Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » December Magazine » ریاست مدینہ اور حرمت شراب!

ریاست مدینہ اور حرمت شراب!

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

ریاست مدینہ اور حرمت شراب!

الحمدللہ والصلاة والسلام علی رسول الله وعلی آلہ واصحابہ اجمعین اما بعد:

قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

چند دن قبل حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ہندو اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ،جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ”شراب اسلام کے علاوہ ہندو اور عیسائیت میں بھی حرام ہے لہذا اس کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے “۔

اس قرارداد کی مخالفت  حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے “مسلمان اراکین“ نے  بالاتفاق کی اور یوں ایک ہندو اقلیتی رکن اسمبلی کی شراب پر پابندی کی درخواست نامنظور ہوگئی!

قارئین کرام!مندرجہ بالا خبر کو پڑھیں اور اپنے منتخب نمائندوں کی داد دیں ! اور یوں اقبال کے اس شعر  کا چشم دید مشاہدہ کریں  :

جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے!

لیکن ایک اقلیتی رکن اسمبلی کی شراب پر پابندی کے خلاف تحریک ارکان اسمبلی کی اکثریت نے مسترد کر دی ۔ بالفرض اگر اکثریتی ارکان یہ قرارداد پیش کرتے اور اقلیتی ارکان اس کے خلاف بولتے تو سمجھ آتا کہ چلو شراب نوشی ان کی برادری میں برا فعل نہیں ہو گا۔ لیکن یہاں تو گنگا ہی الٹی بہنے لگی!

مقام حیرت یہ ہے کہ حکمران جماعت کے ترجمان نے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک بہانہ قرار دیا اور کہاکہ شراب پر پابندی عائد کر نے سے کچھ نہیں ہونے والا جس نے پینی ہے وہ تو پیتا رہے گا اور پھر مطالبہ ہوگا کہ اقلیتوں سے جزیہ لیا جائے اور عورتیں گھروں سے باہر نہ نکلیں۔۔۔!!!

خرد کا نام جنوں رکھ دیا

اور جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا

حسن کرشمہ ساز کرے

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقلیتی ارکان کے مطابق اقلیت کے نام پر ملک بھر میں شراب خانے چلائے جا رہے ہیں جبکہ ان کے مالکان کی اکثریت کا تعلق اقلیتی برادری سے نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ طاقتور اشرافیہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے اقلیتی برادری کا نام استعمال کر تے ہیں۔ جس سے یہ غلط تاثر عام ہوتا ہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں شراب کے کاروبار پر پابندی عائد کی گئی لیکن جنرل ضیاءالحق کے دور میں حکومت نے اقلیت کے نام پر شراب کی خرید و فروخت کے لائسنس دینے کا فیصلہ کیا۔یہ سلسلہ آج تک ہر برسر اقتدار آنے والی حکومت نےجاری رکھا ہوا ہے۔

عمران خان صاحب انتخابات سے پہلے اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے اس بیان کی نا صرف تحریک انصاف بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے بھی تعریف کی اور تمام تر سیاسی مخالفت کے باوجود پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

وزیراعظم عمران خان نوجوانوں کو سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں آئیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں شراب کی حرمت کا بیان  کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں شراب اور شرابی سے کیا معاملہ کیا جاتا تھا:

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شراب نہ پیو یہ ہرشر کی چابی ہے۔ (سلسلۃ الصحیحہ : 2798 )

ایک حدیث میں اسے ام الخبائث قرار دیا گیا ۔ (سلسلہ الصحیحۃ: 1854)

ایک حدیث میں اسے راس کل فاحشۃ قرار دیا گیا۔ (ارواء الغلیل: 2026)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

کُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَکَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَأَهْرِقْھَا فَخَرَجْتُ فَھَرَقْتُھَا فَجَرَتْ فِي سِکَکِ الْمَدِينَةِ (صحیح بخاری: 2464، صحیح مسلم: 1980)

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ابوطلحہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، اس زمانہ میں لوگ فضیخ شراب استعمال کرتے تھے، رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردے ،سن لو !شراب حرام کر دی گئی ۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:  مجھ سے ابوطلحہ نے کہا :باہر جاؤ اور اس شراب کو بہا دوچنانچہ میں باہر نکلا اور اس کو بہا دیا۔ اس دن مدینہ کی گلیوں میں شراب بہہ رہی تھی۔

شارع نے ایک قطرہ شراب بھی حرام قرار دیا ہے، اگرچہ اس سے کوئی زیادہ فساد ظاہر نہیں ہوتا،لیکن یہ زیادہ پینے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لہٰذا یہ سدذریعہ کے طور پر حرام ہے۔

 عبداللّٰہ بن عمرؓ سے روایت ہےکہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

«كل مُسكر حرام، وما أسكر كثيره فقليله حرام»(سنن ابی دائود:3681)

”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیداکرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”

 عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :

«كلّ مُسكر حرام، وما أسكر الفرق منه فملء الكف منه حرام»(سنن ابی دائود:3687)

”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیزکا ایک ‘فرق ‘ نشہ پیداکرے،اس کا چُلّو بھر بھی حرام ہے۔”

شراب نوش لوگوں کی محفل یا وہ دستر خوان جس پر شراب یا دیگر منشیات ہوں ،وہاں ایک مسلمان کا موجود ہونا حرام ہے۔رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

«من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقعد علي مائدة يشرب عليها الخمر»(صحیح الترغیب والترھیب للالبانی:2360)

”جو بھی اللّٰہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پی جا تی ہو۔”

مسلمان پر حرام ہےکہ وہ کسی کو شراب پلائے چاہے وہ بچہ ہو یا پاگل ہو یا کافر ہو۔ کیونکہ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

«لعن الله الخمر و شاربها وساقيها وبائعها ومبتاعها وعاصرها ومعتصرها وحاملها والمحمولة إليه وآکل ثمنھا»(مسند احمد8/70وقال شیخ احمدشاکررحمہ اللہ وسندہ صحیح)

” اللّٰہ تعالیٰ شراب پر لعنت فرمائے، اسی طرح شراب پینے والے،پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، نچوڑنے والے اسے تیار کروانے والے، منتقل کرنے والے اور جس کی طرف منتقل کی جارہی ہے، ان سب پر اللّٰہ تعالیٰ لعنت فرمائے۔”

شرابی پرحد لگائی جاتی اور حد شراب اَسّی (80) کوڑے ہیں۔یہ جمہور کا موقف ہے، ائمہ ثلاثہ (ابوحنیفہ، مالک، احمد) اسی کے قائل ہیں۔ شافعیہ کے ہاں بھی یہی موقف پایا جاتا ہے۔

اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:

ایک روایت میں رسول اکرمﷺ کی طرف سے حد خمر میں اَسّی کوڑوں کا ذکر ملتا ہے۔

 سیدنا انس سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ کےپاس ایک آدمی کو لایا گیاجس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں کے ساتھ چالیس کوڑےلگوائے۔ حضرت ابوبکر نے بھی ایسا ہی کیا، حضرت عمر کا زمانہ آیا تو اُنہوں نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا کہ کم از کم حد 80 کوڑے (حد قذف) ہے۔ عمر نے اسی کا حکم دے دیا۔(صحیح ابن حبان :4450اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین)

 نیز صحابہ کرام اس پر متفق ہوگئے تھے۔

اگر دین اسلام سے قطع نظر طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو شراب پینے کے جان لیوا نقصانات ہیں۔ جن سے ہر شخص واقف ہے۔ کینسر، پھیپھڑوں ، جگر اور گردے کی بیماریاں، یاداشت کم یا ختم ہونااور رعشے جیسی موذی بیماریوں سمیت لاتعداد امراض شراب نوشی سے جڑے ہیں۔

ہماری حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور چونکہ اس وقت یہ بل ایک غیر مسلم رکن اسمبلی کی جانب سے پیش ہوا ہے جن کی آڑ لیکر شراب کے چور دروازے کھولے گئے ہیں تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہمیشہ ہمیشہ کےلئے  شراب پرپابندی لگادی جائے،اور آپ کا ایسا کرنا ریاست مدینہ کی جانب پہلاقدم ہوگااوریادرکھیں امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاتھا:نحن قوم اعزنا اللہ بالاسلام مھما ابتغینا العزۃ بغیرہ  اذلنا اللہ . یعنی ہم (مسلمان) وہ قوم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت عزت (ترقی وعروج) سے نوازا ہےہم اگر اسلام کوچھوڑ کر عزت (تعمیر وترقی) کا کوئی راستہ اپنائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلت و پستی میں گرادےگا۔

اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنائے اور اس کی سالمیت کی حفاظت فرمائے۔آمین

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

عدل وانصاف کے تقاضے اور ہماری عدالتیں!

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply