نظم

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

ازلی دشمن

جہاں میں ہے شیطاں، ابن آدم کا دشمن

دعوتِ معصیت میں، وہ ہے رہتا مگن

ابن آدم ازل سے شیطاں کا ہدف ہے

ابن آدم سے ہرپل، اس کو ہے بس جلن

سوء و بد کو ہے دیتا خوش نمائی کی صورت

اس کو آتا ہے ازحد ملمع سازی کا فن

اس کا مکر و دجل، پر خطر ہے بہت

ورغلاتا ہے بن کر، خیرخواہ وسجن

وار کرتا ہے وہ، مخفی انداز سے

ہر کسی کو ہے کرتا، مبتلائے فتن

اس کا مقصد یہی ہے، حق سے ہٹ جائیں لوگ

اپنے مقصد کی خاطر، وہ ہے کرتا جتن

رب کا عاصی ہے وہ، خود پسندی پہ نازاں

اس نے ٹھکرادیا، رب کا امر و اذن

رب کی لعنت کا پھر، مستحق بن گیا

عنقریب وہ بنے گا، جہنم کا ایندھن

جس نے کی اتباع، شیطاں کی یہاں

آخرت میں جہنم، اس کا ہوگا سکن

راہِ شیطاں پہ نہ چل، تو کبھی اثریؔ

چاہتا ہے اگر تو آخرت میں امن

About حافظ عبدالکریم اثری

Check Also

Ahsaas

احساس کس قدر ابن آدم، تو ہے کرتا گناہ گامزن راہِ عصیان یہ، تو ہے …

Leave a Reply