Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » February & March Magazine » ہمارے استاذ محترم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے متعلق درجہ ثامنہ کے طلبہ کے مشاہدات،جذبات اور احساسات

ہمارے استاذ محترم شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے متعلق درجہ ثامنہ کے طلبہ کے مشاہدات،جذبات اور احساسات

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

  ہمارے استاذ محترم اور والد کا مقام رکھنے والے انسان فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ ایک عظیم انسان تھے وہ بہت سی خوبیوںکے مالک تھے وہ بیک وقت ایک ممتاز عالم،مصلح،قابل استاذ، نامورخطیب،پختہ لکھاری، متبع سنت اور محب علماء وطلاب تھے، اور بالخصوص جمعیت اہل حدیث سندھ کے منہج کے وفادار پاسبان اور مبلغ تھے۔

   شیخ مرحوم کی تقریرکاانداز ایسا سہل اور مدلل ہوتا کہ موضوع پوری طرح سمجھ آجاتا اور دماغ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتا۔

   شیخ صاحب مجلہ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے مدیر تھے اور اس کی تیاری کے تمام امور تن تنہا انجام دیتے تھے۔

   مجلہ کےایک مستقل کالم’’اخبار الجمعیہ‘‘ کاکام ایک انتہائی مشکل کام ہے شیخ موبائل میسجز کے ذریعے سرانجام دیا کرتے تھے  اور ہم دیکھتے تھے کہ شیخ اپنے موبائل سے وہ میسجز خود ہی صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے رہتے تھے۔

   شیخ مرحوم انتہائی مشفق اور مہربان استاذ تھے ہر کلاس کا طالب علم بلاجھجھک آپ سے استفادہ کرسکتاتھا۔

   کوئی بھی بچہ جب اپنا کوئی بھی مسئلہ لے کر آتا توشیخ محترم اس کے مسئلے کو حل بھی کردیتے تھے اور اسے حسبِ حال نصیحت بھی کردیتے۔

   ایک بار ایک طالب علم نے شیخ مرحوم سے ایک موضوع کے حوالے سے پوچھا کہ میں فلاں موضوع کی تیاری کررہاہوں میری رہنمائی فرمائیں تو شیخ مرحوم نے اپناکام چھوڑ کر دس کے قریب دلائل ایک ورقے پر لکھ کر دے دیئے۔

   شیخ محترم بڑے ہی متبعِ سنت انسان تھے جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ آپ ہر وضو سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے اور طلباء کو بھی اس کاحکم دیتے نیز طلباء کو جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی تاکید کرتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بھی اس کا اہتمام کرتے تھے۔

   شیخ محترم کی اس عادت کا تقریباً تمام طلبہ کو علم ہے کہ آپ ہر مہینے میں ایک قرآن مجید کی تکمیل کرتے تھے اور ایام بیض کے روزے رکھتے تھے۔

   جب ہمارا خالی پیرڈ ہوتا ہم شیخ مرحوم کے پاس چلے جاتے باتوں باتوں میں یہ نصیحت کرتے اور کہتے کہ آپ لوگوں کی کسی قسم کی شکایت نہیں آنی چاہئے آپ آخری کلاس کے طالب علم ہیں آپ کو دوسرے طلباء کے لئے اچھا نمونہ بننا چاہئے۔

    کلاس کے ایک ساتھی نے بتایا کہ میں شیخ محترم کو کئی دفعہ بائیک پرآپ کے گھر چھوڑنے کے لئے گیا، آپ بائیک پر بیٹھتے ہی سفر کی دعائیں پڑھنا شروع کردیتے اور تلقین کرتے کہ آپ بھی دعائیں پڑھا کرو،نیز شیخ محترم کی عادت ھی کہ آپ ’’ڈرگ روڈ مین اسٹاپ‘‘ پر اتر جاتے اور آگے خود پیدل چل کر اپنے گھر جاتے۔

   ایک ساتھی نے بتایا کہ میرے والد کی وفات پر شیخ نے مجھے یہ نصیحت کی کہ بیٹا اس دنیا میں ہم سب مہمان ہیں ہم سب نے یہاں سے ایک دن ضرور جانا ہے، صبرکرو اور اپنی تعلیم کوجاری رکھو اور اپنے والد کے لئے صدقہ جاریہ بن جاؤ، اس نصیحت نے میرے غم کو ہلکا کردیا اور تعلیم کے حوالے سے ایک نیاشوق پیدا کردیا۔

   شیخ مرحوم مختلف حوالوں سے طلبہ کی بڑے احسن انداز سے تربیت واصلاح کرتے رہتے تھے ،طلبہ کو خطابت وتقریر کی اہمیت وافادیت سے آگاہ کرتے تھے حتی کہ اندازِ خطابت کے حوالے سے بھی رہنمائی فرماتے تھے ۔

   شیخ محترم کی ایک عادت حسنہ یہ تھی کہ آپaہمیشہ باوضو رہتے تھے ہم نے دیکھا کہ جب بھی بول وبراز سے فارغ ہوتے تو وضو فرماتے۔

   بچوں کو نیکی کی طرف راغب کرنے کا ایک اپنا ہی اندا ز تھا جب طلباء ’’پیرڈ‘‘ میں آتے تو ان سے پوچھتے کہ بیٹا!سورۂ کہف پڑھی ہے یانہیں؟ اگرپڑھی ہے تو کب پڑھی؟ جمعہ پڑھاہے یا پڑھایاہے؟ اگر پڑھا ہے توکہاں پڑھا اوروہاں کے خطیب کا موضوع کیا تھا؟ اور اگر پڑھایا تو کس موضوع پر پڑھایا ہے۔

   کچھ عرصہ قبل المعہد السلفی میں شان صحابہ کے موضوع پر طلبہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا ،اس اجلاس میںایک طالب علم نے واقعہ افک اور برأتِ عائشہrکے حوالے سے نظم پڑھی، جب شیخ محترم پر نظر پڑی تو وہ زاروقطار رورہے تھے۔

آہ!استاذمحترم ہم نے آپ کی داڑھی کو سیدہ عائشہ rکی محبت میں آنسوؤں سے ترہوتے دیکھا ہے۔

   استاذ محترم جب احادیث پڑھاتے تو سب سے پہلے خطبہ مسنونہ پڑھتے اور اس کے بعد درود شریف پڑھتے اور پھر حدیث پڑھاتےوقت اکثر فرماتے کہ بیٹا یہ حدیث اس موضوع سے تعلق رکھتی ہے، اور اس حدیث میں یہ زبردست نکتہ موجود ہے کہ جس کے متعلق معلومات اکٹھی کرکے کئی ایک جمعے پڑھائے جاسکتے ہیں۔

   حقیقت یہ ہے کہ ہمارے استاذ اور مربی نے بڑی پاکیزہ زندگی گزاری ہے ایسی زندگی بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے آپaعلم وعمل اوراخلاقِ حسنہ کا ایک نمونہ تھے ،تقویٰ اور ورع آپ کے چہرے اور چال ڈھال سے جھلکتاتھا۔

   آپaہرروز لوکل گاڑیوں میں سفرکرتے تھے اور اگر ان گاڑیوں میں گانے چل رہے ہوتے تو ان کونصیحت کرتے اگر وہ مان جاتے توٹھیک وگرنہ اس گاڑی سے اتر جاتے تھے۔

   شیخ محترم بڑے مہمان نواز تھے ،کھانے کے وقت مہمان کو اپنے ساتھ کھانے کے کمرے کی طرف لے جاتے تھے اور اگر کوئی مہمان کھانے کے وقت کے بعد آتا تو اس کے لئے کھانے کاانتظام کا حکم دیتے ،ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی مہمان ان کے پاس سے چائے یامشروب پیئے بغیر گیاہو۔

   شیخ محترم بچوں کی املاء کی غلطیوں کی بھی اصلاح کرتے تھے اگر کوئی بچہ اردو یا سندھی میں کوئی لفظ غلط لکھتا یا اداکرتا توبتاتے کہ بیٹا یہ لفظ ایسے نہیں ہے۔

   حدیث پڑھاتے وقت یہ نصیحت کرناآپ کا معمول تھا کہ بیٹا حدیث پتھر پرلکیرہے جو قرآن وحدیث میں آجائے اسی پر اکتفاکرو۔

   ہم نے کبھی آپ سے کسی کی غیبت نہیں سنی۔

   آپaکی زندگی طمع اور حرص سےپاک تھی اور نہ ہی آپ شہرت پسند تھے، حقیقت تو یہ ہے کہ آپ سادگی اور گمنامی کی زندگی کو پسند کرتے تھے۔

   شیخ محترم کوجھوٹ سے اس قدر نفرت تھی کہ المعہد السلفی کے ایک فاضل بھائی نے بتایا کہ ہم ایک دفعہ المعہد السلفی آئے ہوئے تھے تو ہم نے شیخ مرحوم سے کہا کہ بڑے شیخ صاحب(شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ)کا فون نمبر دیں تو شیخ مرحوم نے کہا کہ میرے پاس شیخ

صاحب کا نمبر نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت حیرانی ہوئی کہ آپ کے پاس بڑے شیخ صاحب کا فون نمبر نہیں ہے؟ وجہ پوچھی تو بتایا کہ لوگ شیخ صاحب کو تنگ کرتے ہیں اور اگر میرے پاس نمبرہوا پھر میں نے یہ کہہ دیا کہ میرے پاس نہیں ہے تو یہ ایک جھوٹ ہوگا۔

   شیخ محترم اپنی تقاریر،دروس اوربالخصوص دورانِ تدریس صحیح منہج کو واضح کرتے اور صحیح منہج پر قائم رہنے بلکہ ڈٹے رہنے کی تلقین کرتے تھے۔

   کسی نے کہا کہ شیخ صاحب آپ (علیل)بیمار رہتے ہیں آپ آرام کرلیاکریں توآپaکا کہنا تھا کہ جب دین کے طلباء کے درمیان ہوتاہوں تو دلی سکون او راطمینان مل جاتاہے۔

   آپaامیر جمعیت اہل حدیث سندھ(فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر ر حمانی حفظہ اللہ)سے بہت محبت کیا کرتے تھے اور بڑے ادب واحترام سے ان کا نام لیتے اور ان کا ذکرِخیرکرتے ،آپ کا خاص شاگرد اور ان کی مجلس کے ساتھی ہونے کے باوجود ہمیشہ شیخ صاحب کے سامنے ادب واحترام کے تقاضوں کو پورا کرتے تھے۔

ہمیں آج ان کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہورہی ہے حقیقت یہ ہےان کی ذات عمل بالحدیث اور منہج مستقیم پراستقامت کا ایک نمونہ اور مثال تھی۔

اللھم أدخلہ جنۃ الفردوس ،اللھم اجعل قبرہ روضۃ من ریاض الجنۃ.آمین

About ادارہ

Check Also

مراسلے ومکاتیب

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply