Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » ڈاکٹر عثمانی کے نظریات اور ان کارد

ڈاکٹر عثمانی کے نظریات اور ان کارد

ابومحمد مختار احمد مغل

ڈاکٹر عثمانی نظریات کے حاملین کی کتاب’’اسلام یامسلک پرستی‘‘ مع ترمیم واضافہ ،رابطہ مسجد توحید کیماڑی، میں ’’دین کو پیشہ بنانے‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
[وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰــتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝۰ۡ وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ۝۴۱ ] (البقرۃ:۴۱)
اور نہ بیچو میری آیات کو(دنیا کی) قلیل قیمت پر اور صرف مجھ سے ڈرتے رہو۔(ص:433)
اسی طرح ڈاکٹر عثمانی نظریات کے حاملین کےمجلہ حبل اللہ مجلہ 24دسمبر2007ء ،مقام اشاعت -مرکزی دفتر-مسجد توحید کیماڑی کراچی۔میں ’’فمااصبرھم علی النار‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
’’اللہ کی کتاب پر اجرت لینے کی صفت کس امت کے مولویوں کی تھی؟ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہودی علماء کی ہی تو یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ قرآنی آیات کے عوض دنیاوی منفعت حاصل کیاکرتے تھے لہذا ان کو منع کیاگیا:[وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰــتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝۰ۡ وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ۝۴۱]میری آیات کو (دنیا کی) قلیل قیمت پرنہ بیچو۔
(ص:35)
اسی مجلہ میں مذکورہ عنوان کے تحت ص:41پر لکھا ہے:
’’شاید اپنے اسی ’’جدامجد‘‘ کے جس کامشن بھی وہی [وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ ]ہے۔جومولوی کا ہےکہ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ -خود سوچ لو کہ تمہاری مماثلت کس سے ہے؟(ص:41)
اول: -معلوم ہوا-
1مذکورہ بالاآیت اہل یہود،علماء یہود کےمتعلق نازل ہوئی۔
2علماء یہود والاکام اگر علماء اسلام بھی کریں تو وہ بھی علماء یہود کی روش پر گامزن قرار پائیں گے۔
3اللہ تعالیٰ کی آیات واحکام کوبدل کر رکھ دینے والوں کا ’’جدامجد‘‘ وہی ہے جس کامشن :’’وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ‘‘ہے۔
آئیں اب دیکھتےہ ہیںڈاکٹر عثمانی اور اس کے پیروکاروں نے کون ساکارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔
مجلہ حبل اللہ، مجلہ 24دسمبر2007ء ہی میں لکھا ہے:
’’دراصل یہ رسالے لکھنے کامقصد ’’کمائی‘‘ ہی ہے، ورنہ اگر یہ اسلام کی تبلیغ کے لئے لکھی جائیں تو مکمل طور پر ’’فی سبیل اللہ‘‘ ہوتیں جس طرح ڈاکٹر عثمانی نے حصول علم سے فارغ ہونے کے باجود دین کو پیشہ نہیں بنایا اور اپنے عالم دین ہونے کاثبوت دیتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے ان موصوف اور ان کے سبیل کے دوسرے افراد کی اصلاح کے لئے کتاب وسنت کے بھرپور دلائل پرمبنی لٹریچر فی سبیل اللہ چھپوا کر تقسیم کیا۔‘‘(ص:40)
صفحہ:44پر لکھا ہے کہ’’لیکن امامت یا تعلیم قرآن کی بنیاد پر اس کو تنخواہ یاوظیفہ دینا اور اس کالینا تو کتاب اللہ کاانکار ہے۔(ص:44)
اسی طرح مذکورہ کتاب ’’اسلام یا مسلک پرستی‘‘ میںلکھا ہے: ’’مدرسہ ومسجد کے لئے دھڑادھڑ چندے وصول کرتے ہیں‘‘
(ص:434)
جبکہ ص:443پر لکھا ہےکہ
’’جو کام خالص لوجہ اللہ کیا جاتاہے اس میں خلوص وخشیت کے جذبات کارفرماہوتے ہیں اور اجر کی طلب میں وقت کی قید سے بالاتر ہو کرکام کیاجاتا ہے ورنہ جوکام پیشہ ورانہ انداز میں محض اجرت کے لئے کاروباری طور پرکیاجاتاہے اس میں پھر اسی طرح وقت کی پابندی کی باتیں ہوتی ہیں‘‘(ص:443)
نیز لکھا ہے:’’ یہ وقت کی پابندی کی ،محبوس ہوجانا وغیرہ ان مولویوں کے ہتھکنڈے ہیں جو انہیں ان کے دیرینہ رفیق نے سمجھائے ہیں‘‘
(ص:451)
دوم: -معلوم ہوا-
اللہ کے دین کی تعلیم اور عبادت کے لئے مدارس ومساجد کی تعمیر کے لئے چندہ وصول کرنا،کتاب اللہ کی تعلیم کو پابندی سے سرانجام دینا، کتاب اللہ کے دلائل پر مبنی کتب دینا،کتاب اللہ کے حصول علم کے بعد دعوت الی اللہ دینا، جہاد فی سبیل اللہ کرنا، اللہ کے دین کوسکھانا اور دیگر اعمال صالحہ ودینی خدمات سرانجام دے کر کسی قسم کاوظیفہ،معاوضہ، تنخواہ لینا، یہود اور علماء یہود کا طریقہ تھا جس کی بنیاد پر مذکورہ شدہ آیت نازل ہو ئی۔
اور جو کوئی یہ تمام کام سرانجام دے وہ اپنے اسی’’جدامجد‘‘ کاوارث ہے جس کامشن :’’وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ‘‘ہے۔
ڈاکٹر عثمانی نظریات کے حاملین اور پیروکاروں سے گزارش ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیت مبارکہ پیش کریں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اہل یہود اور علماء یہود یہی سارے کام سرانجام دیتے تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے[وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰــتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝۰ۡ]کا حکم نازل فرمایا اور [دوم- معلوم ہوا]کے تحت جو مشن لکھاگیا ہے یہ مشن نہ صرف علماء یہود کاتھا بلکہ یہی مشن ان کے ’جدامجد‘ کا تھا جس کی وجہ سے اللہ کے کلام میں آیا کہ:
:’’وَّلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّيَنَّھُمْ‘‘
امید ہے ڈاکٹرعثمانی نظریات وعقائد کے حاملین وپیرکار بہت جلد کتاب اللہ سے ثبوت پیش کریں گے اور بہت خوب واضح ہوجائے گا کہ آخر علماء یہود کیا کچھ کیاکرتے تھے جس کی وجہ سے حکم[وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰــتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا]نازل ہوا۔
بصورت دیگر تسلیم کرنا ہوگا کہ اس آڑ میں کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دینے کی ناکام کوشش کی گئی اور وہ کوشس نامراد وباطل ہے۔

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے