Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2016 » شمارہ اکتوبر » بدیع التفاسیر قسط 184

بدیع التفاسیر قسط 184

۔ قسط 184 ۔۔۔ احسن الکتاب فی تفسیر ام الکتاب

شیخ العرب والعجم علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ

میںنےکہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اٹھارہ مقامات پر انسان کی تخلیق کی خبر دی ہے۔(دیکھیں:البقرہ ع۳پ۱، النساء ع۵پ۵، الحجر ع۳پ۱۴، النحل ع۱پ ۱۴، مریم ع۵پ۱۶، الانبیاء ع۳پ۱۷، السجدہ ع۱پ۲۱، یسٓ ع۵پ۲۳، حٰمٓ المؤمن ع۶پ۲۴،الحجرات ع۲پ۲۶،الذاریات ع۳پ ۲۷، الرحمٰن ع۱پ۲۷، المعارج ع۱پ۲۹الدھرع۱پ۲۹،الطارق، البلد، التین، الفلق پ۳۰) ان تمام آیات میںمذکور ہے کہ انسان مخلوق یعنی اللہ کا تخلیق کیا ہواہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے چوّن 54مرتبہ قرآن کا تذکرہ کیا ہے۔(دیکھیں:البقرہ ع۲۳پ۲،النساءع۱۱پ ۵، المائدہ ۱۵پ ۷،الانعام ع۲پ۷،الاعراف ع ۲۴پ۹، التوبہ ع۱۴پ ۱۱، یونس ع۲ع۴ع۷پ۱۱، یوسف ع۱پ۱۲، الحجر ع۱،۶مکرر پ۱۴، النحل ع۱۳پ۱۴،بنی اسرائیل ع۱ع۵مکرر ع۹مکرر پ۱۵، الکھف ع۸پ۱۵، طہ ع۱،ع۱۶،الفرقان ع۳مکرر پ ۱۹،النمل ع۱پ۱۹مکرر ع۶پ۲۰، القصص ع۹پ۲۰، الروم ع۶پ۲۱،سبا ع۴پ۲۲، یس ع۱پ۲۲، ع۵پ۲۳،صٓ ع۱پ۲۳، حم السجدہ ع۱،۴پ۲۴، الزخرف ع۲،۳پ۲۵،الاحقاف ع۴پ۲۶، قٓ ع۱،۳پ۲۶،القمرع۱پ۲۷،الرحمٰن ع۱پ۲۷،الواقعہ ع۳ پ۲۷، الحشرع۳پ ۲۸، المزمل ع۱،۲پ۲۹، الدھرع ۲پ ۲۹، الانشقاق ، البروج پ۳۰)ان تمام میں قرآن مجید کےنزول وغیرہ کاتذکرہ ہے لیکن کسی ایک آیت میں بھی یہ تذکرہ نہیں ہے کہ قرآن بھی مخلوق یا اللہ کاتخلیق کردہ ہے، صراحتاً نہ اشارۃً۔
اور ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے دونوں قرآن وانسان کا ایک ساتھ تذکرہ فرمایا ہے۔ مگر وہاں بھی انسان کے مخلوق ہونے کی خبر دی ہے لیکن قرآن کے متعلق ایسی کوئی خبر نہیں دی۔ فرماتا ہے:
[عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۝۲ۭ خَلَقَ الْاِنْسَانَ۝۳ۙ ](الرحمن:۲،۳)
یہاں اللہ نے دونوں کے مابین فرق ظاہر فرمایا ہے۔ قرآن کیلئے فرمایا[عَلَّمَ] یعنی سکھلایا اور انسان کیلئے فرمایا[خَلَقَ]یعنی اسے پیدا کیا، تخلیق کیا، بقول بشراگر قرآن واقعتاً مخلوق ہے اور ہمیں ایسا عقیدہ رکھنا چاہئے اور اس عقیدہ کی طرف بشر دعوت دیتا رہتا ہے اور قبول نہ کرنےپر لوگوں کوایذادیتا رہتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس عقیدہ کو بیان کیوں نہیں فرمایا؟ حالانکہ عقیدہ ایسی چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ہاں باز پرس ہوگی۔ لہذا جس عقیدہ کے متعلق اللہ نے باز پرس کرنی ہے اس کے متعلق کوئی خبر نہ دینا نعوذباللہ یہ اللہ کی کوتاہی کہلائے گی جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ خود فرمارہا ہےکہ:
[مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ](الانعام:۳۸)
یعنی ہم نے اس کتاب میںکوئی بھی کوتاہی نہیں کی ہے۔ لہذا بشر کا قول جھوٹا ثابت ہوا اور اس کادعویٰ قیاس کے ذریعہ بھی منہدم ہوگیا۔ الحمدللہ رب العالمین۔
خلیفہ نےکہا:احسنت یاعبدالعزیز! اس کے بعد خلیفے نے مجھے بطور انعام دس ہزاردرہم دیئےاوربخیروخوبی مجلس اختتام پذیرہوئی اور میں بڑی عزت وشان سے باہر نکلا۔ اس مناظرہ کانہایت بہترین نتیجہ سامنے آیا، اہل حق حق کی فتح اور باطل کی شکست پربہت خوش ہوئے اور ان کے دلوں سے ہمہ قسم کے غبار اترگئے اور وہ غموں ودکھوں سے آزاد ہوئے اور کئی ناواقف لوگ جوشبہات میں گرفتار تھے، انہیںدرست عقیدہ معلوم ہواا ورلوگ جوق درجوق میرے مجلس میں آنے لگے ۔ اس کے بعد بشر میرے خلاف بڑے مکرگھڑتا اورناپاک سازشیں کرتا رہا لیکن بری طرح ناکام رہا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کی ہر شرارت سےمحفوظ رکھا، بالآخر خلیفہ مامون نے مجھے جامع مسجد میں حلقۂ درس قائم کرنے، لوگوں سے گفتگوکرنے اور انہیں سمجھانے کی اجازت دیدی، الحمدللہ رب العالمین ،وصلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ تسلیما کثیرا الی یوم الدین.
واقعہ مناظرہ مکمل ہوا۔
ناظرین! ہرصاحب بصیرت اس مناظرہ سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ اہل باطل کس طرح خلق اللہ کو گمراہ کررہے تھے اور بے جاشبہات ڈالتے ہوئے کس طریقے سے حق کو دبارہے تھے اور باطل کو اونچا دکھانے کیلئے کس طرح اللہ کے کلام میں ناجائز تاویلات وتحریفات کررہے تھے اور کس طرح اللہ پاک اپنے مخلص بندوں کے ہاتھوں ان کے مکرودجل کے پردے چاک کراتارہا، صدق اللہ سبحانہ وتعالیٰ:[ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا] (النساء:۱۴) [يُثَبِّتُ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝۰ۚ وَيُضِلُّ اللہُ الظّٰلِــمِيْنَ۝۰ۣۙ وَيَفْعَلُ اللہُ مَا يَشَاۗءُ۝۲۷ۧ ] (ابراھیم:۲۷)
یہ واقعہ معلوم کرنے کے بعد اہل حق کاشرح صدرہوگا اور وہ اہل باطل کے فریب اور خطرناک مکر سے ہوشیار رہیں گے کیوں کہ ہر کم فہم رکھنے والے کیلئے بھی واضح ہوچکا ہے کہ قرآن اللہ کاکلام ہے اور کلام، اللہ کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت کو مخلوق نہیں کہاجاسکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق وہی عقیدہ رکھنا ہے اور ہی کچھ کہنا ہے جس کاذکر قرآن وحدیث میں ہو۔ عقل وقیاس کے ذریعہ اس کے متعلق ہرگز بات نہیں کی جاسکتی۔ سلف صالحین کا یہی مسلک تھا اور یہی طریقہ تمام خطرات سے امن وسلامتی والاہے۔ وباللہ التوفیق۔
تنبیہ: اس واقعۂ مناظرہ میں قرآن مجید کی متعدد آیات ذکرہوئیں جن کے متعلق سورت، اس کے رکوع اور پارہ کاحوالہ ذکردیاگیا ہے۔ اس کے مطابق تفسیر میں ان آیات کا ترجمہ دیکھ لینا چاہئے ہم نے طوالت کے بسبب ان کاترجمہ ذکر نہیں کیا بلکہ صرف حوالہ پر اکتفا کیا ہے۔
ناظرین! آخر میں ابن عباسwکی ایک روایت نقل کرکے اس باب کااختتام کیاجاتاہے:تفسیر الدر المنثور ص۱۳ج۶میں بحوالہ ابن مردویہ امام طاؤس یمانی تابعی سے روایت ہے کہ
قال جاء رجل الی ابن عباس من حضرموت فقال لہ یا ابن عباس اخبرنی عن القرآن ا کلام من کلام اللہ ام خلق من خلق اللہ؟ قال بل کلام من کلام اللہ او ما سمعت اللہ یقول [وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ]فقال لہ الرجل افرأیت قولہ:[اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ]قال کتبہ اللہ فی اللوح المحفوظ بالعربیۃ.
یعنی حضرت موت کاایک شخص ابن عباس کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا کہ قرآن، اللہ کاکلام ہے یامخلوق؟فرمایا کہ مخلوق نہیں ہے اللہ کاکلام ہے۔ کیاتو نے اللہ کا فرمان نہیں سنا کہ [حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ](التوبہ)تب سائل نے کہا تو پھر اس آیت کا کیامفہوم ہے؟[اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا ](الزخرف)جواباً فرمایا:یعنی :اللہ تعالیٰ نے
قرآن کو لوح محفوظ میں عربی میں لکھا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے کہ:[بَلْ ہُوَقُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ۝۲۱ۙ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۝۲۲ۧ ](الروم)
اس روایت سے چند اہم باتیں معلوم ہوئیں:
(الف) ثابت ہوا کہ سلف صالحین صحابہ وغیرھم کے نزدیک قرآن کریم جو ہم پڑھتے ہیں،قرّاء سے سنتے ہیں، جو مصاحف میں تحریر شدہ اور سینوں میں محفوظ ہے، اللہ کاکلام اور غیرمخلوق ہے۔
(ب) سورۂ توبہ کی مذکورہ آیت سے حقیقتاً کلام اللہ مرادہے۔
(ج) فقہاء اہل الرأی کی یہ تاویل غلط وباطل ٹھہری کہ اس سے مراد کلام اللہ کا مفہوم ومدلول ہے۔
(د) اس قسم کی تاویل تفسیر بالرأی کے باب میں سے ہے کیوں کہ یہ سلف کی تفسیر کے معارض اور عقیدہ اسلامی کے منافی ہے۔
(ھ) معلوم ہوا کہ لفظ[جعل] کے معنی اس آیت میں[صیر] کے ہیں جیسا کہ علامہ عبدالعزیز کنانی نے اپنے مناظرہ میں ثابت کیا اور اس آیت سے قرآن کے مخلوق ہونے پر استدلال کرناغلط ہے۔
(و) اس روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ لوح محفوظ میں لکھاہوا قرآن، عربی زبان میں ہے، لہذا یہ کہنا بھی درست نہ ہوگاکہ قرآن نہیں بلکہ اس کامفہوم عربی زبان میں نازل کیاگیا ہے۔ بلکہ یہ وہی کلام اللہ ہے جو لوح محفوظ میں تحریر شدہ ہے۔
(ز) یہ جوکچھ مذکورہوا، اسلافِ امت کا یہی عقیدہ ہے ۔ قرآن کریم کے متعلق اس کے علاوہ کوئی اور عقیدہ رکھنا محدث اور نئی ایجاد کہلائے گا، وشرالامور محدثاتھا.

About admin

Check Also

کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ من صحیح البخاری پانچویں نشست

الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، بمقام: جامعہ مسجد سعد بن ابی وقاص، ڈیفنس، کراچی …

جواب دیجئے