Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ ستمبر » قربانی سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

قربانی سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

مولاناصبغت اﷲ صابر بلوچ،فاضل المعہد السلفی کراچی

قربانی کی فضیلت میں ایک روایت آتی ہے جوعام طور پر بیان کی جاتی ہے ،وہ روایت حددرجہ ضعیف ہے بلکہ موضوع ہے ذیل میں ہم اس روایت کی تحقیق قارئین کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ اس روایت کی حقیقت واضح ہوجائے او ر اسے بیان کرنے سے گریز کیاجائے۔
وہ روایت سنن ابن ماجہ میں بایںسند مروی ہے:
حدثنا محمد بن خلف العسقلانی حدثنا آدم بن ابی ایاس حدثنا سلام بن مسکین حدثنا عائذ ﷲ عن ابی داؤد عن زید بن ارقم قال قال اصحاب رسول ﷲ یارسول ﷲ ماھذہ الاضاحی قال سنۃ ابیکم ابراھیم قالوا فما لنا فیھا یا رسول ﷲ قال بکل شعرۃ حسنۃ قالوا فاالصوف یا رسول ﷲ قال بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب الاضاحی ،باب ثواب الاضحیۃ)
سیدنازید بن ارقم tبیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام yنے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول!e آپ قربانی کے متعلق کیافرماتے ہیں؟ آپeنے فرمایا:قربانی تمہارے باپ ابراھیمuکی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟آپeنے فرمایا :ہربال کے بدلے ایک نیکی۔صحابہ کرامyنے عرض کیا: پھر اون کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپeنے فرمایا:اون میں سے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔
یہ روایت موضوع ہے اس لئے کہ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نفیع بن حارث ہے،جس کے بارے میں محدثین سے سخت جرح منقول ہے ۔
امام عقیلیa فرماتے ہیں:کان یغلو فی الرفض ۔ابوداؤد رافضیت میں غلوکرتا تھا۔ امام بخاریa فرماتے ہیں :یتکلمون فیہ۔محدثین اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔امام یحییٰ بن معینaفرماتے ہیں: لیس بشیٔ۔ ابوداؤد کوئی چیز نہیں۔ امام نسائی aفرماتے ہیں: متروک ہے۔ امام ذہبیaفرماتے ہیں :بعض رواۃ نے تو اسے مدلس قرار دیا ہے ۔نافع بن ابی نافعaفرماتے ہیں:قتادہ نے اسے کذاب کہا ہے۔امام دار قطنیaفرماتے ہیں: متروک الحدیث ہے ۔امام ابن حبان aفرماتے ہیں :اس سے روایت لینا جائز نہیں۔ (دیکھئے میزان ۴/۲۷۲) امام ابن حجر aبھی اسے متروک قرار دیتے ہیں ، اور رقمطراز ہیں:کذبہ ابن معین۔ابن معین نے اسے (کذاب) جھوٹاقرار دیا ہے۔(تقریب التھذیب ص:۳۵۹)
اس تفصیلی جرح سے یہ واضح ہوا کہ یہ روایت موضوع ہے اس لئے کہ ابوداؤ کو امام ابن معین اورقتادہ نے کذاب کہا ہے اورمحدثین کے اصول کے تحت کذاب راوی کی روایت کو موضوع کہا جاتا ہے جیسا کہ سلطان المحدثین مولانا سلطان محمود aموضوع حدیث کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
الموضوع: جس حدیث کاراوی کذاب ہو(اصطلاحات المحدثین ص:۱۵)رہا امام البانیaکو اس حدیث کو ضعف جدا کہنا تو یہ درست نہیں کیوں کہ شیخ البانیaکذاب راوی کی روایت کو موضوع قرار دیتے ہیں جیسا کہ آپ خود ابن ماجہ باب ا جتناب الرأ ی والقیاس، حدیث معاذ بن جبل کوموضوع قرار دیتے ہیں۔(ضعیف ابن ماجہ ص ۶)
اس روایت کے موضوع ہونے کی علت راوی محمد بن سعید بن حسان الاموی کے علاوہ اورکوئی ظاہراً معلوم نہیں ہوتی۔
اس لئے کہ اس کوبعض علماء نے کذاب کہا ہے،دیکھئے تہذیب التہذیب ۹/۱۸۴۔اسی طرح ابن ماجہ میں کتاب الایمان میں علی ابن ابی طالب کی حدیث الایمان معرفۃ بالقلب الخ کو علامہ البانیa نے موضوع قراردیاہے۔ ضعیف ابن ماجہ ص:۷)
اس حدیث کے موضوع ہونے کی علت راوی عبدالسلام بن صالح ابوالصلت الھروی کے علاوہ اور معلوم نہیںہوتی کیوں کہ یہ راوی کچھ محدثین کے نزدیک کذاب ہے۔ملاحظہ ہومیزان الاعتدال ۲/۶۱۶،ایضا تہذیب التہذیب)
معلوم ہوا کہ یہ روایت علامہ البانیa کے اصول کے تحت بھی موضوع ہے اس لئے کہ وہ کذاب راوی کی روایت کوموضوع قرار دیتے ہیں اور جس روایت کو انہوںنے کذاب راوی ہونے کے باوجود بھی موضوع نہیں کہاوہ ان کا تساہل شمار ہوگاکیوںکہ بسااوقات تو یہ بھی ہوا ہے کہ بعض مقامات پرموصوف aکذاب راوی کی روایت کو موضوع نہیں کہتے اوردوسری جگہ اس راوی کی روایت کو موضوع کہتے ہیں جیسا کہ انہوںنے ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ ومرتین وثلاثا میں حدیث ابن عمر کوضعیف جدا یعنی سخت ضعیف کہا ہے ۔
(ضعیف ابن ماجہ ص:۳۴)
حالانکہ ان دونوں روایتوں میں راوی عبدالرحیم بن زید اور اس کاباپ زید بن حواری العمی القمی ہیں ان دونوں پر(کذاب)جھوٹا ہونے کی جرح ہے۔(دیکھئے تہذیب التھذیب۶/۳۰۵ ایضا ۳/۴۰۸)
اب اس تفصیل یہ صاف ظاہر ہے کہ اس حدیث کو علامہ البانیaکا موضوع نہ کہنا درست نہیں۔
اس روایت کی مزید قباحت یہ ہے کہ اس کے اندر عائذاﷲ مجاشعی ہے یہ راوی ضعیف ہے اس کے بارے میں امام ابوحاتم فرماتے ہیں کہ ’’منکر الحدیث‘‘ اورامام بخاریaفرماتے ہیں: لایصح حدیثہ۔ اس کی حدیث صحیح نہیں،بلکہ امام ذہبی تو اس کی جہالت کی طرف مشیرہیں فرماتے ہیں: لاروی عنہ سوی سلام۔کہ سلا م بن مسکین کے علاوہ اس سے کوئی روایت ہی نہیں کرتا۔نیز حافظ ابن حجر عسقلانیa نے بھی اسے ضعیف قرار دیاہے، دیکھئے تقریب التہذیب ص ۱۶۲،باقی رہا امام حاکم کا اس حدیث کو صحیح کہنا۔
اولاً :امام حاکم صحت کا حکم لگانے میںمتساہل تھے۔
ثانیاً:ا ن مذکورہ علتوں کی موجودگی میںامام حاکم کا اس حدیث کو صحیح کہنا کوئی وزن نہیں رکھتا۔
ثالثاً:امام عراقی تویہاں تک کہہ گئے کہ لیس فی فضل الاضحیۃ حدیث صحیح۔قربانی کی فضیلت میں ایک روایت بھی صحیح نہیں۔ترمذی مع التحفۃ ۲/۳۵۳)
قارئین :قربانی کی فضیلت کی یہ روایت لائق استدلال نہیں اس لئے ہمیںاسے بیان کرنے سے گریز کرناچاہئے تاکہ ہم آپe کے اس فرمان کے مصداق نہ بنیں۔
آپeکا فرمان ہے:
من تقول علی مالم اقل فلیتبوأ مقعدہ من النار۔
کہ جس نے بھی میری طرف منسوب کرکے کوئی بات کہی (موضوع حدیث بیان کی)وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے(ابن ماجہ ص۵)
اﷲتعالیٰ ہمیں رسول اﷲeکی صحیح احادیث بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا الٰہ العالمین۔
cccccccccc

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے