص:۸۸) [وَتَوَكَّلْ عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ] (الفرقان:۵۷)وغیرھا من الآیات، اسی طرح [اَللہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ۝۰](الزمر:۶۲)کے حکم میں قرآن مجید داخل نہیں ہے کیونکہ اس کی تخصیص کے لئے دلائل موجود ہیں۔ یعنی تمام مخلوقات سے پہلےاللہ تعالیٰ کا کلام موجود تھا، بلکہ پوری مخلوق اللہ تعالیٰ کےکلام’’ کن‘‘ سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ تفصیل سے ذکرہوا، ذیل میں تخصیص کےبارے میں ضروری مسائل ذکر کیے جاتے ہیں۔
مسئلہ: قرآن مجید کے عام حکم کی تخصیص قرآن ہی سے کرنے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے اسی طرح متواترحدیث سے تخصیص میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے، اسی طرح خبرواحد سے تخصیص کرنے کو بھی چاروں مذاہب کےفقہاء جائز قرار دیتے ہیں ،علامہ عبدالحیٔ لکھنوی غیث الغمام حاشیہ امام الکلام ،ص:۲۷۱میں لکھتے ہیں کہ:
ذکر ابن الحاجب فی مختصر الاصول والعضد فی شرحہ ان تخصیص عام القرآن بالمتواتر جائز اتفافا واما بالخبر الواحد فقال بجوازہ الائمۃ الاربعۃ.
یعنی علامہ ابن الحاجب مالکی مختصر الاصول میں علامہ عضد الدین نے اپنی شرح میں ذکر کیا ہے کہ قرآن کے عموم کی تخصیص متواتر سے بالاتفاق جائز ہے نیز خبرواحد سے تخصیص کو بھی چاروں ائمہ: امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل، اور امام شافعی Sجائز قرار دیتے ہیں۔
مسئلہ: ضعیف روایت فی نفسہ دلیل اور حجت نہیں ہوتی اس لئے وہ کسی صحیح دلیل کے حکم کو خاص کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ کسی عام حکم کی تخصیص کے لئے صحیح وصریح دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
مسئلہ: قیاس کے دلیل شرعی ہونے میں علماء کا اختلاف ہے تحقیق سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ حجت نہیں ہے، امام ابن حزم نے اپنی تصنیفات المحلی، الاحکام، النبذ، اور ابطال القیاس میں یہی بیان فرمایا ہے، اسی طرح ہماری تفسیر میں کئی مقامات پر اس کی تردید ہوگی ان شاء اللہ، لہذا کسی صحیح دلیل کے عام حکم کی تخصیص بذریعہ قیاس درست نہیں ہے۔
مسئلہ: عام حکم سے دلیل کے تحت کسی فرد کوخاص قرار دینے کےبعد اس کے باقی تمام افراد اس حکم میں شامل رہیں گے کسی دوسرے فردکو بلادلیل خاص قرار نہیں دیاجاسکتا۔

گیارہویں فصل :

مطلق ومقید کابیان
مسئلہ: مطلق ومقید کی تعریف آٹھویں فصل میں گذرچکی ہے، علماء اصول کے نزدیک مطلق کی تعریف یہ ہے کہ:ایسے معنی پر دلالت کرے کہ اس کی کسی نہ کسی جنس پر صادق آسکے باقی چیزوں کی شرکت سے کوئی مانع نہ ہو۔
مسئلہ: اگر کسی دلیل میں کوئی حکم مطلق وارد ہو اور دوسری دلیل میں قید کے ساتھ ہو تو ایسی صورت میں دیکھاجائے گا کہ دونوں پر عمل کرنا ممکن ہے یا نہیں اگرممکن ہوتومطلق کو مقید پر محمول نہیں کیاجائےگا بلکہ دونوں پر عمل کریں گے کسی حکم کوبیکار یا خالی نہیں کیاجاسکتا، لیکن اگر دونوں دلائل میں ایسا تعارض ہو کہ تطبیق کی کوئی صورت نہ ہو سوائے، اس کے کہ ایک کو دوسرے پر محمول کیاجائے تو اس صورت میں مطلق کو مقید پر محمول کیاجائے گا کیونکہ بلاوجہ کسی حکم کو باطل قرار دینا دلیل شرعی کو ضایع کرنا ہے۔(الاتقان :۲؍۳)
مسئلہ: کسی مطلق حکم کو مقید کرنے کے لئے ثبوت قرآن مجید میں ہو یا حدیث نبوی میں دونوں قسم کی دلیل کافی ہےکیونکہ حدیث خود قرآن مجید کی تفسیر ہے، اس کانزول بھی بذریعہ وحی ہوا ہے، جیسا کہ اس کی تفصیل دوسری فصل میں ذکر ہو ئی۔
بارہویں فصل:
قرآن مجید میں بیان شدہ مثالوں کابیان
وقال اللہ تعالی:[وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ۰ وَمَا يَعْقِلُہَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ۴۳ ](العنکبوت:۴۳)[وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ] (الزمر:۲۷)[وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ](الحشر:۲۱)
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےقرآن مجید میں مثالیں ہمیں سمجھانے، غوروفکر کرنے، اور ان سے عبرت ونصیحت حاصل کرنے کیلئے بیان فرمائی ہیں، سیوطی نے اتقان :۲؍۳۱میں بحوالہ بیہقی سیدنا ابوھریرہ tسے روایت نقل کی ہے کہ:
قال قال رسول اللہ ﷺ ان القرآن نزل علی خمسۃ اوجہ حلال وحرام ومحکم ومتشابہ وامثال فاعملوا بالحلال واجتنبوا الحرام واتبعوا المحکم وآمنوا بالمتشابہ واعتبروا بالامثال.(شعب الایمان ۳؍۵۴۸ح۲۰۹۵)
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن مجید میں پانچ قسم کی آیات ہیں، حلال وحرام ،محکم ومتشابہ اور مثالیں ،تو تم حلال اشیاء کو پہچانو ان کی معرفت حاصل کرو اور حرام سے اجتناب کرو، محکم وثابت احکام کی پیروی کرواور متشابہ جن کا مطلب تمہاری سمجھ میں نہ آئے ،ان پر ایمان لاکر برحق تسلیم کرو، اور قرآنی مثالوں سے عبرت ونصیحت حاصل کرو۔ سیوطی اس روایت کے بعد لکھتے ہیں:
قال الماوردی من اعظم علم القرآن …………..من خصائص ہذہ الشریعۃ .
یعنی علامہ ماوردی فرماتے ہیں کہ قرآنی مثالوں میں بڑ ا علمی خزانہ پایاجاتاہے ،لیکن لوگ غفلت کے سبب ان پر غور نہیں کرتےکہ کن باتوں کےلئے مثال دی گئی ہے کیونکہ مثال کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ ممثل لہ (جس کے لئے مثال دی گئی ہے) اس پرغور کرکے عبرت ونصیحت حاصل کی جائے، اس لئے امام شافعی نے مجتہد کےلئے قرآنی مثالوں کے علم کو ضروری قرار دیا ہے، شیخ عز الدین بن عبدالسلام فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے جو مثالیں بیان فرمائی ہیں ان سے مراد وعظ ونصیحت ہے، کئی ایسی مثالیں ہیں جن میں ثواب یاعذاب کاذکر ہے، بعض میں کسی آدمی کی تعریف وتوصیف مذکورہے، بعض مثالوں سے احکامات معلوم ہوتے ہیں۔نیز بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ :قرآنی امثلہ میں وعظ ونصیحت، امور خیر پرترغیب،برے کاموں پر زجروتنبیہ ہوتی ہے، اور امثلہ میں مدلل تقریر اور ان کا ایسےبہترین انداز میں بیان ہوتا ہے کہ بات فوراً ذہن نشین ہوجاتی ہے گویا کہ ان کی باقاعدہ صورت سامنے نظرآرہی ہو کیونکہ مثال کا اصل مقصد وطریقہ یہی ہوتا ہے کہ کسی مخفی چیزکو ظاہر سے اور غائب کو موجود سے مثال دیکر واضح کیاجائے۔ اسی طرح قرآنی امثلہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ نیک کاموں کے اجروثواب اور اعمال بد کے گناہ میں درجات کے اعتبار سے کس قدر کمی بیشی ہوتی ہے ،کس کام کی شان وعظمت زیادہ ہے اور کس کی کم، اسی طرح کونسی چیز ثابت ومحکم ہے اور کونسی چیز مردود وباطل، امام زرکشی فرماتے ہیں کہ اس قسم کا عالیشان وخوبصورت بیان اور دل میں گھر کرجانے والااسلوب قرآن ہی کا خاصہ ہے۔
فائدہ :قرآن مجیدکی بعض امثلہ تو بالکل ظاہر اور واضح ہیں اور کئی مثالیں ایسی بھی ہیں جو عموما ہمارے ہاں مستعمل ہیں جو کہ آیات قرآنیہ سے ماخوذ ہیں، سیوطی نے مذکورہ بالہ عبارت کے بعد نوع ۶۶کی فصل میں حسن بن فضل سے نقل کیا ہے کہ مثلا:
1خیرالامور اوساطھا.
(ہرعمل ؍کام میں میانہ روی پسندیدہ کام ہے)
یہ مثال ان آیات سے ثابت ہے:
[لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكْرٌ۝۰ۭ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ۝۰ۭ ](البقرہ:۶۸)
[وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْہَا كُلَّ الْبَسْطِ ](بنی اسرائیل:۶۹)
[وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۝۶۷ ](الفرقان:۶۷)
[وَلَا تَجْـہَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۱۰ ](بنی اسرائیل:۱۱۰)
2من جھل شیئا عاداہ.
(جو کسی چیز سے لاعلم ہو وہ اس سے دشمنی رکھتاہے)
[بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِہٖ ](یونس:۳۹)
[وَاِذْ لَمْ يَہْتَدُوْا بِہٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ۝۱۱](الاحقاف:۱۱)
3احذر شر من احسنت الیہ.
(جس سے تم نے بھلائی کی ہے اس کی برائی سے ڈرتے رہو)
[وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۚ ](التوبہ:۷۴)
4لیس الخبر المشاہدۃ.(خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ہوسکتی)
[قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ۝۰ۭ قَالَ بَلٰي وَلٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِىْ۝۰ۭ ] (البقرۃ:۲۶۰)
5فی الحرکات البرکات.( حرکت میں برکت ہے)
[وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً۝۰ۭ](النساء:۱۰۰)
6کما تدین تدان .(جیسی کرنی ویسی بھرنی)
[مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِہٖ۝۰ۙ ](النساء:۱۳۳)
7حین تفنی تدری. (مروگے تو پتہ چل جائے گا)
[وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا۝۴۲ ](الفرقان:۴۲)
8لایلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین.
(مؤمن ایک ہی سوراخ سے دودفعہ نہیں ڈسا جاتا)
[قَالَ ہَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْہِ اِلَّا كَـمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْہِ مِنْ قَبْلُ۝۰ۭ ](یوسف:۶۴)
9من اعان ظالما سلط علیہ.
(جس نےکسی ظالم کی مدد کی تو وہ اس پر مسلط ہوجائے گا۔)
[كُتِبَ عَلَيْہِ اَنَّہٗ مَنْ تَوَلَّاہُ فَاَنَّہٗ يُضِلُّہٗ وَيَہْدِيْہِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ۝۴ ](الحج:۴)
0لاتلد الحیۃ الاحیۃ.(سانپ کی اولاد سانپ ہی ہوتی ہے)
[وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا۝۲۷](النوح:۲۷)
!للحیطان اذن.( دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں)
[وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَہُمْ۝۰ۭ ](التوبۃ:۴۸)
@الجاھل مرزوق والعالم محروم.
(جاہل کھارہا ہے اور عالم دیکھ رہا ہے)
[قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَۃِ فَلْيَمْدُدْ لَہُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا۝۰ۥۚ ] (مریم:۷۵)
#الحلال لایأتیک الاقوتا والحرام لایأتیک الاجزافا.
حلال گذارے لائق ملتاہے جبکہ حرام ڈھیر کی صورت میں۔
[اِذْ تَاْتِيْہِمْ حِيْتَانُہُمْ يَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ۝۰ۙ لَا تَاْتِيْہِمْ۝۰ۚۛ ](الاعراف:۱۳۳)
اس کے علاوہ بھی کئی مثالیں ایسی ہیں جن کی اصل قرآن سےملتی ہے۔
(جاری ہے)

About شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

جمعیت اہل حدیث سندھ کے بانی ومئوسس شیخ العرب والعجم سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ہیں جوکہ اپنے دور کے راسخین فی العلم علماء میں سے تھے بلکہ ان کے سرخیل تھے۔ صوبہ سندھ میں موجود فتنوں ،فرقوں ،ضلالتوں،تقلیدجامد اور ان کی نشاطات کو دیکھتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ نے اس صوبہ کو اپنی دعوتی واصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ومحور بنالیاتھا۔

Check Also

بدیع التفاسیر(قسط نمبر 202)

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply