احکام ومسائل

مفتی حافظ محمد سلیم صاحب
مفتی جمعیت اہل حدیث سندھ

سوال:144
جناب مفتی صاحب السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک لڑکی کی شادی جہاں ہوئی وہ اس شادی سے خوش نہیں اور خلع لینا چاہتی ہے لیکن خلع کیلئے کوئی معقول وجہ اس کے پاس نہیں، اس نے جب اس خواہش کا اظہار اپنےگھر میں والدین کے سامنے کیا تووالد نے اسے سختی سے سمجھایا اور مارابھی۔ اب اس لڑکی کا کہنا ہے کہ میں خلع لینے کاحق رکھتی ہوں، میں خلع لوں گی، اور والدصاحب یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ اپنی جوان اولاد کو اس طرح ماریں۔ یہ شرعی طور پرغلط ہے۔
میراسوال یہ ہے کہ والدکا اپنی جوان لڑکی کومارنا، کیاقرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح ہے۔اس حوالے سے ہماری رہنمائی فرمائیں۔(ایک سائل)
J
الجواب بعون الوہاب
صورت مسئولہ برصحت سؤال
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس میں زندگی کے ہر شعبہ اور ہر گوشہ میں انسان اور انسانیت کی راہنمائی کے زریں اصول موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بعد حقوق العباد میں شرعاً والدین کے حقوق کوجابجاذکرکیاگیاہے۔ اوران کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے:[وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۝۰ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ كِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۝۲۳ ](الاسراء:۲۳)
اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا ۔
مذکورہ مختصر تمہید کے بعد والد اپنی اولاد کو چاہے وہ نابالغ ہویابالغ ہو اگر اس کی بہتری اور اصلاح کے لئے اولاد کوڈانٹتا ہے،غصہ کرتا ہے یا اس موقع پر وہ آپے سے باہرہوجاتاہےاور اولاد پر ہاتھ اٹھالیتاہے تو ان تمام امور میں والد کاارادہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس نے یہ عمل اصلاح کی غرض سےکیا ہے یا اولاد کو بلاوجہ اذیت میں مبتلا کرنے کے لئے۔ البتہ زیادہ تروالدین کا ایسا عمل جواولاد کوناگوار گذرتا ہے، تربیت واصلاح کی غرض سے ہی ہوتا ہے۔بہرحال وجہ جو بھی ہو اسے کسی حد تک ہاتھ اٹھانے کی گنجائش ہے،اس کااندازہ صحیح بخاری میں موجود اس واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے جب آپ ایک جہادی قافلہ کے ساتھ واپس آرہے تھے اس سفر میں عائشہ rکاہار گم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے صحابہ کرام پریشان تھے۔ مزید یہ کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا اور آس پاس پانی مل نہیں رہاتھا اور نماز کاوقت ہوگیاتھا۔
یہ بات سن کر ابوبکرصدیق tاپنی بیٹی کے پاس آئے اور ان کوڈانٹا، سرزنش کی ان کی کوکھ پرہلکا سامارالیکن وہ صبر سے ساری باتیں سنتی رہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کاحکم نازل فرمایا۔(صحیح بخاری ، کتاب التیمم) اس واقعے سے کم از کم اتنا ثابت ہوجاتاہے کہ باپ اپنی جوان اولاد کوڈانٹ سکتا ہے، ہلکی پھلکی سرزنش بھی کرسکتا ہے، اس حد تک تو بات صحیح ہے۔ لیکن اگر والد بلاوجہ اپنی جوان اولاد پرہاتھ اٹھاتاہے، گالی گلوچ کرتا ہے، ہمیشہ انہیں ذہنی اور جسمانی طور پراذیت میں مبتلا کرتا ہے تو ایسی صورت میں والد عنداللہ مجرم ہے۔ اولاد کو پھر بھی اس کے برے سلوک اور رویے کاجواب برائی سے دینے کی اجازت نہیں اور حسن سلوک ہی کا حکم ہے،جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ۝۰ۚ حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰي وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ۝۰ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ۝۱۴ وَاِنْ جَاہَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا۝۰ۡوَّاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ۝۰ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۱۵ ](لقمان:۱۵)
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ،اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا
ان آیات سے واضح انداز میںوالدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیاگیا ہے،حتی کہ والدین مشرک ہونے کی وجہ سے اگر دین میں رکاوٹ بنیں تو بھی ان کےساتھ حسن سلوک کاحکم ہے اگرچہ غیر شرعی امور میں ان کی بات بھی نہیں ماننی۔ ان آیات کی روشنی میں یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہےکہ جب مشرک والدین کے ساتھ بھی حسن سلوک کاحکم ہے تو ایسے والد یاوالدین ،جومشرک نہیں البتہ سخت مزاج ہیں، تو ان کے ساتھ حسن سلوک کے لئے کوئی مانع بھلا کیونکر ہوسکتا ہے۔ البتہ ایسی صورت میں اولاد اپناموقف احسن انداز میں پیش کرے، جس میں تلخی اور سختی کاکوئی پہلو نہ ہو۔
نیزقرآن مجید میں عمومی حقوق کے طور پر یہ اصول بتایاگیا ہے کہ[وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۝۳۴ ](فصلت:۳۴)
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست ۔
مذکورہ آیت میںدشمن پرقابوپانے اور اس کادل جیتنے کے لئے ایک نسخہ کیمیابتایاگیاہےکہ حسن سلوک اورنرم مزاجی اختیار کی جائے جب دشمن کاسخت رویہ ،جھڑکیاں وغیرہ برداشت کی جاسکتی ہیں۔ والدین کامعاملہ تو ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اور زیادہ احسن رویے کامتقاضی ہے۔
آخر میںد ونوں(والدین اوراولاد) کے لئے یہی نصیحت ہے کہ باپ کو چاہئے کہ اپنے اختیارات کاشرعاً غلط استعمال نہیں کرے۔
نیزاولاد بھی ادب کے دائرے میں رہے اور ان امور سے اجتناب کرے جن سے والد کے مقام اور اس کی عزت پرحرف آئے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
اللہ تعالیٰ جمیع معاملات میں قرآن وسنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔
vvvvvvvvvvv

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے