Home » Dawat E Ahle Hadith Magazine » 2018 » April Magazine » برج و ستارے حقیقت کیا  ہے

برج و ستارے حقیقت کیا  ہے

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the content is shown below in the alternative language. You may click the link to switch the active language.

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی  آلہ و صحبہ  اجمعین اما بعد!

قارئین کرام ! السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

وطن عزیز میں ہر روز شائع ہو نے والےاخبارات اور ہفتہ وار رسائل و مجلات  میں مستقل سلسلہ دکھائی دیتا ہےکہ’’آپ کا دن کیسا رہے گا، آپ کا ہفتہ کیسے گذرے گا‘‘۔بہت سارے لوگ یہ سوال کرتے نظر آئیں گے کہ آپ کا اسٹار کونسا ہے؟

تاریخ پیدائش یا نام کے پہلے حرف سے بارہ برجوں : حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی اور حوت کا تعین کیا جاتا ہے۔  ان ستاروں اور برجوں  نےاس حد تک  پنجے گاڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے ہاں زبان زد خاص وعام جملوں میں سے ایک جملہ یہ بھی ہے کہ’’ فلاں کا ستارہ چمک رہا ہے‘‘؛جس کا مفہوم یہ ہے کہ  اس کا نصیب  جاگ اٹھا ہے،دن پھر گئے ہیں۔ ’’فلاں کا ستارہ گردش میں ہے‘‘؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کےبرے دن آچکے  ہیں ،وہ مصائب وآلام میں گھر گیا ہے  اور تنزلی و ناکامی کی طرف گامزن ہے۔بلکہ حد تویہ ہے کہ بعض ’’دینی مراکز‘‘میںبرج وستاروں کے حوالے سے کورس کرائے جاتےہیں۔

معزز قارئین!اب آیئے قدرےتفصیل سے علم نجوم کی اقسام وحکم کے بارے میں جانتے ہیں:

علمائے کرام نےعلم نجوم کی تین قسمیں ذکر کی ہیں:

(الف)یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ ستارے ازخود مؤثر ہوتے ہیں اور ان کے اثر سے زمینی حوادث رونما ہوتے ہیں۔ ایسا سمجھنا ان کی عبادت کے مترادف ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ ایسا عقیدہ کفر اور قوم ابراہیم کے شرک جیسا بڑا شرک ہے۔

(ب)علم نجوم کی دوسری قسم کا تعلق علم تاثیر سے ہے یعنی ان کی حرکات، ایک دوسرے سے ان کے قرب و بعد یا ان کے طلوع و غروب سے زمینی حوادث پر استدلال کرنا۔ یہ کہانت یعنی غیب کی خبریں دینے کی مانند ہے۔ ایسا کرنے والے کو نجومی کہا جاتا ہے۔ نجومیوں کو یہ باتیں شیاطین بتاجاتے ہیں۔ یہ قسم بھی حرام ، کبیرہ گناہ اور اللہ تعالی کےساتھ کفر ہے۔

(ج)علم نجوم کی تیسری قسم جسے “علم تسییر” کہا جاتا ہے ، اس میں ستاروں کی رفتار وحرکات سے قبلہ اور اوقات یا موسموں و غیرہ کا تعین کیا جاتا ہے، بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔

اس لیے کہ یہ لوگ ستاروں کی رفتار و حرکات ، ان کے ایک دوسرے سے قریب ہونے یا دور ہونے، یا ان کے طلوع و غروب سے، محض وقت اور زمانہ کا تعین کرتے ہیں۔وہ ستاروں کی ان حرکات کو کسی کام کے لیے سبب اور اثر قرار نہیں دیتے۔ محض اتنی سی بات کرنے اور اسی مقصد کے لیے ستاروں کا علم حاصل کرنے میں شرعا کوئی قباحت نہیں بلکہ اس کی اجازت ہے۔

اس مختصر وضاحت کے بعد  آمدم بر سر مطلب! راقم کے سامنے روزنامہ امت بروز جمعہ 16مارچ2018ع  کے اشاعت ہے جس میں ایک عنوان’’ماہرین نجوم نے نواز-زرداری کا سیاسی مستقبل مخدوش قرار دے دیا‘‘ہے۔جس کی تحت سیاست دانوں کے متعلق نجومیوں اور ستارہ شناسوں کی پیش گوئیاں ذکر کی گئی ہیں ؛ اگرچہ ادارے کی طرف سے مختصر وضاحت کی گئی ہے کہ علم غیب صرف اللہ تعالی کو ہےتاہم یہ ماہرین نجوم کی کچھ پیش گوئیاں ہیں جو ضروری نہیں کہ درست بھی ثابت ہوں……!!!  یہ وضاحت ناکافی ہے اس معاملے کی  بابت جس کا تعلق عقیدےسے ہے۔ویسے اسلام نے ایک قاعدہ سدِّ زرائع کا بھی  اعتبار کیا ہے جس کے مطابق ہر وہ امر جو کسی گناہ کی طرف لے جائے تو اس کو اپنانا ہی ناجائز و منکر ہے اس سے دور ہونا ضروری ہو جاتا ہے ۔ اگر بمشیئۃ اللہ ایسا ہو جائے جو وہ نجومی پیش گوئی کر رہا ہےتو ضعیف العقیدہ لوگ اس کی تصدیق کر لیں گے؛تو ایسی خبروں کا ذکر کرنا ہی بد عقیدگی اور شرک کی نشرواشاعت ہے۔

اب آئیے !شرعی نصوص کی روشنی میں مذکور ہ بالا موضوع  کا جائزہ لیتے ہیں:

امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں قتادہ رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہیں کہ: خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالٰی هذِہِ النُّجُوْمَ لِثَلَاثٍ جَعَلَھَا زِیْنَۃً لِلسَّمَائِ وَرُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ وَ عَلَامَاتٍ یُھْتَدٰی بِھَا فَمَنْ تَأَوَّلَ فِیْھَا بِغَیْرِ ذٰلِکَ أَخْطَأَ وَ أَضَاعَ نَصِیْبَہٗ وَتَکَلَّفَ مَالَا یَعْلَمُ .

ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے یہ ستارے صرف تین چیزوں کے لئے بنائے ہیں۔ آسمان کی زینت کے لئے اور شیطانوں کو مارنے کے لئے اور راہ معلوم کرنے کی علامتیں بنایا ہے تو جو کوئی ان میں مذکور چیزوں سے ہٹ کر کوئی معنی نکالے (اور ان کو مستقبل کے واقعات جاننے کا ذریعہ سمجھے) تو اس نے غلطی کی اور (عمر کا) اپنا حصہ ضائع کیا اور ایسی چیز کے در پے ہوا جو  اس طرح کے ذرائع سے معلوم نہیں ہو سکتی۔

قتادہ رحمہ اللہ کےیہ قول قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات کی روشنی میں ہے:

جیساکہ فرمان باری  تعالی ہے: إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ﴿6﴾ وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ﴿7﴾ لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ﴿8﴾ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ﴿9﴾ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿10﴾

ترجمہ:ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔ (6) اور حفاظت کی سرکش شیطان سے۔ (7) عالم بالا کے فرشتوں [کی باتوں] کو سننے کے لئے وہ کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وہ مارے جاتے ہیں۔ (8) بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ (9) مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو [فوراً ہی] اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ (10)

جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ» (67-الملك:5)، ” ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ، اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں “۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ» (15-الحجر:16-18) ترجمہ:” ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے “۔

 وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (النحل 16) ترجمہ:اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں۔

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: جن (ستاروں )سے تری وخشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کر لیتے ہیں۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں۔ ستارے بھی رہنمائی کے لیے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے۔

اب  آئیے!اس  موضوع سے  متعلق کچھ احادیث سے آگاہی حاصل کرتے ہیں:

علم نجوم (ستاروں کے علم) کے ذریعہ غیبی امور کا دعویٰ حرام اور مذموم ستارہ پرستی ہے جو کہانت اور جادو کی ایک قسم ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

مَنْ اقْتَبَسَ شُعْبَةً عِلْمًا مِّنَ النُّجُومِ،فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِّنَ السِّحْرِ](سنن ابی داود، الطب، باب فی النجوم، ح:3905 ومسند احمد:1/ 277، 311)

ترجمہ:’’جس نے علم نجوم کا جتنا حصہ سیکھا اس نے اسی قدر جارو سیکھا۔‘‘

زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں ہمیں صلاۃِ فجر بارش کے بعد پڑھا ئی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے توفرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟، لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جا نتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مو من ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایما ن رکھنے والاہوا اور ستا روں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں ستارے کے سبب   بارش دیئےگئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا۔( صحیح بخاری /الأذان ۱۵۶ )

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن اَتَی عَرَّافاً اَو کَاہِناً فَصَدَّقَہ ُ فِیمَا یَقُولُ فَقَد کَفَرَ بِمَا اُنزلَ عَلیَ مُحمَدٍ  ترجمہ:جو کِسی (غیب کی خبر بتانے ) کے دعویٰ دار یا نجومی کے پاس گیا ، اور اُس کی کہی ہوئی بات کو دُرُست مانا ، تو اُس دُرُست ماننے والے نے جو کچھ مُحمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل کِیا گیا اُس کا کفر کیا ( المستدرک الحاکم / حدیث ١٥ ، اِمام الحاکم ، اور اِمام الالبانی نے  اس  حدیث کو صحیح  کہا ہے۔صحیح الترغیب و الترھیب ۳۰۴۷ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

من أتى عرافا فسأله عن شىء لم تقبل له صلوة أربعين ليلة (صحيح مسلم و مسند احمد)

ترجمہ:”جو شخص کسی نجومی کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ “

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد گرامی ہے :

من أتى عرافا أو كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم (سنن أربعة، مستدرك حاكم، مسند بزار، المعجم الأوسط)

ترجمہ:”جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے اس شریعت کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ “

سعودی عرب کے نامور عالم دین شیخ صالح آل شیخ حفظہ اللہ ’’التمھید شرح کتاب التوحید‘‘ میں ذکر کرتے ہیں :’’ستاروں کوزمین میں وقوع پزیر حوادث اور واقعات میں مؤثر ماننا یہ جادو اور کہانت میں سے ہے۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان کا وجود شرک اور بدعقیدگی کو فروغ دیتا ہے  ؛جس کا انکار اور رد ہر مسلمان پر واجب ہے  بنابریں ہر مسلمان پر ضروری ہے ایسے اخبارات اور مجلات کو اپنے گھروں  میں داخل نہ کرے  اور نہ ہی ان کا مطالعہ کرے یہاں تک کہ ان کی طرف نگاہ بھی نہ اٹھائے ؛اس لیئے کہ معرفت اور معلومات کے نظریے سے بھی انسان ان احادیث میں وارد نہی کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے جیساکہ امر معلوم ہے کہ کوئی مسلمان بغیر رد و انکار کے کاہن و جادوگر کے پاس نہیں جاسکتا۔‘‘

شیخ صالح آل شیخ حفظہ اللہ آگے بیان کرتے ہیں کہ:

’’جو شخص اپنے ستارے کو جانتا ہے کہ اس کی پیدائش اس میں ہوئی ہے پھر اس میں جو کچھ مذکور ہے اس کو پڑھ لیتا ہے؛تو ایسے ہے جیسے اس نے کسی کاہن و جادوگر سے سوال کیا ایسے شخص کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں ہوگی ، اگر وہ اس  (برج)کی تصدیق کرتا ہے تو اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت کا انکار کیا۔والعیاذباللہ‘‘

قائین کرام! اس حقیقت سے آگاہی کے بعد علماء کرام اور طلباء عظام پر واجب ہے کہ وہ خوب وضاحت کے ساتھ اس مسئلے کو اپنے دروس و خطبات میں عوام الناس کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کے عقائد و اعمال کی اصلاح ہوسکے۔

ہم بصد احترام اس اداریے کی وساطت سے ان تمام اخبارات اور مجلات کے ذمہ داران سے مخاطب ہیں جو برج اور ستاروں کے مستقل سلسلے چلا رہے ہیں اور انہوں نے اس گمراہی کے لیئے صفحات مختص کر رکھے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈر جائیں اور اپنے عقائد کی اصلاح کریں اور ان توہمات اور بد عقیدگی پر مبنی سلسلوں کو فوری طور پر بند کردیں اور اللہ تعالی کے حضور سچی توبہ کریں ؛بصورت دیگر لوگوں میں شرک و بد عقیدگی پھیلانے کے مرتک ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی  کے غضب کے مستحق ہوں گے اور دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا شکار ہوں گے۔

اللہ تعالی ہم سب کے عقائد و اعمال کی اصلاح  فرمائےاور ہر طرح کے فتنوں سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین.

عبدالغفار انصاری رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال

8مارچ 2018ء بروز جمعرات کو ایک انتہائی المناک خبرموصول ہو ئی کہ جمعیت اہل حدیث حیدرآباد کی عظیم شخصیت اور جماعت کی ہردل عزیز ہستی عبدالغفار انصاری رحمہ اللہ اس فانی جہاں کو چھوڑ کر سفرآخرت کی طرف روانہ ہوچکے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔

عبدالغفار انصاری رحمہ اللہ علامہ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کے معتمد ساتھیوں میںسے تھے اور علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ  کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ،اللہ تعالیٰ نےان کومنہج سلف کے ساتھ خصوصی شغف عطاکیاتھا،وہ تقویٰ او رپرہیزگاری میںایک نمونہ تھے ،کافی عرصے سے علیل تھے ۔ان کی نماز جنازہ فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصررحمانی حفظہ اللہ نے پڑھائی ،اور نماز جنازہ میں علماء کرام اور جماعت کےذمہ داران نےکثیر تعداد میں شرکت کی۔اگلے دن بوہرہ پیرمیں خطبہ جمعہ کےدوران شیخ صاحب حفظہ اللہ نے ان کا خصوصی تذکرہ کیا اور نماز جمعہ کے بعد ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔

ادارہ دعوت اہل حدیث عبدالغفار انصاری رحمہ اللہ کےپسماندگان سےمسنون تعزیت کرتا ہے اوردعاگو ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری لغزشوںکو معاف فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔آمین

About شیخ عبدالصمد مدنی

Check Also

ناطقہ سربہ گریباںکہ اسے کیاکہئے!

Sorry, this entry is only available in Urdu. For the sake of viewer convenience, the …

Leave a Reply