Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » February & March Magazine » شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے  علمی ، منہجی اور اصلاحی اداریوں پر ایک نظر

شیخ ذوالفقار علی طاہررحمہ اللہ کے  علمی ، منہجی اور اصلاحی اداریوں پر ایک نظر

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ایک عظیم مبلغ، ہر دلعزیز واعظ ، بلند پایہ مصنف اور بہترین مدرس تھے ۔دین کی نشر و تبلیغ کے ہر شعبہ کی صفِ اول کی عظیم شخصیت نظر آتے ہیں۔خاکسار کو  المعہد السلفی میں ابتدا سے لے کر مکمل تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہے ،داخلہ کے تعلق سے انٹرویو الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ ہی کو دیا اور یہی ان سے پہلی ملاقات تھی ، یوں یہ پہلی ملاقات خوف اور گھبراہٹ سے بھری ہوئی تھی کیونکہ انٹرویو داخلے کی اہلیت کا فیصل ہوا کرتا ہے اور نا اہلی سے بڑی ندامت کوئی نہیں ہوتی لیکن جب انٹرویو لینے والے شیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ جیسی شخصیات ہوں تو دینی اداروں سے مایوس اور پریشان اور شکستہ دل ہوکر بہت کم ہی لوگ واپس جایا کرتے ہیں۔ اور یہ ان کی ظرافت کا نمونہ ہے کہ ان کی نظر طالب علم کے کل پر ہوتی تھی اور بچے کے ضیاع کی فکر دامن گیر ہوتی تھی ، بس یہی ظرافت تھی کہ ہم المعہد السلفی کے ہولئے ورنہ ہم اس ادارہ کی نسبت کے اہل نہ تھے، یہ سہرا شیخ رحمہ اللہ کو ہی جاتا ہے اور بحمداللہ طویل عرصہ تلمذ کے بعد یہیں اسی ادارے کی حتی الوسع خدمت کا سلسلہ تاحال جاری ہے ، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو یونہی جاری رکھے۔ دورانِ تعلیم شیخ رحمہ اللہ سے تعلیم کا وافر حصہ حاصل کیا اس کے بعد بحیثیت مدرس بھی شیخ رحمہ اللہ کی خوب خوب شفقتیں سمیٹنے کا موقع ملا۔وہ بھلائیں نہ بھولنے والی شخصیت تھے۔ اب انہیں ڈھونڈھیں کہاں ؟؟؟؟

کم نظر بے تابیٔ جانم ندید

آشکارم دید وپنہانم ندید

عزت کرو گے تو کرواؤ گے :

خیر سے میری شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا ہے ، اور شیخ رحمہ اللہ اپنی خوش طبعی میں پورے حلقہ احباب میں معروف تھے، اس حوالےسے بھی مزاح کا معاملہ کرلیا کرتے تھے،ساتھ ساتھ مفید نصیحتیں بھی کردیا کرتے تھے ، ایک دفعہ موٹر سائیکل پر ہیچ منداں کے ردیف تھے ، اس دوران گویا ہوئے :

 ’’ ازدواجی زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ ‘‘

’’ اچھی گزر رہی ہے شیخ جی ! ‘‘ میں نے یہ جواب دے دیا ۔

 پھر خود ہی کہنے لگے کہ ’’ بیوی کو عزت دو،اسے گھر والوں کے سامنے یا علیحدگی میں بھی رسوا نہ کرو، وہ تمہاری عزت کا حق ادا کردے گی ‘‘

 شیخ رحمہ اللہ نصیحت کرتے وقت بڑی پختگی اور تاکیدی انداز اختیار کئے ہوئے تھے، جس کا مطلب تھا کہ بس تم یہ کام کرلو تو کافی ہے۔

مضمون لکھا کرو :

جب ماہنامہ دعوت اہل حدیث کی ادارت شیخ رحمہ اللہ کو سونپ دی گئی تو خود شیخ رحمہ اللہ نے مضامین لکھنے کا شوق دلایا بلکہ حکماً کہا کہ آپ بھی ماہنامہ دعوت اہلحدیث کے لئے مضمون لکھا کرو ۔

ایک دفعہ ہمارے ایک استاد  حفظہ اللہ و رعاہ نے فون پر بات کی اس دوران کہنے لگے : ’’ اب تو آپ کے مضامین بھی ماہنامہ دعوت اہلحدیث میں شائع ہوا کریں گے کیونکہ اب ماہنامہ دعوت اہلحدیث کے مدیر شیخ ذوالفقار علی طاہر ہیں ‘‘ ایسا ہی ہوا شیخ رحمہ اللہ ہی مجھے اس طرف  راغب کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نصرتِ خاص اور شیخ رحمہ اللہ کی خصوصی حوصلہ افزائی سے اتنی تعداد میں ماہنامہ دعوت اہل حدیث اور دیگر رسائل میں مضامین شائع ہوچکے ہیں کہ اگر انہیں جمع کرکے کتابی صورت دی جائے تو ایک بسیط جلد تیار ہوسکتی ہے۔وللہ الحمد والمنۃ

شیخ رحمہ اللہ کے اداریے :

  وقت کے بدلتے رنگ دیکھئے کہ آج خاکسار شیخ رحمہ اللہ کے اداریوںکی بابت خامہ فرسائی کررہا ہے ، شیخ رحمہ اللہ نے کم و بیش سال اور چند ماہ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کی ادارت فرمائی، اور اس دوران جو اداریے لکھے، ان اداریوں کے خاص موضوع ، خوبیاں ، وسعت اور گہرائی سمیت دیگر زاویوں کے حوالے سے کچھ سطور قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں۔آخر میں ان اداریوں کا اشاریہ بھی پیش کردیا گیا ہے ۔

  ستمبر /اکتوبر 2010ء بمطابق 1431ھ سلسلہ نمبر (111-112) جلد نمبر( 10) کا شمارہ نمبر( 3-4)وہ رسالہ ہے، جب استادمحترم الشیخ ذوالفقارعلی طاہر رحمہ اللہ ماہنامہ دعوت اہلحدیث کے نئے مدیر منتظم بن گئے اور اس شمارہ میں یہ اعلان شائع ہوا۔ قارئین ’’ ماہنامہ دعوت اہلحدیث دعاکی درخواست رسالہ عزیز دعوت اہلحدیث کے انتظامات ومعاملات کی ذمہ داری حافظ عبدالحمید گوندل حفظہ اللہ سے منتقل ہوکر راقم کےناتواں کاندھوں پر آگئی ۔قارئین سے التجا ء ہے کہ وہ دعا گو رہیں کہ اللہ تبارک وتعالی راقم کو اس نئی اور کٹھن ذمہ داری سے بہتر طورپر عہدہ برآہونے کی توفیق عطافرمائے آمین۔(ذوالفقارعلی طاہر) ‘‘

شیخ رحمہ اللہ کی تحریرمیں وہ تمام خوبیاں ہیں جن سے اردو ادبی تحریر کا بنیادی اسلوب عبارت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ میدانِ صحافت میں منہج سلف کے بہترین نمائندے تھے۔ ان کی تحریر ات، اردو ادب کے اسلوب سمیت منہج سلف ، دفاعِ اسلام ، تنقید بر باطل ، اصلاح معاشرہ ، حق گوئی ، معتدل اور مبالغہ آرائی سے پاک گفتگو اور کمال درجہ کی قوتِ استدلال الغرض تمام عمدہ صفات سموئے ہوئے ہیں۔

بدعات وخرافات کی مذمت :

شیخ رحمہ اللہ ایک ذمہ دارشخص اور منہج سلف کے عظیم داعی تھے، بدعات و خرافات جس طرح آپ کی تدریس و تقریر کا موضوع تھے ، بالکل اسی طرح آپ نے میدانِ صحافت میں بھی بدعات و خرافات پرتفنید کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہوئے خوب نبھایا اور اس حوالے سے مختلف اداریے لکھے ، یہاں چند ایک کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

1۔خبرلیجئے ذہن بگڑا ( سلسلہ نمبر 114 جلدنمبر  10شمارہ نمبر 6)

روزنامہ ایکسپریس کراچی مورخہ 7 اکتوبر 2010ء بروز جمعرات کی اشاعت میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک اجلاس سے متعلق خبر شائع ہوئی جس میں مختلف مسالک کے علماء کی گفتگو کا بھی تذکرہ کیا گیا  اس کے چھ (6) نکات پر شیخ رحمہ اللہ نےعلمی تنقید و تبصرہ کیا کیونکہ یہ واقعتا ً اس قابل تھا کہ اس کی خبر لی جاتی ، ان نکات میں نماز کے بارے میں کہا گیا کہ اسے جیسے بھی پڑھا جائے قبول ہوگی کیونکہ نبی ﷺ نے ہر طریقے سے نماز پڑھی۔

اسی طرح یہ کہا گیا کہ رسول پاک ﷺ کو سب سے زیادہ قریب سے سیدنا علی اور حسنین  رضی اللہ عنہم نے دیکھا ہے لہذا ایک خاص گروہ کے مطابق وہ اسی وجہ سے ان کے طریقے پر نماز پڑھتے ہیں۔نیز صحیح بخاری کے وجود سے پہلے ڈھائی سو سال تک علم حدیث روکا گیا۔ یہ کہا گیا کہ نمازوں کی تعداد ، رکعات ، احکام میں کوئی اختلاف نہیں ۔ تو اس قسم کے بالکل بے بنیاد دعووں اور باتوں کی خوب خبر لی ۔ فجزاہ اللہ

2۔خبردار جذبات سے کھیلنے والوں سے ہوشیار( سلسلہ نمبر 126  جلد نمبر  11شمارہ نمبر  6)

اس اداریے میں ماہ محرم میں کی جانے والی بدعات کی نشاندہی اور ان کی تردید کی۔

3۔ماہ محرم کے بعد ماہ ربیع الاول  (سلسلہ نمبر 128جلد نمبر 11  شمارہ نمبر   8)

4۔اپنے رمضان کو بدعات سے بچائیے ( سلسلہ نمبر 134  جلد نمبر 12  شمارہ نمبر 2  )

اس اداریے کا عنوان ہی بیان کررہا ہے کہ اس میں ماہ رمضان میں کی جانے والی بدعات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مصلحانہ انداز میں ماہ رمضان میں مسنون عبادات کا بکثرت اہتمام کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔

5۔برطانیہ میں حلالہ کی ہولناکیاں  ( سلسلہ نمبر   149جلد نمبر   13شمارہ نمبر  5 )

روزنامہ جنگ کی 14 ستمبر 2013 ء کی رپورٹ کے تناظر میں  حلالہ جو کہ ایک کبیرہ گناہ ہے ،کی ہولناکیوں کو بیان کیا۔

6۔فری میسن( سلسلہ نمبر   161جلد نمبر   14شمارہ نمبر   5)

اس ادارئیے میں یہودیوں کی عالمی خفیہ خطرناک تنظٰیم  فری میسن کا تعارف ، اغراض  سمیت ا س سے متعلقہ دیگر خطرناک معلومات فراہم کی گئیں۔

7۔مولانا ولی رازی اپنے کالم کے آئینےمیں ( سلسلہ نمبر  164 جلد نمبر  14  شمارہ نمبر   8)

مولانا ولی رازی وقتاً فوقتاً امت اخبار میں لکھتے رہتے ہیں بلکہ سینئر کالم نگار ہیں وہ کئی بار ایسا کچھ لکھ جاتے ہیں کہ غیور عالم سے اس کی تردید کئے بغیر رہا ہی نہ جائے یہی وجہ ہے کہ مولانا ولی رازی کے کئی کالموں پر علمی ، اصلاحی انداز میں تنقید کی۔ جیسا کہ اس اداریے میں ہے ، دراصل اس کالم میں مسلکی رواداری کے عنوان سے کالم لکھ کر سبق تو مسلکی رواداری کا دیا گیا تھالیکن کالم میں جا بجا مسلک اہل حدیث پر نشتر چلائے گئے تھے ، جن کا قویم جواب شیخ رحمہ اللہ نے دیا۔

8۔مولاناولی رازی کا غلط نظریہ ( سلسلہ نمبر  190جلد نمبر   16شمارہ نمبر   10)

اس کالم میں مولانا ولی رازی نے بڑی جسارت سے کام لیا اور ایک کالم بنام ’’ ایک بدوی صحابی اور امام ابو حنیفہ ‘‘ لکھا جس میں ایک باطل نظریہ کا اظہار کہ کیا کہ بدوی صحابی امام ابو حنیفہ سے فقہ میں کم تر ہیں ، اس دہن بگڑے نظریے کی خبر تو لینی بنتی تھی چنانچہ شیخ رحمہ اللہ نے اس ذمہ داری کو خوب نبھایا۔

 زردصحافت کے خلاف جرأت مندانہ اداریہ :

شیخ رحمہ اللہ نے میدانِ صحافت کو جہاں ترویج اسلام اور منہج صحیح کے لئے استعمال کیا وہیں ساتھ ساتھ زرد صحافت کے بھی خوب بکھیے اکھیڑے، اس حوالےسے آپ نے متعدد اداریے لکھے اور جا بجا اخبارات میں موجود غلط ، جھوٹی خبروں کی تردید کی ، خلافِ اسلام کالموں پر ردود لکھے ، آئیے اس کے چند ایک نمونے ملاحظہ فرمائیں :

 انہوں نے اداریہ بعنوان ’’ صحافت ایک عظیم فریضہ‘‘ (دیکھئے :  جلد نمبر12 شمارہ12 )لکھا ، جس میں عمومی طور پر میڈیا اور اخبارات کی موجودہ حالتِ زار کا خوب نقشہ کھینچا اور پھر آخر میں اپنے جذبات کا اظہار یو ں کیا:

’’ آج وطن عزیز کو ایسی صحافت کی ضرورت ہے ایسی صحافت جو فحاشی و عریانی کے خلاف آواز بلند کرے ،جو وطن دشمن عناصرکے  خلاف سینہ سپر ہوجائے ،جو لوٹ کھسوٹ کرنےوالوں اور ان کے کالے کرتوتوں کو عوام کے سامنے لے آئے،جووطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے دشمنوں کو ان کے ہولناک منصوبوں میںکامیاب نہ ہونے دے ،جو اسلام دشمن نام نہاد مسلمان بہروپیوں کے چہروںسے پردہ فریب سرکاوے اوران کا تعاقب کرے،جو زندگی کے ہر شعبے پر نظر رکھنے اورکسی بھی شعبہ میں بے قاعدگی اور لاقانونیت نہ ہونے دے جس کی رگ رگ میں اسلامیت اور پاکستانیت رچی بسی ہو ۔اگر وطن عزیز کو ایسی صحافت میسر آجاتی ہے تو ان شاء اللہ کوئی بھی سیاہ کار اپنے سیاہ مقصد میں ہر گز کامیاب نہیں ہوسکے گا ،اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔‘‘

امت اخبار نے جب عقیدے کے بگاڑ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنا  شروع کیا ، اور سعودیہ دشمنی میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کیاشیخ رحمہ اللہ نے بھرپور انداز میں امت اخبار کی ایسی خبر لی کہ حق ادا کردیا۔ ہم یہاں صرف ان اداریوں کا عنوانات پیش کررہے ہیں۔

ژ’’ روزنامہ امت کراچی کی سعودی عرب کے خلاف شرمناک ہرزہ سرائی۔‘‘  سلسلہ نمبر : (148) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (13)  ذو الحج  ۱۴۳۴ھ بمطابق اکتوبر   2013ء

ژ’’صحافتی میدان میں سعودیہ کا اولین دشمن روزنامہ امت ‘‘ سلسلہ نمبر : (160) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (14)ذی الحج  ۱۴۳۵ھ بمطابق اکتوبر   2014ء

ژ’’روزنامہ امت داعی شرک وبدعت۔‘‘ سلسلہ نمبر : (184) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (16)ذی الحج/ محرم ۱۴۳۸ھ بمطابق اکتوبر   2016ء

باقی اس حوالے سے تفصیل کے لئے ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے مذکورہ شماروں کو دیکھ لیا جائے ۔

 عقیدے کا دفاع:

جب بھی کہیں سے صحیح اسلامی عقیدے کے خلاف آواز اٹھی شیخ رحمہ اللہ کا قلم حرکت میں آیا اور اس کا بھرپور انداز میں محاسبہ کیا ، چاہے وہ کوئی بھی ہو حتی کہ حکمران طبقہ کی طرف سے بھی اسلامی عقیدے کے منافی بات کی گئ تو اس کی اصلاح میں بھی کوئی لیت و لعل سے کام نہ لیا ، جیساکہ ایک اداریہ انہوں نے لکھا ’’اللہ جل وعلی عرش پر مستوی ہے‘‘

 یہ اداریہ دراصل اس وقت کے ملکِ پاکستان کے وزیر اعظم  میاں نواز شریف کے ایک موقع پر کہے گئے اشعارکے رد میں تھاجس میں انہوں نےاللہ تعالی کی صفت استواءعلی العرش کوثابت کیا۔

  مندرڈھادے ، مسجد ڈھادے ،ڈھادے جو کچھ ڈھیندا

پر دل نہ کسے داڈھاویں بندیا ،رب دلاں وچ  رھندا

یعنی : چاہے مندر ، مسجد سب گرادے مگر کسی کا دل نہ توڑنا کیونکہ رب دل میں رہتا ہے۔

اس شعر میں جو بڑا نقص موجود ہے ، صوفی شاعر کے اس شعر کے تناظر میں جو ایک باطل عقیدہ کا اظہار ہورہا ہے ، شیخ رحمہ اللہ نے اس پر اداریہ لکھ کر یقینا ً صحیح اسلامی عقیدہ کا بہت بڑا دفاع کیا اور بروقت کیا۔ اور یہ ان کے کارنامہ ہائے نمایاں میں سے ہے ، جس وقت  پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا حکومت کے خلاف بول بھی رہا تھا اور لکھ بھی رہا تھا، لیکن ان میں سے سینکڑوں مسائل ایسے تھے جو بناوٹی اور حقیقت سے دورتھے ، جنہیں ان کی اصل حیثیت سے زیادہ حیثیت دے دی گئی تھی جبکہ عقیدہ کا مسئلہ جو کہ بنیادی مسئلہ ہےاس حوالے سے میڈیا میں بالکل خاموشی تھی ، بلکہ خود عقیدے کے بگاڑ میں میڈیا کا کلیدی کردار رہا ہے ، ایسے میں کسی مردِ مجاہد کا حق بات کہنا  اور حاکم میں موجود عقیدے کے بگاڑ کی نشاندہی کرنا اور لوگوں کی توجہ دلانا کہ تمام مسائل سےاہم مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ ہے ، اس کی بھی اصلاح ضروری ہے ۔ سو یہ ان کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

 ایک اداریہ ’’ تیری شان جلالہ‘‘ کے عنوان سے لکھا : (جلد نمبر  15شمارہ نمبر   10)

اس اداریے کا پس منظر یہ ہے کہ بعض اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ روسی صدر نے ترکی کی طرف روسی طیارہ مار گرانے پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے لفظ اللہ کا استعمال کیا جو کہ سب کے لئے حیران کن تھا کہ کیونکہ روس وجود باری تعالیٰ کے منکر ممالک میں سے ایک ہے۔ اس پس منظر میں اس ادارئیے میں رب تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے۔

جیساکہ انہوں نے ایک اداریہ ’’غالی مشرک سے مثالی موحد تک ‘‘ (جلد نمبر 11 شمارہ نمبر 1) کے عنوان سے لکھا جس میں ایک واقعہ کو بنیاد بناکر شرک سے توحید کی جانب آنے والے ایک شخص کا واقعہ ذکر کیا۔عقیدہ توحید کے اختیار کرنے کے تعلق سے اس کے فضائل ، اہمیت اور فوائد کو اس واقعاتی انداز میں بیان کیا۔

حالات حاضرہ پر گہری نظر :

شیخ رحمہ اللہ کے اداریہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ حالات حاضرہ پر ان کی اچھی نظر تھی ، یہی وجہ ہے کہ سعودیہ ایران کشیدگی کے دور میں اپنی تحریرات کی ذریعے سے سعودیہ سے تعلقات کی تاریخ ، فوائد اور دوسری طرف ایرانی سازشوں کے حوالے سے بھی اپنی قلم حرکت میں لائے ، اسی طرح انہوں نے ایک عنوان سجایا ’’ نیٹو رسد کی بحالی ‘‘ ۔

’’غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ‘‘ اس عنوان سے اس دور کی حکومت پاکستان کی غیر مشروط نیٹو رسد کے بحال کرنے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور بتلایا کہ یہ وہ کارنامہ ہے جو غیور لوگوں سے قطعاً ً متوقع نہیں ہوسکتا۔

پر ویز مشرف وہ شخص ہےجس نے اسلام اور پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ، شیخ رحمہ اللہ نے ’’ سابق آمر ، مکافات عمل کی زد میں ‘‘ کے عنوان سے پاکستان اور اسلام کے مجرم پرویز مشرف کی ان خفگیوں کا تذکرہ کیا ہے جو تاریخ کا حصہ بن گئی مثلاًچند نوجوان پرویز مشرف کی ایک تقریب میں پہلے تو مشرف زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اور پھر یکدم موقع ملنے پر مشرف مردہ باد کے نعرہ لگانا شروع کردئیے۔ اسی قبیل کی دیگر خفگیوں کا تذکرہ جس میں انہیں ملنے والی ایک ’’ سعادت ‘‘ جس کا وہ مستحق تھا یعنی کسی غیور شخص کے جوتے کا نشانہ بننے والی ’’سعادت ‘‘۔

علماء کی وفیات :

امت کا سب سے بڑا سرمایہ علماء ہوتے ہیں ، مگر ان کے قدردان بہت کم ہوا کرتے ہیں ، اس قلیل طبقہ میں بڑانام شیخ رحمہ اللہ کا ہے ، علماء کے حوالے سے ان کے دل میں ایک خصوصی مقام کے اندازہ کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے تقریباً تمام بڑے علماء کی وفیات سے متعلق اداریئے لکھے ۔جیسا کہ :

’’حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ ایک عالم ربانی کی رحلت ‘‘ (جلد نمبر 11 شمارہ نمبر 10)، ’’ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کی جدائی ایک عظیم سانحہ ‘‘ (جلد نمبر 11 شمارہ نمبر11 ) ’’ مولانا عبداللہ گورداسپوری رحمہ اللہ ایک نرم مزاج مبلغ کی رحلت‘‘ (جلد نمبر 11 شمارہ نمبر 12) ، ’’عبدالرحمٰن میمن رحمہ اللہ (خادم العلم والعلماء ) ‘‘ (جلد نمبر: 12 ، شمارہ نمبر :8 ) ،’’ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ وکیل مسلک اہل حدیث کی رحلت‘‘ (جلد نمبر: 13 ، شمارہ نمبر :6 ) ،’’ شیخ ابو داؤد عبدالغفار محمدی رحمہ اللہ تلمیذ رشید محدث جلالپوری رحمہ اللہ کی رحلت ‘‘ (جلد نمبر: 14 ، شمارہ نمبر :3 ) ،’’ حافظ عبدالحمید اظہر رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال ‘‘ (جلد نمبر:  15، شمارہ نمبر :7 ) ، یہ تمام ادارئیے کبار علماء کی وفیات کے حوالےسے تھے ، جو پوری امت کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہوتا ہے ، ذی بصیرت افراد ہی اس کا ادراک کرسکتے ہیں۔

غیر سیاسی خبریں :

اداریوں کے ساتھ ساتھ ضروری سمجھتا ہوں کہ یہاں ان کوششوں کا بھی تذکرہ کردیا جائے جو ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے پلیٹ فارم سے نہ کہ صرف خوش آئند تھیں بلکہ اس کے اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے ماہنامہ دعوت اہل حدیث کے قارئین کے لئے  بڑی محنت شاقہ کے ساتھ اخبارات سے ان خبروں کا انتخاب فرماتےجن کا سیاست سے تو تعلق نہ ہوتا لیکن عالم اسلام کے لئے ، پاکستانی مسلمانوں کے لئے مختلف زاویوں سے وہ خبریں بڑی اہم ہوتیں ،بلا شک و شبہ یہ اچھی کاوش تھی۔

اخبار الجمعیۃ :

سندھ بھر میں ہونے والے اجتماعات ، پروگراموں کی روئیداد ، وفیات کی اطلاع ، بیماروں کی شفایابی کے لئے دعا  یا اس قسم کی دیگر اہم خبریں جو عمومی طور پر مسلک اہل حدیث بالخصوص جمعیت اہل حدیث کے لئے اہل ہوتی اسے اس مستقل سلسلے میں شامل کیا جاتا۔

تفصیلی اشاریہ برائے اداریہ جات

خاکسار نے اپنے تئیں یہ کوشش کی ہے کہ شیخ رحمہ اللہ کے اداریوں کا اشاریہ یہاں ذکر کردیا جائے ، قارئین کے لئے یہ بڑا مفید اشاریہ ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ

۱۔ خبر لیجئیے دہن بگڑا۔سلسلہ نمبر (114)شمارہ نمبر(6)جلد نمبر:  (10)محرم۱۴۳۲ھ بمطابق دسمبر2010ء

۲۔ قانون توہین رسالت کو مت چھیڑیئے۔ ( مقدس رسول )  سلسلہ نمبر : (115۔116) شمارہ نمبر : (7۔8) جلد نمبر : (10) صفر / ربیع الاول ۱۴۳۲ھ بمطابق جنوری/فروری         2011ء

۳۔کراچی ۔کرچی ۔کرچی سلسلہ نمبر : (117) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (10) ربیع الثانی  ۱۴۳۲ھ بمطابق مارچ 2011ء

۴۔ بچارے بھکاری ۔ سلسلہ نمبر : (118) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر:  (10)جمادی الاول  ۱۴۳۲ھ بمطابق اپریل 2011ء

۵۔ بڑوں کے معاملات اپنے ہاتھوں میں مت لیں ۔سلسلہ نمبر : (119) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (10) جمادی الثانی ۱۴۳۲ھ بمطابق مئی 2011ء

۶۔دین پیسہ ایمان پیسہ ۔ سلسلہ نمبر : (120) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (10) رجب  ۱۴۳۲ھ بمطابق جون  2011ء

۷۔غالی مشرک سے مثالی موحدتک سلسلہ نمبر : (121) شمارہ نمبر: (1) جلد نمبر : (11) شعبان ۱۴۳۲ھ بمطابق جولائی   2011ء

۸۔ سفر نامہ ریگستان عجائبات ،مشاہدات،اسباق ۔ سلسلہ نمبر : (123)  شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (11) شوال ۱۴۳۲ھ بمطابق ستمبر 2011ء

۹۔مساجد اہل حدیث مراکز توحید ۔سلسلہ نمبر : (124) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (11) ذیقعدہ ۱۴۳۲ھ بمطابق اکتوبر  2011ء

۱۰۔ عشرہ ذوالحجہ وقربانی حاصل ہونے والےاسباق۔  سلسلہ نمبر : (125) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (11)ذی الحج  ۱۴۳۲ھ بمطابق نومبر  2011ء

۱۱۔ خبردار !جذبات سے کھیلنے والوں سے ہوشیار ۔سلسلہ نمبر : (126) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (11) محرم ۱۴۳۳ھ بمطابق دسمبر 2011ء

۱۲۔ قاری عبدالستار ایک زیرک انساں کی رحلت ۔سلسلہ نمبر : (127) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (11) صفر ۱۴۳۳ھ  بمطابق جنوری  2012ء

۱۳۔ماہ محرم کےبعد ماہ ربیع الاول !  سلسلہ نمبر : (128) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (11)ربیع الاول۱۴۳۳ھ  بمطابق فروری 2012 ء

۱۴۔ایک صبر آزما سفر۔  سلسلہ نمبر : (129) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (11) ربیع الثانی۱۴۳۳ھ  بمطابق مارچ 2012 ء

۱۵۔حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ ایک عالم ربانی کی رحلت۔  سلسلہ نمبر : (130) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (11) جمادی الاول ۱۴۳۳ھ بمطابق اپریل  2012ء

۱۶۔ ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کی جدائی ایک عظیم سانحہ۔ سلسلہ نمبر : (131) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (11) جمادی الثانی ۱۴۳۳ھ  بمطابق مئی   2012ء

۱۷۔مولانا عبداللہ گورداسپوری رحمہ اللہ ایک نرم مزاج مبلغ کی رحلت۔ سلسلہ نمبر : (132) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (11) رجب ۱۴۳۳ھ  بمطابق جون   2012ء

۱۸۔انگریزی سے یاری اردو سے بیزاری ۔ سلسلہ نمبر : (133) شمارہ نمبر : (1) جلد نمبر : (12) شعبان ۱۴۳۳ھ  بمطابق جولائی   2012ء

۱۹۔اپنے رمضان کو بدعات سے بچائیے ۔سلسلہ نمبر : (134) شمارہ نمبر : (2) جلد نمبر : (12) رمضان ۱۴۳۳ھ  بمطابق اگست  2012ء

۲۰۔رمضان کے بعد ۔ سلسلہ نمبر : (135) شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (12) شوال ۱۴۳۳ھ  بمطابق ستمبر   2012 ء

۲۱۔ارض توحید تجھے اندیشہ زوال نہ ہو ۔ سلسلہ نمبر : (136) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (12)ذیقعدہ  ۱۴۳۳ھ  بمطابق اکتوبر  2012 ء

۲۲۔انکار حدیث آخر کس بنا پر ۔ سلسلہ نمبر : (137) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (12) ذی الحج  ۱۴۳۳ھ  بمطابق نومبر   2012 ء

۲۳۔بلوچ بھائیوں کی اشک جوئی کیجئیے۔  سلسلہ نمبر : (138) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (12) محرم / صفر  ۱۴۳۴ھ  بمطابق دسمبر   2012 ء

۲۴۔نادان تونے گھڑی عمر کی اک اور گنوادی ۔ سلسلہ نمبر : (139) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (12) صفر / ربیع الاول ۱۴۳۴ھ بمطابق جنوری  2013ء

۲۵۔عبدالرحمٰن میمن رحمہ اللہ (خادم العلم والعلماء کی رحلت)۔سلسلہ نمبر : (140) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (12) ربیع الاول / ربیع الثانی ۱۴۳۴ھ بمطابق فروی  2013ء

۲۶۔ میر ے شہر میں بھی کوئی جنگل کا دستورلے آئو۔سلسلہ نمبر : (141) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (12) ربیع الثانی / جمادی الاول ۱۴۳۴ھ بمطابق  مارچ  2013ء

۲۷۔قاری عبدالوکیل صدیقی رحمہ اللہ بلند با خطیب بےلوث قائدباوقاردوست ۔سلسلہ نمبر : (142) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (12) جمادی الاول / جمادی الثانی ۱۴۳۴ھ بمطابق اپریل  2013ء

۲۸۔صحافت ایک عظیم فریضہ ۔سلسلہ نمبر : (144) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (12) رجب / شعبان ۱۴۳۴ھ بمطابق جون  2013ء

۲۹۔اپنے رمضان کو بدعات سے بچائیے ۔سلسلہ نمبر : (145) شمارہ نمبر : (1) جلد نمبر : (13) شعبان / رمضان ۱۴۳۴ھ بمطابق جولائی  2013ء

۳۰۔عمل پرہمیشگی پسندیدہ عمل ہے۔سلسلہ نمبر : (146) شمارہ نمبر : (2) جلد نمبر : (13)  شوال  ۱۴۳۴ھ بمطابق اگست  2013ء

۳۱۔ محفوظ محافظ دستہ ۔سلسلہ نمبر : (147) شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (13)  ذی قعدہ  ۱۴۳۴ھ بمطابق ستمبر  2013ء

۳۲۔ روزنامہ امت کراچی کی سعودی عرب کے خلاف شرمناک ہرزہ سرائی۔  سلسلہ نمبر : (148) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (13)  ذو الحج  ۱۴۳۴ھ بمطابق اکتوبر   2013ء

۳۳۔برطانیہ میں حلالہ کی ہولناکیاں۔ سلسلہ نمبر : (149) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (13)  محرم الحرام  ۱۴۳۵ھ بمطابق نومبر    2013ء

۳۴۔حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ وکیل مسلک اہل حدیث کی رحلت۔  سلسلہ نمبر : (150) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (13)  صفر  ۱۴۳۵ھ بمطابق  دسمبر   2013ء

۳۵۔سزائے موت پر عمل درآمد ناگزیر ہے ۔سلسلہ نمبر : (151) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (13)  ربیع الاول ۱۴۳۵ھ بمطابق جنوری   2014ء

۳۶۔بلا امتیاز انصاف ۔ سلسلہ نمبر : (152) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (13)  ربیع الثانی ۱۴۳۵ھ بمطابق فروری   2014ء

۳۷۔جائے عبر ت پر تماشہ ۔  سلسلہ نمبر : (153) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (13)  جمادی الاول ۱۴۳۵ھ بمطابق مارچ    2014ء

۳۸۔یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے ۔سلسلہ نمبر : (154) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (13) جمادی الثانی ۱۴۳۵ھ بمطابق اپریل    2014ء

۳۹۔سالانہ تبلیغی واصلاحی اجتماع حیدرآباد ۔ سلسلہ نمبر : (155) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (13) رجب ۱۴۳۵ھ بمطابق مئی     2014ء

۴۰۔اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ۔  سلسلہ نمبر : (157) شمارہ نمبر : (1) جلد نمبر : (14)رمضان  ۱۴۳۵ھ بمطابق جولائی  2014ء

۴۱۔فرق ۔سلسلہ نمبر : (158) شمارہ نمبر : (2) جلد نمبر : (14)شوال  ۱۴۳۵ھ بمطابق اگست  2014ء

۴۲۔ شیخ عبدالغفار محمدی ۔ سلسلہ نمبر : (159) شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (14)ذی قعدہ  ۱۴۳۵ھ بمطابق ستمبر  2014ء

۴۳۔صحافتی میدان میں سعودیہ کا اولین دشمن روزنامہ امت۔ سلسلہ نمبر : (160) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (14)ذی الحج  ۱۴۳۵ھ بمطابق اکتوبر   2014ء

۴۴۔فری میسن ۔ سلسلہ نمبر : (161) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (14)محرم ۱۴۳۶ھ بمطابق نومبر   2014ء

۴۵۔بنگالی چڑیل۔سلسلہ نمبر : (162) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (14) صفر ۱۴۳۶ھ بمطابق دسمبر  2014ء

۴۶۔شیخ عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ عالم با عمل کی رحلت۔ سلسلہ نمبر : (163) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (14)  ربیع الاول  ۱۴۳۶ھ بمطابق جنوری 2015 ء

۴۷۔مولانا ولی رازی اپنے کالم کے آئینہ میں۔ سلسلہ نمبر : (164) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (14) ربیع الثانی  ۱۴۳۶ھ بمطابق فروری  2015ء

۴۸۔خادم الحرمین الشریفین کی رحلت۔ سلسلہ نمبر : (165) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (14)جمادی الاول ۱۴۳۶ھ بمطابق مارچ  2015ء

۴۹۔حفظ حدیث کے حوالے سے المعہد السلفی کی ایک منفردتقریب ۔ سلسلہ نمبر : (166) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (14)جمادی الثانی  ۱۴۳۶ھ بمطابق اپریل  2015ء

۵۰۔تعارف مکتبہ مسجد حرام ۔سلسلہ نمبر : (167) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (14) رجب  ۱۴۳۶ھ بمطابق  مئی  2015ء

۵۱۔اپنے رمضان کو بدعا ت سے بچائیے ۔ سلسلہ نمبر : (168) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (14) شعبان ۱۴۳۶ھ بمطابق جون  2015ء

۵۲۔بھارتی وزیر اعظم کا دورہ بنگلہ دیش۔ سلسلہ نمبر : (169) شمارہ نمبر : (1) جلد نمبر : (15) رمضان ۱۴۳۶ھ بمطابق جولائی  2015ء

۵۳۔مدینہ پاک سرزمین پاک۔ سلسلہ نمبر : (170) شمارہ نمبر : (2) جلد نمبر : (15)شوال    ۱۴۳۶ھ بمطابق  اگست  2015ء

۵۴۔بھائی عبدالرحمٰن کا سفر آخرت۔ سلسلہ نمبر :(171) شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (15)ذی القعدہ  ۱۴۳۶ھ بمطابق  ستمبر  2015ء

۵۵۔کالاباغ ڈیم ۔ سلسلہ نمبر : (172) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (15)  ذی الحج  ۱۴۳۶ھ بمطابق اکتوبر  2015ء

۵۶۔سانحہ منٰی ۔ سلسلہ نمبر : (173) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (15)  محرم  ۱۴۳۷ھ بمطابق  نومبر  2015ء

۵۷۔حافظ عبدالحمید اظہر رحمہ اللہ ۔  سلسلہ نمبر : (175) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (15) ربیع الاول/ ربیع الثانی ۱۴۳۷ھ بمطابق جنوری   2016ء

۵۸۔ایران سعودی تنازعہ۔  سلسلہ نمبر : (176) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (15)ربیع الثانی / جمادی الاول  ۱۴۳۷ھ بمطابق فروری    2016ء

۵۹۔حالات حاضرہ اور جمعیت اہل حدیث سندھ وحیدرآباد کا مؤقف۔  سلسلہ نمبر : (177) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (15)جمادی الاول / جمادی الثانی  ۱۴۳۷ھ بمطابق مارچ   2016ء

۶۰۔تیری شان جل جلالہ۔ سلسلہ نمبر : (178) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (15)جمادی الثانی / رجب ۱۴۳۷ھ بمطابق اپریل   2016ء

۶۱۔المعہد السلفی کراچی شعبہ تحفیظ القرآن کی ایک منفر دومختصر تقریب۔ سلسلہ نمبر : (179) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (15) رجب / شعبان ۱۴۳۷ھ بمطابق مئی  2016ء

۶۲۔اٹھارویں سالانہ تقریب المعہد السلفی کراچی ۔ سلسلہ نمبر : (180) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (15) شعبان/ رمضان  ۱۴۳۷ھ بمطابق جون  2016ء

۶۳۔ایک خواب کی تعبیر اور اس کی حقیقت۔ سلسلہ نمبر : (181) شمارہ نمبر : (1) جلد نمبر : (16) رمضان /شوال  ۱۴۳۷ھ بمطابق جولائی   2016ء

۶۴۔19ویں تعلیمی سال کے آغاز پر رئیس المعہد کی انمول نصائح۔ سلسلہ نمبر : (183) شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (16)ذی قعدہ / ذی الحج  ۱۴۳۷ھ بمطابق ستمبر   2016ء

۶۵۔روزنامہ امت داعی شرک وبدعت۔ سلسلہ نمبر : (184) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (16)ذی الحج/ محرم ۱۴۳۸ھ بمطابق اکتوبر   2016ء

۶۶۔عمر بھر کاکرب انگیز پچھتاوا ۔ سلسلہ نمبر : (185) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (16) محرم/ صفر ۱۴۳۸ھ بمطابق نومبر   2016ء

۶۷۔المعہدالسلفی کی ایک منفرد ومثالی تقریب۔ سلسلہ نمبر : (186) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (16) ربیع الاول ۱۴۳۸ھ بمطابق دسمبر   2016ء

۶۸ ۔باب الاسلام کی شناخت مٹانے کی مذموم سعی ۔ سلسلہ نمبر : (187) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (16) ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ بمطابق جنوری  2017ء

۶۹۔اللہ جل وعلی عرش پر مستوی ہے۔ سلسلہ نمبر : (188) شمارہ نمبر : (8) جلد نمبر : (16)  جمادی الاول  ۱۴۳۸ھ بمطابق فروری  2017ء

۷۰۔پانی ہے زندگی ۔ سلسلہ نمبر : (189) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (16)  جمادی الثانی  ۱۴۳۸ھ بمطابق مارچ   2017ء

۷۱۔مولانا ولی رازی کا غلط نظریہ ۔ سلسلہ نمبر : (190) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (16)  رجب  ۱۴۳۸ھ بمطابق اپریل   2017ء

۷۲۔جنت کی طلب اصل مقصود عبادت ہے۔  سلسلہ نمبر : (191) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (16)  شعبان  ۱۴۳۸ھ بمطابق  مئی    2017ء

۷۳۔المعہد السلفی کی 19ویں سالانہ تقریب بخاری۔ سلسلہ نمبر : (192) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (16)  رمضان  ۱۴۳۸ھ بمطابق  جون 2017ء

ضروری تنبیہات :

اداروں کی کوشش ہوا کرتی ہے کہ حتی الامکان کوئی غلطی نہ رہ جائے لیکن انسان کے کاموں میں اخطاء کا امکان بہرحال رہتا ہی ہے ، بس یہی ہوا کہ جب یہ شمارے شائع ہوے تو بعض شماروں کے سلسلہ نمبر یا جلد نمبر یا شمارہ نمبر کے حوالے سے طباعتی غلطیاں ہوئیں تھیں ، جن کی اس اشاریہ میں ہم نے اصلاح کردی گئی ہے ، ان تنبیہات میں ان اصلاحات کی نشاندہی کی جارہی ہے کہ اپنے اپنے ریکارڈ میں اس کی اصلاح کرلی جائے ۔

سلسلہ نمبر : (123)  شمارہ نمبر : (3) جلد نمبر : (11) شوال ۱۴۳۲ھ بمطابق ستمبر 2011ء  کے شمارے میںغلطی سے جلد نمبر 12 طبع ہوا تھا۔

سلسلہ نمبر : (124) شمارہ نمبر : (4) جلد نمبر : (11) ذیقعدہ  ۱۴۳۲ھ بمطابق اکتوبر  2011ء کے شمارے میںغلطی سے جلد نمبر 12 طبع ہوا تھا۔

سلسلہ نمبر : (125) شمارہ نمبر : (5) جلد نمبر : (11)ذی الحج  ۱۴۳۲ھ بمطابق نومبر  2011ء   کے شمارے میں جلد نمبر 11 کی جگہ غلطی سے جلد نمبر 12 طبع ہوا تھا۔

سلسلہ نمبر : (129) شمارہ نمبر : (9) جلد نمبر : (11) ربیع الثانی۱۴۳۳ھ  بمطابق مارچ 2012 ء کے شمارے میں شمارہ نمبر 9 کی جگہ غلطی سے شمارہ نمبر 8 طبع ہوا تھا۔

سلسلہ نمبر : (138) شمارہ نمبر : (6) جلد نمبر : (12) محرم / صفر  ۱۴۳۴ھ  بمطابق دسمبر   2012 ء کے شمارے میں سلسلہ نمبر 138 کی جگہ 137 طبع ہوگیا تھا

سلسلہ نمبر : (187) شمارہ نمبر : (7) جلد نمبر : (16) ربیع الثانی ۱۴۳۸ھ بمطابق جنوری  2017ء  کے شمارے میں شمارہ نمبر 7 کی جگہ شمارہ نمبر 6 طبع ہوگیا تھا۔

سلسلہ نمبر : (190) شمارہ نمبر : (10) جلد نمبر : (16)  رجب  ۱۴۳۸ھ بمطابق اپریل  2017ء  کے شمارے میں جلد نمبر 16 کی جگہ جلد نمبر 17 طبع ہوگیا تھا۔

سلسلہ نمبر : (191) شمارہ نمبر : (11) جلد نمبر : (16)  شعبان  ۱۴۳۸ھ بمطابق  مئی  2017ء  کے شمارے میں شمارہ نمبر 11 کی جگہ شمارہ نمبر 9 طبع ہوگیا تھا ۔

 سلسلہ نمبر : (192) شمارہ نمبر : (12) جلد نمبر : (16)  رمضان  ۱۴۳۸ھ بمطابق  جون 2017ء  کے شمارے میں شمارہ نمبر 12 کی جگہ شمارہ نمبر 10 طبع ہوگیا تھا

About شیخ یونس اثری

Check Also

ایک من گھڑت روایت اور غلط استدلال

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply