Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » ماہِ محرم کی رسومات

ماہِ محرم کی رسومات

حافظ محمد صہیب ثاقب،مدرس المعہد السلفی کراچی

ماہِ محرم ماہِ صبر یانوحہ وماتم؟(قرآن وحدیث کی روشنی میں)
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے:
[وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۝۰ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ۝۱۵۵ۙ الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۝۱۵۶ۭ ](البقرہ:۱۵۵،۱۵۶)
ترجمہ:’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیئے جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘‘(یعنی انا للہ وانا الیہ راجعون ،کہتے ہیں۔)
اسلام میں چند اہم شہادتیں:
(الف) سمیہr اور ان کے شوہر یاسرt (اسلام کے پہلے شہداء)
(ب) حمزہt کی جنگ احد میں مظلومانہ شہادت۔
(ج) عمربن خطابtکو یکم محرم کوشہید کیاگیا۔
(د) عثمان غنیtکو مظلومانہ شہید کیاگیا۔
(ط) علیtکو زہر آلود خنجر سے وار کرکے شہید کیاگیا۔
(ک) حسین t کو ۱۰محرم کو کربلا میں مظلومانہ شہید کیاگیا۔
مندرجہ بالاصحابہy کو انتہائی مظلومانہ طریقے سے شہید کیاگیا سوگ صرف حسین tکی شہادت کامنایاجاتاہے ایساکیوں؟
نوحہ وماتم کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں کہیں ذکر نہیں اور احادیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
حدیث نمبر:(۱) نبیﷺ نے فرمایا:’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو مصیبت کے وقت اپنے رخسار پیٹے ،اپناگریبان پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔‘‘(صحیح بخاری :۱۲۹۷،صحیح مسلم:۲۸۵)
حدیث نمبر:(۲) نبیﷺ نے فرمایا:’’نوحہ کرنے والی عورتیں اگر توبہ کئے بغیر مرجائیں گی تو قیامت کے دن انہیںخارشی قمیض اور گندھک کا جامہ پہناکرکھڑا کیاجائے گا۔‘‘(صحیح مسلم:۹۳۴)
حدیث نمبر:(۳) نبیﷺ نے فرمایا:’’یقیناً مجھے رونے سے منع نہیں کیاگیا البتہ مجھے دواحمقانہ اور فاجرانہ آوازوں سے منع کیاگیا ہے، ایک خوشی کے موقع پر لہوولعب اور شیطانی باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے کی اور گریبان چاک کرنے (یعنی نوحہ کرنے) کی آواز‘‘(ترمذی:۱۰۰۵)
رسومات محرم کی تاریخ:
۳۵۲؍۳۵۱ہجری میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) کے حکم پر پہلی بار ۱۰محرم کو حسینt کی شہادت کے غم میں بغداد کی تمام دکانیں اوربازار بندکروادیئے گئے اور یہ حکم دیا گیا کہ لوگ ماتمی لباس پہنیں اور اعلانیہ نوحہ کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ نوحہ اور ماتم وغیرہ حسینt کی شہادت کے بہت بعد کی ایجادات ہیں۔(تاریخ اسلام، اکبرخان نجیب آبادی ۲؍۵۶۶)
عشرہ محرم کی چندبدعات ورسومات:
دین میں اپنی طرف سے اضافے ہی کو بدعت کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ کاارشاد ہے کہ’’دین میں نوایجاد کام مردود ہے۔(صحیح بخاری: ۲۶۹۷،صحیح مسلم: ۱۷۱۸)عشرہ محرم (محرم کے پہلے دس دن) میں جس طرح مجالس عزا اورمحافل ماتم برپا کی جاتی ہیں یہ سب شریعت اسلامیہ کےمزاج کے قطعا مخالف ہیں مثلاً:تعزیہ پرستی، نوحہ پرستی وسینہ کوبی وغیرہ۔
اسی طرح کچھ لوگ نوحہ وماتم تو نہیں کرتے لیکن محرم کے ان دس دنوں میں مندرجہ ذیل امور کا ارتکاب کرتے ہیں:
(الف) سانحہ کربلا کومبالغے سے بیان کرنا۔
(ب) سانحہ کربلا کے ضمن میں جلیل القدر صحابہy کو ہدف طعن وملامت کرنا۔
(ج)۱۰ محرم کو تعزیوں اورماتم کے جلوسوں میں ذوق وشوق سے شرکت کرنا۔
(د) ماہ محرم کو سوگ کامہینہ سمجھ کر اس میں شادیاں نہ کرنا اور سیاہ لباس پہننا۔
(ط) ذوالجناح(گھوڑے) کے جلوس میں ثواب سمجھ کر شرکت کرنا اور ذوالجناح (گھوڑے) کومتبرک سمجھا، اس کوچومنا،اور بچوں اور عورتوں کو اس کے نیچے سے گزارنے کو سعادت سمجھنا۔
یہ تمام امورغیرشرعی ہیں اور ان کی ہمارے دین میں کوئی اصل نہیں لہذا ان سے بچنا چاہئے۔
اہل بیت سے کون مراد ہیں؟(قرآن وحدیث کی روشنی میں)
قرآن کی روسے اہل بیت، نبیﷺ کی بیویاں ہیں جبکہ حدیث کی رو سے علی، فاطمہ، حسن اور حسینyبھی اہل بیت ہیں۔
قرآن میں ارشاد ہے:
[اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيْرًا۝۳۳ۚ ](الاحزاب: ۳۳)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے ۔
عبداللہ بن عباسwفرماتے ہیں کہ ’’یہ آیت (تطہیر) نبیﷺ کی ازواج مطہرات ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر ابن ابی حاتم ۹؍۳۱۳۲) اسی طرح سورۂ ھود (۷۳) میں ابراھیمu کی اہلیہ کو فرشتوں نے ’’اہل بیت ‘‘کہا ہے !ان دونوں آیات سے نبی کی بیویوں کا اہل بیت ہونا نص قرآنی سے واضح ہوگیا ۔
(تفسیر احسن البیان)
ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اورحسینy کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا: ’’اے اللہ! یہ میرے اہل بیت سے ہیں۔ (لہذا ان پر کرم فرما)‘‘(صحیح مسلم: ۲۴۰۴)
صحابہ کرامyپر تبرابازی
صحابی کی تعریف:حافظ ابن حجر aنے اپنی کتاب’’الإصابۃ‘‘ میں صحابی کی جس تعریف کو سب سے زیادہ جامع اور صحیح قرار دیا ہے وہ یہ ہے :’’وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں نبیﷺ سےملاقات کی او ر اسلام ہی پر اس کی موت ہوئی وہ صحابی ہے پس اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبی ﷺ سےملاقات کی اگرچہ اسے آپ ﷺ کی ہم نشینی کا شرف زیادہ حاصل رہا یاکم، آپﷺ سے روایت کی یا نہ کی، آپﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوا یانہیں اور جس نے آپﷺ کو صرف ایک نظر ہی دیکھا اوراگرچہ آپ ﷺ کی مجالس (ہم نشینی) کی سعادت کا موقع اسے نہ ملا ہو اور جو کسی خاص سبب کی بناء پر آپﷺ کی رؤیت کاشرف حاصل نہ کرسکاہو، جیسے نابیناپن ،وہ بھی صحابی ہے۔‘‘
صحابہ کرامyپر تبرابازی کرنے والوں کے بارے میں چنداحادیث مبارکہ:
حدیث نمبر:(۱) نبیﷺ نے فرمایا:’’جس نے میرے صحابہ پر سب وشتم کیا،(انہیں جرح وتنقید اور برائی کاہدف بنایا) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘‘
(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۱۴۲،والسلسلۃ الصحیحۃ ۵؍۴۴۶)
حدیث نمبر:(۱) نبیﷺ نے فرمایا:’’میرے صحابہ پر سب وشتم نہ کرو( انہیں جرح وتنقید کا ہدف نہ بناؤ، انہیں اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند رجہ عطا فرمایا ہےکہ) اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں  خرچ کردے تو وہ کسی صحابی کے خرچ کردہ ایک مد بلکہ آدھے مد کے بھی برابر نہیں ہوسکتا۔(صحیح بخاری:۳۶۷۳،صحیح مسلم: ۲۵۴۰،۲۵۴۱) (ایک مد تقریبا چھ سوپچیس گرام ہوتا ہے)
عاشورہ کاروزہ یاحلیم کی نیاز؟ (قرآن وحدیث کی روشنی میں)
۱۔ عاشورہ کاروزہ :عاشورہ کے روزے کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کاارشاد ہے کہ:۱۰محرم کاروزہ رکھاجائے اس سے گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (صحیح مسلم :۱۱۲۶) اس کے ساتھ ۹ محرم یا ۱۱محرم کا روزہ بھی ملالینا چاہئے)
۲۔عاشورہ کے دنوں میں حلیم یا کوئی اورنیازکرنا:یہ نیاز اس لئے جائز نہیں کیونکہ یہ غیراللہ کے نام سےمنسوب کی گئی ہے، اس سلسلے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَيْرِ اللہِ۝۰ۚ ](البقرۃ:۱۷۳)
’’تم پر مردہ اور(بہاہوا) خون اور سوّر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسرے کانام پکاراگیا ہو،حرام ہے۔
حلیم کی نیاز چونکہ غیراللہ کے نام سے منسوب ہے جبکہ اوپر آیت میں کسی اور کے نام سے منسوب کی گئی چیز کاکھاناحرام ہے ،لہذا ا س سے اجتناب کرناچاہئے۔
(نوٹ: غیراللہ میں انبیاء ،ملائکہ،صحابہ ،شہداء ،صدیقین ،بزرگانِ دین وغیرہ سب شامل ہیں۔)
وماعلیناالاالبلاغ

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے