Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » January Magazine » اربعینِ نووی حدیث نمبر:26 قسط :58

اربعینِ نووی حدیث نمبر:26 قسط :58

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

حدیث نمبر:26 قسط :58

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: “كُلُّ سُلامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَومٍ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ: تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ في دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُ لَهُ عَلَيْهَا أَو تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيْطُ الأَذى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ” رواه البخاري ومسلم.
أخرجه البخاري – كتاب: الصلح، باب: فضل الإصلاح بين الناس والعدل بينهم، (2707) . ومسلم – كتاب: الزكاة، باب: بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف، (1009) ، (56) .
ترجمہ:سیدناابوھریرہtسے مروی ہے،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:انسان کے جسم کے ہرجوڑ پر ،ہردن جس میںسورج طلوع ہوتا ہے، صدقہ کرنا فرض ہے،دوجھگڑاکرنے والوںمیں عدل قائم کرناصدقہ ہے،کسی بھائی کی سواری میں مدد کرناصدقہ ہے(سواری میں مدد کی دوصورتیں ہیں:ایک یہ کہ )اسے سواری پر چڑھنے اور سوار ہونےمیں مدد فراہم کرے۔(دوسری یہ کہ)اس کی سواری پر اس کاسامان لاد دے،اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے،نماز کی ادائیگی کےلیے مسجد جاتے ہوئے ہرہرقدم صدقہ ہے،راستے سے کسی موذی شیٔ کو ہٹانابھی صدقہ ہے۔
یہ حدیث شریعتِ مطہرہ کی برکت،وسعت اور سماحت کی زبردست دلیل ہے،نیز اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اپنےبندوں سے پیار ومحبت کی مظہرِاتم ہے،جیسا کہ حدیث کی شرح کے دوران واضح ہوگا۔

شرحِ حدیث

( سُلامَى )سےمراد جسم کے جوڑ ہیں،جسم کی ہڈیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں،دونوں معنوں کا ایک ہی مطلب ہے،جس طرح ایک جوڑ دوسرے جوڑ سے الگ اورجداہوتا ہے اسی طرح ہرہڈی دوسری ہڈی سے جدااورمختلف ہوتی ہے،ہرہڈی کی علیحدہ خصوصیت ہوتی ہے۔
انسان کے جسم میں 360جوڑ ہیں،جس کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے،چنانچہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ rسےمروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ)یعنی:بے شک ہرانسان 360جوڑوں پر پیداکیاگیاہے۔(صحیح مسلم،الرقم:۱۰۰۷)
اس کے علاوہ ابوبریدہtسے مرفوعاً مروی ہے،(فی الانسان ثلاث مائۃ وستون مفصلا)یعنی:ہرانسان میں 360جوڑ ہوتے ہیں۔
واضح ہو کہ جوڑوں کی تعداد کے حوالے سے جدید سائنس کی بھی یہی تحقیق ہے،اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی صداقت وحقانیت کی انتہائی قوی دلیل ہے،سائنس نے جوبات کہی وہ اپنی لیبارٹری میں موجود ادوات ووسائل کے استعمال کےذریعے طویل ترین تحقیقات کے بعد کہی،یہی بات نبی اُمّی ﷺ نے اس دور میں فرمائی جب نہ کسی تحقیقاتی لیبارٹری کاوجود تھا ،نہ سائنسی آلات تھے اور نہ ہی کوئی سائنس دان تھا۔آپﷺ کا یہ سارابیان اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے کی بناء پر تھا؛کیونکہ آپﷺ ناطقِ وحی تھےاور وحی کی روشنی میں آپ نے اس ناقابل تردیدحقیقت سے پردہ اٹھایا:[وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۝۳ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝۴ۙ ] ان دونوں حدیثوں کو ملانے سے ہمیں نبیﷺ کی طرف سے دوخبریں حاصل ہوئیں:ایک یہ کہ ہرانسان کے جسم میں 360جوڑ ہیں اور دوسری یہ کہ ہرجوڑ پر ہرروز صدقہ فرض ہے۔
اگرصدقہ سےمراد مالی صدقہ ہوتا تومعاملہ کافی دشوار بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہوجاتا،چنانچہ ہرروز 360صدقے ادا کرنا انتہائی مشکل امرہوتا،بالخصوص فقراء ومساکین کے لیے تو ناممکن ہوتا ،مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم اور وسیع رحمت سے مالی صدقہ کاپرمشقت معاملہ اٹھالیااور اس کی جگہ ہرنیکی کو صدقہ قراردے دیا،چنانچہ کسی بھی نیکی کی ادائیگی سے ایک جوڑ کا صدقہ اداہوجاتاہے،تاکہ ہرامیروغریب، ہر مردوعورت اور ہرچھوٹابڑاانسان نیکیوں کےذریعے اپنے جسم کے جوڑوں اورہڈیوں پرواجب صدقہ اداکرکے بری الذمہ اور سرخرو ہوسکے۔
یہاں سوال پیداہوتاہےکہ جسم کے ہرجوڑ پر ہردن صدقہ کیوں فرض ہے؟
اس کا یہ جواب ممکن ہوسکتا ہے کہ انسان کا ہر صبح اپنےجوڑوں اور ہڈیوںکی سلامتی کے ساتھ اٹھنا،اس پر ادائیگی شکر کا فریضہ عائد کرتاہے، لہذا اپنے ہاتھوں پاؤں اور تمام اعضاء کی سلامتی جواللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کی وجہ سے اس کاشکراداکرنا ضروری ہے،شکر کی ادائیگی کے لیے شریعت نے یہ بات تجویز فرمادی کہ ہرہرجوڑ پر ایک ایک صدقہ فرض کردیاجائے،چونکہ صدقہ کی مالی صورت بہت سےلوگوں کے لیے مشکل یا ناممکن ہے لہذا شریعت مطہرہ نے دن بھر میں ادا ہونے والی ہرنیکی کو صدقہ تسلیم کرلیا ہے۔
اس حدیث میں پانچ قسم کے اعمال کو صدقہ قرار دیاگیا ہے۔
1(تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ)
یعنی:دوجھگڑاکرنے والوں کے درمیان عدل قائم کرنا صدقہ ہے۔
اس سے مرادعدل پر مبنی فیصلہ صادرکرنا ہے،یاپھر دونوں کے بیچ صلح کرادینا،یہ عمل نہ صرف یہ کہ بندے کی طرف سے ایک جوڑ کا صدقہ قرارپاتاہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضاء کا بہت بڑا ثبوت بھی ہےاور اجرعظیم کے حصول کا سبب بھی:
[لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍؚ بَيْنَ النَّاسِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا۝۱۱۴ ] ترجمہ:ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں، ہاں! بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ﺛثواب دیں گے۔
دوبھائیوںکے درمیان انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح قائم کرنا،اللہ تعالیٰ کی محبت کے حاصل ہونے کا بہت بڑا سبب ہے۔
[فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۝۹ ](الحجرات:۹)
ترجمہ: انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔
صلح قائم کرنے کا یہ اقدام انتہائی بابرکت اور قابل تحسین متصور ہوگا، بالخصوص جب تنازعہ اپنے قرابت داروں اور رشتہ داروں کے درمیان ہو،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صیغۂ امر کے ساتھ بھائیوں کے مابین صلح کرانا فرض قراردیاہے۔[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۝۱۰ۧ ](الحجرات:۱۰)
ترجمہ:(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
جولوگ صلح کی کوشش نہیں کرتےان کاعمل ان نصوص کے خلاف ہے،اور جولوگ دل سے چاہتے ہیں کہ بھائیوں میں جھگڑا قائم ہی رہے،بلکہ بعض اوقات اپنی دخل اندازی کے ذریعے اس جھگڑے کو مزید بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں،انہیں معلوم ہوناچاہئے کہ یہ سوچ اور یہ اقدام سراسر شیطانی سوچ اور اقدام ہے؛کیونکہ لوگوں کے درمیان جھگڑے اور ناچاکیاںپیداکرناابلیس کا سب سے محبوب عمل ہے۔
2(وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ في دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُ لَهُ عَلَيْهَا أَو تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ)
یعنی:کسی بھائی کی سواری میں مدد کرناصدقہ ہے(سواری میں مدد کی دوصورتیں ہیں:ایک یہ کہ )اسے سواری پر چڑھنے اور سوار ہونےمیں مدد فراہم کرے۔(دوسری یہ کہ)اس کی سواری پر اس کاسامان لاد دے۔
اس دور کی سواری گھوڑایا اونٹ وغیرہ ہوتی تھی،آج کے دور میں بھی یہ سواریاں مستعمل ہیں،البتہ آج کے دور کی عام سواری گاڑی وغیرہ کی صورت میں ہے۔کسی بھی عاجز یا کمزور شخص کو سواری پر سوارکرانے یا اس کا سامان رکھنے یااتارنے میں مدد فراہم کرنا صدقہ ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:[وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى۝۰۠ ](المائدہ:۲)
یعنی:نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرےکی مدد کرو۔
یہ مدد جہاں انسانی جوڑوں کا صدقہ ہے وہاں اللہ رب العزت کی طرف سے مدد کے حصول کا باعث بھی ہے،چنانچہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:(واللہ فی عون العبد ما کان العبد فی عون أخیہ)(صحیح مسلم،الرقم:۲۶۹۹)
یعنی:اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتارہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہے۔
واضح ہو کہ اگرچہ حدیث الباب میں سواری کے تعلق سے دوامور میں تعاون کو صدقہ قراردیاگیا ہے،لیکن اپنے کسی بھی بھائی کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی نیکی صدقہ ہی قرارپائے گی،حدیث میں ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی گئی ہے،ورنہ ہر نوع کی بھلائی صدقہ ہے۔
3( وَالكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ)
یعنی:اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔
واضح ہو کہ اچھی بات جسے حدیث میں (الكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ) سے تعبیر کیاگیا ہے،کی دوقسمیں ہیں:ایک وہ جس کا تعلق بندے کا رب کے ساتھ، دوسری وہ جس کا تعلق بندے کا بندے کے ساتھ ہے۔
پہلی قسم جس کا تعلق بندے کا رب کے ساتھ ہے،میں تمام اذکار وغیرہ آتے ہیں،مثلاً:سبحان اللہ، الحمدللہ، لاالٰہ الااللہ، اللہ اکبر اور لاحول ولاقوۃ الاباللہ وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں(لاالٰہ الااللہ) کوالکلمۃ الطیبۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔
[اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا كَلِمَۃً طَيِّبَۃً كَشَجَرَۃٍ طَيِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِي السَّمَاۗءِ۝۲۴ۙ تُؤْتِيْٓ اُكُلَہَا كُلَّ حِيْنٍؚبِـاِذْنِ رَبِّہَا۝۰ۭ وَيَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝۲۵ ](ابراھیم:۲۴،۲۵)
ترجمہ:کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں ۔جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت اپنے پھل لاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وه نصیحت حاصل کریں ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اسی (لاالٰہ الااللہ)کومؤمن بندے کے ایمان کی ثابت قدمی کا باعث قراردیاہے۔
[يُثَبِّتُ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ ](ابراھیم:۲۷)
ترجمہ:ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔
قول ثابت کی تفسیر کلمہ طیبہ (لاالٰہ الااللہ) منقول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں یہ حقیقت بھی آشکارہ فرمادی ہے کہ تمام کلماتِ طیبہ اوپر کو پرواز کرتےہوئے اللہ رب العزت تک پہنچ جاتے ہیں ۔
[اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ۝۰ۭ] (الفاطر:۱۰)
ترجمہ:تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے۔
(۲)کلمہ طیبہ کی دوسری قسم وہ ہے جس کا تعلق بندے کا بندے کے ساتھ ہے،مثلاً:سلام کرنا،دعائیں دیتےرہنا، تعریف کرنا بشرطیکہ وہ مبالغہ وغیرہ سے پاک ہو،الغرض ہر وہ بات جو آپ کے بھائی کی خوشی اور دل جمعی کاباعث ہو وہ کلمہ طیبہ قرارپائے گی۔
اس کے برعکس کلمہ خبیثہ ہے،جوہروہ بات ہے جو بھائیوں کے درمیان عداوت،ناچاکی اور جھگڑا قائم کردے،بلکہ بعض اوقات جنگ وجدال تک نوبت پہنچ جاتی ہے،بلکہ خونریزی تک بھی۔
لہذا زبان سے نکلی ہوئی بات بہت زیادہ خطرناک بھی ہوسکتی ہے جس پر بندے کا محتاط ہونا ضروری ہے،جبکہ کلمہ طیبہ ایک بہترین صدقہ قراردیاگیاہے،ہر بات کا موضوع بھی عمدہ ہو،اسلوبِ بیان بھی عمدہ ہو اور اظہار والقاء کے لیے موقع کا ایساتعین ہو کہ سننے والاکسی اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔(واللہ المستعان)
4(وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلاةِ صَدَقَةٌ)
نماز کی ادائیگی کےلیے مسجد جاتے ہوئے ہرہرقدم صدقہ ہے۔
اس سے مرادمسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے جانا ہے، ضمناً یہ بات بھی مفہوم ہورہی ہے کہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنا ضروری ہے،قدم پہ قدم اٹھاناجودن میں پانچ بار ہوگا کس قدر حسنات میں اضافہ،بلندیٔ درجات اور مغفرتِ ذنوب ومعاصی کا باعث ہوگا،نیز ہر ہر قدم ،جسم کے ہر جوڑ کے لیے صدقہ بھی ہوگا،قدموں کی یہ کثرت کتنے اعضاء کی طرف سے ادائیگی صدقہ کا سبب ہوگی۔(ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء)
5(وَتُمِيْطُ الأَذى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ)
راستے سے کسی موذی شیٔ کو ہٹانابھی صدقہ ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی راستہ ہواس پر چلنے والے مسلمان ہوں یا کفار،جانور ہوں یا انسان،اس سے ہرایسی شیٔ کو ہٹادینا صدقہ ہے جو گزرنے والوں کی ایذاء رسانی کا سبب ہو،مثلاً:پتھر،کانٹایا جھاڑی وغیرہ،یہ عمل جہاں جسم کے جوڑوں کے لیے صدقہ قرارپاتا ہے،وہاں گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بھی ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ»(صحیح بخاری،الرقم:۶۵۲)
یعنی:ابوھریرہtسےمروی ہے،بے شک رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ایک دفعہ ایک شخص کسی راستے پر چلاجارہاتھا،اس نے اس راستےپر ایک خاردار جھاڑی دیکھی ،جسے اس نے ہٹادیا،اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کی قدر فرمائی اور اس کے گناہ معاف فرمادیئے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺنے شعبِ ایمان کے تناظرمیں راستہ سے موذی شیٔ کو ہٹانا ایمان کا سب سے ادنی شعبہ قرار دیا ہے، یہاں بھی شریعتِ مطہرہ کی وسعت وسماحت کا ذکر ضرور آئے گا، چنانچہ جب ادنی ترین شعبہ گناہوںکی بخشش کا سبب ہوسکتا ہے تو اس سےاعلیٰ شعبے کس قدر گناہوں کی بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کا موجب ہوں گے، اور سب سےاعلیٰ شعبہ (لاالٰہ الاللہ) کی گواہی کا کیا مرتبہ اور مقام قائم ہوگا۔
واضح ہو کہ راستہ سے موذی شیٔ کو ہٹانے کے ضمن میں ہم نے ان اشیاء کی مثال دی ہے جو حسی ہیں،معنوی اعتبار سے موذی شیٔ کو زائل کرنا کس قدر موجب اجر ہوگا،مثلاً:راہ چلتے آپ نے کوئی شرکیہ معاملہ دیکھا یا کسی بدعت کا مشاہدہ کیا اور آپ وہاں ٹھہر کر اس کی اصلاح کی کوشش کریں،معنوی طور پر موذی اشیاء کو زائل کرنا ،حسی اشیاء کو زائل کرنے سے کہیں بہتر اورافضل ہے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺنے جسم کے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کے امور بیان فرمائے اور ان کا نتیجہ یہ واضح فرمایا کہ جوشخص جس دن سارے جوڑوں کا صدقہ اداکرنے میں کامیاب ہوگیا، اس دن وہ جہنم سے آزاد قرارپائے گا۔
عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ،قالت قال رسول اللہ ﷺ :(إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللهَ، وَحَمِدَ اللهَ، وَهَلَّلَ اللهَ، وَسَبَّحَ اللهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ، عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِمِائَةِ السُّلَامَى، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ» قَالَ أَبُو تَوْبَةَ: وَرُبَّمَا قَالَ: «يُمْسِي»)(صحیح مسلم،الرقم:۱۰۰۷)
یعنی:سیدہ عائشہ صدیقہrسے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ہرانسان 360جوڑوں پر پیداکیا گیا ہے،جس شخص نے (اللہ اکبر) کہا،(الحمدللہ )کہا، (لاالٰہ الااللہ) کہا، (سبحان اللہ) کہا، (استغفراللہ) کہا، یا لوگوں کے راستے سے تکلیف دہ پتھر،یا کانٹا اور ہڈی وغیرہ کو ہٹادیا،یا نیکی کاحکم دیا یا برائی سے روکااور یہ (تمام نیکیاں) 360جوڑوں کی تعداد کے برابرہوگئیں،وہ اس دن زمیں پر چل پھر رہا ہوگا اور وہ اپنے آپ کو جہنم سے آزاد کراچکاہوگا۔ابوتوبہ (حدیث کے ایک راوی) کبھی کبھی اپنے شیخ سے یمشی کی جگہ یمسی کے الفاظ بیان کرتے تھے،یعنی :وہ شام ہونے تک جہنم سے آزادی حاصل کرچکا ہوگا۔

ایک بابرکت فیصلہ

سنن ابی داؤد کی ایک حدیث جو ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے،میں مزید ایک آسانی کی شکل پیدا کردی گئی ہے،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جسم کے جوڑوں کا ذکرفرمایاپھر وہ اعمال بطورِ مثال بیان فرمائے جو ان جوڑوں کی طرف سے صدقہ قرار پاتے ہیں،آخر میں  فرمایا:
(وَيُجْزِیُٔ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ مِنَ الضُّحَى)
(ابوداؤد:۱۲۸۵)
یعنی:جو بندہ صلاۃ الضحیٰ یعنی چاشت کی نماز کی صرف دو رکعات ادا کرلے تو اس کی یہ نماز تمام صدقہ والےامور سے کفایت کر جائے گی۔
اللہ رب العزت نے صدقے کا یہ معاملہ کس قدر آسان کردیاکہ صلاۃ الضحیٰ کی دورکعات 360جوڑوں کے صدقہ کے لیے کافی وشافی ہیں، اس حدیث میں صلاۃ الضحیٰ کی ترغیب وتحریض کا نمایاں پہلوموجود ہے،صلاۃ الضحیٰ کا وقت سورج کے بقدرِ نیزہ طلوع ہوکر بلند ہونے سے لیکر زوال سے کچھ قبل تک ہے،تاخیر سے اداکرنا زیادہ افضل ہے،صلاۃ الضحیٰ کی کم از کم دورکعات ہیں، زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔(واللہ تعالیٰ ولی التوفیق)
(جاری ہے۔)

About الشیخ عبدﷲ ناصر رحمانی

امیر جمعیت اہل حدیث سندھ

Check Also

اربعینِ نووی(حدیث نمبر28 قسط نمبر 60)

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply