Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » خطبہ عیدالاضحیٰ

خطبہ عیدالاضحیٰ

الشیخ داؤد شاکر

الشیخ محمد داؤدشاکر صاحب نائب مدیر ومدیرالتعلیم المعہد السلفی ،کراچی نے اس سال خطبہ عیدالاضحیٰ جماعت اہل حدیث کی قدیمی عیدگاہ بلوچ پارک، بالمقابل اردو بازار کراچی ،میں ارشاد فرمایا۔ جسے افادہ عام کیلئے شائع کیاجارہا ہے، المعہد السلفی کے طالب علم نعمان احمد نے اسے تحریر کیا اور حوالہ جات کی تخریج کی، نیز شیخ محمدداؤد شاکر صاحب نے نظرثانی اور کچھ اضافہ کیا۔(ادارہ)

بردرانِ اسلام ! سب سے پہلے میں آپ تمام مرد وخواتین کو تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال کے مبارک الفاظ کے ساتھ عید مبارک اور دعائیں پیش کرتاہوں۔ اے اللہ ہم سب کے اعمال صالحہ قبول فرما۔ آج چنداہم نکات پر گفتگو کریں گے سب سے پہلے نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو خوشی کے موقعے عطا فرمائے ہیں۔عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ۔ یہ ہمارے دین کی سماحت ہے کہ اللہ نے انسانی طبیعت اور مزاج کا لحاظ رکھا ہے اور انہیں خوشیوں کےمواقع عطافرمائے ہیں۔ البتہ آپ دینی تہذیب کا رنگ دیکھیں، دین کامزاج دیکھیں، کہ سالانہ تہوار اور خوشیوں کے موقع پر بھی کس قدر پاکیزگی ہے اور تقویٰ کا رنگ چھایا ہوا ہے۔سال میں دوخوشیوں کے دن اور ان میں بھی ہم اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اللہ کے حضور ہم اعمال صالحہ پیش کرتے ہیں، تکبیرات کی صورت میں اذکار کی صورت میں اس موقع پر بھی اللہ کے بندوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں ،صدقۃ الفطر کی صورت میں اور قربانی کی صورت میں یہ چیزہمارے دین کے مزاج کی عکاسی کرتی ہے ۔
مسلمانو! دیکھو کر ہمارا دین کیسا مذہب ہے اللہ تعالیٰ کا بنایاہوا دین کیسا پاکیزہ ہےکہ خوشیوں کے موقع پر بھی انتہائی پاکیزگی اور تقویٰ کاماحول ہے، خوشیوں کے موقعہ پر بھی مؤمن بندہ اپنے پروردگار کو نہیں بھولتا۔تو پھر اس کا یہ سبق ہے کہ عام خوشیوں میں بھی عام حالات میں بھی اپنے رب کو نہ بھولو۔
بردارنِ اسلام! اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہوجاؤ،جب عید کے موقعہ پر جوکہ ایک طرح سےخوشی اور تفریح کا موقعہ ہوتا ہے نماز کو مشروع قرار دیاگیا ہے اور تمام مسلمان اس نماز کا پوری پابندی کے ساتھ اہتمام کرتے ہیں ،توپھر ہمیں چاہئے کہ جو نماز فرض ہیں اور دیگراحکامات جوواجب ہیں ان کی بھی پابندی کریں۔ یہ اہم سبق اور نصیحت ہے جو اس موقعہ پر میں آپ کو دیناچاہتاہوں۔
بھائیو!اپنے آپ کو غیراسلامی تہذیب ،غیراسلامی کلچر،بے حیائی اور برائی سے عام دنوں میں بھی اور ان خوشی کے دنوں میں بھی بچا کر رکھو، اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین اسلام کی صورت میں بڑی عمدہ اور پاکیزہ تہذیب اور ثقافت عطافرمائی ہے۔ اس سے محبت کرو، اسےسینے سے لگاؤ، اور دنیا کیلئے مثال بن جاؤ۔نمونہ بن جاؤ،آج یہ ایک انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ تہذیب وثقافت کو پس پشت ڈال کر اللہ کے دشمنوں دین کے دشمنوں اورخود اپنے دشمنوں کی تہذیب کو سینے سےلگائے ہوئے ہیں۔
میر ے بھائیو!دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آج عیدالاضحیٰ ہے اور عیدالاضحیٰ کا اہم ترین عمل ’’قربانی‘‘ ہے،آج یہ دن جسے ہم یوم النحر کہتے ہیں۔ (ابوداؤد:1765)کی ایک حدیث کے مطابق سب دنوں سے افضل دن ہے تو آج کا یہ دن تمام دنوں سے افضل دن ہے اور اس دن کا افضل عمل ’’قربانی‘‘ ہے توکتنے خوش نصیب ہیںوہ لوگ وہ مردوخواتین جو سب سے افضل دن کے سب سے افضل عمل کو سرانجام دیں گے۔ یقینا یہ بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی ہے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائےاور ہمیشہ توفیق عطافرمائے۔
البتہ ضروری ہے کہ اس عظیم عمل اور نیکی کو اول تاآخر شرعی تعلیمات کےمطابق سرانجام دیاجائے۔
اس کے لئے دو باتیں یاد رکھیں: نمبر ایک :قربانی کے احکام ومسائل کی فہم اور ان پر پوری طرح عمل،بالخصوص قربانی کے جانور کے متعلق جو شرعی ہدایات ہیں ان کی پوری پابندی کریں، تاکہ اس عظیم عمل کاثواب حاصل ہوجائے۔
اس حوالہ سے دوباتیں قابل غورہیں: نمبر ایک قربانی کے جانور کی عمر اور نمبر دو قربانی کے جانور کا عیوب سے پاک ہونا۔ قربانی کے جانور کی عمر کے حوالہ سے شرعی حکم یہ ہے کہ وہ’’مسنہ‘‘ ہو یعنی:دانتا،ہودانتا اس جانور کو کہتے ہیں جس کے دودھ کے دانت گرچکے ہو اور سامنے کے دو دانت اگ آئے ہوں، الایہ کہ کوئی تنگی ہو، جانور کی قلت کی تنگی یا مال ووسائل کی تنگی تو ایک سال کی بھیڑ یا دنبہ کی قربانی جائز ہے۔
(مسلم، باب سن الاضحیۃ)
اور نمبردو قربانی کا جانور ہر اس عیب سے پاک ہو جس کی نشاندہی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے۔چنانچہ سیدنا علیtکا قول ہے:
امرنارسول اللہ رسول اللہ ﷺ ان نستشرف العین والأذن . (ترمذی:1498)
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانور کی آنکھ، کان کو اچھی طرح دیکھیں۔
براء بن عازب tسےر وایت ہے :
قال رسول اللہﷺ اربع لاتجوز فی الاضاحی العوراء بین عورھا، والمریضۃ بین مرضھا والعرجاء بین ضلعھا والکسیر التی لاتنقی.(ابوداؤد:20802)
یعنی: چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں، بھینگا، جس کا بھینگا پن ظاہرہو، مریض جس کامرض ظاہر ہو، لنگڑا جس کالنگڑا پن ظاہر ہو، بوڑھا جس میں مخ تک نہ ہو۔
اسی طرح ایک حدیث میں کان کٹے، سینگ ٹوٹے، اور کان میں سوراخ والے جانور کی قربانی سے بھی منع کیاگیاہے۔
(ابوداؤد:2804)
اور یہ اہم بات بھی یاد رکھو کہ جو عیوب ان احادیث میں بیان کئے گئے ہیں ان کے علاوہ کوئی عیب،عیب نہیں ہے، ان عیوب کے علاوہ اگر کوئی عیب جانور میں ہو بھی صحیح تو بھی اس جانور کی قربانی جائز ہوگی۔
اس لئے کہ ان عیوب کو رسول اللہ ﷺ نے عیب قرار نہیں دیا، یہ باتیں توجانور کے حوالے سے تھیں ۔
بھائیواوربہنو!قربانی کی قبولیت کی کچھ شرائط ہیں جن کالحاظ رکھنا ضروری ہے، ان میں سے دو بنیادی شرطیں ہیں: نمبر ایک، قربانی چونکہ مالی عبادت ہے اس لئے مال کاپاک ہونا یعنی حلال ہونا ضروری ہے، لہذا ضروری ہے کہ جوجانور قربان کیاجارہا ہے وہ حلال ہو اور الحمدللہ ہم سب حلال جانور ہی کی قربانی دیتے ہیں ،نمبردو وہ جانور کسبِ حلال سے ہو ،وہ چوری کا نہ ہو، ڈاکے کے نہ ہو،حرام کمائی سے نہ خریداگیاہو، آج اس حوالہ سے معاشرے میں کوئی اہتمام نہیں، آج سودخور ،رشوت خور،جوے باز اور طرح طرح کی حرام کمائیوں کی مرتکبین بڑے زوردار انداز سے قربانیاں کرتےہیں۔میرے بھائیو! یہ چیزیں تمہاری قربانیوں کو ضائع کرنیوالی ہیں، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
ان اللہ طیب ولایقبل الاطیبا.(صحیح مسلم، مسنداحمد)
اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (حلال) چیزیں کو قبول فرماتا ہے۔
قربانی کی قبولیت کی دوسری شرط یہ ہے کہ قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہو اور اللہ کے رسول کی سنت اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی نیت سے ہو دکھلاوے اور شہرت کے لئے نہ ہو۔ اگر ریاکاری اور دکھلاوا آگیا تو یہ قربانیاں عنداللہ مردود ہونگی او ر کوئی اجروثواب نہیں ملے گا۔
بھائیو!ان سب باتوں سے بڑھ کر جو بات ہے جو شرط ہے ، ان سب باتوں کے اہتمام کے باوجود بھی جس شرط کی ضرورت ہے، وہ صحتِ عقیدہ ہے ،صحتِ عقیدہ کی بنیاد قرآن وحدیث ہے یعنی عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق ہو محض سنی سنائی باتوں اور ویکھادیکھی کی باتوں پر نہ ہو ۔
بھائیو!عقیدہ میں بالخصوص توحیدِ کامل ہونا انتہائی ضروری ہے۔
لہذا قربانی کرنے والا ہرشخص اپنے آپ کو شرک کی نجاست سے پاک کرلے کیونکہ شرک کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہے کوئی نیکی قبول نہیں ہے جس انسان کے عقیدے میں شرک آگیا، جس کے عقیدے میں کفر آگیا اس کے سارے عمل برباد ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ کافرمان:
[وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝۸۸ ] (الانعام:۸۸)
ترجمہ:اور اگر (بالفرض) یہ لوگ شرک کرتے تو ان سے وہ سارے اعمالِ (خیر) ضبط (یعنی نیست و نابود) ہو جاتے جو وہ انجام دیتے تھے۔
نیز فرمایا:[وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ۝۰ۡ وَہُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۵ۧ ](المائدہ:۵)
ترجمہ:اور جو شخص ایمابن کا انکارکرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
بردرانِ اسلام!توحید کی اہمیت اور اس کی حقیقت کو سمجھو، کیونکہ توحید، عمل کی قبولیت کی اساسی شرط ہے بلکہ دخولِ جنت کی اولین شرط ہے۔ توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات ،صفات،ربوبیت اور الوہیت میں اکیلا ویکتا ہے، وہی اس کائنات کاخالق، مالک،رازق اور مدبر ومتصرف ہے، ان امور میں کوئی نبی، ولی،بزرگ تک بھی اس کاشریک نہیں ہے، وہی مشکل کشا ،حاجت روااو بگڑی بنانے والاہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کے حصول کیلئے ہے ،قربانی ،اس عمل کو کہتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیاجائے،کیونکہ’’قربانی‘‘ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اس لئے اسے قربانی کہاجاتاہے،اور دیگر بھی سینکڑوں اعمال ہیں جن میں فرائض بھی ہیں اور نوافل بھی۔کہ جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہےلہذا اس بات کو یاد رکھو کہ صرف قربانی اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کیلئے کافی نہیں جبکہ قربانی تو ہے بھی سنت موکدہ ،فرض اور واجب تک بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب تو سب سے بڑھ کر فرائض وواجبات کی بجاآوری سے حاصل ہوتا ہے۔
حدیث قدسی ہے: ماتقرب الی عبدی بشیٔ احب الی مماافترضتہ علیہ.(بخاری)
بندہ میرے مقرر کردہ فرائض سے بڑھ کر کسی بھی عمل سے میرا قرب حاصل نہیں کرپاتا۔
تو اللہ کے قرب کے حصول کیلئے فرائض سے آغاز کیجئے اور نوافل تک پہنچئے نہ یہ کہ نوافل سے آغاز کریںاور نوافل تک ہی محدود رہ جائیں۔ اور ایک اہم بات یاد رکھیں اللہ کے قرب کے حصول کی اور اللہ کی محبت کے حصول کی بنیادیں اعمال صالحہ ہیں لیکن ان اعمال اور فرائض وواجبات میں اللہ کے قرب اور محبت کی جوبنیاد ہے وہ اتباع رسول اور اتباع سنت ہے جیسا کہ ابھی آپ نے سنا کہ قربانی کا جانور اللہ کے ہاں اجر کاباعث ہےلیکن کب؟ جب وہ پیارے نبی کی بتائی ہوئی شرائط کے مطابق ہو یہاں تک کہ پیارے نبی کے بتائے ہوئے وقت پر ذبح کیاجائے آپ میں سے کسی نے بھی ابھی تک قربانی نہیں کی کیوں نہیں کی اس لئے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بتایا ہے کہ قربانی کاجانور نماز کے بعد ذبح کرنا ہے نماز سے پہلے ذبح نہیں کرنا، اگر تم میں سے کوئی ذبح کرکے آیا ہےتو وہ سن لے اس کی قربانی نہیں ہوئی اس کو قربانی الگ سے کرنی پڑے گی، تومعلوم ہوا کہ ان اعمال میں اصل چیز اتباع سنت ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور محبت کی اساس اتباع سنت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے:
[قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ ](آل عمران:۳۱)
یعنی:اے نبی(u)آپ کہہ دیجئے اے لوگوں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اور اللہ کی محبت پاناچاہتے ہو ،اللہ کاقرب تمہیں چاہئے تو آؤ میں اللہ کا رسول تمہارے پاس آچکاہوں میری پیروی کرو، میری اتباع کرو اس سے تم اپنے دعویٰ محبتِ الٰہی میں بھی سچے ہوجاؤگے اور اس کے بدلے اللہ تم سے محبت کرے گا۔اور مزید یہ انعام بھی دیگا کہ اب تک کے تمہارے سارے گناہ بھی معارف کردے گا ۔
چوتھا اور آخری نکتہ ہے قربانی سے ملنے والے اہم اسباق ودروس، انہیں یاد کرکے جاؤ:نمبرایک مواسات اور ہمدردی کا درس، مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کادرس بالخصوص جو مسلم معاشرے کا پس ماندہ اور غریب طبقہ ہے اس کے ساتھ ہمدردی ،عید الفطر میں صدقۃ الفطر، صدقات اور زکوٰۃ کی صورت میں آپ ہمدردی کرتے ہو اور عیدالاضحیٰ میں قربانی کا گوشت تقسیم کرکے اور گھرگھرپہنچاکے ہمدردی کرتے ہو۔مواسات اور ہمدردی کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھواور یہ بھی یاد رکھو کہ یہ ہمدردی اور مواسات ان دوعیدوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہمدردی اور مواسات زندگی بھر کا حصہ ہے زندگی بھر کاعمل ہے۔اور دوسرا سبق جو ملتا ہے وہ بڑا ہم ہے وہ یہ کہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی فرما نبرداری اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری ہے، یہ قربانی کہاں سے شروع ہوئی یہ سیدنا ابراہیمuکی قربانی سے شروع ہوئی اور ابراھیمuکی قربانی میں دوباتیں ہیں،نمبرایک اللہ تعالیٰ نے ابراہیمuکو آزمایا اور یہ سب سے بڑی آزمائش تھی جو ان پر آئی۔ اللہ نے حکم دیا اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے ہماری راہ میں ذبح کرو یہ اللہ کا حکم بھی تھا اور بہت بڑی آزمائش بھی تھی اور چشم فلک نے دیکھا اور آج تک دنیا گواہی دیتی ہے کہ ابراہیمuاس آزمائش پر بھی پورے اترے تھے ابراہیم نے اللہ کے اس مشکل ترین حکم کو بھی علمی جامہ پہنا کر اللہ کابندہ ہونے کا سچاثبوت دیا اور اللہ کے ساتھ وفاداری کاحق اداکیا ہے۔ اس قصہ قربانی میں ہمارے لئے سبق ہے کہ اللہ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش پرپورااترناہے۔اور اللہ کے ہرحکم کوبجالانا ہے کبھی بھی کسی آزمائش میں پیچھے نہیں ہٹنا اور اللہ کے کسی بھی امر اورحکم کو سن کر پیچھے نہیں ہٹنا توچند چیز مختصر باتیں تھیں ہم نے بڑے اختصارکے ساتھ آپ کے سامنے عرض کیں ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرمائے اوراللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے۔

About admin

Check Also

تفسیر القرآن۔ سورۃ فاتحہ کے فضائل . دوسری نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: بروج انسٹیٹیوٹ معین الدین روڈ،بلوچ کالونی، کراچی تاریخ: …

جواب دیجئے