Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » February & March Magazine » کیاکیاصورتیںتھیں کہ خاک میں پنہاں ہوگئیں

کیاکیاصورتیںتھیں کہ خاک میں پنہاں ہوگئیں

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

بتاریخ 3 جنوری 2018 ء بمطابق۱۵ ربیع الثانی ۱۴۳۹ ھ  بروز بدھ بعد نماز مغرب یہ جان کاہ اطلاع ملی کہ فضیلۃ الشیخ ذوالفقار علی طاہر صاحب کا ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون! دل بے وقت کی اس خبر کو تسلیم کرنے سے بالکل انکاری تھا لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حکمت اور بر حق تقدیر کے سامنے سارے حیلے مٹ گئے اور چار ونا چار اس اندوہ ناک خبر کی تصدیق کرنا پڑی۔

ہم نے دنیا کی ہر چیز کو بدلتے دیکھا

پر مقدر کو نہ ٹلتے دیکھا

گویاکہ سال ۲۰۱۸ عام الحزن کی حیثیت سے ہم پر طلوع ہوا او راس کے طلوع ہوتے ہی ہم اپنے مربی ومحسن، خیر خواہ و قدردان، شفیق و مہربان اور ہم دردو غمگسار سے محروم ہوگئے۔

خواب بن کر رہ گئی کیسی کیسی محفلیں

خیال بن کر رہ گئے کیسے کیسے آشنا

۴ مارچ ۱۹۷۲ کے موسم  بہار میں کھلنے والا یہ چمکتا دمکتا اور مہکتا ہوا سدا بہار پھول اپنی زندگی کی ۴۵ بہاریں ہی دیکھ پایا تھا کہ ۳ جنوری کے سرد دن کے خزاں  میں ہم سے بچھڑگیا اور ۴ جنوری بروز جمعرات نماز ظہر سے قبل علم و عمل کے روشن ستارے کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے

بلاشبہ آپ ذہین، کہنہ مشق ، معتدل مزاج، بلند پایہ مثالی ناصح، بصیرت و بصارت سے لبریز، درد مند مخلص، محبت کرنے والے، بے لوث اور بلند اخلاق کے مالک تھے۔

آپ کے چہرے پر اطمئنان و شادابی ، لبوں پر مسکراہٹ، لہجہ میں شیرینی الفاظ میں شائستگی و وقار، آپ مجسمہء شفقت ومحبت تھے آپ نہ صرف خاندان بلکہ پوری جماعت کے لئیے سایہ دار سائباں تھے۔ آپ ہر کسی سے تواضع و انکساری سے پیش آتے۔

ایسا کہاں سے لائوں تجھ سا کہوں جیسے

میرے محترم و مکرم چچا ذوالفقار علی طاہر صاحب a کی وفات حسرت آیات کے بعد دیکھنے والوں نے دیکھا جب انکا جنازہ اٹھا محاورے کے طور پر نہیں بلکہ حقیقتاً تل دھرنے کی جگہ نہ تھی لوگوں کے آنسو بتا رہے تھے کے جانے والاکتنا عزیز تھا لوگوں کی بے پناہ محبت کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اللہ والوں کی قدر و منزلت انکی محبت ، خلوص ، پاکیزہ نیت اور کار ہائے نمایاںکی وجہ سے ہوتی ہے۔

آپکے تراجم ، علمی مضامین ، مقالات، اداریے ، شذرات، کتابوں کے تعارف و تبصرۂ کتب ، ترتیب و تہذیب، مقدمات اور ایڈیٹنگ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہترین لکھاری تھے بلکہ آپکی ہر تحریر و تقریر پر مغز اور جاندار ہوا کرتی تھی۔ لکھنے کے خوبصورت سلیقے نے آپ کی تحریروں کو جاذب نظر بنا دیا تھا۔ سلاست و بلاغت ، رنگینی و روانی ، برجستگی اور اثر انگیزی نہ صرف آپکی تحریروںبلکہ تقریظوں کی بھی خاصیت تھی۔

یلوح الخط فی القرطاس دھرا

و کاتبہ رمیم فی التراب

آپ ہمارے سگے چچا تھے اور مشفق استاد بھی اسکے باوجود ایک قلق اور افسوس ہمیشہ رہے گا کہ آپ سے جی بھر کر استفادہ کا موقع میسر نہیں آیا۔

آپ کے اٹھ جانے سے علمی محفلیں ویران ہو گئیں جب تک “ماہنامہ دعوت اہلحدیث” “المعھد السلفی للتعلیم و التربیہ” اور “جمعیت اہلحدیث سندھ”  کا وجود مسعود برقرار رہے گا تب تک آپ کا نام زندہ رہےگا۔

آپ کی بڑی خواہش تھی کہ ہم ماہنامہ دعوت اہلحدیث میں مضامین لکھیں لیکن افسوس ہم آپکی زندگی میں ایسا نہ کرسکے۔

موت سے کسی کو مفر نہیں لیکن کچھ لوگوں کی موت فرد واحد کی موت نہیں بلکہ پوری جماعت کی موت ہوتی ہے۔ انجمن کی موت ہوتی ہے۔ سچ ہے موت العالم ِموت ا لعالَم میرے عزیز چچا محترم ایسی ہی نابغہء روز گار شخصیت تھے یقینا آپکا وجود گرا ں مایہ تھا۔ آپکی وفات سے جدوجہد کا علم وعمل کا اور مسلک حقہ کی تحریک کا ایک باب بند ہو گیا۔

مت سہل ہمیں جانو پھر تا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

آپ نے اپنے مضمون “محمد رمضان یوسف سلفی ایک نامور قلمکار اور ادیب کی رحلت”  ماہنامہ دعوت اہلحدیث شمارہ ۱۸۷ جنوری ۲۰۱۷ میں لکھا ہے

“عجیب اتفاق ہے گذشتہ سال اسی موسم میں مولا نا اسحاق بھٹی ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور اس سال اسحاق بھٹی ثانی (محمد رمضان یوسف سلفی ) ہم سے جدا ہو گئے”

اور عجیب اتفاق ہے بلکل سال ہی کے وقفہ سے موسم سرما میں ہی آپ خود بھی ہم سے بچھڑ گئے۔

جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد

آج وہ لوگ ہیں کہاں آباد

جہاں ہم تعزیت پر آنے والے تمام معززین کے شکر گزار ہیں جو اس جانکاہ اور اندوہ ناک واقعہ پر ہمارے غم میں شریک ہی نہیں ہوئے بلکہ اسے اپنا غم سمجھا اور بعض نے فون پر تعزیت کی ہم انکے بھی شکر گزار ہیں پے درپے علماء کی آمدورفت کا تانتہ بندھا رہا اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

سمجھ نہیں پایا اس مختصر مضمون کو کیا عنوان دوں آپکی کس خوبی کا انتخاب کروں بہرحال آپ میں تمام خوبیا ں بدرجہ جسا اتم موجود تھیں اس مختصر مضمون میں نہ تو آپکی خوبیوں کا احاطہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی آپکی شخصیت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔

زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیر سفر

مثل ایوان کے مر قد فروزان ہو تیرا

نور سےمعمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا

اللہ تعالیٰ آپ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب فرمائے آپکی قبر کو نور سے منور فرمائے بشری الغزشوں سے درگذر فرمائے، رحم اللہ رجلا قال :آمین۔

About مولانا عبداللہ محمدی

Leave a Reply