Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » ۱۹ویں تعلیمی سال کے آغاز پر رئیس المعہد کی انمول نصائح

۱۹ویں تعلیمی سال کے آغاز پر رئیس المعہد کی انمول نصائح

ذوالفقارعلی طاہر

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول ﷲ (ﷺ) وبعد!
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
بتاریخ 24جولائی2016ء بمطابق ۱۹شوال ۱۴۳۷ھ بروز اتوار ساڑھے گیارہ بجے دن المعہد السلفی للتعلیم والتربیۃ کراچی کے ۱۹ویں تعلیمی سال کےآغازپر ایک مختصر تقریب منعقد کی گئی، جس میں شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے جماعتی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی، سب سے پہلے درجہ سابعہ کے طالب علم حافظ بدیع الدین نے تلاوت کلام پاک کی بعدازاں فضیلۃ الشیخ محمد افضل اثریdنے مختصر خطاب فرمایا جبکہ آخر میں رئیس المعہد فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdنے اہم وپرمغز خطاب فرمایا جس میں آپ نے طلبہ،اساتذہ اور دیگر حاضرین کو بڑی قیمتی نصائح ارشاد فرمائیں، شیخ محترم dکے خطاب سے چنداقتباسات ذکر کئے جاتے ہیں:
خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا:
mآج کے پروگرام میں اس ادارے کی روح رواں شخصیت موجود نہیں ہے، وہ اس ادارے کی جان ہیں،میری مراد شیخ محمد داؤد شاکر صاحب ہیں،کئی مواقع اورمرحلوں پر جی چاہا کہ ہمت ہارجائیں لیکن شیخ داؤدشاکر صاحب نے حوصلہ دیا ،ہمت بندھائی اور آج نتیجہ آپ کے سامنے ہےکہ ادارہ کو18سال مکمل ہوچکے ہیں اور 147فرزندانِ المعہد السلفی علماء کی صف میں شامل ہوکر میدانِ تدریس وتصنیف اور دعوت وتبلیغ میں قدم رکھ چکے ہیںاور تقریباً اتنی ہی تعداد میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرچکے ہیں۔شیخ داؤد صاحب کو اپنی ایک عزیزہ کی وفات کی وجہ سے پنجاب جانا پڑا، اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی عزیزہ کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔آمین
mعزیز طلبہ واساتذہ! ایک عالمِ ربانی وہی ہے جس کااللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہے، جو خشیتِ الٰہی سے متصف ہے، علماء کو خاص طور پر اس خصلت سے نوازا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا:[اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُا](فاطر:۲۸)یعنی: اللہ کے بندوں میں سے علماء ہی اللہ کی خشیت سے متصف ہیں۔
باقی جس کی نگاہوں کامحور ہمیشہ مالدار اورتاجرہوں، جس کی یہ سوچ ہو کہ میرے پاس دنیادار،مالدارآئیں اور اس کے قدم بغرض حصولِ مال ہمیشہ تجارت کے مراکز اوربازار کی جانب اٹھیں وہ عالم ربانی نہیں ہوسکتا۔
mنبی کریم ﷺ کی ایک دعا کے الفاظ ہیں کہ:اللھم إنی أسئلک علما نافعا.یعنی یااللہ! میں تجھ سے علمِ نافع کا سوال کرتاہوں۔
اورعلم نافع وہ ہے جس پر عمل کیاجائے، جس علم پر عمل نہ کیاجائے وہ نافع نہیں کہلاسکتا، اگر کوئی صحاح ستہ کاحافظ ہو اور اپنے علم پر عمل نہ کرے تو اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پشت پر بہت ساری علمی کتب، جن میں علمی ذخیرہ ہو، لاد دی جائیں ،جس طرح اس گدھے کوعلم نہیں کہ اس کی پشت پر کیالاداگیا ہے اسی طرح وہ شخص بھی نابلد ہے کہ اس کے سینے میں کون ساخزانہ محفوظ ہے۔
mحافظ ابن قیم aفرماتے ہیں کہ:اللہ تعالیٰ کی پیداکردہ بہت سی چیزیں محض مبنی برخیر ہیں،جیسے:انبیاء اور جنت وغیرہ۔ لیکن بعض نعمتیں ایسی ہیںجو باعثِ خیر بھی ہیں اور باعثِ شر بھی جیسے اولاد،اگرفرمانبردار ہے توباعثِ خیر ہے اور اگرنافرمان ہے تو باعثِ شر، اسی طرح علم، اگر اس پر عمل ہے تو یہ سراسرباعثِ خیر ہے اور اس پر عمل نہیں تو سراسر باعثِ شر۔
یادرکھیئے! ایک جاہل کے پاس عذر ہے کہ اس کے پاس علم نہیں لیکن عالم کے پاس کوئی عذر نہیں، ایسا عالم جو علم پر عمل پیرانہیں ہے وہ اس جاہل سے بدتر ہے۔وہ شاید علم نہ ہونے کی بناء پر معذور ہو لیکن اس عالم کےپاس کوئی عذر نہیں ہے۔
mقیامت کے دن ابنِ آدم کےقدم جکڑ لئے جائیں گے اور اس سے چندسوالات کئے جا ئیں گے ان میں سے ایک سوال علم سے متعلق ہوگا کہ اس پر کس قدر عمل کیا اور دوسرا مال سے متعلق ہوگا کہ من أین اکتسبت .کہاں سے کمایا اور فیما انفقت.کہاں خرچ کیا۔ یعنی مال کا تعلق بھی ان نعمتوں سے ہے جو باعثِ خیر بھی ہیں اور باعثِ شر بھی۔یہ مال اگر دینی امور میں خرچ ہوتوباعثِ خیر اور اگر اللہ کی نافرمانی ،سرکشی وبغاوت میں صرف ہو تو باعثِ شرہے۔
mعلماء کے پاس استغناء ہونی چاہئے۔ آپ کسی آفیسر،ڈاکٹر،پروفیسر،انجینئر کودیکھیں، اس کی ٹھاٹھ باٹھ کودیکھیں، دفتر اور گاڑی کودیکھیں اور اپنے آپ کو اس سےکم تر سمجھیں تو آپ نے اس علم کی توہین کی۔ اپنے آپ کو بہترسمجھیں ،بلندسمجھیں کہ علمِ وحی آپ کے پاس ہے، اس کے پاس نہیں ہے اور بہتر سمجھنا ترفع کی بناء پر ہو نہ کہ تکبر کی بناء پر۔
mامام بخاری aکے ایک شیخ کا قول ہے کہ:جو شخص حدیث کاطالب ہے وہ سب سے بہترین شیٔ کا طالب ہے لہذا وہ خود بھی سب سے بہترین بن جائے۔ یعنی عمل بالسنۃ اختیار کرکے۔ یہ بھی اس آیت کی تفسیر ہی ہے ،یعنی:[ قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ](الزمر:۹)
mعالم کی گفتگوسنت کی اساس پر ہوتی ہے جبکہ جاہل کی گفتگو اس سے عاری ہوتی ہے۔ اسی طرح عالم کا عمل بھی سنت کی اساس پر ہوتا ہے جبکہ جاہل کو اس کاادراک نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ جو شخص ایک عالم دین کے ساتھ تعلق قائم کرلے ،رابطہ میں رہے تو اس کی گفتگو اور عمل سے بھی سنت کی خوشبوآتی ہے۔
mعزیزطلبہ! قرآن وحدیث میں اس علمِ وحی کو خیرِ کثیر قراردیاگیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہےـ[وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا](البقرۃ:۲۶۹)اور نبی کریم ﷺ کافرمان ہے:من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین.اور آپ طلبہ نے اس خیرکثیر کوحاصل کرنے کیلئے اپناوطن چھوڑا ، علاقہ چھوڑاہے، والدین بہن بھائیوں کو چھوڑا ہے، لہذا پورے اخلاص اور جذبے ولگن کے ساتھ اپنے مقصد کوپانے کی کوشش کریں، محنت کریں اور ایک لمحہ بھی ضایع نہ کریں۔
mاس ادارہ، المعہد السلفی کو ایک شخصیت کی دعا شاملِ حال ہے ، وہ شخصیت ہیں شیخ العرب والعجم ،محدث دیارِ سندھ سید ابومحمد بدیع الدین شاہ راشدیaجب آپ کے سامنے معہد کی تجویز رکھی گئی تو آپ نے اس کو بہت سراہا اور کامیابی کی دعا کی۔ اس ادارہ کے قیام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبہ سندھ جوہمارامیدانِ عمل ہے، کو دعاۃ ومبلغین فراہم کئے جائیں تاکہ جہالت کی تاریکیاں وظلمتیں نورِ توحید وسنت سے چھٹ جا ئیں۔
mمیں المعہد السلفی کے قیام سے قبل جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی میں اپنے شیخ ،شیخ الکل فی الکل جامع المعقول والمنقول مولاناحاکم علی دہلویaکی مسندپر فائز تھا جوکہ ایک بہت بڑے شرف کی بات ہے لیکن صوبہ سندھ کے طلبہ کی وجہ سے میںنے وہ مسندچھوڑ دی اور اس ادارہ کو قائم کیا۔المعہد السلفی کے قیام کااولین مشورہ شیخ محمدافضل اثریdنے دیا۔ہم سوچ رہے تھے کہ ادارہ کہاں قائم کیاجائے ،بڑی سوچ وبچار کے بعدبالآخر ہم نے تین ہٹی صراط مستقیم مسجد میں دوکمروں سے اس ادارہ کاآغاز کردیا۔
mمیں خصوصی طور پر طلبہ سے عرض کروں گا کہ آپ ان اہداف کواختیار کریں:
1تہجد کااہتمام2ایامِ بیض کے روزے3صبح وشام کے اذکار کی پابندی4روزانہ کی بنیاد پر تلاوتِ قرآن مجید5سنن رواتب کی پابندی۔
جب ادارہ کاآغاز ہوا تھا توطلبہ ان اعمال صالحہ کے پابند تھے لیکن بتدریج ان میں اس حوالے سے کمی واقع ہوتی چلی گئی حالانکہ مؤمن تو امورخیر میں تقدم اختیار کرتا ہے نہ کہ تاخر۔لہذا ایک بار پھر آپ ان امور خیر میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں ،ادارہ آپ کے ساتھ ہر ممکن معاون ہے۔
mمیں اساتذہ کرام سے بھی مخاطب ہوں: کہ آپ معلم ہونے کاحق اداکریں۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ:انما انا لکم بمنزلۃ الوالد.یعنی: میں تمہارے لئے والد کی منزلت پرہوں۔
حدیث کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں رسول کریم ﷺ نے استاذ وشاگرد کے مابین عظیم تعلق کی وضاحت فرمادی کہ استاذ،شاگرد کیلئے والد کے مقام پر ہےاور ایک والد کتنی شد ومد سے چاہتا ہے کہ میرابیٹا عزت وکمال اور دینداری میں مجھ سے بھی آگے ہو۔ اس جذبہ کے ساتھ طلبہ کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں۔
mاللہ تعالیٰ نے ہمیں ہردور میں محنتی طلبہ دیئے ہیں، المعہد السلفی میں گذشتہ سال تین طلبہ نے بلوغ المرام حفظ کی، اس سے پیوستہ گذشتہ سال ایک طالب علم نے بلوغ المرام حفظ کی، عمدۃ الاحکام تو بیسیوں طلبہ حفظ کرچکے ہیں۔ یاد رکھیئے حفظ میں ہی تفوق ہے، ابو سلمہ tمعصوم ہیں ،بچے ہیں لیکن انہیںحفظ کی وجہ سے تفوق حاصل ہوا توقوم کی امامت کا شرف ان ہی کے حصہ میں آیا۔
mامام شافعی aکا قول ہے : من طلب الحدیث بقیت حجتہ.
ابن قیم aنےلکھا ہے: اہل رائے کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ زبانِ حال سے یہی کہتے ہیں کہ ہم سے جو حجت کرے گا اور قرآن پیش کرے گا تو ہم تاویل کے ذریعے اس کی حجت کاتوڑ کریں گے اور اگر حدیث پیش کرے گا تو ہماےپاس قواعد وضوابط موجود ہیں جیسے:فقیہ وغیر فقیہ والاقاعدہ۔’’خبر آحاد حجت نہیں‘‘ یہ قاعدہ ۔تعارضا تساقطاوالاقاعدہ وغیرہ وغیرہ۔ ان قواعد کے ذریعے ہم اس کی حجت کاتوڑ کریں گے۔
اور ان کامقابلہ کیاجاسکتا ہے حفظِ متون وحفظِ حدیث کے ذریعہ۔
mمیں اس موقعہ پر اپنے بھائی عبدالرحمٰن الادaکاتذکرہ کروں گا وہ ہمارے ادارہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے اور وہ آج بھی ہمیں قدم قدم پر یاد آتے ہیں اور ان کیلئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، ان کی قبر کووسیع ،کشادہ ومنور کردے۔ آمین
ان کی وفات کے بعد ان کی جگہ پرمحترم محمدعامر میمن متمکن ہوئے، اللہ تعالیٰ انہیں ہمت واستقامت دے انہوں نے ایک سال مکمل کیا ہے، اور ان کے آنے سے بھی ادارہ کے استحکام میں کافی قدربہتری آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کوشرفِ قبولیت عطافرمائے۔
ترجمان مسلک اہل حدیث فضیلۃ الشیخ محترم ابراھیم بھٹیdرو بصحت ہیں
18اگست2016ءبروز جمعرات۱۱بجے دن اساتذہ المعہد السلفی کراچی نے نائب مدیر المعہد شیخ محمد داؤد شاکر dکی قیادت میں ترجمان مسلک اہل حدیث فضیلۃ الشیخ محمدابراھیم بھٹی dمدیر المعہد السلفی وامیر جمعیت اہل حدیث سندھ حلقہ کراچی سے معہد الشیخ بدیع کوئٹہ ٹاؤن میں ملاقات کی۔ شیخ بحمدللہ روبصحت ہیں۔ شفاہ اللہ شفاء کاملا.دورانِ ملاقات شیخ محمد رفیق اثریdکا تذکرۂ خیر کرتے ہوئے الشیخ محمد ابراھیم بھٹی dکا فرمانا تھاکہ:فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی dمحدث جلال پوری کا حددرجہ احترام کرتے ہیں،شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر میں کہیں جمعہ پڑھانے جارہا ہوں اور شیخ رفیق اثریdکا فون آجائے کہ آپ نے فلاں جگہ جمعہ پڑھانا ہے تو میں قطع نظر اس کے کہ اس جگہ پہنچ پاتا ہوں کہ نہیں،شیخ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے گاڑی کارخ موڑدوں اورروانہ ہوجاؤں۔ شیخ بھٹی صاحبdنے مزید فرمایا: ایک مرتبہ میں نے شیخ محمد رفیق اثریdکو دیکھا جمعہ کا دن تھا، آپ علیل تھے اس کے باوجود تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے طلبہ کو درسِ بخاری دے رہے تھے۔ حفظہ اللہ ورعاہ.
شیخ بھٹی صاحبdمزید فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ جلال پور کے رہائشی ایک شخص نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا میں نے کہا آپ محدث جلال پوری کے علاقہ میں رہتے ہو اور مجھ سے مسئلہ پوچھتے ہو،بہرحال میں نے اپنی علمی بساط کے مطابق اسے مسئلہ بتادیا اس نے اسی وقت شیخ محمد رفیق اثریdکو فون کیا اور وہی مسئلہ پوچھاشیخ dنے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔اس پرمجھے دلی مسرت ہوئی اور میںنے رب کا شکر ادا کیا کہ میرے جواب کو ایک محدث کی موافقت حاصل ہوگئی۔
دورانِ ملاقات امیر محترم فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصررحمانیdکا تذکرہ آنے پر محترم شیخ بھٹی صاحبdنے بڑی عقیدت واحترام کے ساتھ امیر محترم کو ڈھیرساری دعائیں دیں۔ شیخ بھٹی صاحب dاللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر ادا کررہے تھے کہ ایک وہ لمحہ تھا کہ میں زندگی وموت کی کشمکش میں تھا اور آج یہ لمحہ بھی ہے کہ میں تدریس کررہاہوں اور جمعہ بھی پڑھارہاہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کافضل وکرم ہے۔
قارئین کرام سے محترم شیخ بھٹی صاحب dکیلئے مزید دعاؤں کی درخواست ہے۔
شیخ عبدالواحد سیال آبادی اور عزت مآب میاں عبدالغفار قریشی کوصدمہ
12اگست2016ءبروز جمعہ بوقت صبح نائب شیخ الحدیث جامعہ دارالحدیث رحمانیہ سولجربازار کراچی شیخ عبدالواحد سیال آبادی dکے والد گرامی مولانا محمد علی مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ آپaکی دومرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ،محراب پور شہر میں مولانا محمد شفیق اور آبائی گاؤں میں شیخ محمد داؤد شاکرنے نماز جنازہ پڑھائی۔ مولانا محمد علی عرصہ دراز سے اپنے علاقہ میں دینی خدمات انجام دے رہے تھے وہ تمام دینی خدمات آپ کے لئے رہتی دنیا تک صدقہ جاریہ ہیں۔سب سے بڑھ کر ان کے لائق فرزند شیخ عبدالواحد اور شیخ عبدالواحد کے حافظ قرآن وعالم دین فرزند عبدالوہاب اور دیگر اولادواحفاد ان کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہیں۔ ان شاء اللہ
جبکہ17اگست2016ءبروزبدھ بوقت صبح عزت مآب محترم میاں عبدالغفار قریشی صاحب dکی ہمشیرہ کراچی میں انتقال کرگئیں، بعدازاں ان کی میت حیدرآباد لے جائی گئی، اور بعدنماز مغرب عثمانیہ مسجد لطیف آباد نمبر7میں فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی dکی اقتداء میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
بلاشبہ شیخ عبدالواحد اور میاں عبدالغفار قریشی کیلئے یہ انتہائی صدمہ کا موقع ہے ادارہ ماہ نامہ دعوت اہل حدیث دونوں شخصیات کے غم میں برابر کا شریک ہے اور ان سے مسنون تعزیت کرتا ہے۔
دریں اثناء فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیdنے شیخ عبدالواحد اور میاں عبدالغفار قریشی حفظھمااللہ سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کی ہے اور جدا ہونے والی دونوں شخصیات کی مغفرت اوربلندیٔ درجات کی دعا کی ہے۔

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے